نئے صوبے یا کھانے کے لیے نئے حصّے دار؟- محمد امین اسد

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی بحث بظاہر گورننس، عوامی سہولت اور ریاستی کارکردگی کے نام پر اٹھائی جارہی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک زیادہ تلخ اور زیادہ حقیقی سوال موجود ہے: قومی خزانے میں مال کم پڑ رہا ہے، جبکہ اقتدار اور وسائل میں حصہ مانگنے والے پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئے ہیں۔ کوئی گورنری چاہتا ہے، کوئی وزارتِ اعلیٰ، کوئی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست، کوئی کابینہ میں جگہ، کوئی چیف سیکریٹری یا سیکریٹری کا منصب، کوئی عدلیہ میں نمائندگی، اور کوئی اپنے سیاسی گروہ کے لیے ایک محفوظ انتظامی قلعہ۔ یوں نئے صوبوں کا نعرہ عوامی ضرورت سے پہلے اشرافیہ کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا جواب بھی دکھائی دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس بحث کو محض بہتر انتظام کے عنوان سے دیکھنا کافی نہیں۔ پاکستان کا موجودہ بحران صرف اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ صوبے بڑے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی وسائل محدود، قرضوں کا بوجھ بھاری، محصولات کم اور اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اقتدار کے ہر حلقے کو اپنا حصہ چاہیے۔ سیاست دان وزارتیں چاہتے ہیں، اتحادی جماعتیں عہدے مانگتی ہیں، بیوروکریسی نئے محکمے اور نئی ترقیاں چاہتی ہے، عدالتی و انتظامی طبقات نئی نشستوں کے خواہاں ہیں، جبکہ مرکز اور اسٹیبلشمنٹ دونوں اپنے اپنے دائرۂ اثر کو کم ہونے دینے کے لیے تیار نہیں۔

نئے صوبے اس مشکل کا ایک سیاسی حل فراہم کرسکتے ہیں۔ ایک صوبہ تقسیم ہوگا تو ایک کے بجائے دو یا تین گورنر ہوں گے، اتنے ہی وزرائے اعلیٰ، نئی کابینائیں، نئی اسمبلیاں، نئے سیکریٹریٹ، نئے چیف سیکریٹری، نئے آئی جی، نئے سیکریٹری، نئی ہائی کورٹیں یا بنچ، نئی پبلک سروس کمیشن اور درجنوں نئے سرکاری ادارے وجود میں آئیں گے۔ جو لوگ موجودہ ڈھانچے میں محروم ہیں، انہیں نئے ڈھانچے میں امید، عہدہ یا حصہ دیا جاسکے گا۔ یوں ایک ہی روٹی کو بڑا کرنے کے بجائے اس کے ٹکڑے زیادہ کردیے جائیں گے، تاکہ ہر طاقتور طبقے کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ آ جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس روٹی کی قیمت کون ادا کرے گا؟ ظاہر ہے، وہی عام شہری جو پہلے ہی مہنگائی، بجلی، گیس، ٹیکس، بے روزگاری اور کمزور سرکاری خدمات کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ نئی اسمبلیاں مفت نہیں بنیں گی، نئے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس ہوا سے تعمیر نہیں ہوں گے، نئی بیوروکریسی تنخواہوں اور مراعات کے بغیر کام نہیں کرے گی، اور نئی عدالتیں، پولیس ہیڈکوارٹر اور سیکریٹریٹ قومی خزانے سے ہی چلیں گے۔ یوں جس منصوبے کو عوام کے قریب حکومت لانے کے نام پر پیش کیا جائے گا، اس کا پہلا عملی نتیجہ عوام پر مزید مالی بوجھ بھی ہوسکتا ہے۔

مرکز کی اپنی مجبوری بھی واضح ہے۔ صوبے پہلے ہی قومی مالیاتی کمیشن کے تحت قابلِ تقسیم محصولات کا بڑا حصہ لیتے ہیں۔ وفاق دفاع، قرضوں، پنشن، قومی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے زیادہ رقم چاہتا ہے۔ اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو ہر نئی اکائی اپنے مالی حصے، ترقیاتی فنڈ، ملازمتوں، اداروں اور خصوصی پیکیج کا مطالبہ کرے گی۔ نتیجتاً یا تو وفاق کو اپنا حصہ کم کرنا ہوگا، جس پر وہ آمادہ نہیں ہوگا، یا مجموعی محصولات بڑھانے ہوں گے، جس کا سیدھا مطلب نئے ٹیکس، مہنگی بجلی، زیادہ لیویز اور عوام کی جیب پر مزید دباؤ ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی چھوٹے صوبوں کا تصور اپنی کشش رکھتا ہے۔ بڑے صوبے مضبوط سیاسی مینڈیٹ، وسیع وسائل اور بڑے عوامی حلقے رکھتے ہیں۔ ایک طاقتور وزیراعلیٰ یا ایک مضبوط صوبائی جماعت مرکز کے لیے مشکل سیاسی حقیقت بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس چھوٹی، مالی طور پر کمزور اور وفاقی گرانٹس پر منحصر اکائیاں الگ الگ انداز میں زیادہ آسانی سے سنبھالی جاسکتی ہیں۔ ان کی قیادت کو فنڈ، عہدے، ترقیاتی منصوبے اور ریاستی سرپرستی کے ذریعے راضی رکھنا نسبتاً آسان ہوگا۔

یہی اس پورے منصوبے کا سب سے اہم سیاسی پہلو ہے۔ نئے صوبے صرف جغرافیائی تقسیم نہیں ہوں گے، بلکہ طاقت کے بڑے مراکز کو چھوٹے مراکز میں توڑنے کا عمل بھی ہوسکتے ہیں۔ پنجاب کی سیاسی عددی قوت، سندھ میں پیپلز پارٹی کا مضبوط اقتدار، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا اثر اور بلوچستان میں قوم پرست سیاست، سب نئی انتظامی حد بندیوں سے متاثر ہوں گے۔ بڑی جماعتوں کے قلعے تقسیم ہوں گے، نئے سیاسی خاندان ابھریں گے اور مرکز کے لیے ہر اکائی سے الگ الگ معاملہ کرنا آسان ہوگا۔

اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ایک ایسا بیانیہ درکار ہوگا جو عوام کے دکھوں سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ انہیں بتایا جائے گا کہ صوبہ چھوٹا ہوگا تو ہسپتال قریب آئے گا، ملازمتیں بڑھیں گی، سڑکیں بنیں گی، دارالحکومت نزدیک ہوگا اور مقامی محرومی ختم ہوجائے گی۔ کچھ عرصے کے لیے نئی امید پیدا ہوگی، نقشے بنیں گے، نام تجویز ہوں گے، دارالحکومتوں پر بحث ہوگی اور ہر خطے کو یہ باور کرایا جائے گا کہ اس کی قسمت بدلنے والی ہے۔

یہی وہ سیاسی لالی پاپ ہے جو عوام کو مزید دس یا پندرہ سال مصروف رکھ سکتا ہے۔ پہلے نئے صوبے کی تحریک چلے گی، پھر حدود پر اختلاف ہوگا، اس کے بعد آئینی ترمیم کی بحث، پھر دارالحکومت کا تنازع، پھر این ایف سی کا نیا فارمولا، پھر اثاثوں اور ملازمین کی تقسیم، اور آخر میں نئے اداروں کی تعمیر۔ اس تمام عرصے میں عام شہری کو کہا جائے گا کہ ابھی عبوری مشکلات ہیں، اصل فائدے کچھ سال بعد سامنے آئیں گے۔

لیکن پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ عبوری مشکلات اکثر مستقل نظام بن جاتی ہیں، جبکہ وعدہ شدہ بہتری مسلسل آگے سرکتی رہتی ہے۔ نئے صوبے بن بھی گئے تو لازمی نہیں کہ اختیار عوام تک پہنچے۔ ممکن ہے پرانے صوبائی دارالحکومتوں کی جگہ نئے دارالحکومت وجود میں آجائیں اور پھر وہ بھی وسائل، ملازمتوں، ہسپتالوں، جامعات اور ترقیاتی فنڈز کو اپنے گرد جمع کرلیں۔ عام آدمی کے لیے صرف دفتر کا پتہ بدلے گا، دفتر کا رویہ نہیں۔

اس سارے منصوبے میں اصل اصلاح بلدیاتی اختیار، انتظامی جواب دہی، مالی شفافیت اور آئین کی بالادستی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن یہ اصلاحات اشرافیہ کے مفاد میں نہیں، کیونکہ ان سے اختیار واقعی ضلع، تحصیل اور یونین کونسل تک پہنچتا ہے۔ نئے صوبے اس کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہیں، کیونکہ ان سے عوام کو امید اور اشرافیہ کو عہدے دونوں مل سکتے ہیں۔ یوں اصلاح کا نام بھی قائم رہتا ہے اور طاقت کا موجودہ مزاج بھی زیادہ نہیں بدلتا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ نئے صوبوں کے وسیع آئینی پیکیج کے ساتھ مرکز اپنے مالی اور انتظامی اختیارات میں اضافہ کرے۔ صوبوں کو نئی شناخت اور نئی حکومتیں مل جائیں، مگر ان کی مالی خودمختاری محدود رہے۔ ایسی صورت میں صوبے آئینی طور پر زیادہ، مگر عملی طور پر کمزور ہوں گے۔ مرکز اور غیر منتخب قوتوں کے لیے ان پر اثر انداز ہونا پہلے سے آسان ہوگا۔

اس لیے محسن نقوی کا بیان صرف نظام کی ناکامی کا اعتراف نہیں، بلکہ ایک ممکنہ نئے سیاسی بندوبست کی تمہید بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر لفظ کے پیچھے کوئی مکمل خفیہ نقشہ موجود ہو، لیکن یہ بھی سادہ لوحی ہوگی کہ اتنے بڑے ریاستی منصب سے آنے والے ایسے بیان کو محض ذاتی خیال سمجھ لیا جائے۔ ریاستی نظام میں بڑے فیصلے اکثر پہلے مبہم خیالات، پھر عوامی بحث اور آخر میں ناگزیر قومی ضرورت کے عنوان سے سامنے آتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے انتظامی طور پر مفید ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ یقیناً مناسب حالات میں چھوٹی اکائیاں بہتر حکومت دے سکتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ منصوبہ عوام کے لیے بنایا جارہا ہے یا موجودہ اشرافیہ کے بڑھتے ہوئے حصوں کو سمیٹنے کے لیے؟ اگر نئے صوبوں کے ساتھ اخراجات کم، کابینائیں محدود، بلدیاتی ادارے مضبوط، وسائل شفاف اور مقامی حکومتیں بااختیار نہ ہوئیں تو نتیجہ واضح ہوگا: کھانے والے بڑھ جائیں گے، مال مزید کم پڑے گا اور قیمت پھر عوام ہی ادا کریں گے۔

عوام کو نئے نقشوں سے پہلے یہ پوچھنا چاہیے کہ نئے صوبے کے بعد اسکول بہتر ہوگا یا صرف وزیر تعلیم بدل جائے گا؟ ہسپتال میں دوا ملے گی یا صرف نیا سیکریٹری صحت آئے گا؟ پولیس جواب دہ ہوگی یا صرف نیا آئی جی مقرر ہوگا؟ عدالت جلد فیصلہ دے گی یا صرف ایک نئی عمارت بنے گی؟ اگر ان سوالات کا جواب موجود نہیں تو یہ انتظامی انقلاب نہیں، عہدوں اور وسائل کی نئی بندربانٹ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں