جنتَر منتر کے مناظر میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہاں صرف ایک طبقہ یا ایک شناخت موجود نہیں تھی۔ طلبہ تھے، کسان تھے، مزدور تھے، مختلف مذاہبِ کے لوگ تھے، مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے نوجوان تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب برسوں سے مذہبی شناختوں کو سیاست کا بنیادی محور بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں ایک مختلف منظر سامنے آیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ اتحاد خلا میں پیدا نہیں ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کے بہت سے نوجوانوں نے آزادی کی تحریک، بھگت سنگھ، مولانا ابوالکلام آزاد، گاندھی، اشفاق اللہ خان، اودھم سنگھ اور دیگر تاریخی شخصیات کی طرف دوبارہ رجوع کیا۔ انہوں نے ماضی کو صرف یاد نہیں کیا بلکہ اس سے ایک متوازی بیانیہ تشکیل دیا، جو نفرت کے مقابلے میں مشترکہ تاریخ، مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ مستقبل کی بات کرتا ہے۔ یوں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر شناختیں ختم نہیں ہوئیں بلکہ ایک نئی لڑی میں پروئی گئیں۔ شاید یہی وہ کیفیت ہے جسے فرانز فینن اس خیال سے جوڑتے ہیں کہ قوم پرستی آزادی کے بعد خود کو نئی صورتوں میں ظاہر کرتی ہے۔ ایک زندہ قوم اپنے ماضی سے توانائی لے کر اپنے حال کا نیا تصور تخلیق کرتی ہے۔
لیکن جب یہی سوال پاکستان کے تناظر میں اٹھاتے ہیں تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ متعدد مورخین اور سیاسی مفکرین کے مطابق پاکستان کا قیام ایک buffer state کے طور پر بھی اہمیت رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے وقت کے ساتھ ریاست کا کردار زیادہ تر ایک سیکورٹی اسٹیٹ کی صورت اختیار کرتا گیا، جبکہ نوآبادیاتی دور کے بہت سے ریاستی اور انتظامی ڈھانچے بھی بڑی حد تک برقرار رہے۔ اس کے نتیجے میں ایک اور مسئلہ ابھرا: شناخت کا بحران۔
ہم نے خود کو یہ بتانے پر زیادہ زور دیا کہ ہم کون نہیں ہیں، بجائے اس کے کہ ہم یہ دریافت کرتے کہ ہم کون ہیں۔ ہماری ہزاروں برس کی تہذیبی، ثقافتی اور فکری روایت سے تعلق کمزور ہوتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مشترکہ تاریخی تسلسل بھی ٹوٹنے لگا، اور مختلف شناختیں ایک دوسرے سے دور ہوتی گئیں۔
آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو مختلف خطوں اور طبقات کی آوازیں الگ الگ سنائی دیتی ہیں۔ کہیں کشمیر کی بات ہے، کہیں گلگت بلتستان کی، کہیں بلوچستان، کہیں خیبر پختونخوا، کہیں سندھ، کہیں پنجاب کے کسانوں، مزدوروں یا شہریوں کے مسائل، کہیں اساتذہ اور طلبہ کی جدوجہد۔ ہر آواز الگ فریم میں دکھائی دیتی ہے، گویا ان کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
یہاں James C. Scott کی بات یاد آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں جبر زیادہ ہو، وہاں مزاحمت اکثر چھوٹی، مقامی اور بکھری ہوئی شکلوں میں نظر آتی ہے۔ وہ خاموش بھی ہو سکتی ہے، روزمرہ زندگی میں بھی موجود ہو سکتی ہے، اور ہر جگہ اپنی الگ صورت اختیار کر سکتی ہے۔ شاید پاکستان میں ہم ابھی اسی مرحلے میں ہیں، جہاں بہت سی مزاحمتیں موجود ہیں، مگر وہ ایک دوسرے سے پوری طرح جڑ نہیں پاتیں۔
سوال یہ ہے کہ وہ کیوں نہیں جڑتیں؟
نوآبادیاتی حکمرانی کی ایک بڑی حکمتِ عملی ہمیشہ یہ رہی کہ مختلف علاقوں، قومیتوں اور طبقات کو الگ الگ خانوں میں رکھا جائے۔ جب ہر مسئلہ صرف ایک مخصوص شناخت کا مسئلہ بن جائے تو مشترکہ ڈھانچہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ پھر بلوچستان صرف بلوچستان رہ جاتا ہے، کشمیر صرف کشمیر، گلگت صرف گلگت، سندھ صرف سندھ، پشتون صرف پشتون، پنجاب صرف پنجاب، کسان صرف کسان اور طلبہ صرف طلبہ۔
لیکن اگر ہم ان سب کو صرف الگ الگ واقعات کے بجائے ایک وسیع تر تاریخی اور ساختی تناظر میں دیکھیں تو تصویر بدلنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاؤلو فرارے کا “تنقیدی شعور” (Critical Consciousness) معنی اختیار کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شعور اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے مسئلے کو صرف ذاتی یا مقامی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے پیچھے موجود وسیع سماجی اور تاریخی ڈھانچے کو بھی پہچاننا شروع کرتا ہے۔
شاید پاکستان کو آج اسی اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بلوچ اپنی شناخت چھوڑ دے، یا پشتون، سندھی، پنجابی، کشمیری یا گلگتی اپنی تاریخ بھول جائیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام شناختیں ایک وسیع تر مشترکہ تصور کے اندر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ سکتی ہیں؟
اسی جگہ فینن دوبارہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ ان کے نزدیک قومی شعور (National consciousness)یکسانیت پیدا نہیں کرتا بلکہ مختلف شناختوں کو ایک مشترکہ اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری میں جوڑتا ہے۔ قوم تب بنتی ہے جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا شروع کرتے ہیں۔
امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک (Civil Rights Movement) برسوں تک مقامی چرچوں، طالب علموں، کمیونٹی تنظیموں اور روزمرہ مزاحمت کے چھوٹے چھوٹے مراکز سے پروان چڑھی۔ جنوبی افریقہ میں بھی مقامی کمیٹیاں، طلبہ تنظیمیں، مزدور یونینیں اور ثقافتی حلقے برسوں تک الگ الگ کام کرتے رہے، پھر آہستہ آہستہ ایک وسیع تر قومی جدوجہد میں ضم ہوتے گئے۔ یہ مثالیں یاد دلاتی ہیں کہ منتشر مزاحمت اگر مشترکہ شعور اور مشترکہ اخلاقی تصور سے جڑ جائے تو وقت کے ساتھ ایک بڑی اجتماعی قوت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پھر پاکستان میں ایک اور بیانیہ بھی بار بار دہرایا گیا ہے کہ گویا پنجاب ایک یکساں طاقت کا نمائندہ ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پنجاب کے اندر بھی کسانوں، مزدوروں، صحافیوں، اساتذہ، طلبہ اور مختلف طبقات نے مختلف ادوار میں اپنے اپنے مسائل اور مطالبات کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ اگر کسی پورے خطے کو ایک ہی سیاسی کردار میں سمو دیا جائے تو وہاں موجود سماجی تنوع اور مختلف تجربات نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے صوبوں کے بارے میں بھی یک رخا تصورات حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ٹوٹے ہوئے تاریخی تسلسل سے دوبارہ جڑیں۔ اپنی مشترکہ تہذیبی یادداشت کو دریافت کریں۔ اپنے ہیروز کو دوبارہ پڑھیں۔ اپنے اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی جدوجہد کو سمجھیں۔ کیونکہ جب تک ہر مزاحمت الگ الگ رہے گی، وہ صرف ایک مقامی آواز رہے گی۔ لیکن جب مختلف آوازیں ایک دوسرے کو سننا شروع کریں گی، تبھی ایک وسیع تر اجتماعی شعور جنم لے سکتا ہے۔
شاید یہی وہ سفر ہے جس کی طرف سکاٹ کی منتشر مزاحمت، فرارے کا تنقیدی شعور اور فینن کا قومی شعور اشارہ کرتے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے تاریخی تسلسل کو جوڑنے کا سفر، جہاں مختلف شناختیں مٹتی نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی اور اجتماعی مقصد میں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔


