جب کسی معاشرے میں بچوں کی یادوں میں پارکوں، میلوں اور کھیل کے میدانوں سے زیادہ ایمبولینسوں کی آوازیں، جنازوں کے مناظر اور دھماکوں کی خبریں محفوظ ہونے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ وہاں صرف امن ہی نہیں، لوگوں کی امید بھی زخمی ہو چکی ہے۔
خیبرپختونخوا آج اسی کرب سے گزر رہا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جس نے دہائیوں سے دہشت گردی، بدامنی اور بے یقینی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ ہر چند روز بعد کسی نہ کسی ضلع سے ایک نئی المناک خبر آتی ہے۔ کہیں پولیس اہلکاروں پر حملہ ہوتا ہے، کہیں عام شہری نشانہ بنتے ہیں، کہیں بازار خون سے رنگ جاتے ہیں اور کہیں جنازوں کی قطاریں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔
سوات کے علاقے کبل میں پیش آنے والے خودکش حملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ خیبرپختونخوا میں امن اب بھی ایک ادھورا خواب ہے۔ امن کے مطالبے کے لیے لوگ پرامن احتجاج میں شریک تھے۔ ریلی پولیس لائنز کے قریب موجود تھی کہ اسی دوران ایک خودکش حملہ آور نے پولیس لائنز کے مرکزی گیٹ کو نشانہ بنایا۔ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، متعدد افراد زخمی ہوئے اور ایک بار پھر کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ اس سے چند روز پہلے ہنگو میں پولیس اہلکار شہید ہوئے، اس سے قبل ٹانک میں بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ صرف چند واقعات نہیں بلکہ ایک طویل سلسلے کی تازہ کڑیاں ہیں جس نے پورے صوبے کو غم میں مبتلا کر رکھا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اس دھرتی نے اپنے سپوت کھوئے، اپنے بازار اجڑتے دیکھے، اپنے اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں، پولیس چوکیوں اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنتے دیکھا۔ شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس نے کسی نہ کسی شکل میں اس جنگ کی قیمت ادا نہ کی ہو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد وہی بیانات، وہی مذمتی اعلانات اور وہی وعدے دہرائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت میں وہ تبدیلی نظر نہیں آتی جس کی عوام کو ضرورت ہے۔ لوگ صرف افسوس سننے کے لیے زندہ نہیں رہنا چاہتے، وہ محفوظ زندگی گزارنے کا حق چاہتے ہیں۔
امن کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو بلا خوف و خطر زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ اگر کسی صوبے کے لوگ مسلسل خوف، دھماکوں اور جنازوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہوں تو یہ صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ جب پورا صوبہ بدامنی، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہو، ایسے وقت میں سیاسی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں۔ پانچ اگست کے سیاسی پروگراموں کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ علیمہ خان کے کرک اور بنوں کے دوروں اور انہیں دیے جانے والے غیر معمولی پروٹوکول پر بھی عوام سوال اٹھا رہے ہیں۔ لوگوں کی رائے ہے کہ جن افراد کے پاس کوئی آئینی یا سرکاری عہدہ نہیں، انہیں سرکاری سطح کا پروٹوکول دینا ایسے وقت میں مناسب نہیں جب پورا صوبہ امن و امان کے بحران سے دوچار ہو۔ عوام کے نزدیک ریاست کی اولین ترجیح سیاسی سرگرمیوں کے بجائے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہونی چاہیے۔
عام آدمی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جب پولیس اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہوں، جب عوام خوف میں مبتلا ہوں، جب خاندان اپنے پیاروں کو دفنا رہے ہوں، تو ریاست کی اولین ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ سیاسی طاقت کا مظاہرہ یا عوام کی جان و مال کا تحفظ؟
حکومت کوئی بھی ہو، جماعت کوئی بھی ہو، اقتدار میں کوئی بھی بیٹھا ہو، عوام کا سب سے پہلا مطالبہ صرف ایک ہے: امن۔
آج خیبرپختونخوا کے لوگ عیش و عشرت نہیں مانگ رہے۔ وہ اضافی مراعات نہیں چاہتے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے سکول جاتے وقت والدین کو یہ خوف نہ ہو کہ شام کو وہ خیریت سے واپس آئیں گے یا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے زندہ واپس گھروں کو لوٹیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بازار آباد ہوں، کاروبار چلے، سیاحت فروغ پائے اور لوگ بغیر خوف کے زندگی گزار سکیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اس صوبے کے جوان سرحدوں پر بھی کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اندرونِ ملک بھی صفِ اول میں موجود ہیں۔ اس لیے اس صوبے کے عوام کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے دکھ کم اہم ہیں یا ان کی قربانیوں کو معمول سمجھ لیا گیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے، انٹیلی جنس نظام کو مؤثر بنایا جائے اور ایسے مستقل اقدامات کیے جائیں جو صرف چند دنوں کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے امن کی ضمانت بن سکیں۔
خیبرپختونخوا کے عوام تھک ضرور گئے ہیں، لیکن ان کی امن کی خواہش ختم نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں جہاں جنازے معمول نہ ہوں، جہاں ہر دھماکے کے بعد نئی ماؤں کی گودیں اجڑتی ہوں، جہاں ہر صبح کسی نئے سانحے کی خبر نہ آئے، اور جہاں ریاست اپنے ہر شہری کو یکساں تحفظ فراہم کرے۔
امن صرف ایک نعرہ نہیں، ایک بنیادی حق ہے۔ جب تک پاکستان کے ہر کونے، خصوصاً خیبرپختونخوا، میں یہ حق عملی طور پر یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک ترقی، خوشحالی اور استحکام کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور اتحاد عطا فرمائے، شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور اس وطن کو ہمیشہ کے لیے دہشت گردی اور خوف کی فضا سے نجات عطا فرمائے۔ آمین۔


