یومِ آزادی مبارک / زین سہیل وارثی

آج قیامِ پاکستان کو 79 سال ہو جائیں گے۔

79 سال کا تو نہیں پتا، لیکن پچھلے 25 سال کا حساب کتاب کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا نمائندہ ہونے کے ناتے میں اس ملک کی مقتدرہ، عدلیہ، قاضی، مقننہ، بیوروکریسی، کارِ سرکار، ذرائع ابلاغ اور علماء کرام، سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

سیاست دانوں کو فی الحال اس حساب سے مستثنیٰ رکھتا ہوں، کیونکہ جس کا بھی دور آیا، وہ آیا نہیں، لایا گیا؛ اور جب آ گیا تو اسے بھیجنے کا فیصلہ بھی کبھی عدلیہ و مقتدرہ نے مل کر کیا کبھی صرف مقتدرہ نے بیک جنبش زور اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ مقتدرہ اپنے ناتواں کندھوں پر اس ملک کی ترقی کا بیڑا آخر کب تک اٹھائے رکھے گی، کوشش کر کے دیکھیں اگر بوجھ بانٹ دیا جائے تو اٹھانے میں آسانی ہوتی ہے۔

ریاست اور متوسط طبقے کے درمیان عمرانی معاہدہ عملاً ختم ہو چکا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مقتدرہ چاہ کر بھی وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہی جن کے لیے بار بار نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔

بقول “افتخار عارف”

‏ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ، ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﯽ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ، ﮐﮧ ھﻢ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ھﯿﮟ

ہندو بنئیے کے ہاتھ سے نکلے تو، پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ کے ہاتھ لگ گئے، ملک جس کا خواب جمہوریت، انسانی حقوق، معاشی انصاف، رواداری اور بھائی چارہ ہونا چاہیے تھا۔ وہاں تعصب، مسلک، انتشار، قطبیت، اور افراتفری نے اس خالی جگہ کو پر کیا ہے۔

ریاست کے ہاتھ میں کشکول ہے، صاحب لوگ مضبوط ہیں، جمہوریت ناپید ہے، آمریت کا بول بالا ہے، اور سایہ طویل ہے، سیاسی جماعتیں بھی آمرانہ طرز پر زندہ ہیں، بلکہ خاندانوں کی ملکیت ہیں، کوئی بھی حقیقی معنوں میں نا عوام کا درد رکھتا ہے نا اس سے غرض رکھتا ہے، اپنے بچے سب کے بیرون ملک ہیں، عوام کے بچے سڑک پر ہیں یا کام پر، طرف تماشا یہ ہے کہ صبر کی تلقین بھی عوام کے لئے ہے، مولوی اپنی دنیا میں مصروف عمل ہے، سیاسی لوگ اپنی فنکاری پر، غرض ہر شخص اپنی اپنی سوچ رہا ہے، ہر شخص موقع کی تلاش میں ہے جنھیں موقع نہیں ملا وہ تشنگی، تشکیک اور نجانے کون کون سے غم لئے سوشل ذرائع ابلاغ پر غم سے ہلکان ہو رہے ہیں۔

خیر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا، جو باعث تشویش ہے، ملک ابھی بھی نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور ملک میں حالات سنگین ہیں۔

پھر کبھی دل میں ایک اور سوال اٹھتا ہے:

اگر آپ کو قبل از پیدائش پاکستان کی شہریت کا حقِ خودارادیت دیا جاتا، تو کیا آپ اس ملک کا انتخاب کرتے؟

اگر آپ کو پہلے ہی یہ اختیار دیا جاتا کہ آپ ایک ایسے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی طور پر قطبیت زدہ معاشرے کے شہری بنیں یا نہ بنیں، تو کیا آپ اسے منتخب کرتے؟

اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ یہاں انصاف کے حصول میں نسلیں گزر سکتی ہیں، تعلیم طبقاتی تقسیم کا شکار ہے، معیشت بار بار بحران میں جاتی ہے، نوجوان مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑتے ہیں، اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے، تو کیا آپ پھر بھی یہی شہریت اختیار کرتے۔

اگر جواب نفی میں ہے تو یقین مانیں، ہم صرف دائرے کے مانند سفر کر رہے ہیں۔ اللہ رب ذوالجلال
آپ کی توانائی برقرار رکھے، کیونکہ دائرے میں سفر کرنے والا بظاہر بہت دور نکل جاتا ہے، مگر آخرکار وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں سے چلا تھا۔

شاید مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں؛ شاید مسئلہ اس پورے نظامِ فکر کا ہے جس میں ہم نے شخصیات کو اداروں پر، نعروں کو پالیسی پر، مصلحت کو اصول پر اور اقتدار کو عوامی خدمت پر ترجیح دے دی۔

پھر بھی، تمام تلخیوں کے باوجود، اس ملک سے امید کا رشتہ ختم نہیں ہوتا۔
بقول علامہ اقبال
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

کیونکہ پاکستان صرف حکمرانوں، اداروں، جماعتوں یا مقتدر حلقوں کا نام نہیں۔ پاکستان ان کروڑوں لوگوں کا نام بھی ہے جو آج بھی اپنے حصے کی ایمانداری، محنت، قربانی اور امید کے ساتھ زندہ ہیں۔

سو آج بھی بقول احمد ندیم قاسمی

خدا کرے مری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گُل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

خدا کرے مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

یومِ آزادی مبارک۔
پاکستان پائندہ باد۔

اپنا تبصرہ لکھیں