خانپور کی پہچان کھویا اور پیڑے/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

سرائیکی وسیب کا تاریخی شہر خانپور اپنی تہذیب، مہمان نوازی اور ذائقہ دار سوغاتوں کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اسے خانپور کٹورا بھی کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کے بنےدھاتی کٹورے بہت مشہور تھے۔

اہم سوغات

خان پور کی سوغاتوں میں سب سے نمایاں نام خانپور کے کھوئے والے پیڑوں کا ہے، جن کی شہرت نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک بھی پہنچی ہوئی ہے۔

اگرچہ یہاں کی اصل مشہور چیز کچا کھویا تھا لیکن وقت بدلا اور ان سے بننے والے پیڑوں کی دھوم سوشل میڈیا اور خصوصاً ہاجمولا کے ایک کمرشل کے ذریعے ملک بھر میں پہنچی، جس سے پیڑے فہرست میں اوپر آ گئے۔

تیاری
خانپور کے پیڑے خالص دودھ کے کھوئے، چینی اور دیسی گھی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ پہلے خالص دودھ کو بڑی کڑاہی میں مسلسل پکا کر کھویا تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں چینی شامل کر کے مکس کیا جاتا ہے۔ ایک تھال میں نکال کر ٹھنڈا کر کے انہیں پیڑوں کی شکل دی جاتی ہے اور آخر میں میں کھوپرے/ناریل میں کوٹ کر کے سجا دیا جاتا ہے۔
کہیں کہیں کھوپرے کی بجائے اس میں پستہ اور بادام بھی ڈالا جاتا ہے۔
انہیں روایتی انداز میں ہلکی آنچ پر مسلسل پکایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا ذائقہ اور خوشبو برقرار رہتی ہے۔ چالیس کلو دودھ سے تقریبا بارہ کلو تک پیڑے بنائے جا سکتے ہیں۔

پیکنگ
میرے بچپن میں انہیں کانوں اور تیلیوں سے بنی ٹوکری میں پیک کر کے دیا جاتا تھا۔ عیدوں پر پیڑوں کی ٹوکریاں عزیز و اقارب کو بھیجی جاتی تھیں۔ افسوس کہ اب یہ رواج ختم ہو گیا ہے۔
اس کی وجوہات میں ہنرمندوں کی کمی، لاگت اور اس پہ لگنے والا وقت ہے۔ اب گتے کے ڈبوں میں یہ پیک کیئے جاتے ہیں لیکن آنکھوں کو وہی ٹوکری بھلی لگتی تھی۔

آج بھی عیدین، خوشی کی تقریبات یا کسی عزیز کے لیے تحفہ لے جانا ہو تو خانپور کے پیڑے پہلی پسند سمجھے جاتے ہیں۔ مسافر جب اس شہر سے گزرتے ہیں تو ان پیڑوں کا ذائقہ چکھے بغیر اپنی منزل کی طرف روانہ ہونا ادھورا محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مٹھائی خانپور کی پہچان بن چکی ہے۔

بڑے میاں ٹال والے
خان پور میں اسٹیشن سے لے کر بائی پاس تک پیڑوں کی کئی دوکانیں ہیں لیکن ان میں سےچند ایک کا ہی ذائقہ اچھا ہے۔ اس ضمن میں بڑے میاں ٹال والے کا ذکر ناں کرنا یادتی ہو گی۔
سنا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے بابا جی بڑے میاں کے ایک ہندو دوست جو حلوائی بھی تھے، انہیں کچے کھوئے اور پیڑوں کی خاص ترکیب دے گئے تھے جس کو انہوں نے آگے بڑھایا اور لکڑی والے ٹال کے سامنے پیڑوں کا کام شروع کیا۔
اللہ نے رنگ لگایا اور وہ دوکان بن گئی۔ ٹوکری میں پیڑے دینا بھی انہوں نے متعارف کروایا تھا۔ ان کی وفات کے بعد وہ دوکان ایک سے دو ہو گئی۔آج ان کے تین چار بیٹے الگ الگ جگہ پر کھوئے والے پیڑوں کا کام کرتے ہیں۔
اس کے بعد کھویا پیلس کا نمبر آتا ہے جنہوں نے ایک مختلف ڈیزائن کے پیڑے جدید پیکنگ میں متعارف کروائے اور خود کو ایک بڑے برینڈ کے طور پہ منوایا۔
ان کےعلاوہ اسٹیشن کی دوکانیں اوردیگر بیکریاں بھی ہیں جہاں کے پیڑے کچھ خاص نہیں۔

پیڑے اور مستنصر حسین تارڑ 
خان پور آنے والے دوستوں کو میں پیڑے ضرور کھلاتا ہوں۔
میں چونکہ مستنصر حسین تارڑ صاحب کے حلقہ ارادت کا بھی حصہ ہوں سو ایک بار ان کے لیئے بھی لےگیا۔ وہ اس کے فین ہو گئے اور اپنے ایک مضمون میں ان پیڑوں کا ذکر ان الفاظ میں کیا:

”خان پور سے ایک ڈاکٹر صاحب خصوصی طور پر آئے۔ میرے لئے خان پور کی سوغات پیڑے لائے۔
نہائت خستہ گچک کے پیکٹ سب کے لئے لائے ۔ اور ہوٹل کے کچن میں پہنچ کر تقریباً دس کلو تازہ مچھلی عملے کے سپرد کی کہ کل صبح اسے تل کر ناشتے پر تارڑ صاحب اور ان کے دوستوں کو پیش کی جائے۔ ویسے مجھے ایسے فین بہت پسند آتے ہیں۔
اور میرے دوست اتنے کمینے تھے کہ گچک اور اگلی صبح بہت ذائقے دار فرائی مچھلی پر بھی چنداں خوش نہ ہوئے کہ تارڑ صاحب نے وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے، خان پور کے پیڑے ہیں سنگھانے تک نہیں۔۔۔۔ میں نے بھی برابر کی کمینگی دکھائی اور پیروں کے ڈبے کو ہوا تک نہیں لگوائی ، سینے سے لگائے رکھا۔
میں متھرا کا وہ لالچی پانڈا پنڈت تھا جس کی جان کھوٹے کے پیڑوں میں تھی۔ بھلا کوئی اپنی جان سے بھی جاتا ہے۔“

یہ تحریر اپریل 2023 کےاخبار جہاں اور ان کی 2025 میں آئی کتاب کشمیر تصویر دونوں میں موجود ہے اور یقناً میرے اور خان پور کے لیئے ایک اعزاز کی بات ہے۔

یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ خانپور کے کھوئے والے پیڑے اس شہر کی شناخت اور فخر ہیں۔ ان کی منفرد مٹھاس، خالص اجزاء اور روایتی تیاری انہیں پاکستان کی بہترین سوغاتوں میں شامل کرتی ہے۔
جو شخص ایک بار خانپور کے اصل پیڑوں کا ذائقہ چکھ لے، وہ اس ذائقے کو مدتوں نہیں بھولتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں