دیس پردیس / علی عباس کاظمی

ہمارے معاشرے میں بعض المیے اتنے عام ہو چکے ہیں کہ اب وہ المیہ نہیں، روایت کہلاتے ہیں۔ روایت بھی ایسی جس پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا، جسے کوئی ظلم نہیں سمجھتا، جس کے متاثرہ کردار خود بھی اسے اپنی تقدیر مان لیتے ہیں۔ انہی روایتوں میں ایک روایت وہ بھی ہے جس میں گھر کا سب سے بڑا بیٹا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے خوابوں کی لاش کندھے پر اٹھا کر پردیس روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پاسپورٹ ضرور ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک خاموش معاہدہ ہوتا ہے جس پر اس نے نہیں، اس کے حالات نے دستخط کیے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ روزگار کے لیے جاتا ہے یا اپنی زندگی گروی رکھنے کے لیے؟ کیا وہ خاندان کا سہارا بنتا ہے یا آہستہ آہستہ خاندان کے مفادات کا قیدی؟

ہمارے دیسی معاشرے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ “بڑا بیٹا باپ کا ہاتھ ہوتا ہے۔” لیکن کب یہ ہاتھ پورے خاندان کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھتا ہے، اس کا احساس کسی کو نہیں ہوتا۔ عجیب تماشا ہے کہ آٹھ دس بچوں کو دنیا میں لانے کا فیصلہ والدین کرتے ہیں، مگر ان کی پرورش کی قیمت بڑے بیٹے کی جوانی سے وصول کی جاتی ہے۔ آخر کیوں؟ کیا اولاد پیدا کرنا ذمہ داری ہے یا ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر منتقل کرنے کا لائسنس؟ کیا محبت کا مطلب یہ ہے کہ ایک بیٹے کو باقی سب کی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے؟یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں، ہزاروں گھروں کی مشترکہ داستان ہے۔ بیس برس کا ایک نوجوان، جس کی آنکھوں میں اپنی زندگی کے خواب تھے، اسےبیرونِ ملک بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ دس پندرہ برس میں صرف چند بار وطن لوٹتا ہے، مگر ہر واپسی کسی نہ کسی بہن یا بھائی کی شادی، کسی تعمیر، کسی قرض یا کسی نئی ضرورت کے نام ہو جاتی ہے۔ اس کے نصیب میں اپنے لیے کوئی دن نہیں آتا۔ جب آخرکار اس کی شادی ہوتی بھی ہے تو گویا اسے ایک نئی ذمہ داری دے کر دوبارہ مزدوری کے جہنم میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ کیا واقعی یہی خاندان ہے؟

کیا شادی دو انسانوں کے رشتے کا نام ہے یا دولت کی نمائش کا میلہ؟ کیا میت کے ایصالِ ثواب کے لیے سادگی کافی نہیں، یا تعزیت کے نام پر بھی دسترخوانوں کی شان و شوکت ضروری ہو چکی ہے؟ ہمارے ہاں خوشی ہو یا غم، ہر موقع ایک مقابلہ بن جاتا ہے۔ قرض لے کر شادی ہال بک کیے جاتے ہیں، سینکڑوں مہمانوں کی ضیافتیں دی جاتی ہیں، مہنگے جوڑے، زیورات، آتش بازی، فوٹو شوٹ، رسموں پر رسمیں، اور پھر فوتگی پر بے شمار ایسی روایات جن کا نہ دین سے تعلق ہے، نہ عقل سے اور نہ معاشی حقیقت سے۔ مگر ہم انہیں چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟”افسوس یہ ہے کہ ان فضول رسومات کی قیمت اکثر وہ شخص ادا کرتا ہے جو سینکڑوں میل دور ریگستان کی تپتی دھوپ میں پسینہ بہا رہا ہوتا ہے۔ گاؤں میں ایک شادی ہوتی ہے، مگر اس کی قسط پردیس میں مزدور کی ہڈیوں سے وصول کی جاتی ہے۔ کسی کی رسمِ حنا کی چکاچوند، کسی کی بارات کی نمود و نمائش، کسی کے تعزیتی کھانے، کسی کے جہیز کی نمائش اور کسی کے خاندانی وقار کی مصنوعی دیوار۔۔۔ ان سب کا بل آخر کس کی جیب سے ادا ہوتا ہے؟ وہی پردیسی، وہی شخص جس کے اپنے بچوں کے جوتے پرانے، بیوی کی خواہشیں ادھوری اور بڑھاپا غیر محفوظ رہ جاتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ چند گھنٹوں کی نمائش کے لیے کسی انسان کی کئی برسوں کی محنت گروی رکھ دی جائے؟ہم نے رسموں کو عزت اور سادگی کو غربت کا نام دے دیا ہے۔ جو قومیں اپنی خوشیوں اور غموں کو قرض کے سہارے منانے لگیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل رہن رکھ دیتی ہیں۔آخر کب تک ہماری عزت کا معیار بینک کا قرض اور پردیسی بیٹے کی قربانی رہے گا؟ اگر آج بھی ہم نے ان بے بنیاد رسموں کا بائیکاٹ نہ کیا تو کل ہماری اولاد ہمیں معاف نہیں کرے گی، کیونکہ ہم نے انہیں وراثت میں گھر نہیں۔۔۔ قرض،محبت نہیں۔۔۔ دکھاوا اور سکون نہیں۔۔۔مجبوری دی ہوگی۔

سب سے بڑا ظلم صرف یہ نہیں کہ اس کی کمائی خرچ کر دی گئی، بلکہ یہ ہے کہ اس کی زندگی بھی خرچ کر دی گئی۔ انسان کی عمر صرف برسوں کا نام نہیں، خوابوں، احساسوں، محبتوں اور یادوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جب کوئی نوجوان اپنی زندگی کے بہترین سال اجنبی سرزمین پر اینٹ، سیمنٹ، لوہے، مشینوں اور تپتے ریگزاروں کے حوالے کر دیتا ہے تو وہ صرف پیسہ نہیں کماتا، وہ اپنی جوانی خرچ کرتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جوانی کی اس قیمت کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا۔ روپے گنے جاتے ہیں، مگر وہ راتیں نہیں جن میں وہ تنہائی سے لڑتا رہا۔رشتوں کی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ کبھی کبھی محبت کے نام پر انسان کی خواہشیں، خواب اور زندگی تک گروی رکھ دی جاتی ہے۔ خاندان اسے فرض کا نام دیتا ہے، معاشرہ قربانی کہتا ہے اور وہ بیچارہ اسے عبادت سمجھ کر اپنی خواہشات کی قربانی دیتا رہتا ہے۔ مگر کیا ہر قربانی مقدس ہوتی ہے؟ کیا ہر مطالبہ حق کہلاتا ہے؟ اگر ایک بیٹے کی کمائی پر پورا خاندان، بہن بھائی، داماد، خوشدامنیں، رشتہ دار اور دور کے عزیز بھی پلنے لگیں توکیا یہ ایثار ہے یا ایک خاموش ظلم جسے روایت کا نام دے دیا گیا ہے؟؟ کیا محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک شخص زندگی بھر دوسروں کے خواب پورے کرے اور اپنے خواب دفنا دے؟

یہاں ایک اور خاموش مظلوم بھی موجود ہے، جس کا ذکر کم ہوتا ہے، وہ ہے اس پردیسی کی بیوی۔ نکاح صرف دو ناموں کا معاہدہ نہیں بلکہ دو زندگیوں کی شراکت ہے۔ شوہر صرف نان نفقہ فراہم کرنے والا نہیں، بلکہ محافظ، ساتھی، ہم راز اور شریکِ حیات بھی ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں کتنی عورتیں ایسی ہیں جن کی پوری جوانی انتظار کی دہلیز پر گزر جاتی ہے؟ کتنی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب وہ ایک زندہ شوہر کی بیوی ہوتے ہوئے بھی بیوگی جیسی تنہائی محسوس کرتی ہیں؟ آخر اس جرم کی سزا انہیں کیوں ملتی ہے جو انہوں نے کیا ہی نہیں؟بعض لوگ تیس تیس برس پردیس میں گزار دیتے ہیں، مگر اپنی شریکِ حیات کے ساتھ چند مہینے بھی اکٹھے نہیں رہتے۔ نہ کبھی اسے اپنے پاس بلاتے ہیں، نہ اس کی خواہشات کا خیال رکھتے ہیں، نہ اسے زندگی کے حسین لمحوں میں شریک کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہر سوال کا ایک جواب ہوتا ہے کہ “گھر والوں کی ذمہ داریاں تھیں۔” مگر کیا واقعی یہ سب ذمہ داریاں انہی کی تھیں؟ کیا بیوی اور بچے ان کی ذمہ داری نہیں تھے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں شوہر اور باپ اس لیے بنایا تھا کہ وہ دوسروں کے گھروں کے چراغ روشن کریں اور اپنا گھر اندھیرے میں چھوڑ دیں؟ ہمارے ہاں اگر کوئی بیٹا اپنی بیوی اور بچوں کو ترجیح دے تو فوراً اسے “رن مرید” قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر وہ اپنی کمائی کا حساب مانگے تو اسےخودغرض کہا جاتا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی جینا چاہے تو اسے والدین کا نافرمان بنا دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا اطاعت کا مطلب اپنی شخصیت کا خاتمہ ہے؟ کیا خدمت اور خودکشی میں کوئی فرق نہیں رہا؟ کیا والدین کی عزت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اولاد اپنی جائز ضروریات بھی قربان کر دے؟

یہ مسئلہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نفسیات کا آئینہ ہے۔ہم نے ایثار اور قربانی کی خوبصورت روایات کو اس حد تک کھینچ دیا ہے کہ وہ بعض اوقات ناانصافی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ہم قربانی کا ایسا بت تراشتے ہیں جس کے سامنے ایک انسان کی پوری زندگی قربان ہو جاتی ہے، مگر پھر بھی بت کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ جو بہن بھائی بڑے بھائی کی کمائی پر اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں، وہی بعد میں اس کی تنہائی کے ساتھی نہیں بنتے۔ جس کے پیسوں سے گھر آباد ہوئے، وہ خود بڑھاپے میں ایک اجڑا ہوا مسافر بن جاتا ہے۔وقت کا پہیہ بڑی بے رحمی سے گھومتا ہے۔ جب پردیسی واپس آتا ہے تو اس کے بال سفید ہو چکے ہوتے ہیں، جسم بیماریوں سے بوجھل، آنکھوں کی چمک مدھم اور دل امیدوں سے خالی۔ وہ سوچتا ہے کہ اب سکون ملے گا، مگر اسے استقبال میں کیا ملتا ہے؟ ایک ناراض اولاد، جسے باپ کی محبت نصیب نہ ہوئی۔ ایک چڑچڑی شریکِ حیات، جس نے زندگی انتظار میں گزار دی۔۔۔ اور وہ رشتہ دار، جنہوں نے کبھی اس کی کمائی سے فائدہ اٹھایا تھا، اب اپنے اپنے گھروں میں آسودہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ آخر یہ کیسی تجارت تھی جس میں سرمایہ بھی اسی کا ڈوبا، وقت بھی اسی کا ضائع ہوا اور منافع بھی دوسروں نے سمیٹ لیا؟

اسلام نے والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے، مگر اسی دین نے بیوی اور بچوں کے حقوق بھی فرض قرار دیے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی، بچوں اور ان کی تربیت کو مسلسل نظر انداز کر کے دوسروں کی غیر ضروری خواہشات پوری کرتا رہے تو کیا وہ واقعی اپنے فرائض ادا کر رہا ہے؟ اگر اولاد صرف اسکول کی فیس سے نہیں بلکہ باپ کی موجودگی، شفقت، تربیت اور کردار سے بنتی ہے تو اس محرومی کا حساب کون دے گا؟ کیا قیامت کے دن بچے یہ سوال نہیں کریں گے کہ ہمارے بچپن کی قیمت کس نے وصول کی؟ والدین کو بھی سمجھنا ہوگا کہ بڑا بیٹا سہارا ضرور ہوتا ہے، مگر وہ انسان بھی ہوتا ہے۔ اس کے بھی خواب، حقوق، جذبات اور ایک الگ خاندان ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ کسی کی محبت کو مستقل مالی ذمہ داری میں تبدیل کرنا انصاف نہیں اور پردیس میں محنت کرنے والوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ قربانی ضرور دیں، مگر اپنی زندگی کی بنیادیں منہدم کر کے نہیں۔ خاندان وہی مضبوط ہوتا ہے جہاں ذمہ داریاں بانٹی جاتی ہیں، ایک شخص کے کندھوں پر لادی نہیں جاتیں۔ اگر ہر نسل یہی روایت اگلی نسل کو منتقل کرتی رہی تو کیا کل ہمارے اپنے بچے بھی اسی چکی میں نہیں پسیں گے؟

کیا ہم ایسے معاشرے کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں رشتے محبت سے چلتے ہوں یا مفادات سے؟ کیا ہم اپنے بیٹوں کو انسان بنانا چاہتے ہیں یا چلتے پھرتے اے ٹی ایم؟ کیا ہم بیٹیوں کو خوشحال گھر دینا چاہتے ہیں یا کسی اور کی زندگی اجاڑ کر ان کی خوشیاں خریدنا چاہتے ہیں؟گھر کی دیواریں صرف اینٹوں سے نہیں، انصاف سے قائم رہتی ہیں۔ جس خاندان کی بنیاد کسی ایک فرد کی محرومی، کسی عورت کے انتظار، کسی بچے کی یتیمی جیسی تنہائی اور کسی جوان کی قربان شدہ زندگی پر رکھی جائے، وہ بظاہر کتنا ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دے، اندر سے کھوکھلا رہتا ہے۔اس لیے آج اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی کسی کے خوابوں کے قرض دار ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بعض اوقات رشتوں کی مٹھاس کے پردے میں تلخیوں کی فصل بو دی جاتی ہے؟ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم روایتوں کے قیدی رہیں گے یا شعور کی روشنی میں اپنے رویوں کا احتساب کریں گے۔ سوچیے گا ضرور۔

اپنا تبصرہ لکھیں