بھلے مرعوبیت کے آسمان پر بیٹھے امریکہ کو سپر پاور کہتے رہیں اور سمجھتے رہیں ۔یہ حیثیت چینی چھین چکے ہیں ۔عراق،افغانستان،لیبیا اور عرب بہار میں مسلح انتہا پسند اسلامی تنظیموں سب کے پیچھے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے زریعے معیشت چلانا اور دنیا پر گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کرنا تھا
۔یہ کہانی ایران پر حملہ سے ختم ہوتی نظر آرہی ہے ۔پہلے وینزویلا کے تیل کے زخائر پر کنٹرول کیا اور پھر ایران پر چڑھ دوڑے ۔خوف صرف چین کا تھا جسے درکار توانائی کے وسائل سے محروم کر کے سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنا تھا ۔
معیشت ہی ازل سے ابد تک واحد حقیقت ہے جو قوموں کو طاقت دیتی ہے ۔ معیشت ہی قوموں سے طاقت چھین لیتی ہے ۔اب بھی معیشت ہی امریکہ کو گرا رہی ہے اور چین کو اٹھا رہی ہے ۔
چین کا گزشتہ سال تجارتی سرپلس 995 ارب ڈالر تھا اور اس سال ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گا ۔
چین کا بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ توازن گزشتہ سال 450 ارب ڈالر تھا اور رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سات سو ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے جو زیادہ بھی ہو سکتا ہے ۔
جسے لوگ باگ مرعوبیت کے آسمان پر بیٹھ کر سپر پاور کہتے ہیں اس کا تجارتی خسارہ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ تھا جبکہ رواں سال شائد ایک ٹریلین ڈالر تک رہے ۔سپر پاور کا کرنٹ اکاؤنٹ توازن بھی گزشتہ سال ایک ٹریلین بیس ارب ڈالر خسارے کا تھا اور رواں سال ایک ٹریلین پچاس ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے ۔
امریکی معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے ۔بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کی سکت ختم ہو چکی ہے ۔دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے ہر سال امریکی سینٹ جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد میں اضافہ کرتا ہے ۔
امریکی بچ نکلنے کیلئے سب کچھ کر رہے ہیں ۔دنیا بھر کے ملکوں کی درآمدات پر ٹیکس بڑھا کر تجارتی خسارہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ساڑھے تین لاکھ وفاقی ملازمتیں ختم کر چکے ہیں ۔یو ایس ایڈ کے بیرونی معاونت کے آپریشن بند کر چکے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی مالی معاونت ختم کر چکے ہیں ۔
پانچ درجن سے زیادہ ادارے بند کر چکے ہیں ۔قانونی تارکین وطن پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں ۔غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مسلسل آپریشن کر رہے ہیں ۔
چینیوں کے توانائی کے وسائل روک کر اپنی حیثیت برقرار رکھنے کی تگ و دو میں ہیں لیکن سب لاحاصل ہے ۔
امریکی معیشت جس حال پر پہنچ چکی ہے یہ حالت ہی امریکہ کی سپر پاور کی حیثیت کو چاٹ چاٹ کر ختم کر دے گی ۔
ڈم ڈم شروع ہے ۔بھلے تیسری عالمی جنگ شروع ہو یا نہ ہو امریکی اپنی سپر پاور کی حیثیت کھو بیٹھے ہیں ۔صرف رسمی اعلان باقی ہے ۔


