راجہ عرفان ۔ معاشرتی ناہمواریوں کا نوحہ گر/ اظہر سجاد

تنویر سپؔرا نے جس طرح اُردو شاعری کے قاری کو مزدور کےدُکھ کا حقیقی ادراک بخشا ہے وہ شاید ہی کسی اور کے حصے میں آیا ہو۔ بالکل اسی طرح ہمارے دوست اور ”حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ“کے شاعر راجہ عرفان نے بھی ایک مزدور، محنت کش اور پسماندہ طبقات کے مصائب کو جس کرب کے ساتھ شعر کا رنگ دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ۱۹۸۵ء میں کھوڑ شہر میں جنم لینے والا راجہ عرفان ۲۰۰۴ء سے ”حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ“ سے وابستہ ہے اور حلقے کے جائِنْٹ سِکْرٹری اور جنرل سِکْرٹری کے فرائض بھی سرانجام دے چکا ہے۔ راجہ عرفان اُردو کا بہترین افسانہ نگار اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ پنجابی کے گھیبی لہجے میں بہت عمدہ شاعری کرتا ہے ۔فکری میلان کو دیکھا جائے تو سماجی شعور، انسان دوستی ، انصاف ، اخلاقی اقدار ، امن، محبت اور باہمی احترام عرفان کے کی عمومی موضوعات ہیں۔ مگر سب سے اہم موضوع معاشی استحصال ہے ۔ ذیل میں ہم راجہ عرفان کے فنی اور فکری رجحانا ت پر نظر ڈالتے ہیں:
وجودیت، شناخت، معاشی مسائل اور جبر و استبداد انسان کی شناخت کو متاثر کرتے ہیں اور ایک حساس انسان اپنی ذات، آزادی اور زندگی کے معنی تلاش کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ عرفان کا سُخن اِسی کشمکش کا عکاس ہے۔ یہی مسائل اِسے شعر کہنے پہ اُکساتے ہیں اور وہ بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے:
ریت پانی کا کوئی خود ساختہ ہے سِلسلہ
یا کہیں پر آئینہ گر اصل میں موجود ہے
کِس طرح تسلیم کر لیں دیکھے بِن اُس کا وجود
سامنے آئے خدا گر اصل میں موجود ہے
کچے گھروں میں منتظر بچوں کے درد کو عرفان نے کچھ اس انداز میں سمیٹا ہے کہ بلند و بالا عمارتوں میں پُر تعیش زندگی گزارنے والا بھی لرز کر رہ جائے۔راجہ عرفان معاشی تگ و دو کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کی شاعری پوری دُنیا میں پھیلی معاشرتی ناہمواریوں کا نوحہ بن جاتی ہے۔ درج ذیل شعر دیکھیں:
بوہا کُھلا ٹِکا ریا
میں ای کوئی نہ وڑیا گھار
پلا چَھنڈیا پیا عرفانؔ
کنج ہن ویسیں چھڑیا گھار
راجہ عرفان جب دوستوں میں بیٹھتا ہے تو محفل کو زعفران بنا دیتا ہے۔ اس کے، چٹکلے، لطائف، شرارت سے لبریز بے ساختہ ہنسی چند لمحوں میں ہمیں ہر فکر سے بے گانہ کر کے بے اختیار قہقہے بلند کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مگر یہ ظَرافَت تو ایک ملمع ہے جس کے پیچھے راجہ عرفان ہمیشہ خود کو چھپائے رکھتا ہے۔ وہ اپنا درد بے تکلف دوستوں سے بھی پوشیدہ رکھنے کے فن سے آشنا ہے، مگر یہی رنج جب حد سے گزرتے ہیں تو وہ اُنھیں پنجابی کے گھیبی لہجے میں ڈھال کر اشعار کا روپ دیتا ہے، جن کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے:
کچے پئے گئے پکے پیر
پینڈا سہہ نئیں سکے پیر
کچا بَن اے جگ عرفؔان
ٹُرنے پئے آں جَھکے پیر
اب ایسا بھی نہیں کہ راجہ عرفان کو صرف دکھ درد بانٹنے والا شاعر کہہ کر محدود کر دیا جائے۔ اِس کے پاس موضوعات کی کمی نہیں۔ راجہ عرفان الفاظ برتنے کے فن سے بخوبی آشنا ہے، شعری جمالیات اور محاسن اِس کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ حسن و جمال اور محبت کے لطیف جذبات کو بھی عرفان نے اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے:
اِک اسپرا کے گیسوؤں کی چھاؤں میں پڑے رہے
تمام عمر ہم اُسی کے گاؤں میں پڑے رہے
نگاہِ منتظر پہ سوئے شہر یار جم گئی
ہمیشہ کچھ گُلاب اُس کی راہوں میں پڑے رہے
راجہ عرفان ہمارے معاشرے کے اُس طبقے کا نمائندہ ہے جس کی خدا داد صلاحیتیں فکرِ معاش کی نظر ہو جاتی ہیں ۔ اِس سفر میں وہ اکیلا نہیں بلکہ پوری بستی کے مَصائِب و آلام کو ساتھ لے کر چلتا نظر آتا ہے:
طوفان نہیں اُٹھتے سیلاب نہیں آتے
بستی کو اُجڑنے کے آداب نہیں آتے
اُمیدوں اور خواہشوں میں گِھرا ہوا عرفان اپنی حسرتوں کو اس طرح آفاقی رنگ دیتا ہے کہ وہ کرب ہر محنت کش اور پسماندہ شخص کو اپنا اپنا محسوس ہوتا ہے۔ یہ ایسا طنز ہے جو آج کے نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے:
یہ نیند نہیں حضرت یہ مُردہ ضمیری ہے
سوتے ہوئے لوگوں کو اب خواب نہیں آتے
راجہ عرفان کے پاس سچے کھرے اور اپنی مٹی میں گندھے لفظ اس ترتیب سے وارد ہوتے ہیں، گویا تپتی دوپہر میں ٹاہلی کے نیچے پڑے ہوئے گھڑے پر سوندھی سوندھی خوشبو لیے ہوئی کھنکتی ہوئ ”ٹاس“ ہو۔ جس سے پی جانے والی بوند بوند قاری کو تہذیب و ثقافت کی ادبی چاشنی عطا کرتی ہے ۔ سب سے بڑی خوبی وہ بولیاں ہیں جو دل میں اتر جاتی ہیں۔ اِ ن بولیوں میں راجہ عرفان نے بیٹیوں کا ذکر جس محبت اور دردمندی سے کیا ہے وہ قاری پر رقعت طاری کر دیتی ہیں:
مینڈھے ویڑھے وچ پُھٹیاں دھریکاں
تے ایریاں چوں کوڑ مُک گئی
سائے رحمتاں نے پئے گئے نمانڑیں
جے دھی اَج ڈولی چڑ ھ گئی
عجز و انکسار اور صوفیانہ رنگ میں ڈوبی کچھ بولیاں قارئین کے اذھان کو نہ صرف جِھنجھوڑ دیتی ہیں بلکہ باطنی بے چینی اور معاشرتی منافقت پر بھی کئی سوالات اُٹھاتی ہیں:
رب ملیا سی فدری مسیتی
میں ڈِھڈَاں اُتے ہتھ بنھ لئے
اَسی یار دے دوارے ٹُرے
تے راہے چے مسیت آ گئی
دوستی اور رفاقت کو راجہ عرفان ایک نے زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ اِس قدر حساس ہے کہ ملکِ عدم کو سدھار جانے والے رفیقوں کو نہیں بھولا مگر اپنوں کی بے اعتنائی بھی اُسے شدت سے صدمہ پہنچاتی ہے۔ یہ بولیاں دیکھیں:
ذرا وقتا توں گڈی آں پَرَتیں
جے سنگی مینڈا پِچھے رہ گیا
دِل دِل نال ِمِل نئیں سکیا
جے وِچ بھیڑی جیب آ گئی
راجہ عرفان نے گھیبی لہجے کی پنجابی بولیوں کو ایک منفرد اور لاجواب رنگ بخشا ہے۔ پنجاب کی مٹی سے جڑی یہ بولیاں ہمارے اندر چھپے کرب کو احساسات کا حصّہ بنا دیتی ہیں۔ اِن میں خیال اور الفاظ کا دروبست اِس قدر عمدہ ہے کہ بے اختیار واہ واہ کہنے کو جی چاہتا ہے:
کوئی ہڈیاں چوں ماس نکھیڑے
جے وچ مینڈھی روح پھس گئی
رکھی مگراں تے صدھراں نی گٹھڑی
تے راہے وِچ کڈھ کُھل گئی
لوک آکھنے اے مانھ پیر واہنڑاں
میں پیراں اُتے کَھلے لیک لئے
راجہ عرفان مشاعرہ لوٹ لینے کے فن سے بھی بخوبی آشنا ہے۔ وہ جب بھی سٹیج پہ آتا ہے تو ہال ” واہ ۔ ۔ ۔ واہ“ اور ”کیاکہنے ۔ ۔ ۔کیا کہنے“ کی صداؤں سے گونجتا رہتا ہے۔ اِسی لیے ؛ راولپنڈی، اٹک، حضرو، فتح جنگ، واہ کینٹ، پنڈی گھیب، تلہ گنگ اور چکوال جیسے معروف ادبی حلقوں میں عرفان بخوبی جانا اور پہچانا جاتا ہے ۔
راجہ عرفان جیسے ہمہ جہت شاعر کے فن کو ایک مختصر سے مضمون میں سمیٹنا بہت مشکل ہے۔ آخر میں اتنا کہوں گا کہ عرفان شہر کے ادبی حلقوں سے نسبتاً دور شاعری کو نئی جہتیں عطا کرنے والا آج کا شاعر ہے، جو نہ صرف اپنے دور کے مسائل سے آگاہ ہے بلکہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بھی بلند کرتا ہے۔ امید ہے آئندہ بھی راجہ عرفان اپنی ادبی خدمات کو جاری و ساری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں