بھاپ کی طاقت سے شہر تک پانی کی فراہمی
لہور شہر میں ایسی ایسی منفرد و باکمال جگہیں موجود ہیں کہ اگر آپ روز بھی ایک جگہ دیکھیں تو سالوں لگ جائیں اس شہر کی تاریخ و ورثے کا احاطہ کرتے کرتے۔۔۔۔
عرصہ پہلے بادامی باغ و آس پاس کی کھوج کرتے ہوئے یہ خوبصورت برطانوی طرز کی عمارت نظر آئی۔ اندر گئے توای کتے اور پرانی مشینوں کے سوا کچھ ناں ملا۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ عمارت جو کافی عرصہ عوام کی نظر سے اوجھل رہی ہے، برطانوی دور کا پمپنگ اسٹیشن تھا جہاں لاہور میں پانی کی فراہمی کے لیئے پہلا سٹیم انجن (بھاپ سے چلنے والا انجن) لگایا گیا تھا۔
یہ پمپنگ اسٹیشن 1883 میں بِلارام نامی ایک ہندو اور اُس وقت کے گورنرِ لاہور، چارلس ایچیسن نے مشترکہ طور پر لاہور شہر کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے قائم کیا تھا۔ کہتے ہیں جب بِلارام اپنے اہل خانہ کے ہمراہ لاہور آئے تو آلودہ پانی پینے سے اُن کے بچے بیمار پڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد بِلارام نے گورنر ایچیسن سے ملاقات کی اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے پمپنگ اسٹیشن لگانے کی تجویز پیش کی۔ یقیناً وہ اس دور کی با اثر شخصیت رہے ہوں گے کہ جن کی تجویز جلد مان لی گئی۔
عمارت کی بلند چھت، موٹی اینٹوں کی دیواریں، محرابی کھڑکیاں، فولادی شہتیر، اور آسمان سے باتیں کرتی سرخ اینٹوں کی چمنی اس دور کی انجینئرنگ کا شاہکار ہیں۔
اسٹیشن کی لال عمارت کے ساتھ بنی وکٹورین طرز کی ایک اونچی مینار نما چمنی آج بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
کوئلے سے چلنے والے بوائلروں میں جب آگ جلتی تھی تو اس کا دھواں اسی بلند چمنی سے خارج ہوتا، جس سے بوائلر میں ہوا کی مسلسل آمد برقرار رہتی اور بھاپ پیدا کرنے کا عمل مؤثر طریقے سے جاری رہتا۔
چمنی کی بلندی زیادہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ دھواں شہر سے اوپر فضا میں منتشر ہو جائے اور اردگرد کی آبادی کم متاثر ہو۔ یہ چمنی تقریباً ڈیڑھ صدی سے لاہور کی صنعتی تاریخ کی خاموش گواہ ہے اور آج بھی اپنی اصل ساخت کے ساتھ کھڑی ہے۔
مرکزی عمارت کے اندر جہاز کے حجم کے برابر ایک دیوہیکل سٹیم انجن نصب ہے۔ جس پر
HATHORN
DAVEY & Co Ltd
LEEDS ENGLAND
لکھا ہے۔
ہیتھرون کمپنی برطانیہ کے شہر لیڈز کی ایک مشہور انجینئرنگ کمپنی تھی جو انیسویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی۔ یہ کمپنی بھاپ کے انجن ، ریلوے انجنوں کے پرزے، پانی پمپ کرنے والی مشینیں ، کان کنی اور کارخانوں کی بھاری مشینری بناتی تھی۔
ان کی بنی ہوئی مشینیں برطانوی سلطنت کے مختلف ممالک بشمول برصغیر، میں استعمال ہوتی تھیں۔
اس کے بڑے گیئرز ٹائٹینک کے سٹیم انجنوں میں استعمال ہونے والے گیئرز سے مشابہت رکھتے ہیں سو میں نے اسے لاہور کےٹائٹینک کا نام دیا ہے۔
برطانوی دور کے پانی کی فراہمی کے نظام کے دو اہم حصے تھے۔ بھاپ سے چلنے والا انجن جو دریائے راوی سے پانی کھینچنے کے لیے ایک طاقتور ہائیڈرولک نظام استعمال کرتا تھا، جبکہ دوسرے حصے میں پانی کو ایک بڑے ذخیرے میں جمع کیا جاتا تھا جسے “پانی والا تالاب” کہا جاتا ہے۔
وہاں سے پانی اندرونِ شہر کے گھروں کو فراہم کیا جاتا تھا۔
آج اگرچہ یہ مشینیں خاموش ہیں، لیکن ان کے ہر پرزے پر وقت کی مہریں ثبت ہیں۔ زنگ آلود فلائی وہیل، مضبوط کاسٹ آئرن کے سلنڈر، موٹی پائپ لائنیں، اور چھت سے لٹکتی چین بلاک آج بھی اس زمانے کی محنت، مہارت اور صنعتی عظمت کی داستان سناتے ہیں۔
اکتہر کی پاک بھارت جنگ کے بعد، جب کوئلے کی فراہمی میں خلل پڑا تو پمپنگ اسٹیشن بند کر دیا گیا اور متبادل کے طور پر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل نصب کیے گئے۔ 1971 سے یہ مشینری غیر فعال پڑی رہی اور عمارت رفتہ رفتہ کھنڈر میں تبدیل ہو گئی۔
اب اس مشینری کو دوبارہ قابلِ استعمال تو نہیں بنایا جا سکتا، لیکن والڈ سٹی نے یہاں ایک عجائب گھر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت اس کی صفائی اور حفاظت کی جا رہی ہے۔


