کاکروچ اور تتلی/ ڈاکٹر جواد ریاض

ہر قتل عام کی ابتدا بارود یا گو لی سے نہیں ہوتی۔ بلکہ دنیا کی تاریخ میں بہت سے قتلِ عام ایسے بھی ہیں جن کی ابتدا ایک بیانیہ سے ہوئی۔ بندوقیں بعد میں چلیں، لاشیں بعد میں گریں، مگر نفرت کا پہلا پتھر زبان سے پھینکا گیا۔ پہلا بیج ایک خاص بیانیہ مرتب کر کے بویا گیا۔ اگر قتل عام یا نسل کشی کا شکار ہونے والے گروہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان گروہوں کو ایک خاص بیانیہ مرتب کر کے پہلے انسانوں کی صف سے نکالا گیا، انہیں کیڑے مکوڑوں، جراثیم، جانوروں یا بیماری سے تشبیہ دی گئی، اور پھر اس تشبیہ نے ان کے خلاف تشدد کو ایک “جائز عمل” بنا دیا۔ شاید اسی لیے نسل کشی کے عالمی ماہر گریگوری اسٹینٹن اپنے مشہور نظر یے”ڈی ہیومنائزیشن” میں انسان کو انسان سے کم تر ثابت کرنے کو نسل کشی کے اہم ترین مراحل میں شمار کرتے ہیں۔جبکہ سماجی نفسیات کے ممتاز محقق ہربرٹ کیلمن بھی لکھتے ہیں کہ جب کسی گروہ کی انسانیت ہی سلب کر دی جائے تو اس کے خلاف تشدد اخلاقی طور پر قابلِ قبول محسوس ہونے لگتا ہے۔

1994ء میں روانڈا کی سرزمین پر یہی ہوا۔ تقریباً سو دنوں میں آٹھ لاکھ سے زیادہ توتسی اور اعتدال پسند ہوتو باشندے قتل کر دیے گئے۔ لیکن یہ قتل اچانک نہیں ہوئے تھے۔ ان سے پہلے برسوں تک ایک بیانیہ مرتب کیا گیا۔ اخبارات، ریڈیو اور سیاسی تقاریر میں توتسیوں کو “Inyenzi” یعنی “کاکروچ” کہا جاتا رہا۔ ایک معروف اداریے کا عنوان تھا: “کاکروچ سے کبھی تتلی پیدا نہیں ہوتی۔” یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اقدار تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ جب کسی انسان کو مسلسل کیڑا کہا جائے تو پھر اس کے قتل پر دل میں وہ ہمدردی باقی نہیں رہتی جو ایک انسان کے لیے ہونی چاہیے۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے کہ جیسے تتلی کو مارنا غلط مگر ایک کاکروچ کو مارنا ٹھیک تصور کیا جاتا ہے۔

روانڈا کے ریڈیوRTML کے ذریعے توتسی اور اعتدال پسند ہوتو نسل کے خلاف نفرت کو اتنا معمول بنا دیا گیا کہ انکے قتل عام کے وقت، قاتل صرف فوجی نہیں تھے؛ کسان، دکاندار، استاد، مزدور، حتیٰ کہ پڑوسی بھی انکی نفرت میں اندھے ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقات اور بعد ازاں بین الاقوامی ٹربیونل نے واضح کیا کہ نفرت انگیز زبان اس نسل کشی کا ایک بنیادی محرک تھی۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہ المیہ صرف روانڈا تک محدود نہیں۔ نازی جرمنی میں یہودیوں کو “چوہے”، “جراثیم” اور “طاعون” کہا جاتا تھا۔ سرکاری پروپیگنڈا فلم The Eternal Jew میں انہیں چوہوں کے ساتھ ملا کر دکھایا گیا تاکہ عوام کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھایا جا سکے کہ وہ انسان نہیں بلکہ نفرت انگیز ہیں۔ نتیجہ دنیا نے ہولوکاسٹ کی صورت میں دیکھا، جہاں لاکھوں یہودی مارے گئے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بھی نفرت انگیز زبان برسوں استعمال ہوتی رہی۔ بعض انتہا پسند راہب انہیں “جراثیم” اور “غیر قانونی درانداز” کہتے رہے۔ بعد میں جب ہزاروں لوگ قتل ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے تو اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ نفرت انگیز بیانیہ اس سانحے کے اہم اسباب میں شامل تھا۔ کمبوڈیا، بوسنیا اور دنیا کے کئی دوسرے خطوں میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ پہلے شناخت چھینی گئی، پھر حقوق، اور آخرکار جان۔
خود تحریک پاکستان بھی اسی پس منظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے مسلمانوں کو ناپاک اور ملیچھ تک قرار دیا گیا۔ اور یہی بیانیہ تحریک پاکستان کا ایک بنیادی محرک بنا۔

شاید اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے آج کسی بااثر شخصیت کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کو معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ بھارت میں مئی 2026ء کے ایک عدالتی ریمارک نے اسی حساس مسئلے کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے نوجوانوں کے لیے کاکروچ کا لفظ استعمال کیا تو نوجوانوں نے اسے اپنی توہین سمجھا، اگرچہ بعد میں وضاحت کی گئی کہ ان کا اشارہ تمام نوجوانوں کی طرف نہیں تھا۔ لیکن الفاظ تیر کی طرح ہوتے ہیں؛ ایک بار نکل جائیں تو واپس نہیں آتے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش میں آیا ہے۔ جب بھارتی نوجوان پہلے ہی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، مہنگائی اور غیر یقینی مستقبل سے پریشان تھے۔ اور اس ایک ایک لفظ نے ان کے برسوں کے غصے کو زبان دے دی۔

30 سالہ ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سوال پوچھا: “اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟” شاید خود اسے بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ جملہ ایک تحریک کی بنیاد بن جائے گا۔ چند ہی دنوں میں “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ویب سائٹ وجود میں آگئے۔ ہزاروں افراد نے رکنیت اختیار کی، لاکھوں لوگوں نے اس مہم کو فالو کرنا شروع کر دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک طنزیہ احتجاج نوجوانوں کی اجتماعی آواز بن گیا۔

یہاں ایک دلچسپ نفسیاتی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ جس لفظ سے کسی گروہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی تھی، اسی لفظ کو نوجوانوں نے اپنی شناخت بنا لیا۔ دنیا کی کئی سماجی تحریکوں میں ایسا ہو چکا ہے کہ لوگ مخالفین کی دی ہوئی تضحیک آمیز شناخت کو مزاحمت کی علامت بنا دیتے ہیں۔ اس سے نفرت پھیلانے والوں کا ہتھیار خود انہی کے خلاف استعمال ہونے لگتا ہے۔

کاکروچ کی علامت کا انتخاب بھی محض اتفاق نہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق کاکروچ کروڑوں برس سے زمین پر موجود ہیں اور انتہائی سخت حالات میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارتی نوجوانوں نے اسی استعارے کو اپنی مزاحمت کی علامت بنادیا کہ شاید نظام انہیں حقیر سمجھتا ہو، لیکن وہ ہار ماننے والے نہیں۔

اصل سوال، تاہم، بھارت یا روانڈا کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ زبان کی اخلاقیات کیا ہیں؟ کیا کسی ریاست، عدالت، سیاست دان، مذہبی رہنما یا میڈیا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی طبقے کی انسانیت پر سوال اٹھائے؟ تاریخ کا جواب صاف ہے: نہیں۔

الفاظ محض آوازیں نہیں ہوتے، وہ رویے بناتے ہیں۔ وہ قانون سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں، عوامی رائے کو تشکیل دیتے ہیں اور بعض اوقات انسانوں کی زندگی اور موت کے درمیان حدِ فاصل بھی بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بین الاقوامی قانون میں نفرت انگیز تقاریر (Hate Speech) کو محض اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ بعض حالات میں بین الاقوامی جرم کی بنیاد بھی سمجھا جاتا ہے، خصوصاً جب وہ نسل کشی یا منظم تشدد پر اکسانے کا ذریعہ بنیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی معاشرے کا زوال اسی دن شروع ہوجاتا ہے جب وہاں انسان کو انسان ماننے سے انکار کیا جاتا ہے۔لفظ بظاہر بہت چھوٹے ہوتے ہیں، مگر انہی سے معاشرے بھی آباد ہوتے ہیں اور قبرستان بھی۔ انکی زبان نہیں ہوتی مگر انکی کاٹ تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں