غزہ میں ایک باپ ملبے سے اپنی بیٹی کو نکال کر سینے سے لگا لیتا ہے۔ بچی خاموش ہے اور باپ کی آنکھوں میں ایک سوال ٹھہر جاتا ہے: کیا آزاد آسمان کے نیچے جینا بھی اب صرف اُن کا حق ہے جن کے پاس اسے بچانے کی طاقت ہے؟
مقبوضہ کشمیر کی وادیوں نے بھی آزادی کی کم قیمت نہیں چکائی۔ کتنے گھر خالی ہوئے، کتنی ماؤں کی گودیں اجڑیں اور کتنے باپ اپنے بیٹوں کی قبروں پر کھڑے رہ گئے۔ فلسطین، کشمیر، الجزائر یا بوسنیا—دنیا کی ہر قوم نے اپنی شناخت اور آزادی کی قیمت لہو سے ادا کی۔
شاید آزادی کی اصل قیمت وہی جانتا ہے جس سے یہ چھین لی جائے۔ ہم آزاد ہیں، مگر کیا اپنی آزادی کی قدر جاننے کے لیے خدانخواستہ اُس دن کا انتظار کرنا ہوگا جب اپنا پرچم صرف ایک یاد بن جائے؟ شاید تب معلوم ہو کہ آزاد فضا میں سانس لینا اور اپنے فیصلے خود کرنا کتنی بڑی نعمت ہے۔
مگر 14 اگست آتے ہی ایک دوسرا منظر کھڑا ہو جاتا ہے۔ پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے بجتے ہیں، پلاسٹک کے باجے، ون ویلنگ اور موٹر سائیکلوں کا شور سڑکوں کا سکون غارت کر دیتا ہے۔ کلمۂ طیبہ کے نام پر حاصل ہونے والے ملک میں جشن مناتے ہوئے ہم دوسرے شہریوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔ پھر سوال اٹھتا ہے: کیا میری خوشی بھی آزادی ہے، اگر اس کی قیمت کسی دوسرے کا سکون ہو؟
یہیں سے آزادی اور اپنی مرضی کے درمیان فرق سامنے آتا ہے۔ اپنی مرضی کرنا آسان ہے؛ آزادی کے ساتھ دوسرے کے حق کو تسلیم کرنا مشکل۔ قانون سے بچ نکلنا ایک بات ہے، قانون کے اندر رہ کر آزاد ہونا دوسری۔ شاید ہم نے آزادی کو اختیار تو سمجھ لیا، مگر اس کی ذمہ داری کو بھول گئے۔
یہ بھول صرف ایک دن کی بدنظمی نہیں۔ تاریخ میں کئی قومیں دشمن سے پہلے اپنے اندر کی کمزوریوں سے ہاری ہیں۔ اندلس، بغداد اور مغلیہ سلطنت کی داستانیں یہی بتاتی ہیں کہ جب اندر کا نظم اور اتحاد کمزور پڑے تو باہر کی طاقت کو محنت نہیں کرنا پڑتی۔
مگر تاریخ کا دوسرا رخ بھی ہے۔ جرمنی نے تباہی کے بعد خود کو علم اور صنعت سے دوبارہ کھڑا کیا۔ چین، ترکی اور ملائیشیا نے طویل سفر میں محنت اور معاشی قوت کو اپنی طاقت بنایا۔ مضبوط قوموں نے آزادی کو صرف ایک تاریخ نہیں رہنے دیا؛ اسے اپنی یونیورسٹیوں، صنعت، معیشت اور اجتماعی کردار میں اتارا۔
اور یہی مقام ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم رشوت کو برا کہتے ہیں، مگر کام نکلوانے کے لیے سفارش ڈھونڈتے ہیں۔ ملاوٹ کو لعنت کہتے ہیں، مگر اپنے فائدے کے لیے معیار بدل لیتے ہیں۔ قانون شکنی پر غصہ کرتے ہیں، مگر اپنی باری پر راستہ نکال لیتے ہیں۔ خرابی ہمیشہ دوسرے کے چہرے پر دکھائی دیتی ہے؛ آئینہ سامنے آئے تو نظریں بدل جاتی ہیں۔
اسی دوہرے رویے کی ایک اور صورت تعصب کی عینک ہے۔ کچھ لوگ اپنے ہی ملک کے محافظوں کو برا کہتے ہیں، مگر 14 اگست کو اسی ملک کا پرچم سینے سے لگاتے ہیں۔ جس آزادی پر فخر ہے، اس کی حفاظت کرنے والوں سے نفرت بھی—یہ تضاد اپنی جگہ موجود ہے۔
سرحد پر جوان اپنا فرض ادا کر رہا ہے؛ تو کیا ہم اپنے گھروں، بازاروں اور معاشرے میں اپنے حصے کا فرض ادا نہیں کر سکتے؟ وہ اپنے محاذ پر کھڑا ہے، ہم اپنے محاذ پر کہاں کھڑے ہیں؟ شاید آزادی صرف حق لینے کا نام نہیں؛ اپنا فرض پہچاننے کا نام بھی ہے۔
اختیار رکھنے والوں کا امتحان بھی اسی دن ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کے لیے بھی 14 اگست کا منظر کچھ مختلف نہیں؛ تقریریں ہوتی ہیں، دعوے دہرائے جاتے ہیں، پرچم لہراتے ہیں اور دن گزر جاتا ہے۔ تعطیل اور تقریریں ختم ہوتی ہیں؛ مگر عام آدمی کے سوال ختم نہیں ہوتے۔ وہی دفتر، وہی تھانہ، وہی عدالت اور وہی انتظار اگلے دن پھر سامنے ہوتا ہے۔
ہمارا “حال” بھی “کل” بن چکا ہے۔ 10 سال پہلے جو وعدہ “کل” کے لیے کیا تھا، وہ آج ہمارا “حال” ہے۔ اور ہم پھر کہہ رہے ہیں: “اگلے سال ٹھیک ہو جائے گا۔” اس طرح “کل” کبھی آتا ہی نہیں۔
تو پھر آزادی آخر ہے کیا؟
کیا صرف یہ کہ ہمارے ہاتھ میں پرچم ہے؟
کیا صرف یہ کہ 14 اگست کو سڑکیں سبز ہو جاتی ہیں؟
نہیں۔ شاید آزادی اُس وقت محسوس ہوتی ہے جب قانون کمزور کے لیے بھی وہی ہو جو طاقتور کے لیے ہے؛ اختلاف دشمنی نہ بنے؛ اور شہری اپنی خوشی کے ساتھ دوسرے کے سکون کا بھی خیال رکھے۔
غلامی میں زنجیر دکھائی دیتی ہے، آزادی میں ذمہ داری؛ اسی لیے زنجیر سے ڈرنا آسان اور آزادی کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔ ہم نے آزادی حاصل کر لی، یہ تاریخ ہے۔ مگر ہم نے اسے سمجھا بھی ہے یا نہیں، یہ آج کا سوال ہے۔
ہم نے آزادی خون سے لی تھی اور آج اسے شور سے منا رہے ہیں۔ ہاتھ میں پرچم ہے، دل میں ضمیر نہیں! اور اگر ہاتھ میں اپنا پرچم ہو، مگر سوچ، کردار اور رویے کسی اور کے محتاج ہوں، تو پھر سلگتا اشارہ یہی ہے کہ ہم جشن، آزادی کا منا رہے ہیں یا خودفریبی کا؟


