پاکستانی دانشوروں کے ایک طبقے میں ایک عجیب تصور رائج ہو چکا ہے کہ دینداری اور دانشوری ایک دوسرے کی ضد ہیں؛ گویا جو شخص مذہب پر ایمان رکھتا ہو، وہ عقلی اور تنقیدی فکر کا حامل نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک فکری مغالطہ نہیں بلکہ ہمارے علمی ماحول کا ایسا تعصب ہے جس نے مکالمے کے دروازے تنگ کر دیے ہیں۔
برسوں پہلے لاہور کی ایک ادبی نشست میں، جہاں ملک کے معروف ادیب اور مفکر موجود تھے، عصر کی اذان ہوئی تو میں نے نماز کی اجازت چاہی۔ ایک معروف دانشور نے حیرت سے کہا: “آپ جیسے عقلی اور فکری آدمی کا نماز پڑھنا عجیب لگتا ہے۔” میں نے جواب دیا کہ نماز میری عقل کی نفی نہیں بلکہ میرے ایمان کا اظہار ہے۔ اگر کوئی شخص مجھے صرف اس لیے کم تر دانشور سمجھتا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں تو مسئلہ میرے ایمان میں نہیں، اس کے تصورِ دانشوری میں ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عقل اور ایمان کبھی ایک دوسرے کی ضد نہیں رہے۔ امانوئل کانٹ، کیرکگارڈ، ابنِ رشد، ابنِ عربی، جلال الدین رومی، بابا فرید، میاں محمد بخش، خواجہ غلام فرید، غالب اور اقبال—یہ سب مختلف فکری جہات کے حامل تھے، مگر روحانی روایت سے بھی وابستہ تھے۔ کسی مفکر کی علمی قدر کا فیصلہ اس کی عبادت یا عقیدے سے نہیں بلکہ اس کی فکری دیانت، استدلال اور علمی خدمات سے ہونا چاہیے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے بعض روشن خیال حلقے مذہبی انتہاپسندی کی تنقید کرتے کرتے خود ایک نئی قسم کی فکری انتہاپسندی کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ مذہب پر تنقید نہیں کرتے بلکہ دیندار انسان کے وجود ہی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ آپ مذہبی شعائر کی پابندی کرتے ہیں تو وہ آپ کے استدلال کے بجائے آپ کی شناخت کو ہدف بنا لیتے ہیں۔ یہ رویہ اسی قدر غیر علمی ہے جتنا کسی مذہبی شخص کا اختلاف رکھنے والے کو محض اس کے عقیدے کی بنیاد پر رد کر دینا۔
جدید پاکستانی دانشور کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تہذیبی روایت سے کٹتا جا رہا ہے۔ وہ مغربی فلسفے، یونانی اساطیر اور یورپی ادبی روایت سے تو بخوبی واقف ہے، مگر اپنی فکری میراث—بابا فرید، بلھے شاہ، میاں محمد بخش، خواجہ غلام فرید، علی ہجویری، شاہ ولی اللہ، ابنِ عربی اور رومی—سے گہرا رشتہ قائم نہیں کر پاتا۔ وہ اسلامی روایت سے کبھی کوئی اقتباس تو لے لیتا ہے، مگر اس فکری سرچشمے کو نظر انداز کر دیتا ہے جہاں سے وہ روایت جنم لیتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں تنقید کی جگہ تمسخر نے لے لی ہے۔ اختلافِ رائے کو علمی مکالمے کے بجائے شخصی حملوں، طنز اور تحقیر میں بدل دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے، جہاں بہت سے لوگ کتابیں پڑھے بغیر مصنفین پر فیصلے صادر کرتے ہیں اور اسے تنقیدی شعور کا نام دیتے ہیں، حالانکہ حقیقی تنقید شخصیات نہیں بلکہ افکار کا محاکمہ کرتی ہے۔
دین کو بھی ہمارے ہاں اکثر ایک یکساں اور جامد تصور کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایمان ایک شخصی اور روحانی تجربہ ہے، جب کہ دین انسانی معاشرے میں مختلف تاریخی، سماجی اور ثقافتی صورتوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق کیے بغیر دین کے بارے میں کوئی سنجیدہ رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح مذہب کے غلط استعمال کو مذہب کی اصل حقیقت سمجھ لینا بھی ایک فکری مغالطہ ہے۔
ایک زندہ اور تخلیقی ثقافت وہی ہوتی ہے جو فلسفے، عرفان، ادب اور مذہبی روایت، سب سے یکساں استفادہ کرے۔ جو معاشرہ اپنی روحانی اور تہذیبی جڑوں سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ فکری اعتبار سے بھی بانجھ ہو جاتا ہے۔ پاکستانی دانشور اگر واقعی اپنے معاشرے سے مؤثر تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے نہ مذہب کا مبلغ بننے کی ضرورت ہے اور نہ اس کا منکر بننے کی؛ اسے صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنے معاشرے کی روح، اس کی تاریخ، اس کے ایمان اور اس کی تہذیبی روایت کو سنجیدگی سے سمجھے۔
حقیقی روشن خیالی کسی عقیدے کا مذاق اڑانے میں نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود احترام، مکالمے اور تنقیدی دیانت کو برقرار رکھنے میں ہے۔ دانشور کی پہچان اس کے نظریات سے اختلاف کرنے والوں کو خاموش کرانے میں نہیں بلکہ ان کے ساتھ علمی مکالمہ کرنے میں ہے۔
یہی مکالمہ کی تہذیب اور زندہ تہاذیب کی اساس ہے۔


