جب تیر ایجاد ہوا تو انسان کو لگا کہ جنگ کا سب سے خطرناک ہتھیار یہی ہے۔ پھر بارود آیا تو قیاس تھاکہ اس سے مہلک کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ بیسویں صدی میں ٹینک، لڑاکا طیارے اور ایٹمی ہتھیار وجود میں آئے تو دنیا نے طاقت کی نئی جہتیں دیکھیں ۔ مگر اکیسویں صدی میں ایک ایسا ہتھیار سامنے آیا جو نہ بارود ہے، نہ بارود کی بو دیتا ہے اور نہ ہی اس کے استعمال کے لیے کسی فوجی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ہتھیار کا نام ہے۔ معلومات (Information) ۔ آج کی جنگ سرحدوں سے زیادہ معلومات کے سمندر میں لڑی جاتی ہے۔ جسے information Warfare بھی کہا جاتا ہے۔ اسکے ذریعے گھر بیٹھے دشمن کی نظریاتی سرحدوں کو اس حد تک نشانہ بنایا جاسکتا ہے کہ اسکے لیے اپنی علاقائی سرحدوں کی حفاظت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
آج دنیا کے بڑے عسکری ادارےInformation Warfare کے ساتھ Cognitive Warfare یعنی اذہان کی جنگ کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔ اس جنگ کا مقصد صرف دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ معاشرے کے اندر خوف، بے یقینی، بداعتمادی اور انتشار پیدا کرنا ہے اورجب لوگ خود ہی بنا تحقیق ہر خبر کو آگے بڑھانے لگیں۔ اور ہر افواہ کو حقیقت سمجھ لیں، تو وہ انجانے میں اپنے ہی معاشرہ کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں ۔
مشہور امریکی ماہرینِ نفسیات گورڈن آلپورٹ اور لیو پوسٹ مین نے 1947ء میں اپنی شہرۂ آفاق کتاب The Psychology of Rumor میں ایک اصول بیان کیا جو آج کے سوشل میڈیا دور پر پہلے سے کہیں زیادہ لا گو ہوتا محسوس ہورہا ہے۔ انہوں نے لکھا: افواہ
= معاملے کی اہمیت × معلومات کا ابہام
یعنی معاملہ جتنا اہم ہوگا اور مستند معلومات جتنی کم ہوں گی، اتنی ہی زیادہ افواہیں جنم لیں گی۔
بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس معاملات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حساس نوعیت کے واقعات، محدود معلومات، جذباتی ماحول اور مختلف بیانیے۔۔۔یہی وہ ماحول ہے جہاں افواہیں سب سے تیزی سے بنتی ہیں اور آگے سفر کرتی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ انسان نے سب سے پہلے ایسی صورتحال کا سامنا تقریباً ایک صدی پہلے کیا۔ جب 30 اکتوبر 1938ء کو امریکہ میں نوجوان ہدایت کار اورسن ویلز نے ناول War of the Worlds کو ریڈیو ڈرامے کی شکل میں پیش کیا۔ پروگرام اس انداز میں نشر ہوا جیسے واقعی مریخ سے کوئی مخلوق زمین پر حملہ آور ہو گئی ہو۔ ہزاروں سامعین نے اسے حقیقی خبر سمجھ لیا۔ سینکڑوں لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے، بعض نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور کچھ نے گاڑیاں بھر کر شہر چھوڑنے تک کی کوشش کی۔
بعد ازاں ماہرِ ابلاغ ہیڈلی کینٹرل نے اس واقعے کی تفصیلی تحقیق کرتے ہوئے لکھا کہ کسی ہیجان خیز خبر پر لوگوں کے یقین کا تعلق در حقیقت ان کے اذہان میں پہلے سے موجود ذہنی کیفیت، خوف اور توقعات سے ہوتا ہے۔ یعنی اگر ذہن میں کہیں خوف ہو تو معمولی خبر بھی ہیجان خیزمحسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے چور نالوں پنڈ کالی۔
توسوچیے، اگر صرف ایک ریڈیو پروگرام ہزاروں افراد کے ذہنوں کو اس زمانے میں اس حد تک متاثر کر سکتا ہے تو آج، جب ہر شخص کے ہاتھ میں ایک موبائل ہے تو یہ پنڈ کس حد تک کالی ڈال سکتی ہے۔ اور اس کے اثرات کتنے اور کس حد تک وسیع ہو سکتے ہیں؟
نصف صدی پہلے جرمن فلسفی ہنّا آرنٹ کے مطابق:
“منظم افواہیں لوگوں میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت ختم کر دیتی ہیں۔”
معاشرے میں ایسی گومگو کی کیفیت ہو تو ہر خبر مشکوک اور ہر اصل حقیقت بھی پروپیگنڈا محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس مرحلے پر عام شہری فیصلہ ہی نہیں کر پاتا کہ کس پر یقین کرے۔ اس صورتحال میں کبھی کبھی افواہ خود جنگ سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ 1941ء میں جرمن فضائیہ نے شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ پر شدید بمباری کی۔ حملے کے بعد برطانوی حکومت کے سامنے ایک بڑا سوال تھا کہ نقصانات کو چھپایا جائے یا سچ بتایا جائے؟
بعد میں برطانوی سرکاری ریکارڈ اور مورخین نے لکھا کہ حکومت نے جلد از جلد نسبتاً درست معلومات جاری کرنے کی کوشش کی، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر عوام اور معلومات میں خلا پیدا ہوا تو افواہیں اصل نقصان سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گی۔
نیٹو کے ماہرین نے حالیہ برسوں میں اس موضوع پر متعدد مطالعات میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مستقبل میں مخالف ریاستیں ایک دوسرے کی زمین کی بجائے انسانی ذہن کو نشانہ بنائیں گئیں۔ عوام کے اعتماد اور اجتماعی شعور کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایسے میں اگر کسی معاشرے کے لوگ خود ہی جھوٹی، غیر مصدقہ یا مبالغہ آمیز معلومات پھیلانے لگیں تو وہ انجانے میں اس جنگ کو آسان بنا دیتے ہیں۔
بد قسمتی سے سوشل میڈیا نے ہمیں ایک عجیب نفسیاتی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ پہلے لوگ خبر پڑھتے تھے، پھر اس پر غور کرتے تھے۔ آج اکثر لوگ پہلے “شیئر” کرتے ہیں، بعد میں سوچتے ہیں۔ اس رویے کو ماہرینِ نفسیات Emotional Contagion یعنی “جذباتی سرایت” کہتے ہیں۔ خوف، غصہ اور نفرت پر مبنی مواد نسبتاً زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ کیونکہ انسانی ذہن درحقیقت بقا کے موڈ پر چلتا ہے اس لیے غیر یقینی اور ہیجان کی کیفیت اسےکہیں زیادہ خطرناک اور دلچسپ محسوس ہوتی ہے۔
اور وہ اس پر فطری طور پر فوری ردِعمل دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کے الگورتھم بھی اکثر اسی انسانی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے حالیہ برسوں میں Information Integrity کی اصطلاح کو فروغ دیا ہے۔ اس کا مقصد آزادیِ اظہار کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس بات پر زور دینا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی، سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ جڑی رہے۔
بلوچستان اور کشمیر دونوں ایسے خطے ہیں جہاں انسانی جان، سیاسی حساسیت، قومی سلامتی اور عوامی جذبات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے معاملات میں دونوں انتہائیں یکساں نقصان دہ ہیں۔ ایک انتہا ہر خبر کو بغیر تحقیق مسترد کر دینا، اور دوسری ہر غیر مصدقہ اطلاع کو حرفِ آخر سمجھ لینا۔ اعتدال کا راستہ یہی ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، مختلف ذرائع سے جانچا جائے اور پھر رائے قائم کی جائے۔کیونکہ جب سچ، جھوٹ، مبالغہ اور حقیقت ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جائیں توصرف شور بڑھتا ہے، حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ کسی بھی طرح کی مبالغہ آرائی وقتی طور پر توجہ ضرور حاصل کرسکتی ہے، لیکن جب حقیقت اور مبالغے میں فرق واضح ہو جاتا ہے تو اصل متاثرین کی سچی آواز بھی مشکوک سمجھی جانے لگتی ہے۔
امریکی صحافی اور مفکر والٹر لپ مین نے تقریباً ایک صدی پہلے لکھا تھا کہ انسان اکثر دنیا کو اپنی ذہنی اختراع کی نظر سے دیکھتا ہے۔ آج سوشل میڈیا اسی “ذہنی اختراع” کو تشکیل دینے کی سب سے طاقتور قوت بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس اختراع میں سچ کا رنگ بھر رہے ہیں یا افواہ کا؟ برطانوی مؤرخ فیلیپ نائٹلی نے اپنی معروف کتاب The First Casualty میں جنگی رپورٹنگ کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ جنگ میں سب سے پہلے سچ زخمی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر فریق اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا نے اس رجحان کو لاکھوں عام صارفین کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ اب ہر شخص غیر ارادی طور پر پروپیگنڈے کا حصہ بن سکتا ہے۔
قرآنِ مجید نے چودہ سو برس پہلے خبر کے بارے میں جو اصول دیا، وہ آج بھی صحافت، تحقیق اور شہری ذمہ داری کا بنیادی معیار ہے:
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)
یہ آیت آج کے دور کی اخلاقیات کا عالمی اصول ہے۔ خبر کی رفتار سے زیادہ اس کی صحت اہم ہے، اور جذبات کی شدت سے زیادہ حقیقت کا ادراک۔
بلوچستان اور کشمیر کے مسائل یقیناً پیچیدہ ہیں، ان کے حل کے لیے سیاسی بصیرت، آئینی راستے، انصاف اور مسلسل مکالمے کی ضرورت ہے۔ مگر ایک چیز ہر شہری آج ہی کر سکتا ہے: اپنی انگلی کو “شیئر” کے بٹن تک پہنچنے سے پہلے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش کرنا۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اگر ہم اپنے ذہن کو تحقیق، اعتدال اور دیانت کے ساتھ آزاد رکھ سکیں تو شاید یہی ہمارے عہد کی سب سے بڑی قومی خدمت ہوگی۔ سماجی نفسیات کے ماہرین کے مطابق بعض اوقات افواہ خود ایک تاریخی واقعہ یا انسانی سانحہ پیدا کر دیتی ہے۔ تو اگلی بار شئر کا بٹن دبانے سے پہلے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کہیں ہمارا ایک شئیر کسی انسانی سانحے کو جنم نہ دے۔


