بھارت میں ذات، سرمایہ اور مزاحمت(1)- قیس انور

جدید بھارت میں ذات پات کیوں ختم نہیں ہوئی؟
بھارت وسیع صنعت، جدید خدمات، بڑی جامعات، عالمی سطح کی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کا حامل ملک ہے۔اس ظاہری جدیدیت سے یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ ذات پات اب صرف ماضی کا قصہ ہوگی جسے تعلیم، شہری زندگی اور منڈی رفتہ رفتہ ختم کر دیں گے،لیکن معاشی جدیدیت لازماً سماجی مساوات پیدا نہیں کرتی۔نئی معیشت کی تشکیل کسی خلا میں نہیں ہوتی بلکہ وہ زمین، تعلیم، پیشوں، رشتے داری، سماجی مرتبے اور نسل در نسل منتقل ہونے والے وسائل کی پہلے سے موجود تقسیم کے اندر جنم لیتی ہے۔ اسی لیے بھارت میں ذات بعض پرانی صورتوں میں کمزور ہونے کے باوجود کاروباری رابطوں، شادی، رہائش، ملازمت، ادارہ جاتی نمائندگی اور سماجی وقار کے جدید نظاموں میں نئی صورتوں کے ساتھ موجود رہ سکتی ہے۔
اس بحث کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی اصطلاحات کا فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ ہندی میں انگریزی لفظ ( caste)کے لیے زیادہ موزوں لفظ جاتی ہے۔ جاتی عموماً ایسے پیدائشی سماجی گروہ کو کہا جاتا ہے جس کے اندر شادی کرنے کی روایت، مشترک خاندانی یا برادری شناخت اور کسی پیشے یا سماجی مرتبے سے تاریخی تعلق پایا جاتا ہے- تاہم ہر جاتی کا پیشہ، معاشی مقام یا سیاسی اثر ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا- ایک ہی جاتی کی حیثیت مختلف علاقوں اور ادوار میں بدل سکتی ہے جبکہ معاشی ترقی، نقل مکانی، تعلیم اور سیاسی تنظیم بعض برادریوں کے مقام میں نمایاں تبدیلی بھی لا سکتی ہے۔
اس کے برعکس ورن برہمنی متون میں بیان ہونے والی نسبتاً قدیم نظریاتی تقسیم ہے جس میں برہمن، کشتری، ویش اور شودر کے چار بڑے درجے شامل ہیں۔ بھارت میں موجود ہزاروں جاتیاں اس چار سطحی خاکے میں صاف طور پر فٹ نہیں ہوتیں- اسی طرح دلت کوئی ایک جاتی نہیں بلکہ متعدد ایسی برادریوں کے لیے استعمال ہونے والی سماجی اور سیاسی شناخت ہے جن میں سے بہت سی تاریخی طور پر اچھوت پن، سماجی اخراج اور توہین آمیز پیشہ جاتی پابندیوں کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ ان میں شامل بہت سے گروہوں کو ورن کے رسمی نظام سے باہر یا اس کے انتہائی نچلے کنارے پر رکھا گیا۔ شیڈولڈ کاسٹ ایک آئینی و انتظامی زمرہ ہے جبکہ دلت زیادہ وسیع تاریخی اور سیاسی مفہوم بھی رکھتا ہے اس لیے دونوں اصطلاحات کو ہر موقع پر مکمل طور پر ایک دوسرے کا مترادف سمجھنا درست نہیں ہو گا۔
اس مضمون میں ذات پات سے مراد صرف مذہبی کتابوں میں ملنے والی درجہ بندی نہیں بلکہ وہ وسیع سماجی نظام ہے جس میں پیدائش سے منسوب شناخت کسی شخص کی عزت، شادی، پیشے، سماجی تعلقات، وسائل اور اقتدار تک رسائی پر اثر ڈال سکتی ہے- یہ اثر ہر فرد اور ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتا- کہیں ذات کھلی شناخت اور واضح امتیاز کی صورت میں سامنے آتی ہے کہیں خاندانی نام، آبائی مقام، زبان، شادی کے دائرے یا برادری کے رابطوں کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور کہیں بظاہر غیر جانب دار اداروں کے اندر غیر رسمی سفارش، اعتماد اور تعلقات کے نظام میں کام کرتی ہے۔
بھارتی آئین قانونی مساوات کی ضمانت دیتا، ذات کی بنیاد پر امتیاز کو ممنوع قرار دیتا اور اچھوت پن کا خاتمہ کرتا ہے۔ وہ تاریخی طور پر محروم گروہوں کے لیے خصوصی تحفظ اور مثبت اقدامات کی گنجائش بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ آئینی تبدیلی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ اس نے دلت اور دیگر محروم برادریوں کو تعلیم، سرکاری ملازمت، سیاسی نمائندگی اور قانونی داد رسی کے ایسے راستے دیے جو سابقہ سماجی نظام میں دستیاب نہیں تھے، لیکن کسی عمل کو قانوناً ممنوع قرار دینا اس کے فوری سماجی خاتمے کے برابر نہیں ہوتا- قانون رسمی دروازہ تو کھول سکتا ہے مگر اس دروازے تک پہنچنے کے لیے درکار تعلیم، مالی وسائل، سماجی اعتماد، معلومات، محفوظ رہائش اور بااثر رابطے سب لوگوں میں یکساں تقسیم نہیں ہوتے۔
ذات جدید معیشت میں صرف اس طرح کام نہیں کرتی کہ کوئی آجر کھلے لفظوں میں کسی امیدوار کو اس کی جاتی کے سبب ملازمت دینے سے انکار کر دے- اس کا اثر اس سے کہیں زیادہ اور غیر محسوس بھی ہو سکتا ہے۔ خاندان اور برادری ملازمت کی خبر، کاروباری سرمایہ، گاہک، قرض، رہائش، تربیت اور سفارش تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ایسے روابط بسا اوقات باقاعدہ امتیاز کے بغیر بھی مواقع کی غیر مساوی تقسیم کو جاری رکھتے ہیں۔ جن گروہوں کے پاس پہلے سے زمین، اعلیٰ تعلیم، شہری رہائش اور بااثر اداروں تک رسائی موجود ہو ان کے سماجی رابطے زیادہ نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں- اس کے برعکس کسی محروم برادری کے اندر مضبوط باہمی تعلق لازماً اسے بڑے سرمائے، اعلیٰ ملازمتوں یا فیصلہ ساز اداروں تک نہیں پہنچاتا۔ یوں ہر برادری کے پاس سماجی نیٹ ورک تو ہو سکتا ہے لیکن ہر نیٹ ورک کی معاشی اور ادارہ جاتی قدر یکساں نہیں ہوتی۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بھارت کی ہر ناہمواری کو صرف ذات کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔  ایک غریب دلت عورت، نسبتاً خوش حال دلت سرکاری ملازم، بے زمین آدی واسی مزدور، زمین دار پسماندہ جاتی سے تعلق رکھنے والا کسان، مسلم دست کار اور بالائی ذات کا غیر مستقل شہری مزدور ایک جیسے حالات میں زندگی نہیں گزارتے۔ ان کو ملنے والے مواقع پر ذات کے ساتھ معاشی طبقہ، جنس، مذہب، علاقے، زمین کی ملکیت اور دیہی یا شہری رہائش بھی اثرانداز ہوتی ہے- ذات کا اثر انہی دوسرے تعلقات کے ساتھ مل کر مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے اس لیے اسے پورے بھارت میں ایک ہی انداز سے کام کرنے والا جامد نظام نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسی طرح معاشی طبقہ بھی خودبخود ذات کو بے اثر نہیں کر دیتا- ایک جیسی آمدن رکھنے والے دو افراد کو کرائے کا مکان حاصل کرنے، موزوں رشتہ تلاش کرنے، غیر رسمی سفارش تک پہنچنے، کام کی جگہ عزت پانے یا امتیازی سلوک سے محفوظ رہنے کے یکساں امکانات حاصل نہیں ہو سکتے۔ دوسری طرف کسی دلت یا پسماندہ جاتی سے تعلق رکھنے والے فرد کی تعلیم، سرکاری ملازمت، سیاسی طاقت یا کاروباری کامیابی کو نظر انداز کرنا بھی غلط ہوگا- ذات سماجی زندگی کے ہر لمحے کو پہلے سے طے نہیں کرتی لیکن وہ ان وسائل، رابطوں اور رکاوٹوں کو متاثر کر سکتی ہے جن کے اندر فرد اپنے فیصلے کرتا ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بھارتی معاشرے کی وضاحت ذات سے کی جائے یا طبقے سے۔ زیادہ مفید سوال یہ ہے کہ ذات، طبقہ، جنس، مذہب اور علاقائی ناہمواری ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مواقع اور محرومی کیسے پیدا کرتے ہیں- جدید سرمایہ داری نے ذات کو اپنی قدیم شکل میں منجمد نہیں رکھا لیکن اس نے اسے مکمل طور پر تحلیل بھی نہیں کیا۔ بعض پرانی پیشہ جاتی پابندیاں کمزور ہوئیں، نئی سماجی نقل و حرکت پیدا ہوئی اور محروم گروہوں نے آئینی حقوق اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کے ساتھ ہی پہلے سے موجود زمین، تعلیم، وقار اور سماجی رابطوں کی غیر مساوی تقسیم جدید منڈی کے اندر بھی فائدے اور نقصان کے مختلف نقطۂ آغاز فراہم کرتی رہی۔
آرٹیکل کی یہ پہلی قسط اس بنیادی نکتے تک محدود ہے کہ ‘جدیدیت اور منڈی ذات کا خودکار علاج نہیں ہیں’- ذات اب صرف قدیم رسم یا مذہبی درجہ بندی کے طور پر نہیں بلکہ جدید اداروں کے اندر وسائل، تعلقات، شناخت اور مرتبے کی غیر مساوی تقسیم کے ذریعے بھی کام کر سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا یا تبدیلی ممکن نہیں- آئینی تحفظ، مثبت اقدامات، سیاسی تنظیم، تعلیم، شہری نقل مکانی اور محروم گروہوں کی مزاحمت نے ذات پات پر استوار اقتدار کو کئی سطحوں پر چیلنج کیا ہے- سوال یہ ہے کہ یہ کامیابیاں کہاں تک پہنچیں، کن شعبوں میں محدود رہیں اور نئی معاشی پالیسیوں نے ان پر کیا اثر ڈالا۔
زمین اور تاریخی وسائل کی تقسیم، تعلیم اور میرٹ، نجی و سرکاری روزگار، ریزرویشن، نیو لبرل پالیسی، غیر محفوظ محنت، آدی واسی علاقوں میں ایکسٹریکشن ، بائیں بازو اور امبیڈکری سیاست، اکثریتی قوم پرستی اور جامعات میں ابھرنے والی نئی طلبہ تحریکوں کا تفصیلی ذکر اگلی اقساط میں ہوگا۔ وہاں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ رسمی قانونی مساوات کو مادی اور سماجی مساوات میں بدلنے کے لیے کن سیاسی اتحادوں، معاشی اصلاحات اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں