کیا یہ درست ہے کہ معاشی خوشحالی کی بنیاد پر دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے؟ حال ہی میں مراکش والا واقعہ جہاں بہت سے نوجوان سپین میں داخل ہوئے جنھوں نے اپنی موت کو بھی قبول کر لیا۔ اسی طرح ہر سال ہزاروں نوجوان ڈنگی لگاتے ہوئے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی خبر نہیں کہ مراکش سے سپین میں داخل ہونے والے نوجوانوں کی ہلاکت میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ نہ ہی یہ کوئی محض تاریکِ وطن کا معمولی واقعہ ہے بلکہ اس کے پیچھے دنیاؤں کی تقسیم کا عندیہ ہے۔ دنیا اب تیزی سے بدل رہی ہے۔
ویسے کیسی شرم کی بات ہے کہ میں اس خطے میں نہیں اُس خطے میں رہنا چاہتا ہوں تاکہ مجھے معاشی خوش حالی ملے۔ مگر دوسرا خطہ یہ کہے کہ میں تمھیں یہاں نہیں رکھ سکتا، چلو واپس چلو۔کیا برطانوی، سپینش، فرانسیسی، امریکی ، جرمن نوجوان نے بھی کبھی یہ سوچا ہوگا کہ میں نے موت کی حد تک چلے جانا ہے مگر اپنے اس خطے میں نہیں رہنا۔کیسی شرم ناک بات ہے کہ میں نے اگر خوش حال ہونا ہے تو اس خطے سے بھاگنا ہے۔
دنیا اس وقت غیر متوازن ہو چکی ہے۔ افریقن اور جنوب ایشائی خطے اپنی روایات، معاشیات اور سیاسی اقدار میں حد درجہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ایشیا اب ایک یکساں خطہ نہیں رہا۔ ایشیا میں مشرقی ممالک جو ہمارے ساتھ برما اور تھائی لینڈ سے شروع ہوتے ہیں اور شمال اور جنوب دونوں اطراف پھیلے ہوئے ہیں، انھوں نے صورتحال کا بالکل مختلف رخ اختیار کیا ہے۔جاپان چین، وین نام، کموڈیا، لاوس، فلپین، انڈنیشیا، سنگا پور، ملائیشیا وغیرہ، یہ ممالک تیزی سے مغربی سماج اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنا چکے ہیں اور ترقی و معاشی خوشحالی میں یوروپ و مغربی ممالک کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔
اس کے برعکس، جنوبی ایشیا اور افریقہ کا بڑا حصہ سیاسی عدم استحکام، ناقص حکمرانی اور روایتی سوچ کی وجہ سے شدید معاشی و ذہنی زوال کا شکار ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو افریقہ اور جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔معاش کے معاملے میں کم از کم افریقہ اور جنو ب یشائی خطہ مغرب کے پیچھے بھاگ رہاہے جس کی بنیاد پر اب رسومات اور عقائد میں بھی زبردست تبدیلی آ رہی ہے۔افریقن اور مشرقی سماج میں بھی مغربی اقدار اور خیالات پروان چڑھ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مشرق اور افریقہ معاشی زوال کی وجہ سے مغرب کو تیزی سے فالو کر رہا ہے۔
(عموماً میڈیاکر ذہن یہی تصورکرتا ہے کہ معاشی خوش حالی کو حاصل کرنے کے لیے معاشی خوس حال افراد کی رسومات و خیالات کو اپنانا ضرروی ہے۔)
اس پس منظر میں ایک اور انتہائی اہم اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک جنوبی ایشیا اور افریقہ سے افرادی قوت اور خام مال تو بڑی بے دردی کے ساتھ سستے داموں حاصل کرتے ہیں، لیکن جب ان خطوں کے نوجوان معاشی بدحالی سے تنگ آ کر ان کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں تو انھیں دھتکار دیا جاتا ہے اور واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یہ دوہرا معیار عصرِ حاضر کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا بدترین چہرہ ہے۔ مغربی معیشتیں گلوبلائزیشن اور آزاد منڈی کے نام پر پسماندہ خطوں کے تمام قدرتی وسائل اور محنت کشوں کا استحصال تو کرتی ہیں، مگر جب ان وسائل کے اصل حق دار اپنے بنیادی حقوق اور روٹی کی تلاش میں ان کی سرحدوں کا رخ کرتے ہیں تو انھیں قانون اور بارڈر سکیورٹی کے نام پر مجرم بنا دیا جاتا ہے۔جب کہ جن خطوں کے یہ باسی ہوتے ہیں، وہاں کے طاقت ور طبقے اپنے افراد کو محکوم اور پسماندہ بنانے میں دن رات مصروف ہوتے ہیں تاکہ تبدیلی ان کے تختوں کو نہ اُلٹ دے۔لہٰذا وہ جائیں تو جائیں کہاں۔
جنوبی ایشیائی ممالک اور افریقہ سماج تیزی سے اپنی اقدار سے منہ موڑ رہے ہیں اور مغربی اقدار اور معاشی ثقافتوں کے قریب جانے کی تگ و دو میں ہیں۔ خاص طور پر اب جن زی والا معاملہ کافی سنجیدہ ہو چکا ہے۔ اس نسل نے اس تبدیلی کو قبول کر لیا ہے جو اپنے خطے کی سماجیات اور معاشیات سے مکمل انکار کر چکی ہے۔ یہ نوجوان نسل اپنے خطے سے زیادہ گلوبل شہری ہے جو اپنے روایتی سماجی ڈھانچوں، نظریات و عقائد، بیوروکریسی اور معاشی گھٹن سے شدید بیزار ہے۔
جب مقامی نظام نوجوانوں کو روزگار اور خواب دیکھنے کی آزادی نہیں دے گا تو وہ اپنے روایتی سماجی نظام کو مسترد کر کے مغربی لبرل اقدار اور معاشی ماڈل کو اپنانے کی طرف دوڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں رسومات، عقائد اور فکری خیالات میں زبردست انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
شاید دنیا اگلی چند دہائیوں میں بالکل بدل کے رہ جائے۔


