انٹرنیشنل ٹریفک لائٹ ڈے ہر سال 5 اگست کو منایا جاتا ہے۔یہ دن قومی اور بین الاقوامی سطح پر بنایا جاتا ہے۔ یہ دن ہم سب کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنی ہے۔وجہ تسمیہ ہے کہ ہر روز ٹریفک حادثات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔کچھ حادثات انسان کی بے پرواہی کے باعث اور کچھ قدرتی طور پر رونما ہو جاتے ہیں۔انسانی زندگی بہت قیمتی اس کی حفاظت کرنا ہے۔ اس کی حفاظت کرنا ہم سب کا اخلاقی معاشرتی اور تہذیبی حق ہے۔ اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے اس دن کو باقاعدہ منانے کا فیصلہ کیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد ٹریفک قوانین کی اہمیت کو اجاگر کرنا، سڑکوں پر محفوظ سفر کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور ٹریفک سگنلز کے مؤثر استعمال کی ضرورت کو عام کرنا ہے۔ موجودہ دور میں سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک کو منظم رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ٹریفک لائٹس نہ صرف گاڑیوں کی آمدورفت کو ترتیب دیتی ہیں بلکہ حادثات کی روک تھام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
ٹریفک لائٹ کی تاریخ انیسویں صدی سے شروع ہوتی ہے۔ ابتدائی ٹریفک سگنل برطانیہ کے شہر لندن میں نصب کیا گیا، لیکن جدید برقی ٹریفک لائٹ کی ایجاد نے دنیا بھر میں ٹریفک کے نظام کو ایک نئی شکل دی۔ 5 اگست 1914ء کو امریکہ کے شہر کلیولینڈ میں پہلی جدید برقی ٹریفک لائٹ نصب کی گئی، جس کی یاد میں ہر سال انٹرنیشنل ٹریفک لائٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹریفک سگنلز میں جدید ٹیکنالوجی شامل ہوتی گئی اور آج دنیا کے بیشتر ممالک میں خودکار اور ذہین ٹریفک کنٹرول سسٹم استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ٹریفک لائٹ بنیادی طور پر تین رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ سرخ، زرد اور سبز۔ سرخ رنگ رکنے کی علامت ہے، زرد رنگ احتیاط اور تیار رہنے کا اشارہ دیتا ہے، جب کہ سبز رنگ آگے بڑھنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تینوں رنگ دنیا بھر میں ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر ٹریفک کے اصولوں میں یکسانیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر تمام ڈرائیور اور پیدل چلنے والے ان اشاروں پر صحیح طریقے سے عمل کریں تو ٹریفک کا بہاؤ بہتر رہتا ہے اور حادثات کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔
ٹریفک لائٹس کی اہمیت صرف گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور ہنگامی امدادی گاڑیوں کے لیے بھی نہایت ضروری ہیں۔ مصروف شاہراہوں پر ٹریفک سگنلز کی موجودگی سے ہر فرد کو اپنی باری کے مطابق سڑک عبور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی خدمات کے لیے بھی جدید ٹریفک نظام میں خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ وہ بروقت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
بدقسمتی سے بعض افراد ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سرخ بتی کی خلاف ورزی، تیز رفتاری، موبائل فون کا استعمال، ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ نہ پہننا اور غلط سمت میں گاڑی چلانا ایسے عوامل ہیں جو سنگین حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ انٹرنیشنل ٹریفک لائٹ ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہے، کیوں کہ ہماری ایک معمولی غلطی دوسروں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اس دن دنیا کے مختلف ممالک میں آگاہی مہمات، سیمینارز، ورکشاپس اور تعلیمی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو ٹریفک قوانین کی تعلیم دی جاتی ہے، جب کہ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے عوام میں شعور پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ میڈیا بھی اس موقع پر محفوظ ڈرائیونگ، ذمہ دارانہ رویے اور ٹریفک قوانین کی پابندی کے بارے میں خصوصی پروگرام نشر کرتا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی ٹریفک آگاہی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ اور بعض اوقات شہریوں کی لاپرواہی کے باعث ٹریفک مسائل سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر عوام ٹریفک سگنلز کی پابندی کریں، رفتار کو قابو میں رکھیں، پیدل چلنے والوں کے حقوق کا احترام کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کو بھی جدید ٹریفک نظام، بہتر سڑکوں اور مؤثر نگرانی کے انتظامات کو فروغ دینا چاہیے۔
مختصراً، انٹرنیشنل ٹریفک لائٹ ڈے ہمیں نظم و ضبط، ذمہ داری اور قانون کی پاسداری کا سبق دیتا ہے۔ ٹریفک لائٹس محض سڑک کے کنارے نصب رنگین اشارے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی علامت ہیں۔ اگر ہر شہری ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو سڑکیں زیادہ محفوظ، سفر زیادہ آسان اور معاشرہ زیادہ منظم بن سکتا ہے۔ یہی اس دن کا بنیادی پیغام ہے کہ محفوظ ٹریفک، محفوظ زندگی کی ضمانت ہے۔


