گزشتہ دنوں ناصر عباس نیر کی دو زبانوں میں دو کتابیں منظر عام پر آئی ہیں: ایک کا نام ’’سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا‘‘ ہے جب کہ دوسری”The Journey of Ideas” کے عنوان سے ہے۔ اوّل الذکر کتاب سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) پر لکھے گئے شذرات کا انتخاب ہے جب کہ ثانی الذکر میں انگریزی اخبارات ’’دی نیوز” اور’’ڈان‘‘ میں لکھے گئے مضامین کو یک جا کیا گیا ہے۔
حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ان دونوں کتابوں کے عناوین سیر و سفر کا احاطہ کرتے ہیں۔ لیکن دونوں کتابوں میں سیر و سفر اپنے معروف معنوں میں مستعمل نہیں ہوئے۔ ایک میں زمانے کی درہمی کا تذکرہ ہے جب کہ دوسری کتاب میں نظریات کا سفر ہے۔
اس کتاب کا نام میر کے اس شعر سے مستعار ہے:
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
کتاب کا عنوان بہت دلچسپ اور قابل غور ہے۔اس پر کئی حوالوں سے بات کی جا سکتی یے۔ اس میں ’’سیر‘‘ کا لفظ بہ ظاہر ایک ایسے مشاہداتی سفر کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں قاری مختلف موضوعات، تجربات، مسائل اور فکری مناظر سے گزرتا ہے۔ اس کتاب کے مندرجات زبان و ادب، شاعری، فکشن اور تنقید سے لے کر جنگ، جنس، مذہب، جگہ، ماحول، مصنوعی ذہانت، انسانی نفسیات اور اخلاقیات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یوں “سیر” محض تفریح یا مشاہدے کی سیر نہیں رہتی بلکہ عصرِ حاضر کے اضطراب اور پریشانیوں میں سے گزرنے کا عمل بن جاتی ہے۔
یہ’’پریشان‘‘ (مراد ’’منتشر‘‘) موضوعات ہیں جن میں قاری کو سیر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ عام طور پر سیر کسی سر سبز و شاداب اور مہکتے باغ، کسی قابل دید تاریخی مقام، کسی قدیمی اور معدوم شہر اور کسی اساطیری خطے کی جاتی ہے لیکن متن کی سیر دیگر سیروں سے یکسر مختلف ہے۔ کسی متن کی سیر سرسری نہیں کی جا سکتی کیوں کہ اس میں ہر جا جہانِ دیگر ہوتا ہے۔ مصنف نے صرف اس کتاب کی سیر کی ترغیب ہی نہیں دی بلکہ اس میں موجود فکر انگیز موضوعات کو اپنے زاویہ نظر سے دیکھنے، سوچنے، سمجھنے اور پرکھنے کی دعوت بھی دی ہے۔ گویا مصنف اور قاری کے درمیان مکالماتی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ کیوں کہ کتاب کے عنوان میں بھی مکالمانہ فضا موجود ہے۔
نیر صاحب نے اس “مجموعہء پریشانی” میں اپنے قاری کو دعوتِ فکر دی ہے کہ آؤ اور دیکھو کہ ہمارے عہد کی تلخیاں، جھوٹ، سچ، مابعد سچ، منظر نامہ اور صورتِ حال کیا ہو گئی ہے۔ وہ محض قاری کو اس سب کچھ کا آئینہ نہیں دکھاتے بلکہ بعض اوقات اسے جمالیاتی تجربہ بناتے ہوئے اس گتھی کا سلجھاؤ بھی پیش کر دیتے ہیں۔
زیر نظر کتاب میں نو بہ نو موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پہلے پہل سکرین پر اور بعد ازاں کاغذ پر پڑھے گئے متن میں اگرچہ چنداں فرق نہیں لیکن قرات کا تجربہ اور کیفیت مختلف ہو سکتی ہے۔ عجلت میں پڑھے گئے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھے گئے متن میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کاغذ کا لمس اور کاغذ کی خوشبو کی اپنی ایک خاص کیفیت ہے جو بہرحال اسی سے ہی مخصوص ہے۔ کسی اہم موضوع کو دوسری بار پڑھنا دراصل معنی کے نئے جہانوں کی سیاحت ہی ہے۔
بعض اوقات سوشل میڈیا پر لکھی گئی تحریر ہنگامی اور وقتی نوعیت کی ہوتی ہے اور ہنگامی ادب میں دائمیت کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں لیکن بعض مصنفین کی تحریروں میں عجلت یا ہنگامیت کے اثرات اس لیے بھی نہیں ہوتے کہ ان میں گہری سنجیدگی اور ذمے داری دکھائی دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ جب پیش آمدہ واقعات اور حادثات کے قدموں کی چاپ بہت پہلے سن لیتے ہیں تو انھیں اس پیرائے میں پیش کرتے ہیں کہ بیش از بیش ان کی باتیں قابلِ بھروسہ معلوم ہوتی ہیں۔
اس کتاب کے پیش لفظ میں نیر صاحب نے سوشل میڈیائی تحریروں کی رسمیات پر تفصیل سے لکھا ہے۔ انھیں اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ سوشل میڈیا کے مصنف (اگر اسے مصنف کہا جائے تو) کو کم سے کم لفظوں میں اپنی بات کرنی چاہیے۔ کیوں کہ کتاب کا ورق پلٹنے اور سوشل میڈیا کی سکرولنگ میں کسی حد تک مماثلت ہے۔ دونوں قسم کے قاری، تحریر پڑھتے ہوئے تضیعِ اوقات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے مصنف نے سوشل میڈیا کے “قاری”(صارف) اور کتاب کے قاری کے درمیان مہین فرق کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:
“ کتاب کے قاری اور سوشل میڈیا کے ’استعمال کنندہ (user)‘ میں فرق ہے۔ دونوں مختلف توقعات اور جدا ذہنی کیفیات و ترجیحات کے ساتھ کسی تحریر کی جانب بڑھتے ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ کتاب کا قاری، ایک وقت میں ایک ہی جگہ، ایک شے (کتاب) کے ساتھ موجود ہے۔ وہ کتاب اس یقین کے ساتھ اٹھاتا ہے کہ اس کے پاس وقت کی فراوانی ہے یا غیر خلل پذیر ذہنی فرصت ہے۔ جب کہ سوشل میڈیا اپنے صارف سے، ایک قاری کے لازمی و اساسی کردار کا تقاضا نہیں کرتا۔ استعمال کنندہ/صارف اور قاری میں اساسی نوعیت کا فرق ہے۔ قاری کا کردار صرف ایک عمل (جو یک رخا نہیں، تہ دار ہے) تک محدود ہے: پڑھنے، سمجھنے، متن کی قائم کی گئی کائنات پر غور و فکر کرنے، ذہنی مکالمہ قائم کرنے، متن سے سوال و جواب کرتے رہنے تک۔ جب کہ صارف کا کردار بہ یک وقت کئی اعمال کو محیط ہے۔ اس کا کردار متعدد و متنوع اشیا کو معمولی وقفے سے دیکھنے، سننے، پڑھنے، فوری رائے اور رد عمل ظاہر کرنے، پوسٹیں شیئر کرنے، اشتہارات دیکھنے، مصنوعات خریدنے، سبسکرائب کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔”
زیر نظر کتاب کے شذرات میں ملکی و بین الملکی سیاسی ’’ہاؤ ہو‘‘کا تذکرہ بھی ہے؛ سماجی گھمبیرتا کے پیچ و تاب کو بھی کھولا گیا ہے؛ رفتگاں کو بھی یاد کیا گیا ہے (اس ضمن میں گزشتہ چند برسوں میں داغِ مفارقت دینے والے ادیبوں میلان کنڈیرا، نگوگی وا تھیونگ، گوپی چند نارنگ، شمیم حنفی، ابوالکلام قاسمی، بلراج مین را، ستیہ پال آنند، اسلم انصاری، تجمل کلیم، انور سدید، ڈاکٹر پرویز پروازی، سلیم آغا قزلباش اور سعیدہ گزدر کے شخصی انفراد اور ادبی اختصاص کو دیکھا گیا ہے)
ملتانی گوتم اسلم انصاری (جنھیں مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے) کے حوالے سے لکھا ہے:
“اسلم انصاری کے پاس واقعی کئی امتیازات تھے، جو معاصر اردو ادب میں کم کم لوگوں کو نصیب ہیں۔ انھیں اردو، فارسی ، انگریزی، سرائیکی پر مکمل دست رس تھی۔ وہ ان چاروں زبانوں میں لکھتے بھی تھے۔ گویا ان کے پاس دنیا کو دیکھنے کی چار عظیم الشان کھڑکیاں تھیں. ان کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ جدید زمانے سے بیگانہ تھے، نہ اسے باقی کلاسیکیت پسندوں کی مانند، برا بھلا کہتے تھے۔ ان کے یہاں جدیدیت کے خلاف کوئی نظریاتی محاذ موجود نہیں تھا، جیسا کہ ہم عربی فارسی پر دست رس رکھنے والے، اردو ادیبوں کے یہاں عام طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ علوم کی مختلف شاخوں اور ادبیات کی مختلف روایات سے استفادے میں یقین رکھتے تھے۔”
اس “مجموعہء پریشانی” میں جنگ کی ہولناکی بھی ہے اور امن کی خوش نمائی بھی؛ اردو نصابات میں پائے جانے والے اسقام بھی ہیں اور روزمرہ اور تخلیقی زبان میں اشتراکات اور انسلاکات بھی؛ مقامی دانش سے مکالمہ بھی ہے اور عالمی ادب کے شہ دماغوں کا تذکرہ بھی؛ شاعری اور شاعروں سے گفتگو بھی ہے اور ناولوں کی ناولاتی فضا سے کلامیہ بھی؛ (اس ضمن میں پاپولر فکشن نگاری پر سوالات بھی قائم کیے گئے ہیں)۔ اردو تنقید کی شعریات کو مغربی اثرات سے یکسر جدا بھی پیش کیا گیا یے اور اس سے اثر پذیری کا بیانیہ بھی ہے؛ کلاسیکی شاعروں کی آفاقیت بھی ہے اور جدید شعرا کی جداگانہ شناخت بھی ( اس حوالے سے میر، غالب، میرا جی، مجید امجد، فیض اور ناصر کاظمی کے فکر و فن کا احاطہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)؛ جنگوں کی ہولناکی کے نتیجے میں پنپنے والی ماحولیاتی آلودگی کا مرثیہ بھی ہے اور کرہ ارض سے بیگانگی بھی دکھائی گئی ہے۔
ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں کرہ ارض سے بیگانگی کے نتیجے میں ہمیں ماحولیاتی گھمبیرتا کا سامنا تو ہے لیکن ہم پھر بھی اس سب کچھ کے باجود مغائرت اختیار کیے ہوئے ہیں:
” اس وقت ہمارا سامنا بیگانگی کی ایک نئی قسم سے ہے۔ کرہ ارض برباد ہورہا ہے، تیزی سے اور انسانوں ہی کے ایک گروہ کے ہاتھوں۔ اسی کرہ ارض پر رہنےو الوں میں مٹھی بھر لوگ تو بربادی ، بربادی کی تیز رفتاری کو محسوس کررہے ،اور ان ہاتھوں کو پہچان رہے ہیں اور روکنے کی اپنی سی سعی بھی کررہے ہیں، مگر اکثریت اس زمین ،اس کے پانی، پہاڑوں، چشموں، دریاؤں،جنگلوں، جانوروں ،پرندوں ، حشرات کی قیامت خیز تباہی سے بیگانہ ہے۔”
قصہء مختصر! ان شذرات میں قاری کی مطالعاتی سیاحت کا ایک جہان آباد کیا گیا ہے۔
The Journey of Ideas :
نیر صاحب کی اس کتاب کا نام ایڈورڈ سعید کے نظریۂ سفر (“Travelling Theory “) سے اخذ شدہ ہے۔جس کا تذکرہ سعید نے اپنی کتاب “The World, the Text and the Critic” کے ایک مضمون میں کیا ہے۔
ڈاکٹر نیر نے نظریۂ سفر کی یہ بحث “بنیاد” کے شمارہ نمبر 14 (2023) کے اداریہ میں پہلے سے کر رکھی ہے۔ اُن کے مطابق:
’’آدمی کے اسفار کی کوئی حد ہے، نہ کوئی ایک سمت ہے، نہ کوئی ایک قسم؛ نہ ان منطقوں اور جگہوں کا کوئی شمار ہے، جنھیں آدمی نے سفر کے لیے منتخب کیا ہے، یا ان آدمی کے لےلیے تقدیر کی گئی ہیں۔ زمین و افلاک سے، سفر در وطن اور سیر در باطن تک آدمی کے سفر کی محض چند صورتیں ہیں۔۔۔ یہاں تک کہ آدمی کی لکھی گئی کہانیاں ہوں، نظمیں ہوں یا تشکیل دیے گئے : وہ بھی سفر کرتے ہیں ۔ اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایڈورڈ سعید نے اپنا ’’نظریۂ سفر‘‘(“Travelling Theory “) تشکیل دیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر نیر کی اس کتاب میں ’’Journey” کو زیادہ صراحت کے ساتھ فکری اور نظریاتی پہلوؤں سے بیان کیا ہے۔ جیسا کہ بالائی سطور میں یہ کہا گیا کہ مصنف نے اس عنوان کے مضمون میں ایڈورڈ سعید کے تصورِ Travelling Theory کو بنیاد بناتے ہوئے لکھا ہے کہ خیالات اور نظریات ایک شخص سے دوسرے شخص، ایک عہد کی صورتِ حال سے دوسرے عہد کے معروضات تک سفر کرتے ہیں۔یہ کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتے اور یہ یک رخے اور اِکہرے بھی نہیں ہوسکتے۔ اس تصور میں اس بات پر غور کیا جاتاہے کہ کوئی نظریہ کن تاریخی اور ثقافتی صورتِ احوال کے ساتھ آگے پہنچا اور اسے کس طور سمجھا اور اسے کس حد تک ردّ و قبول کا سامنا کرنا پڑا۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اس کی تفہیم میں ’’زیب ِ داستاں‘‘ کس طرح کی گئی۔
نظریۂ سفر کے حوالے سے مصنف کا یہ نقطہ نظر بھی ہے کہ نظریہ اپنے حقیقی تاریخی ماحول سے جڑا بھی ہوتا ہے لیکن جب یہ دوسرے سماج اور کسی دوسرے عہد میں داخل ہوتا ہے تو یہ ایک آزاد وجود بھی حاصل کرلیتا ہے۔
اس کتاب کا کلیدی مضمون The New Digital Imperialismہے جو دراصل 2022 میں کراچی آرٹس کونسل کے ایک فیسٹیول میں کلیدی خطبے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
ڈیجیٹل استعمار ماضی کی استعماری طاقتوں سے یکسر مختلف ہے۔ پرانی استعماریت مبہم نہیں تھا بلکہ روزِ روشن کی مانند عیاں تھا۔ اس کا قہر، اُس سے مرعوبیت ، اس کی ’’متاثر کن اصطلاحات‘‘ بالکل نمایاں تھیں۔ فی زمانہ ڈیجیٹل استعمار ہماری زندگیوںمیں غیر محسوس انداز میں پیوست ہے کہ ا حساس ہی نہیںہو پاتا کہ یہ بھی کس نوعیت کی استعماری وضع قطع ہے۔ (یہ الگ بات کہ ہم ابھی تک پرانی استعماریت سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوسکے۔ سمارٹ ٹیکنالوجی زمین کا نیا ’’خدا‘‘ ہے۔ اور اس کی ’’خدائی‘‘ کے ہم سب سچے پیروکار ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا اعجاز یہ بھی ہے کہ یہ ہمارے بارے میں ہم سے بھی زیادہ جانکاری رکھتی ہے۔
ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
“Smart technology is a new earthly ‘god’. Not only does it know much more about us than we do but it exercises a sort of technological clout over all of us. Our thinking, interrogating, resisting selves are rapidly metamorphosing into a creature that unlocks and unveils all its secrets unresistingly, which are surreptitiously being stored in the form of data. What an irony! We ourselves are penning a charge-sheet against ourselves”
ڈاکٹر نیر کا کہنا ہے کہ ہم مسلمان اس عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ تدفین کے بعد مدفون شخص کے اعمال جانچنے کے لیے منکر نکیر سوالات شروع کر دیتے ہیں۔ آج ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا ایک بڑی قبر میں متشکل ہو گئی ہے اور سائبر دنیا کے ’’’منکر نکیر‘‘ ہم سے مسلسل سوالات کر رہے ہیں اور ہمارا وجود سائبر دنیا کے فرشتوں کی جانب سے کیے گئے سوالات میں محصور ہوچکا ہے۔ مشل فوکو کا ’’پین آپٹیکون‘‘ہر وقت اندرونی اور بیرونی ہر سطوح پر نگرانی کر رہاہے اور ہم اس غیر مرئی نگرانی پر مسرور بھی ہیں اور کسی حد تک متفکر بھی۔
نیر صاحب کی اس کتاب کا اختصاصی پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں یکسر نئے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے اور پرانے موضوعات پر بھی نئے حوالوں سے بات کی گئی ہے۔ مثال کے طور اگر عصمت چغتائی پر بات کی ہے تو اس میں بھی ان کی نافرمانی کی شعریات کو تلاشا ہے۔ ادبی میلوں میں “ادب” کو تلاش کرنے کی جستجو کی ہے۔ اردو ناول کی عالمگیر رسائی پر سوالات قائم کیے گئے ہیں۔ شہر اور ادب کی حرکیات کیا اور کیسی ہیں اور خوابوں کا شہر سمیت متعدد دیگر اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ہم ملتانیوں کے لیے خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ نیر صاحب کی دونوں کتابوں میں “ملتانیت” کی مہک موجود ہے۔ اسلم انصاری جیسے ھمہ دان، رفعت عباس جیسے عالمی مقامی اور رانا محبوب اختر جیسے محبتی عالم کے ادبی اختصاصات کو اپنے عالمانہ اسلوب میں بیان کر دیا ہے۔
مصنف نے رانا محبوب اختر کی معرکہ آرا کتاب “سندھ گُلال” کے حوالے سے بھی لکھا ہے:
“Sindh Gulal” (Sindh is Red) makes its readers believe that “I travel, therefore I am.” The first person pronoun delineates a subjective realm through the objectivity of places visited. It also undergoes an eerie experience of blurring the boundaries of personal identity as well as the places and spaces. The geography outside comes to reveal – and nudge – the landscape inside.”
درج بالا بحث کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ’’سیر کر تو بھی یہ مجموعۂ پریشانی کا‘‘ ایک عہد کی سیر ہے تو ’’The Journey of Ideas‘‘ اسی عہد کو سمجھنے والے نظریات کی سفری روداد۔
نیر صاحب کی دونوں کتابیں سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور نے بڑی محبت، احترام اور طابعانہ مہارت سے شائع کی ہیں۔


