آصف علی زرداری اسی دن ملزم بن گیا تھا۔ جب 18 دسمپر 1987 کو متحرمہ بے نظیر بھٹو سے شادی ہوہی تھی۔ – محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی اگر کسی فرشتے سے بھی ہوتی تو اس کی کردار کشی اسی طرح ہی ہوتی جس طرح آصف علی زرداری کی جھوٹی کردار کشی کی گئی -بلاول ہاوس 21 ستمبر 1988 کو بلاول بھٹو کے پیدا ہونے کے فورا بعد آصف علی زرداری نے خرید لیا تھا۔ جب ابھی الیکشن نہیں ہوہے تھے۔ لیکن آصف علی زرداری کے اوپر الزامات اقتدار میں آنے سے پہلے 2 دسمبر 1988سے پہلے ہی لگنا شروع ہو گے تھے۔ یہ ایک سوچا سمجھے منصوبے کے تحت نواز شریف نے شروع کیے تھے ۔ چینی کہاوت ہے سچ کےآنے تک جھوٹ پورے گاوں میں پھیل جاتاہے ۔ ہٹلر کے دست راز گوبیلز کے مطابق جھوٹ اتنا بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہو ۔ یہی کچھ نواز شریف نے کیا تھا۔ یہ کچھ عمران نیازی اینڈ کو کر رہےتھے اور آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد پہلی دفعہ 10 اکتوبر 1990 کو گرفتار کیا گیا تھا -اور فروری 1993 کورہائی ملی ۔ دوسری دفعہ پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
زرداری کے ایک اور وکیل فاروق نائیک کے مطابق ان کے خلاف مختلف حکومتوں نے سترہ، قتل، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تمام مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں مقدمات میں با عزت بری ہوہے ۔
ایک اہم مقدمے کی روداد کا ذکر اس کیس جو کہ آخری تھا ساڑے 8 سال بعد 21 نومبر 2004 کو رہاہی ملی۔ مسلسل قید آصف علی زرداری پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ کچھ مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں جبکہ باقی مقدمات میں عدالتوں نے ان کی ضمانت منظور کی ہے۔
بی ایم ڈبلیو کار کیس کے نام سے مشہور مقدمے میں آصف علی زرداری کی ضمانت نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں اپیل دائر کی تھی۔ اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کسی اور کے نام پر کار درآمد کی اور اس پر کم کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے کلیئرنس حاصل کی۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں قائم فل
بینچ نے جس میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس شاکراللہ جان بھی شامل تھے پیر کے روز سماعت کے بعد دس لاکھ روپوں کے مچلکے داخل کرنے کے عوض
ان کی ضمانت منظور کرلی۔
آصف علی زرداری کی وکالت بیرسٹر اعتزاز احسن، فاروق ایچ نائیک اور ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کی جبکہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے ایڈووکیٹ ابراہیم ستی پیش ہوئے۔ دوران سماعت جب استغاثہ کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ’ جب گاڑی درآمد کرنے والے شخص اور بعد میں خریدنے والے شخص سمیت کسی پر مقدمہ نہیں بنا تو کیا صرف زرداری پر مقدمہ بنانا بدنیتی پر مبنی نہیں ہے؟
استغاثہ کے مطابق دوسروں کے نام پر یہ گاڑی زرداری نے درآمد کی اور یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ ’بلٹ پروف، گاڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف پچپن لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کی گئی جبکہ اس سے ایک کروڑ روپوں کا قومی خزانے کو نقصان ہوا۔
استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ مقدمہ اس وقت کیوں داخل ہوا جب درخواست گذار کی ضمانت منظور ہوئی؟ استغاثہ نے کہا کہ یہ محض اتفاق ہے۔ ان کے مطابق دوسروں کے نام پر یہ گاڑی زرداری نے درآمد کی اور یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ ’بلٹ پروف‘ گاڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف پچپن لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کی گئی جبکہ اس سے ایک کروڑ روپوں کا قومی خزانے کو نقصان ہوا۔
وکیل صفائی اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ان کا موکل آٹھ سال سے مسلسل قید میں ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر حکم سناتے ہوئے ضمانت منظور کرلی۔
زرداری کے وکیل بابر اعوان کے مطابق ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ جب بھی آصف زرادی کسی مقدمے میں ضمانت حاصل کرتے تو حکومت اسی روز نئے مقدمے میں ان کی گرفتاری ظاہر کردیتی اور وہ رہا نہیں ہوتے۔
جب بھی مفاہمت کی بات آتی ہے تو آصف علی زرداری کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے
-اور کہا جاتا ہے اس مفاہمت کی وجہ سے پیپلز پارٹی زوال کا شکار ہے-پیپلزپارٹی کے مخالفین پیپلز پارٹی کے ہمدرد بن کر بھی یہ کہتے ہیں۔اس پروپیگنڈا سے کچھ پیپلزپارٹی کے ناقبت اندیش بھی متاثر ہو جاتے ہیں -جب کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ حالانکہ اس مفاہمت کا آغاز بیگم نصرت بھٹو نے 1980 میں ایم آر ڈی تحریک بنا کر کیا تھا –
آصف علی زرداری نے جیل اس بہادری سے کاٹی کہ نظریاتی مخالف مجید نظامی نے انھیں مرد حر کا خطاب دے دیا۔1996 سے 2004 تک وہ مسلسل جیل میں رہے اور رہا بھی تب ہوئے جب ان کے حق میں ہمدردی کی لہر بیدار ہو رہی تھی۔ آصف علی زرداری کے ایک وکیل فاروق نائیک کے مطابق ان کے خلاف مختلف حکومتوں نے 17 قتل، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں ۔ سب مقدمات میں با عزت بری ہوہے ۔
ایک اہم مقدمے کی روداد کا ذکر اس کیس جو کہ آخری تھا
ایک اہم مقدمے کی روداد کا ذکر اس کیس جو کہ آخری تھا ساڑے 8 سال بعد 21 نومبر 2004 کو رہاہی ملی۔ مسلسل قید آصف علی زرداری پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ کچھ مقدمات میں وہ رہا ہوچکے تھے جبکہ باقی مقدمات میں عدالتوں نے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔آصف علی زرداری کی پہلی گرفتاری 10 نومبر 1990 سے 7 فروری 1993 تک تھی -مدت گرفتاری 2 سال 3 ماہ 27 دن تھی۔ دوسری مرتبہ گرفتاری 5 نومبر 1996 سے 22 نومبر 2004 تک تھی۔ مدت گرفتاری 8 سال 17 دن تھی- تیسری مرتبہ گرفتاری 10 جون 2019 سے 4 فروری 2021 تک تھی ۔ مدت گرفتاری 1 سال 7 ماہ 24 دن تھی- کل مدت گرفتاری 12 سال 8 دن۔ پاکستان کے کسی بھی سیاست دان کی سب سے زیادہ طویل اور بے گناہ گرفتاری قید ہے-آصف علی زرداری کے طرزِ سیاست نے 2008 کے انتخابات
زرداری کے طرزِ سیاست نے 2008 کے انتخابات سے مذکورہ تبدیلی تک ملکی سیاسی نظام پر اپنے گہرے اثرات مُرتب کر رکھے ہیں اور حالیہ تبدیلی میں اِن کا کردار سب پر بھاری ہے۔ بے نظیر بھٹو سے آصف علی زرداری کی بجائے کسی فرشتے سے بھی شادی ہو جاتی تو اس کا انجام آصف علی زرداری جیسا ہی ہوتا ۔پیپلز پارٹی کے نام نہاد ہمدرد بنتے ہوۓ کہا جاتا ہے مفاہمت کی سیاست نے پیپلز پارٹی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے – اس سلسلے میں آصف علی زرداری کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے- حلانکہ یہ حقائق کے خلاف سب سے پہلے مفاہمت بیگم نصرت بھٹو نے ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران کی بھٹو کے دشمنوں ولی خان اصغر خان مفتی محمود کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی کی 1980 میں بنیاد رکھی اس وقت حالات کا جبر تھا۔ ڈریکولی مارشل لاء کا مقابلہ کرنے کے لیے ضیا کے خلاف تحریک چلانے کے – دوسری سیاسی جماعتوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا-اسی طرح بینظیر بھٹو 1990 میں نواز شریف اور اس کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے اصغر خان کے ساتھ مل کر سیاسی اتحاد بنانا پڑا اور نواز شریف اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف الیکشن لڑا۔
چارٹر آف ڈیموکریسی پر پاکستان مسلم لیگ کے نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بے نظیر بھٹو نے 14 مئی 2006 کو لندن میں دستخط کیے تھے۔ یہ دستاویز پاکستان کی
دو اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کا اشارہ دیتی ہے، جس میں فوجی حکمرانی کے خاتمے کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ 1999 کی پاکستانی فوجی بغاوت جس کی قیادت جنرل پرویز مشرف نے کی اور سویلین جمہوری حکمرانی کی بحالی-14 مئی 2006: طویل انتظار کے بعد میثاق جمہوریت charter of democracy(CoD) کو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے اتوار کی رات دیر گئے منظور کیا اور اس پر دستخط کیے گئے کئی گھنٹے کی شق بہ شق بحث کے بعد۔
ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمان ملک کی رہائش گاہ پر مذاکرات ہوئے۔
چارٹر دونوں جماعتوں سے آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے اور اقتدار میں آنے پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد آئین میں کی گئی ’تحریفات‘ کو ختم کرنے کا عہد کرتا ہے۔
اصغر خان کی TI تحریک استقلال ان بانی جماعتوں میں سے ایک تھی – جس کی قیادت بھٹو کی بیوہ بیگم نصرت بھٹو اور سردار شیرباز خان مزاری نے کی تھی – ضیاء الحق کی آہنی حکمرانی کے خلاف شروع کی گئی تحریک برائے بحالی جمہوریت (MRD) کے۔ ضیاء کے اقتدار کے عروج پر، اصغر خان نے ان کی مخالفت کی اور افغانستان کے کمیونسٹ صدر محمد نجیب اللہ سے ملنے کابل گئے۔ واپسی پر، انہوں نے نام نہاد جہاد پر تنقید کرتے ہوئے مضامین کا ایک سلسلہ لکھا جسے ضیا نے شروع کیا تھا ا اصغر خان نے 1990 کے انتخابات پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے تحت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر لڑے۔ سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے خلاف 1990 کے انتخابات میں غیر قانونی طور پر من پسند سیاست دانوں کو رقوم کی تقسیم کے ذریعے مداخلت کرنے کا مشہور اصغر خان کیس، سیاست میں جرنیلوں کے کردار کے خلاف ان کی مسلسل لڑائی کی ایک اور جنگ تھی۔
پاکستان میں تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی نے اُس دور میں سیاست اور سیاسی احتجاج کی روایت قائم کی جب وقت کے آمر نے ملک میں سیاست کو ختم کر نے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ اگر جنرل محمد ضیاء الحق کا مارشل لا اس سے قبل کی ایوب خانی اور یحییٰ خانی آمریتوں کا تواتر تھا تو ایم آر ڈی اُس جمہوری جدوجہد کا تسلسل تھی جو پاکستانی عوام نے اس سوچ کے خلاف برپا کی جو ملک کو فوجی تسلط اور مذہبی رجعت میں جکڑ دینا چاہتی تھی۔جنرل ضیا کے قبیح عزائم ان کے اُس بیان سے کھل کر سامنے آئے جو انہوں نے 1978 میں تہران میں دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے، چند ورقے ؟ اگر میں اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں اور ایک اگر میں اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں اور ایک نیا نظام نافظ کردوں تو سب کو وہ ماننا پڑے گا۔ طاقت کے نشے میں جنرل ضیا نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان بشمول سب جغادری لیڈر (یعنی بھٹو صاحب ) پھر بھی دُم ہلاتے میرے پیچھے آئیں گے ۔
مگر ایسا نہ ہوا۔
بھٹو صاحب جان سے گزر گئے مگر انہوں نے ضیا کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔ ثانیاً سیاستدان اس بات سے آگاہ ہو گئے تھے کہ منصوبہ سیاست کو پاک کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کو سیاست ہی سے پاک کرنے کا ہے۔ جنرل ضیا عوام سے کیے گئے وعدوں سے مکرتے رہے۔ نوے دن میں انتخابات کا عہد بارہا توڑا گیا۔ ایسے میں بیگم نصرت بھٹو اور نیشنل ڈیموکریٹک (این ڈی پی) کے صدر سردار شیر باز خان مزاری کے درمیان سنجیدہ مشاورت شروع ہوئی۔ سردار مزاری اس سے قبل خان عبدل ولی خان اور مولانا مُفتی محمود سے بھی صلاح مشورہ کر چکے تھے تاکہ سیاسی قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔
بھٹو صاحب اور بیشتر سیاسی رہنما بالخصوص نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں میں جو سیاسی اور ذاتی چپقلش رہی تھی اس کی وجہ سے یہ بظاہر ایک ناممکن نہیں تو بیحد مشکل کوشش تھی۔ بہرحال سردار مزاری کی مساعی بارآور ہوئیں اور چار بنیادی نکات بشمول 1973 کے آئین کی اپنی اصلی شکل میں بحالی کے لیے جدوجہد کرنے پر ان کا اور بیگم نصر ت بھٹو کا اتفاق ہو گیا۔ اور جیسا کہ سردار مزاری نے خود لکھا ہے 5 فروری 1981 کو ایم آر ڈی وجود میں آ گئی۔ دیگر جماعتوں نے فوراً اس کی توثیق کر دی اور پہلے ہی روز کُل 9 پارٹیاں تحریک کا حصہ بنیں۔ اگر میں اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں اور ایک نیا نظام نافظ کردوں تو سب کو وہ ماننا پڑے گا۔ طاقت کے نشے میں جنرل ضیا نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان بشمول سب جغادری لیڈر (یعنی بھٹو صاحب ) پھر بھی دُم ہلاتے میرے پیچھے آئیں گے ۔
مگر ایسا نہ ہوا۔
بھٹو صاحب جان سے گزر گئے مگر انہوں نے ضیا کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔ ثانیاً سیاستدان اس بات سے آگاہ ہو گئے تھے کہ منصوبہ سیاست کو پاک کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کو سیاست ہی سے پاک کرنے کا ہے۔ جنرل ضیا عوام سے کیے گئے وعدوں سے مکرتے رہے۔ نوے دن میں انتخابات کا عہد بارہا توڑا گیا۔ ایسے میں بیگم نصرت بھٹو اور نیشنل ڈیموکریٹک (این ڈی پی) کے صدر سردار شیر باز خان مزاری کے درمیان سنجیدہ مشاورت شروع ہوئی۔ سردار مزاری اس سے قبل خان عبدل ولی خان اور مولانا مُفتی محمود سے بھی صلاح مشورہ کر چکے تھے تاکہ سیاسی قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔
بھٹو صاحب اور بیشتر سیاسی رہنما بالخصوص نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں میں جو سیاسی اور ذاتی چپقلش رہی تھی اس کی وجہ سے یہ بظاہر ایک ناممکن نہیں تو بیحد مشکل کوشش تھی۔ بہرحال سردار مزاری کی مساعی بارآور ہوئیں اور چار بنیادی نکات بشمول 1973 کے آئین کی اپنی اصلی شکل میں بحالی کے لیے جدوجہد کرنے پر ان کا اور بیگم نصر ت بھٹو کا اتفاق ہو گیا۔ اور جیسا کہ سردار مزاری نے خود لکھا ہے 5 فروری 1981 کو ایم آر ڈی وجود میں آ گئی۔ دیگر جماعتوں نے فوراً اس کی توثیق کر دی اور پہلے ہی روز کُل 9 پارٹیاں تحریک کا حصہ بنیں۔ ایم آر ڈی کی اولین کامیابی گویا پی پی پی کی اس سیاسی تنہائی کا خاتمہ تھا جو نہ صرف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیے خطرناک تھی بلکہ جس کے سیاسی دھارے سے باہر رہنے کی صورت میں خود سیاسی عمل کے لیے مہلک تھی۔
ایم آر دی نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے مگر سیاستدانوں کے مل کر کام کرنے کی جو روایت 1981 میں پڑی وہ بعد کی مخلوط حکومتوں میں بہتر آشکارا ہوئی۔ جنرل ضیاء کی موت کے بعد ہونے والے پہلے انتخاب گو ایم آر ڈی MRD کی جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم سے نہیں لڑا مگر اس کے نتیجے میں بننے والی مرکزی اور صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا (سابقہ صوبہ سرحد) کی حکومتیں مخلوط تھیں۔ اس سیاسی تدبر اور بردباری کی بہترین مثال پی پی پی اور اے این پی کی 2008 تا 2012 کی مخلوط حکومت تھی۔ ایم آر ڈی سے قبل شاید یہ تصور بھی نہ کیا جا سکتا ہو کہنیپ اور این ڈی پی کی وارث جماعت اے این پی اور پی پی پی کبھی اکھٹے حکومت کریں گی۔ یہ سیاسی پختگی اس اساس پر قائم ہوئی جو 1981 میں ایم آر ڈی نے فراہم کی۔
اپنے قیام کے پہلے دو سالوں میں ایم آر ڈی متفرق مسائل کا شکار رہی اور کوشش کے باوجود کسی مربوط حکمت عملی کے تحت تحریک کو آگے بڑھانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ حبیب جالب نے شاید ایسے ہی موقع کے لیے کہا تھا-
1983 کی تحریک رہنماؤں کی نہیں بلکہ کارکنوں کی تحریک تھی جسے انھوں نے اپنے خون سے سینچا۔ وقت کا فرعون بیشک نہ گیا مگر وہ یہ ضرور جان گیا کہ اس کا تخت محفوظ نہیں کیونکہ عوام کی خواہشات اور اس کی سوچ میں جو بعدالمشرقین تھا وہ اس کو طاقت کے ذریعے بھی نہیں پاٹ سکا تھا۔ اس تحریک کا سب سے بڑا ثمر یہ تھا کہ بیشتر سیاسی قائدین اس بات پر متفق تھے اور متفق رہے کہ ضیا کے مختلف اقدامات کو سیاسی قبولیت اور جواز نہیں دینا ہے چاہے وہ 1984 کا بدنام زمانہ استصواب ہو یا 1985 کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والےانتخابات۔اگر ایک لفظ میں جنرل ضیا الحق کے دور کو سمیٹا جائے تو وہ ہے: حبس۔
اے آر ڈی کو جنرل مشرف کی قیادت میں 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد پاکستان میں سویلین حکومت کی واپسی کے لیے مہم چلانے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس میں ایک درجن سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کی اطلاع ہے۔ اتحاد کا خیال تھا کہ پاکستانی عوام اپنے خیالات اور نظریات کی نمائندگی کرنے والے لیڈروں کو آزادانہ طور پر منتخب کرنے کے موقع سے کم کے مستحق نہیں ہیں۔3 دسمبر 2000 کو کثیر الجماعتی اتحاد برائے بحالی جمہوریت (ARD) کی تشکیل نے فوجی حکمرانی کے لیے پہلا بڑا چیلنج پیش کیا اور سال کے پہلے مہینوں میں مشرف انتظامیہ کا بنیادی ہدف رہا۔ یہ اتحاد ملک کی دو بڑی سیاسی تنظیموں – معزول وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) اور خود ساختہ جلاوطن سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی طرف سے ایک ساتھ لایا گیا ہے۔ فوری انتخابات کے ذریعے پارلیمانی حکومت کی بحالی کا عزم ظاہر کیا-
دنیا میں سب سے زیادہ جس سیاستدان نے جیل کاٹی ہے اس کا نام ہے نیلسن منڈیلا 27 سال جیل کاٹی -اس کے بعد آنگ سانگ سوچی میانمار سابق برما کی سیاستدان جس نے 21 سال جیل کاٹی-اس کے بعد آصف علُی زرداری نے 12 سال 8 دن جیل کاٹی ان سب ایک بات مشترکہ تھی کہ ان سب نے بے گناہ جیل کاٹی -آصف علُی زرداری کو جیلُمیں اذیتیں بھی دی گئی اور زبان بھی کاٹی گئی واحد مطالبہ تھا کہُ محترمہ بے نظیر بھٹو کو چھوڑ دو لیکن زرداری چٹان کی طرح کھڑا رہا پاکستان کے کسی سیاستدان کی طویل ترین جیل کاٹنا وہ بھی بیگناہ -اپنی جوانی کے شاندار سال جیل میں کاٹنا بچوں کے بغیر زندگی گزارنا ان کے بچپن سے بہت دور رہنا ،اپنی رفیقہ حیات بے نظیر بھٹو سے بہت دور آسان نہیں تھا۔ اتنی زیادہ سختی زندگی میں زہر بھر دیتی ہے تلخ کر دیتی ہے پھر رفیقہ حیات بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسا بڑا صدمہ انسان کے اعصاب شل کر دیتا ہے۔اس وقت پورا پاکستان جل رہا تھا۔ اس عظیم انسان نے اس وقت پاکستان کھپے کا نعرہ لگا اس بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کردیا۔اگر اس دن آصف علی زرداری پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگاتا ہے تو سندھ تو خدانخواستہ پاکستان سے علیحدہ ہو جانے کو تیار تھا۔ ایک طرف آصف علی زرداری کا کردار ہے دوسری طرف نام نہاد محب وطن عمران خان کا کردار اقتدار سے علیحدگی نے اس کو پاگل کر دیا ہے اور پاکستان کے ہر ادارے کو تباہ کر دینا چاہتا ہے-
آصف زرداری نے بی بی سے شادی کے وقت کہا تھا آئندہ ریاستی جبر آصف زرداری برداشت کرے گا آپ پر آنچ نہیں آنے دے گا تب سے آج تک زرداری ریاستی جبر کا بامردی سے مقابلہ کر رہا ہے اور وفا کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔سی پیک کے بانی آصف علی زرداری آج دوبارہ صدر پاکستان بن کر پاکستان کو ایک نئی سوچ اور جہت دینے کی کوشش کر رہا ہے


