ڈاکٹرز کے مابین پُھوٹ نہ ڈالیں/ڈاکٹر محمد شافع صابر

سوشل میڈیا پر کچھ شرپسند عناصر نے کہا ایک لاحاصل بحث شروع کر رکھی ہے کہ پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں سے کونسا بہتر ہے؟ ایف سی پی ایس یا پھر ایم ایس (ماسٹر آف سرجری) / ایم ڈی ( ڈاکٹر آف میڈیسن)۔ ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز میں ڈاکٹرز کے حالات اتنے برے ہیں کہ ان مسائل کے حل کے لئے ڈاکٹرز کے مابین باہمی اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، وہاں ڈاکٹروں کو اس بحث میں الجھا دیا گیا ہے۔
ایف سی پی ایس کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کرواتا ہے اور یہ کالج 1962 میں ایک آرڈنینس کے زریعے پاکستان میں ڈاکٹرز کی اعلیٰ تعلیم کے لئے تعمیر کیا گیا یہ پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کو عالمی معیار کے standardized کیا جائے ۔ جبکہ صوبہ پنجاب میں ایم ایس / ایم ڈی پروگرامز کو چھے سرکاری ( کے ای ایم یو،ایف جے ایم یو،یو ایچ ایس،ایف ایم یو،آر ایم یو،این ایم یو)یونیورسٹیز کروا رہی ہیں ۔
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ سی پی ایس پی کے فیلوز دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے بہترین طبعی سہولیات فراہم کر رہے ہیں،جبکہ ایم ایس ایم ڈی کنسلٹنٹس بھی اس لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں ۔
صوبہ پنجاب میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سب سے پہلے سے ایم ایس / ایم ڈی پروگرام کروا رہی ہے،جبکہ سب سے زیادہ ایم ایس ایم ڈی ٹرینیز یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے ہیں، یہ بات بلکل حقیقت ہے کہ پنجاب میں ایم ایس ایم ڈی پروگرام اب ماضی قریب کی بانسبت کافی زیادہ سٹریم لائن ہو چکا ہے، یونیورسٹییز اپنے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کو مزید آرگنائز کر رہی ہیں ۔
یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ایک ہسپتال میں کام کرتے ہوئے ایف سی پی ایس پی اور ایم ایس / ایم ڈی پی جی آرز کے دعمیان Discrimination کی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ہی ہسپتال کے ایک ہی وارڈ میں،ایک ہی سپروائزر کے زیر نگرانی ٹریننگ کرتے ہوئے ایف سی پی ایس اور ایم ایس / ایم ڈی پی جی آر کے درمیان discrimination کیسے ہو سکتی ہے؟
جبکہ گراؤند رائیلٹی یہ ہے کہ بیشتر ایف سی پی ایس کوالیفائیڈ سپروائزرز ایم ایس / ایم ڈی پی جی آرز کے سپروائزر ہیں، جبکہ کئی وارڈز میں ایم ایس / ایم ڈی کوالیفائیڈ سپروائزرز ایف سی پی ایس پی جی آر کو سپروائز کر رہے ہیں ۔ یہ دونوں پروگراموں کے درمیان باہمی تعاون کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں پروگرامز کے پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کو ایک ہی وارڈ روسٹر اور سسٹم سے گزارا جاتا ہے،لیکن کچھ سازشی عناصر یہاں بھی اپنے زاتی مفادات کی تکمیل کے لئے شرپسندی پھیلا رہے ہیں ۔
کیا زاتی فائیدے کی تکمیل کے لئے پاکستان میں اعلی طبعی تعلیم کے ریگولیٹری اداروں پر کیچڑ اچھالنا ڈاکٹرز کے مفاد میں ہے؟ کیا اس وقت ڈاکٹرز کے درمیان نااتفاقی پھیلانا خود ڈاکٹرز کےمفاد میں ہے؟ ہر باشعور ڈاکٹر اسکا جواب نفی میں دے گا۔
ایک اور فضول بحث ہے کہ کونسا کنسلٹنٹ اچھا ہے؟ ایف سی پی ایس والا یا ایم ایس ایم ڈی والا۔ اسکا جواب تو فقط اتنا سا ہے کہ جو محنت کرے گا اور اچھی کلینکل سکلز کا مالک ہو گا وہی اچھا کنسلٹنٹ ہو گا،اسکا کسی بھی ڈگری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ایف سی پی ایس یا ایم ایس / ایم ڈی پاس ہونا آپ کے اچھے کنسلٹنٹ بننے کی کنجی ہرگز نہیں ہے۔
مسئلہ ایف سی پی ایس یا ایم ایس ایم ڈی کا ہرگز نہیں ہے۔ مسئلہ ہے ہی زاتی مفادات کا ہے۔ اگر کسی کو سی پی ایس پی ( کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان) کونسل سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کے لئے متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ کونسل کے ارکان ہر چار سال بعد الیکشن کے ذریعے متنخب ہوتے ہیں۔
اب سی پی ایس پی کے الیکشن اگلے سال ہیں ۔ جن کو مسئلہ ہے وہ الیکشن لڑ کر،جیت کر اپنی کونسل منتخب کریں اور اپنی پالسیاں لاگو کریں۔ اگر موجودہ سی پی ایس پی کونسل سے کسی کو بھی کوئی مسئلہ ہوتا تو کالج کے فیلوز اس پر متعلقہ فورمز پر بات کرتے، اپنے تحفظات سے کالج کونسل کو آگاہ کرتے،لیکن ایسا ہوا نہیں،جو کہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ کونسل کو اپنے فیلوز کی سپورٹ حاصل ہے۔
ہونا تو چاہیے تھا کہ یہ عناصر اگلے سال پوری تیاری کر کے الیکشن لڑتے،ان عناصر نے سوشل میڈیا پر ہی ایک ایسی کمپین شروع کر دی،جس کی وجہ سے ڈاکٹرز کا درمیان مزید چپقلشیں اور دوریاں بڑھ رہی ہے،یوں اس وجہ سے ڈاکٹرز کے درمیان مزید غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے معیار کو مزید بہتر کرنے ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے، لیکن زاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ڈاکٹرز کے درمیان پھوٹ پھیلانا قابلِ مذمت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں