کوئی میرے دوستوں کو سمجھاؤ/ محمد کامران اتمان خیل

کنہیالال کپور نے “مجھے میرے بزرگوں سے بچاؤ”، سجاد حیدر یلدرم نے “مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ” اور شہزاد اسلم نے “مجھے میری بیوی سے بچاؤ” کے نام سے مضمون لکھا تھا جبکہ مجھے “کوئی میرے دوستوں کو سمجھاؤ” کے نام سے لکھنے کو پڑ رہا ہے، شاید مضمون یا صرف ان کی کارگزاریاں، بیوقوفیاں اور فضول و دیوانہ پن۔۔۔۔
ایک عرصہ ہوا کہ میں اپنے دوستوں یا دوستی کے نام پہ دھبوں کے کر تُو توُ اور تُھوں تُھوں سے بہت تنگ آچکا ہوں۔
میری ناکامی میں یا مجھ کو ناکام بنانے میں ان لوگوں نے جتنا حصہ ڈالا ہے یا ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں شاید ہی اتنا کوشش میں نے خود کو کامیاب بنانے کے لیے کی ہو۔ (بڑی ہی افسوس کی بات ہے)
مجھ سے دوستی کے نام پہ وابستہ لوگوں کے کئی اقسام ہیں جیسے دیوانہ ، نیم دیوانہ،دیوانہ پرومیکس، شکی المزاج ،سائیکوپیت، سائیکوسومیٹک مرض میں مبتلا ، نرگسیت شکار، عاشق ، ادیب، شاعر اور عاشق لوگ شامل ہیں۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہاں میں نے عاشق کا لفظ دو مرتبہ کیوں لکھا ہے ؟ تو جناب اس کی وجہ یہ ہے کہ ان عاشقوں کی تعداد و اقسام مختلف ہیں؛ کوئی کھانے کا عاشق ہے، کہ جب بھی ان سے ملوں تو یہیں کہیں گے کہ “اور جناب آج کیا کھلانے جا رہے ہوں ؟ یا کچھ کھلا پھلاؤ یار” ۔ اور میرا دل کرتا ہے کہ زہر ہی کیوں نہ پھلاؤ تاکہ آپ بھوکے بلاؤں سے تو جان چھوٹے۔ کچھ جنس مخالف یعنی صنف نازک کے عاشق ہیں؛ کہ ان سے جب بھی ملوں وہ لڑکیوں کی ہی باتیں کرینگے، ان کے پاس سوائے اس کے کچھ ہوتا نہیں۔اور کچھ کتابوں کے عاشق ہیں کہ وہ صرف کتابوں کے بارے میں یا علمی گفتگو کرتے ہیں(جو کہ مجھے بہت پسند ہے).
متذکرہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن میں درج بالا ذکر شدہ خصوصیات میں سے کئی خصوصیات بہ یک وقت پائی جاتی ہیں، جیسے احتشام الحق ۔ جس کی شحصیت بالکل اپنے نام کے مخالف ہیں ۔ اس کے نام میں اگر چہ “الحق” آتا ہے لیکن خدا گواہ کہ اس نے کھبی “حق” کا ساتھ دیا ہو۔
اس جناب کی ایک اور خصوصیت بھی ہے، وہ یہ کہ ان کی مثال ریڈیو کی اس چینل کی ہے جس پر چوبیس گھنٹے نشریات چلتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ اس کا منہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ آپ جب بھی ملو گے تو شاید ہی کہ اس نے سوائے سلام کے جواب کے اور کسی کی بات سنی ہو، یہ سلام کرنے کے بعد فوراً بولنے لگ جاتا ہے اور پھر چاہے آپ کی مرضی ہو یا نہ ہو، چاہے آپ کا موڈ جیسا بھی ہو، آپ کو مجبوراً کسی ٹی وی یا یوٹیوب اشتہار کی طرح اس کو سننا پڑے گا لیکن وہ اشتہار بھی تو قابل برداشت ہے کہ ان کا دورانیہ تو کم از کم اتنا لمبا نہیں ہوتا جتنا یہ صاحب بولتے رہتے ہیں کہ چپ ہونے کا نام نہیں لیتے۔
موصوف کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ خود کو بڑا چالاک سمجھنے کے علاؤہ خود کو بڑا پڑھاکو اور نفسیات دان بھی سمجھتا ہے۔ کبھی کبھار تو فون پر کال کرکے بتاتے ہیں کہ میں نے تو آج فلاں فلاں کتاب پڑھ ڈالی، اور جب میں آگے سے کہتا ہوں” چلو یار ! آج اسی بات پر ایک موک ٹیسٹ ہو جاتے ہیں” تو ہنس کر بات بدل لیتے ہیں ۔
اس جناب کی ایک اور بھی خصوصیت ہے کہ ان کو آپ اپنا یا کسی اور کا کوئی کارنامہ بتاؤ تو کل یا کچھ دیر بعد آپ کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کے سامنے وہ اس کو اپنے آپ سے منصوب کرکے سنائیں گے ۔
ان لوگوں کی فہرست میں ایک اور نام احسان کا ہے۔ جو بہت بڑا تنقید نگار ہے، بہت ہی بڑا۔۔۔۔۔
شاید آپ ادب اور تحقیق و تنقید سے وابستہ کچھ لوگ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کیسے بڑا تنقید نگار ہے کہ اس کا نام تو ہم پہلی بار سن رہے ہیں یا اس کے کام کو آج تک ہم نے کیسے نہیں پڑھا۔۔۔ تو جناب میں آپ کو بتادوں کہ اس جیسا تنقید نگار میں نے زندگی میں نہیں دیکھا، نہ خدا کسی کو دیکھائے ۔
موصوف کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تنقید لکھتے نہیں بلکہ تنقید کرتے ہیں (وہ بھی تنقید برائے تنقید).
آپ کوئی بھی اچھا کام کرو، کوئی کارنامہ سر انجام دو، کوئی بھی اچھی تحریر لکھوں یہ بندہ اس میں کیڑے ضرور نکالیں گے ۔ یہ اتنا فعال اور متحرک تنقید نگار ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کوئی کام کرے اور یہ بندہ وہاں حاضر ہوکر اس پر تنقید نہ کرے، چاہے آپ دوستوں کے محفل میں بیٹھ کر کوئی بات کر رہے ہو، گروپ میں کوئی کالم شیئر کردیا یا فیسبک پر کوئی پوسٹ لگائی، یہ صاحب ہر جگہ اپنا حاضری دے کر بھرپور تنقید کرتے ہیں ۔
ان لوگوں میں اور تو اور ایک موصوف ایسا بھی ہے جس سے میں پچھلے تین سال سے ایک ہی موضوع پر باتیں سن رہا ہوں یا سننا پڑ رہی ہے( ویسے میری صبر کو سلام ہے).
یعنی آپ اندازہ کر لیں ان کی پرسنل گرومنگ کا کہ وہ خود کو کبھی گرو(Grow) کرنے پر کام نہیں کرتا۔ اس کے خیالات وہی پرانے کے پرانے ہیں۔ اس کے ساتھ آپ کسی بھی موضوع پر گفتگو کرے یا اور جتنی بھی باتیں کریں لیکن وہ آخر میں اس اپنے موضوع پہ ضرور آئینگے، جوکہ بہت ہی فضول ہے۔
میرے دوستوں کے اس نمونوں میں ایک نمونہ ہے جس کا “نمونیا” ہے، یعنی وہ ایک طویل عرصے سے بیمار ہے۔اس سے میں جب بھی ملتا ہوں تو اس سے مجھے ہسپتال والی فیلنگز آتی ہے ۔ یعنی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی ہسپتال کے وارڈ میں (آپ شعبہ امراض نفسیات فرض کرلیں۔ کیونکہ وہ سائیکو سومیٹک مرض اور او سی ڈی کا شکار ہے) ایک نہایت حستہ حال و قریب المرگ مریض کے ساتھ بیڈ پر بیٹھا ہوں، جو مجھے اپنے وہ مسائل بیان کر رہے ہیں جو اس کو لاحق ہے ہی نہیں، بس اس نے ویسا ہی اپنے دماغ پر ایک خول سا چڑھایا ہے اور خود کو کئی امراض میں مبتلا سمجھ کر بیمار پھر رہا ہے۔
یہ نمونہ جس کا “نمونیا” ہے، اس کی شحصیت کی بھی کئی پہلوں اور پہیلیاں ہیں۔ اگر آپ اس کا نام “بصیر” فرض کرلیں تو یہ بصارت سے محروم ہے۔(بصارت سے یہاں میری مراد عقل و فہم کا استعمال ہے، ورنہ آنکھیں سلامت ہے)
اگر آپ اس کا نام “شفیق” فرض کرلیں تو یہ شفقت سے محروم ہے، کہ یہ نہ خود پہ ترس کھاتا ہے اور نہ دوسروں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں۔
اگر آپ اس کا نام “سمیع” فرض کرلیں تو اس کو سماعت اور “سامع” ہونے کے بھی کئی مسائل ہے، کہ وہ کسی کی ایک نہیں سنتے ؛ اور آپ ایک بات اس کو ہزار مرتبہ سمجھاتے ہوئے تھک جائیں گے۔
العرض یہ کہ یہ بندہ ایک ایسا عجوبہ ہے کہ میں اس کو اس کی شحصیت کے مطابق نام دینے سے قاصر ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں