متبادل/ حسان عالمگیر عباسی

اس وقت جہاں نظر دوڑائیں ایک ہنگامے کا سا سامان میسر ہے۔ برتن ٹکرا رہے ہیں۔ ترتیب نہیں ہے۔ یہی حال موسموں کا ہے۔ جنگل میں بھی یہی صورتحال ہے۔ انسان، چرند، پرند سب درندگی کا فن سیکھ رہے ہیں کیونکہ مارکِٹ میں یہی بِک رہا ہے۔ کیا اس کا حل ہے؟یا یوں کہیے: اس کا حل کیا ہے؟ہم جانتے ہیں: اندھیرے کے بعد روشنی ہے ، طوفان کے بعد آشتی ہے! ہمارے ملک میں ، پڑوس میں ، دیگر پڑوسی ممالک میں ، مغرب میں ، مشرق میں ، شمال، جنوب ہر جگہ بد امنی ہے۔ اسلحہ کلچر بے نقاب ہو رہا ہے۔ مسلح افواج روپوش ہو رہی ہیں۔ ان افواج کو بیانیوں کے بھینٹ چڑھانے والی عالمی لوبیز کا کام، دھندا دُھندلا رہا ہے۔ جب حالات اس نہج پہ آ جائیں تو روشنی ہو جاتی ہے۔ سورج کبھی بھی باہر نکلنے سے نہیں کتراتا۔ اس سب بد امنی کے تانے بانے گازا سے ملتے ہیں۔ اس وقت لبنان میں وہی کچھ ہو رہا ہے جو گازا میں ہوا ہے، اب بھی ہو رہا ہے, بس میڈیا اور اس کا دجل بتانے سے گریزاں ہے اور نہ بتانے میں ہی عافیت ہے۔ دراصل بڑی طاقتیں دست و گریباں ہیں۔ سفید ہاتھی کی سونڈ خاکی ہاتھی کی سونڈ میں اڑی پڑی ہے۔ اُن کی روٹی ہے۔ اِن کا تندور ہے۔ ان کا دھندا ہے، ان کی محنت ہے۔ یہ دونوں ہی شہید ہو رہے ہیں، اُن کی زندگی میں اِضافہ ہو رہا ہے۔ شاید ہزار سالہ زندگی کے متمکن ہیں۔ اس سب کے بعد بڑے ہاتھی میز پہ بیٹھیں گے اور امن کی بحالی کے صفحے پہ سائن ہو جائے گا۔ قومیت کے نام پہ اپنے اپنے شہداء کے لیے سالانہ دعائیہ اجلاس ہو گا تو کہیں نغمے، گانے چلیں گے! چند جملوں کے تبادلے، پھولوں کی پتیاں یا مالی تعاون کے بعد سب ویسے ہی نارمل ہو جائے گا, ہوتا آیا ہے، ہو جاتا ہے۔۔ اس سب میں ہمارا کردار بہرحال ثانوی نہیں ہے۔ ثانوی حیثیت تو ان کی ہے جو بلا وجہ لڑ رہے ہیں۔ پرائمری حیثیت ان کی ہے جو شعور کی بیداری پہ کام کرتے ہیں! شعور آگاہی ہے۔ آگاہی آگ ہے لیکن لاابالی نرک ہے۔ اس نرک سے بچنے کا بندوبست اہل حل و عقد نے کرنا ہے! ایک ایسی دنیا ناگزیر ہے جہاں مذہبی و سیاسی آزادیاں ہوں لیکن تمام مذاہبِ عالم کے لیے کوئی مشترکہ نظام ہو! ظاہر ہے جمہوریت سے بہتر نظام میسر نہیں ہے۔ اس سے بہتر نظام کا نام بھی جمہوریت ہے چونکہ جمہوریت میں سب شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک انکلیوسو حیثیت ہے۔ جمہوریت ناکام نہیں ہوتی بلکہ انسان کا باطن، ضمیر، اور ایمان کا سودا ہوتا آیا ہے، ہو جاتا ہے! اس میں جہاں مذہب کا غلط استعمال ہے، وہیں ٹیکنالوجی، سائنس اور فلسفے نے بھی شکست کھائی ہے۔ انسانی مجموعی عقل کی با ضابطہ ناکامی ہے چونکہ ان کے نمایندے یا مسلط لوگ مشاورت، جمہوریت اور شعور کی بجائے دجل، دنگا، فساد کے حامی ہیں۔ گالی و گولی سے چپ کرا دیتے ہیں۔ اس کا متبادل نظام وہ نظام ہے جو مشترکات پہ لا کھڑا کر سکے! جو مذہبی بردباری کی بات کرے، جو معاشی عدم توازن کے نظام کو مساوات اور عدل کے نظام میں بدل دے! اگر یہ آئڈیل ازم ہے تو یہی انسانیت کی بقا بھی ہے۔ یہی موسموں کی بقا بھی ہے۔ یہی باغات کی بقا بھی ہے۔ صحرا و دریا و سمندر سبھی بقا کے متقاضی ہیں! یہی نفسیاتی بقا بھی ہے اور یہی چرند، پرند، اور درند کی بقا بھی ہے! اہل سیاست کو چاہیے، اہل علم و ادب کو چاہیے، اہل شعور کو چاہیے، اہل عقل کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لیں۔۔ آپسی اختلاف اور ہنگامے سے اجتناب کریں اور گولی و گالی کا متبادل پیش کریں یا متبادل بن جائیں!

اپنا تبصرہ لکھیں