جی پی ایس/ اقتدار جاوید

کسی زمانے میں ٹیکسیوں کا رواج ہوتا تھا اور ٹیکسی پر سوار ہونا امارت یا سٹیٹس کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔تب یکّے بھی ہوتے تھے، رکشے بھی دستیاب تھے مگر جو سٹیٹس سالم ٹانگے کرانے کا تھا وہی سٹیٹس ٹیکسی کرائے پر لینے کا تھا۔شہر ِاقتدار بلکہ جڑواں شہروں میں تو ایسی ٹیکسیوں کا سیلاب ہی آیا ہوتا تھا۔مگر وہ زمانہ گیا اور وہ مورس مائنر ٹیکسیاں اور ٹانگے وقت کی کھوہ میں کہیں گم ہو گئے۔ اب مختلف ممالک کی مالدار کمپنیوں کا دور دورہ ہے۔ ٹانگے، یکے اور رکشے فقط یادوں میں ہی باقی ہیں۔اب تو آپ کے موبائل کی ایک کلک پر درجنوں گاڑیاں دستیاب ہیں۔نہ صرف دستیاب ہیں مختلف ایپس پر وہ روٹس بھی موجود ہے جس پر آپ جانا چاہ رہے ہیں۔اسی پر بس نہیں آپ اپنے روٹ کو شئر بھی کر سکتے ہیں اور آپ کے دوست، عزیز رشہ دار آپ کی لوکیشن سے ہمہ وقت واقف ہوتے رہتے ہیں۔آپ کس روڈ سے جا رہے ہیں کس جگہ پر رش زیادہ ہے کہاں آپ کا وقت ضائع ہو سکتا ہے اور کس رستے سے وقت کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے یہ سب ایک کلک پر موجود ہے۔مثلاً یینگو کو لیں اس کی ابتدا روس کے مشہور آئی ٹی گروپ Yandex سے ہوئی تھی۔ یہ کمپنی نیدرلینڈز (ہالینڈ) میں رجسٹرڈ ہولڈنگ کمپنی کے تحت کام کرتی تھی، تاہم اب یانگو گروپ آزادانہ طور پر دبئی سے اپنے عالمی آپریشنز چلاتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں رائیڈ ہیلنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات فراہم کر رہا ہے۔ہمارے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں بھی ایسی سروس موجود ہے۔افغانستان میں پیوست،فندو، سنیپ اور ایران میں اوبر، تپسی اور دیگر کمپنیاں موجود ہیں۔
اس طرح کی ایپ اب صرف ایک شہر ایک ملک یا ایک براعظم تک رسائی نہیں دیتی یہ کائنات کے ہر سیارے کی لمحہ لمحہ بدلتی ہوئی پوزیشن کی اطلاع دیتی ہے۔جیسے رات کے وقت آپ کسی ستارے یا سیارے کی پوزیشن جاننا چاہتے ہیں اور کائنات کی سرگرمیوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو آپ مختلف دستیاب ایپس پر زمین کے علاوہ مختف مداروں میں شریک ہو سکتے ہیں۔آپ جان سکتے ہیں اس وقت زہرہ کہاں ہے مریخ کس جگہ پر ہے اور زحل کی کیا پوزیشن ہے۔موبائل آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ اپنے مطالعےکے کمرے میں بیٹھ کر کائنات میں پھیلے سیاروں کو دیکھ سکتے ہیں۔مگر اس پروسیس سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ جاننا بھی ضرری ہے کہ ستارہ کیا ہے اور وہ کیوں ٹمٹاتا ہے اور سیارہ کیا ہے اور اس سے کیا مراد ہے۔ستارے سورج کی طرح اپنی روشنی اور تپش خود پیدا کرتے ہیں۔یہ ہماری زمین سے کھربوں کلومیٹر دور ہیں۔اسی لیے یہ ہمیں چھوٹے چھوٹے نقطوں کی صورت لگتے ہیں۔وہ خود چمکتے اور ٹمٹماتے نہیں ہیں۔ جب ان کی رشنی زمین کی تہوں سے گزرتی ہے تو ہوا کی حرکت کی وجہ سے روشنی بار بار اور متواتر راستہ بدلتی ہے اور وہ ہمیں ٹمٹماتے ہوئے لگتے ہیں۔کچھ ستارے ہیں جو چمکتے ہیں مگر ٹمٹماتے نہیں ہیں۔انہیں ستارے نہیں بلکہ سیارے کہا جاتا ہے۔یہ مریخ،عطارد، زہرہ، زمین ، یورینس، نیپچون اور مشتری ہوتے ہیں۔یونانیوں نے انہیں Planets اسی لئیے کہا تھا کہ وہ آوار گرد ہیں۔ان کو یاد رکھنے کا طریقہ بھی علما نے بتایا ہوا ہے یعنی ع ز ز م م ز ن ی۔اس کو یاد کر لیں ہر سیارے کا نام از خود ہونٹوں پر آ جائے گا اور یہ سورج کی روشنی سے نہیں چمکتے ہیں۔ستاروں اور سیاروں کا سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ستارے ٹمٹماتے ہیں اور سیارے چمکتے ہیں۔ستارہ چھوٹا سا نقطہ سا ہوتا ہے سیارہ ان سے بڑا ہوتا ہے۔ستارے زمین سے بہت دور ہیں اور سیارے زمین کے نسبتاً قریب ہیں۔اگر آپ کو کوئی ستارہ چاند کی طرح روشن نظر آئے تو وہ یقنیاً سیارہ ہے۔یہ سیارے اسی راستے سے گزرتے ہیں جس فرضی راستے سے دن کو سورج گزرا ہوتا ہے۔دوسری نشانی اگر شمال اور جنوب میں جو شے زیادہ روشن اور چمکتی ہوئی نظر آئے گی وہ بھی ضرور سیارہ ہے۔
رات کا اپنا جادو ہے جو روزِ ازل سے قائم ہے جیسے رات ازل سے ویسی کی ویسی ہے اسی طرح ستارے بھی ویسے کے ویسے ہیں اور روزانہ آپ کو اسی شکل اور اسی مقام پر نظر آئیں گے۔سیارے ان ستاروں کے بیچ چند ہفتوں میں جگہ تبدیل کر لیتے ہیں۔سیارے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہیں مگر یہ اسی راستے سے گزرتے ہیں جہاں سے سورج اور چاند گزرتے ہیں۔ویسے تو نظامِ شمسی کے تمام سیارے سورج کا طواف کر رہے ہیں۔سورج کی کشش سیاروں کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور سیارے کی رفتار خود کو سورج سے دور رکھتی ہے یوں ایک مدار وجود میں آ جاتا ہے۔ یہ سب کچھ آگاہی آتی کہاں سے ہے۔اسی جی پی ایس یعنی گلوبل پوزیشنگ سسٹم سے جو آپ اور میں بغیر جانے اپنے موبائل پر دیکھتے ہیں۔یہ سسٹم مصنوعی سیاروں کے ذریعے مطلع کرتا ہے۔اب ستارے سیارے اور مصنوعی سیارے ہماری ہتھیلی پر ہیں۔یہ مصنوعی سیارے امریکہ کے بھی ہیں جو جی پی ایس کے ماسٹر گائیڈ ہیں روس کے گلوناس، یورپ کے گیلیلو کے نام سے اور ملک چین کے بھی۔ایران نے اسی امریکا کے جی پی ایس کو الوداع کہہ کر چین کے بیڈو سے انسلاک کیا ہے۔خلا میں ہمارے ملک کے بھی سیارے ہیں اور سپارکو کے تحت کام کرتے ہیں۔جب آپ موبائل آن کرتے ہیں تو امریکا، روس اور چین کے سگنل آ رہے ہوتے ہیں۔
جہاں سورج غروب ہوتا ہے اس وقت آپ مغرب کی جانب دیکھیں تو بہت اوپر آپ کو ایک سیارہ نظر آئے گا یہ زہرہ ہے۔کیا آپ آج کسی ایپ کے ذریعے اس کی لوئیو لوکیشن دیکھنا چاہیں گے۔جی پی ایس کا پہلا لفظ جی گلوبل کی طرف ہی تو اشارہ کر رہا ہے۔آپ بھی میری طرح آج شام پلے سٹور پر جائیے اور کسی ایک ایسی ایپ سے جڑ جائیے وہ آپ کو کائنات سے جوڑ دے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں