مغرب کے کئی لوگوں نے دشت کی سیاحت پر کتب لکھی ہیں۔
ان میں ولفریڈ تھیچر کی Travels in Arabia Deserta،ایڈورڈ ایبی کی Desert Solitaire ، ٹی ای لارنس کی Seven Pillars of Wisdom،پیٹر وائبرو کی Sands of Silence،اہم ہیں، مگر یہاں اختر احسن کی کتاب Manhunt in the Desertکا ذکر بہ طور ِخاص کرنا چاہتے ہیں۔
۱۹۷۹ء میں نیویارک سے شائع ہونے والی یہ ایک غیر معمولی کتاب ہے۔ یہ ۸۵ ابواب پر مشتمل نظموں کی کتاب ہے۔ اس کا ذیلی عنوان، اس کے موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہے: the epic dimensions of man۔ آدمی کی رزمیہ جہات۔
اختر احسن ( ۱۹۳۳ء…۲۰۱۸ء)، سیالکوٹ ،پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔ نئی شاعری کی تحریک میں بھی شامل رہے،تاہم ان کی بنیادی دل چسپی معالجاتی نفسیات سے تھی۔انھوں نے امیج کے ذریعے نفسیاتی علاج کے طریقے کی بنیاد رکھی جو مغرب کے زبان اساس تحلیل نفسی سے یکسر مختلف طریقہ ہے۔
بودھی فلسفہ لسان میں، لسانی اور قبل لسانی ادراک کے نظریات ہیں۔ قبل لسانی یا ورائے لسانی ادراک کو اختر احسن نے اپنے نفسیاتی طریقہ علاج میں برتا، اور اسے غیر معمولی فلسفیانہ گہرائی سے پیش بھی کیا۔
اساطیر، عالمی ادب، نئے ادبی وفلسفیانہ نظریات ،ان کی دل چسپی کا خصوصی محور رہے۔
ان کی درج بالا کتاب، طویل نظم ہے،جس کا موضوع دشت ہے۔
دنیا میں دشت سے متعلق اکلوتی طویل نظم ہے، جس کے بارے میں جوزف کیمبل نے اختر احسن سے کہا کہ ’’آپ نے اسے لکھا نہیں، یہ آپ پر الہام ہوئی ہے‘‘۔
اس نظم میں غلبہ آفریں قسم کا بے ساختہ پن اور شعری بہاؤ ہے۔ اس کی زبان ،دشت میں چلنے والی اس ہوا کی طرح ہے جو دشت کے صفحے پر مصوری کرتی جاتی ہے۔ وحشت اور دشت کے تعلق سے ،یہ ایک ادبی کار نامے کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے کچھ حصے دیکھیے:
اس بار کتاب
دشت کے بسیط صفحات پر
لکھی جائے گی
نہ کہ درختوں کے تنوں پر
نہ جانوروں کی کھالوں پر
نہ کاغذ پر
اس بار وہ
آدمی کی جگہ الفاظ یا علامتوں کو
نہیں
بلکہ خود آدمی کو پیش کرے گا
اس بار
کتاب ، آدمی کے بدن پر لکھی جائے گی
…..
سمندر کے قوانین ہیں
اور دشت کے بھی
دونوں قوانین کے کام کے انداز جدا ہیں
لیکن ایک قانون ، دوسرے سے پیدا ہوا ہے
جو کوئی دشت میں رہتا ہے
اس کی نمود سمندر کے قانون سے ہوئی ہے
سمندری زندگی ، زندگی کی اوّلین صورت ہے
دشت میں وہ بنیادی بن گئی ہے
جس کی تعلیم سمندر نے دی ہے
اس کی آزمائش ، بالآخر صحرا میں ہوا کرتی ہے
…..
جب تم دشت میں داخل ہوئے
تمھیں یوں لگا ،جیسے
تم گررہے ہو
ایک اجنبی دیار میں
جب تم دشت کے وسیع خالی پن میں لڑھک رہے تھے
تمھیں یوں محسوس ہوا ،جیسے کئی سالوں کے گہرے تفکر کے بعد
بے پنا ہ پانی نے تمھیں نہلا دیا ہو
اور اب سب کچھ خشک ہے
اورتم یہاں کسی خیال کی کسی رمق کے بغیر
یہاں پڑے ہو
کئی ماہ ،کئی سال
تمھارے آس پاس کوئی نہیں
صرف آسمان اور دشت ہے
کوئی نہیں
جس سے تم بات کرسکو یا جسے چھوسکو
تم کوئی آواز بھی نہیں سن سکتے
یہ بلاشبہ ایک ویران بیابان مقام ہے
اس ویران بیابان جگہ پر
تم خود کو بہت ویران اور خالی محسوس کرتے ہو
تم نے ریت میں سے ایک کنکری اٹھائی
اور اس کی گھسی ہوئی ہموار سطح کو محسوس کیا
تم نے اسے ہاتھ میں ملفوف کرلیا
تاکہ تم اس کے ہونے کو محسوس کرسکو
لیکن پتھر اور تمھارے ہاتھ کے درمیان
لمس کی رکا وٹ تحلیل ہوگئی
پتھر خالی تر ہوتا چلا گیا
تم نے مایوسی کی حالت میں اس پر گرفت برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی
لیکن تم نے دیکھا کہ
تمھارے ہی ہاتھ میں وہ کنکری غائب ہوگئی
پھر تم نے اپنے بدن پر نگاہ ڈالی
اور اسے بھی خالی دیکھا
وہ تمھیں بعید لگا
اور رتمھارے لمس کو اجنبی محسوس ہوا
یہ پوری نظم توجہ چاہتی ہے۔اس کی ہر سطر ، دشت اور دشت ِ وجود میں ایک قدم محسوس ہوتی ہے۔ یہ دشت کی بے کنار وسعت اور خالی پن کے تجربے کو بہ طور خاص موضوع بناتی ہے۔ دشت کی وسعت، محض ومطلق وسعت ہے۔
یہ بعید سے بعیدتر کاپھیلاؤ ہے۔ یہ نگاہ کی ہر حد کو شکست دینے کا عمل ہے۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے، مگر ایسا سفر جو نہ کسی ایک سمت میں ہے، نہ کسی ایک منزل کی جانب، نہ کسی ایک راستے پر۔ یہاں کوئی راستہ ہے،راستے کا کوئی نقش، نہ منزل،نہ منزل کا کوئی نشان، نہ گمان، نہ ہی کوئی ایسا سامان جو منزل کی طلب پیدا کرے۔
یہاں وہم اورحقیقت کی حدیں پگھلتی نہیں، کیوں کہ یہاں کوئی حد سرے سے موجود ہی نہیں۔یہاں حدیں پیدا کرنے والے عنصر معدوم ہیں۔ یہاں کے کنکر بھی موہوم ہیں ۔
یہاں کی لامحدود وسعت، خالی پن کا دوسرا نام ہے۔ دشت کا خالی پن ، آدمی کے دشتِ وجود کا عمیق ترین سکوت ہے۔ اس سکوت میں انسانی وجود ہر خیال ،ہر صورت، ہر صدا، ہر تصور سے یکسر خالی ہوجاتا ہے۔
تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آدمی ،دشت میں پہنچ کر ،اپنی عمر بھر کی کمائی : نظریات، تصورات،معانی ، تجربات ،اورا ن سب کے عمومی حافظے اوران کے ناستلجیا سے، بلکہ یہ کہنامناسب ہوگا کہ آدمی ، اس ساری کمائی کے بوجھ سے آزاد ہوجاتا ہے۔
دشت کی وسعت کا خالی پن، بیابانِ کبیر کا تاثر دیتا ہے، ایک ابدی ویرانی ومطلق تنہائی کا بھی۔دشت کا یہ خالی پن، ویرانی ، بیابانی اور تنہائی، کسی شہر کے کھنڈرات سے مختلف ہے۔کھنڈر کی ویرانی اور ہے، دشت کی ویرانی چیزے دیگر ہے۔
کھنڈر ، ایک عظیم الشان ماضی کی بربادی کا نوحہ خواں ہوا کرتا ہے۔ وہ ، سسکیوں میں ہر آنے والے کے گوش گزار کرتا ہے کہ انسان کی قوتِ ایجاد و تعمیر کو تاراج کرنے والی کئی قوتیں،ا س کائنات میں سرگرم ہیں اور میں اس کی ایک عبر ت ناک مثال ہوں۔
اس کے مقابلے میں، دشت کے پاس ماضی کی کوئی یادگار ہے، نہ اس پر کوئی نوحہ ۔ دشت کی ویرانی ،کسی عہد رفتہ پر گریے کا کوئی پہلو نہیں رکھتی۔ عین یہی صورت، آدمی کے اس خالی پن کی ہے، جس میں کوئی خیال ہوتا ہے، نہ تصور،نہ یا د، نہ کوئی زخم ۔ وہ ایک مکمل سکوت اور مطلق خالی پن ہے۔
وہ ایک ایسا خالی پن نہیں ہے، جسے کچھ چیزوں ،یادوں ، تجربوں کو خارج کرنے سے پیدا کیا گیا ہو؛ایسے خالی پن میں، خارج کی گئی چیزوں کے نشانات، خارج کرنے کے عمل کی جارحیت ، اور خارج کی گئی چیزوں کی یادیں موجود ہوا کرتی ہیں۔
وہ آسیب بن کر ،اس خالی پن کے گرد منڈلاتی ہیں،اور خالی پن کی ساری سرگرمی کو ایک ناکامی میں بدلنے کے درپے ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا خالی پن ہے،جو آدمی کے دشت ِوجود میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ اسے دشت ظاہر ہونے کا موقع دیتا ہے۔ نیز یہ خالی پن، اپنے بھرے جانے کا مطالبہ کرتا ہے، اور نہ اسے بھرا جاسکتا ہے۔
جس طرح دشت ، جنگل نہیں ہوناچاہتا، اسی طرح دشتِ وجود، شہروجود میں نہیں بدلنا چاہتا۔ گویا وحشت ، وحشت رہنا چاہتی ہے۔ یہ محض اپنا گیت گانا ،اور اپنا رقص جاری رکھنا چاہتی ہے۔ یہ کسی سماجی ،سیاسی ،یہاں تک کہ کسی جمالیاتی نظام میں بھی مقید نہیں ہونا چاہتی۔
یہ کون ومکاں کے کناروں میں بھی نہیں سمانا چاہتی۔ یہ اپنی ساری وسعت، بے کناریت، خالی پن اور اپنے سارے ابہام کے ساتھ برقرار رہنا چاہتی ہے۔
کلاسیکی شاعری نے وحشت کو غزل کی ایمائیت کے ساتھ پیش کیا،اسے رزمیے کی تفصیل کے ساتھ، اختر احسن نے پیش کیا ہے۔
یہ الگ بات کہ اس طویل نظم کے آخری حصوں میں وہ بھی دشت کی سیاحی کو ایک الہامی پیغام کی وصولی کا ذریعہ بناتے ہیں،یعنی وحشت کو وجودی تشویش میں بدل کر، اس سے ’کام لینا‘ چاہتے ہیں۔
وہ گیت کو کہانی میں بدل دیتے ہیں۔یہ بجائے خود ایک جمالیاتی قلب ماہیت ہے!
(وحشت پر اپنے طویل مضمون سے اقتباس، جو زیر تصنیف تنقیدی کتاب کا ایک باب ہے)


