کہتے ہیں’ زمین گول ہے’۔ پہلے یہی تحقیق منظر عام پہ آئی تھی مگر بعد میں یہ ثابت ہوا کہ زمین مکمل طور پر گول نہیں بلکہ اس کی ساخت چپٹی یا بیضوی شکل کی ہے. ہو سکتا ہے زمین پہلے آٹے کے گول پیڑے کی طرح مدور ہو اور بعد میں چپٹی یا بیضوی ہو گئی ہو۔ زمین گول ہو یا بیضوی شکل کی، ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں اشکال نے ہمارے مزاج اور پسند نا پسند پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس لئے ہم بھی اس کے اثرات سے ابھی تک باہر نہیں نکلے۔ مثلآ ہم بھی زمین پر سوار گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ زمین کے گول ہونے کی دلیل کو ہم اس طرح مانتے ہیں کہ جب گھومنے کو باہر نکلتے ہیں تو گول گپے کھانے بغیر گھر نہیں لوٹتے۔ جہاں تک ہماری بات چیت کا تعلق ہے اس میں بھی زمین کی اشکال سے مماثلت دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ کہ ہم بات واضح طور پرکرنے کی بجاے گول مول کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ بہت سے لوگ نصیحت پسند نہیں کرتے۔ دیکھا گیا ہے کہ کوئی کسی کے ساتھ نصیحت آمیز بات کرے تو سننے والے اس کی بات کو گول کر جاتے ہیں۔ جہاں تک نوجوانوں کی بات ہے تو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ روڈ سگنل پہ رکنا پسند نہیں کرتے اس لئے وہ سگنل والے چوک کی بجأۓ گول چکر سے گزرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین بھی سورج کے گرد گول چکر لگاتی ہے۔ لیکن بھئی ہم جیسے بوڑھے لوگ گول چکر سے گزریں یا روڈ سگنلز سے، ہمیں اٹھتے بیٹھتے ویسے ہی، ہر جرم ضعیفی پر چکر آتے رہتے ہیں۔ اس کا کیا علاج کریں؟
زمین کی گولائی سے متاثر ہو کر ہی ہم اپنے بچوں کا نام آفتاب رکھتے ہیں جو گرما گرم دھوپ دیتا ہے اور اپنی گولائی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ اسی طرح ہمارے اکثر بچوں کو چاند کہہ کر پکارتے ہیں یا انکا نام مہتاب رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ بڑوں میں بھی اپنی پسند کے لوگوں کو چودھویں کا چاند کہہ کر پکارا جاتا ہے، کیونکہ جہاں چاند خوبصورتی کی علامت ہے وہاں چاند کی چودھویں تاریخ چاند کو بالکل گول دکھائی دیتا ہے۔ ایک بات اور بھی ہے کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ زمین گول ہے کیونکہ جب کوئی ایک مقام سے روانہ ہوکر واپس وہیں پہنچ جاۓ تو کہا جاتا ہے کہ زمین گول ہے۔
لوگ اپنے بچوں کو گول مٹول دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ بچے اگر ہاکی اور فٹبال کھیلیں تو انہیں اور بھی خوشی ہوتی ہے کیونکہ ان کھیلوں میں کھیلنے وا لےگولی کی طرح تیز بھاگ کر گول کرتے ہیں اور بیچارہ گول کیپردیکھتا رہ جاتا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ وہ پینلٹی پر گول کرنے والے کو پینلٹی کے طور پر گولی مار دے۔
زمین سورج کے گرد بیضوی دائرے کی شکل میں ہی گھومتی ہے۔ اسکے بھی کچھ اثرات ہمارے معمولات میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً ہم جی جان سے بیض یعنی انڈے کھانا پسند کرتے ہیں۔ کلف لگے بیضوی سفید لباس پہن کر کرو فر کے ساتھ گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ کیک کھانا ہو یا سوپ پینا ہو، پڈنگ کھانے کو من چاہے یا دوپہر کے کھانے میں شامی کباب کا مزا چکھنا ہو, انڈے کے بغیر مزا کرکرا رہتا ہے۔ سردیوں کی رات انڈے کھائیں یا نہیں، آنڈے گرم کی صدائیں ہمیں بھلی لگتی ہیں۔ سائنسی تحقیق نے ناصرف ایجادات اور اختراعات پر بڑا کام کیا ہے۔ بلکہ ہر شعبہ زندگی سے متعلق ایسے ایسے تصورات پیش کئے ہیں کہ عقل ہی دنگ نہیں رہ جاتی، بلکہ دماغ بھی چکرا جاتا ہے۔ دماغ کا چکرا جانا کبھی منفی معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، مثلآ کوئی بلا وجہ کسی کے تھپڑ رسید کر دے تو پہلے تھپڑ کھانے والے کا سر گھومتا ہے اور پھر اس کا دماغ بھی چکرا جاتا ہے اور پھر تھپڑوں اور گھونسوں کی ایسی بارش شروع ہوجاتی ہے، جسے عرف عام میں ‘ دے مار ساڑھے چار، کہا جاتا ہے۔ عمومآ لڑائی جھگڑا ہوجاۓ تو کبھی غصے سے لڑنے والوں کا میٹر گھوم جاتا ہے۔ لیکن گھر کی بہوکو چکر آنے لگیں تو اس خوشخبری کو اللہ کی نعمت سمجھتے ہوئے گھر والے اللہ سے اولاد نرینہ کی دعا مانگتے ہیں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو دل میں لڈو پھوٹنے تو لگتے ہیں۔
چکر آنے کا ذکر ہوا تو خیال آیا کہ چکروں کا آنا صرف خواتین سے ہی منسوب نہیں ہوتا، بلکہ مریض مرد و عورت دونوں کو ان سے گزرنا پڑتا ہے۔ معالجین تاکید کرتے ہیں کہ گھر میں طبیعت گھبرا رہی ہو تو گھر سے باہرکا چکر لگا کر ٹھنڈی ہوا میں سانس لے لیا کریں۔ ویسے گھر سے باہر گھومنے پھرنے کے لئے بیمار ہونے کی ضرورت نہیں۔ گھومنے پھرنے کا شوق رکھنے والے ہر دم گھومنے پھرتے اور سیر سپاٹے کو زندگی کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ کراچی والوں کو دیکھ لیں، سخت سردی ہو یا انتہا کی گرمی، وہ شوق کے چکر میں لمبا سفر طے کرکے مری، شمالی علاقہ جات اور کشمیر کو لٹو کی طرح گھومنے پھرنے ضرور جاتے ہیں۔ جبکہ گھومنے پھرنے کی جگہوں سے قریب تر اسلام آباد کے رہائشی انہیں حسرت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ کم تنخواہوں کی وجہ سے پیسے بچانے کے چکر میں صرف پھرکی کی طرح اپنے شہر میں گھومتے پر گزارہ کرتے ہیں۔
ماضی کا ایک دور تھا جب سستائی کا دور دورہ تھا۔ اس زمانے کی کیا بات کریں کہ جھولے والا ‘میری گو راؤنڈ’ پر آٹھ دس چکر ایک ٹکے میں دے دیتا تھا۔ دل نہ بھرنے کی صورت میں کوئی بچہ ایک دو چکر مزید دینے کی فرمائش کرتا تو ایک ٹکا فی سواری وصول کرنے والا، ٹکا سا جواب دے کر اسے جھولے سے اتار دیتا تھا۔ ہمارا بچپن زیادہ تر لاہور میں ہی گزرا ہے۔ وہاں بچوں اور بڑوں کے دل کے بہلاوے کو بہت سے دلچسپ کھیل ہوا کرتے تھے۔ ان میں ایک کھیل کوکلا چھپائی ہوا کرتا تھا جس میں ہاتھ میں کوکلا پکڑ کر ایک دائرے میں بیٹھے بچوں کے گرد گھوم کر کوکللا کسی ایک بچے کی پیٹھ پیچھے رکھ دیا جاتا تھا اور جو بچہ آگے پیچھے دیکھ لے اسکی کوکلا سے شامت آتی تھی۔ انہی دنوں ایک اور دلچسب مظاہرہ ایک دائرے کے اندر چوبیس گھنٹے تک مسلسل بائیسکل چلانے والے کا ہوا کرتا تھا ، جس میں سائیکل سوار دائرے میں چکر لگاتا رہتا تھا۔ وہ سائیکل چلاتے چلاتے ہینڈل کو چھوڑکر مہارت سے لباس بدلتا اور کھانا کھا تا تھا۔ اور لوگ اس پر پیسے نچھاور کرتے تھے۔ ایک گول دائرے میں سائیکل چلانے والا پیسے اکٹھے کرکے یہ جا، وہ جا۔ اور تماشبین چکرا کر رہ جاتے تھے، کیونکہ ان کی جیبیں خالی ہو چکی ہوتیں تھیں۔ ہمارے روزمرہ کے کھانے میں گول گول کوفتے اور مٹھائی میں لڈو پیڑے، گول تنور میں گول نان لگانے کے لئےآآٹے کے گول گول پیڑے، اور پھلوں میں گول سیب، خربوزے، آلو بخارے، تربوز شامل ہوتے ہیں۔ ادب سے دلچسپی رکھنے والے ادب کے حلقے بناتے ہیں۔ اس کی ایک مثال حلقہ ارباب ذوق ہے۔ دائرہ کے نام سے بھی ایک ادبی تنظیم ماضی میں فعال رہی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کوئی غیرمسلم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو۔
اکثر نمائشوں اور ایرانی سرکسوں میں موت کا کنواں ضرور ہوتا ہے۔ لکڑی کے تختوں سے بنے اس گول کنوہں کے اندر ایک ماہر موٹر سائیکل سوار ہاتھ چھوڑ کرنیچے سے اوپر تک گول گول گھوم کر کرتب دکھاتا ہے۔ تماشہ دیکھنے والے بچے ڈر سے چلانے لگتے ہیں۔ شائد کوئیں میں گھومتے موٹر سائیکل سوار کو دیکھ کر کوئیں کے جھولتے تختوں کے خوف کی وجہ سے گرنے کا ڈر انہیں کھائے جاتا تھا۔
ہمارے معاشرے میں ہر شخص کسی نہ کسی دائرے میں رہ کر زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ کچھ دائرے خوبصورت، روشن اور مثالی ہوتے ہیں، جن میں وہ اسلامی تہذیب کی حدود میں رہ کر زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں انکے دائروں میں جنت کے گھر دکھائی دیتے ہیں۔۔ جبکہ دوسرے دائرے مادیت پرستی، لالچ، غرور، حسد، جھوٹ، بد دیانتی، جرائم، دھوکے اور فریب کے ہیولوں، سمندری گردابوں اور طوفانی بگولوں کی طرح ہوتے ہیں، جن کی زد میں آ کر ہم خود گھمن گھیری بن جاتے ہیں۔ مگر ان سے بچنے کی کوئی امید بر نہیں آتی۔ کوئی مجبوریوں کا بوجھ اٹھاۓ اپنی معاشی ضروریات کی خاطر نوکری کی تلاش میں چکر ڈنڈ پھرتا نظرآتا ہے۔ اور کوئی بلند معیار زندگی گزارنے والا کم فشار خون کی وجہ سے چکر کھا کر گرا پڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا ڈبہ گول ہو جاتا ہے۔ الغرض حقیقت یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے حصار میں گھن چکر بنے ہوئے ہیں۔


