شعور کی بے بسی/ اسلم اعوان

میرے زیرِ مطالعہ معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر شاہد مسعود کا ناول “بے بسی” ہے، جس میں پہلی بار کسی ادیب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں جنم لینے والے المیوں کو منقش کرکے ملک بھر کے اہل ادب کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ اس ناول میں انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں رونما ہونے والے ثقافتی زوال اور جنوبی وزیرستان میں جنگِ دہشت گردی کی جدلیات کی بدولت محسود، وزیر قبائل کی روایات، سماجی اقدار اور قبائلی طرز زندگی میں رونما ہونے والی حادثاتی تبدیلیوں کو نہایت گہری بصیرت کے ساتھ سمجھا اور فنی مہارت سے پیش کیا۔ اگرچہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی یہ جزوی مساعی بارش کے پہلے قطرے کی مانند وقت کی گرد میں گم ہو سکتی ہے، لیکن بانگِ درا کی طرح اس جذباتی پکار کی بازگشت دیر تک پاکستانی معاشرے کے اجتماعی شعور سے ٹکراتی رہے گی۔

دراصل، بے بسی سے ڈاکٹر شاید کی مراد وہ وجودی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خواہش اور ارادے کو محسوس تو کرتا ہے، مگر انہیں مؤثر عمل میں تبدیل کرنے کے امکان سے خود کو محروم پاتا ہے۔ مصنف نے حالات کے جبر کے تحت پیدا ہونے والی اسی نفسیاتی کشمکش، سماجی انتشار اور شناختی بحران کی نہایت باریک بینی سے عکاسی کرنے کی کوشش کی، جس سے یہ ناول محض ایک داستان نہیں بلکہ اپنے عہد کی سماجی اور نفسیاتی دستاویز کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

گزشتہ تئیس برسوں سے پاکستان کے قبائلی علاقے ایک ایسی کشمکش کا اکھاڑا بنے رہے، جس نے نہ صرف وہاں کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کو متاثر کیا بلکہ ان کے سماجی، ثقافتی، نفسیاتی اور معاشی ڈھانچے کو بھی تہہ و بالا کر دیا ۔ نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے قبائلی پٹی کو بین الاقوامی طاقتوں، عسکری تنظیموں اور ریاستی اداروں کے درمیان میدان کارزار میں بدل کر اس جنگ کے اثرات کو محض عسکری دائروں تک نہیں بلکہ صدیوں پر محیط قبائلی زندگی کے منجمد نظام کی جزیات تک اتار دیا۔

قبائلی علاقوں کی تاریخ اپنے اندر منفرد تہذیبی شناخت رکھتی ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے اپنی روایات، رسم و رواج، جرگہ سسٹم، مہمان نوازی اور اجتماعی زندگی کے ربط سے جڑے رہنے کے لیے معروف رہا۔ یہاں کے لوگ اپنی تمام تر محرومیوں کے باوجود زندگی سے محبت کرنے والے، خوش مزاج اور جفاکش تھے۔ ان کی روزمرہ زندگی میں باہمی میل جول، حجرے کی محفلیں، اتنڑ جیسے روایتی رقص، لوک موسیقی اور روایتی کھیل اہم حیثیت رکھتے تھے۔ تنازعات اور جھگڑے بھی ہوتے لیکن ان کے حل کے لیے ایک مضبوط سماجی نظام موجود تھا جو جرگے اور مقامی روایات کے ذریعے معاملات کو سلجھا لیتا تھا۔

برطانوی دورِ حکومت میں نافذ کیا جانے والا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) ایک ایسا قانونی ڈھانچہ تھا جس نے قبائلیت کو ریگولیٹ کرنے کے علاؤہ قبائلی معاشرے کو باقی ملک سے الگ تھلگ کرکے گنبد بے در کی مانند اس کے فطری ارتقاء کو منجمد رکھا ۔ تقریباً ڈیڑھ صدی تک یہ قانون قبائلی علاقوں پر نافذ رہا۔ اگرچہ اس نظام میں بے شمار خامیاں موجود تھیں اور بنیادی انسانی حقوق کی کئی خلاف ورزیاں بھی اس کا حصہ تھیں، لیکن اس نے قبائلی سماج کی روایتی ساخت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نتیجتاً قبائلی معاشرہ جدید سیاسی، تعلیمی اور سماجی تبدیلیوں سے بڑی حد تک الگ تھلگ رہا۔

تاہم جب عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو یہ بند دنیا اچانک بین الاقوامی سیاست کے محور میں آ گئی۔ مختلف شدت پسند تنظیموں، غیر ملکی جنگجوؤں اور ریاستی فورسز کے درمیان تصادم نے پورے دنیا کے لئے اس خطہ تک رسائی کی راہیں کشادہ کر دیں۔

ایک طرف عسکریت پسند گروہ اپنی موجودگی مضبوط کر رہے تھے تو دوسری طرف ریاستی ادارے عالمی فورسز کے ساتھ ملکر فوجی آپریشنز کے ذریعے ان کے خلاف کارروائیاں میں مصروف تھے۔ اسی مسلسل جنگ نے قبائلی علاقوں کو شدید انسانی اور معاشی نقصانات سے دوچار کیا۔

ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور پورے پورے علاقے خالی کروا دیے گئے۔ جبری نقل مکانی قبائلی تاریخ کا شاید سب سے بڑا انسانی المیہ ثابت ہوئی۔ وہ لوگ جو نسلوں سے ایک ہی زمین پر آباد تھے، اچانک پناہ گزین بن گئے۔ انہیں اپنے گھر، کھیت، کاروبار اور سماجی رشتے چھوڑ کر ملک کے مختلف حصوں میں عارضی کیمپوں یا کرائے کے مکانوں میں زندگی گزارنا پڑی۔ اس نقل مکانی نے صرف مادی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ لوگوں کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

اس ناول میں مصنف نے جنگی ماحول میں پروان چڑھنے والی ایک پوری نسل ،جس نے خوف، غیر یقینی اور تشدد کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے دیکھا، کی نفسیاتی الجھنوں کو ساغر خان جیسے کرداروں کے ذریعے نمایاں کیا اور جن بچوں نے سکولوں کی جگہ بارودی دھماکوں کی آوازیں سنیں اور جن نوجوانوں نے مستقبل کے خوابوں کی جگہ موت اور بے یقینی کا سامنا کیا ،ناول میں ان کی نفسیاتی کیفیات کو منقش کرنے کے علاؤہ گل خان بابا جیسے بزرگوں کے ذریعے قبائلی تمدن کے دلکش اور گداز ماضی کے تاریخی سرمایا، نفسیاتی شکوہ پہ مبنی متاع زندگی اور سماجی حیثیت کو بکھرتے دیکھایا گیا ۔

انہوں نے ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے مسلسل جنگی حالات میں الجھے افراد ، خاص کر خواتین اور بچوں میں اضطراب، ڈپریشن، عدم تحفظ اور سماجی بے اعتمادی کو جنم دینے والے عوامل کی نشاندہی کی ہے اور موجودہ قبائلی معاشرہ کو اس کے ایک واضح نمونہ کے طور پر پیش کیا

ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے ناول میں آج کے قبائلی معاشرہ کو ایسے عبوری دور سے گزرتا دیکھایا، جو نہ تو مکمل طور پر پرانے قبائلی نظام میں موجود ہے اور نہ ہی مکمل طور پر جدید شہری معاشرے میں ضم ہو سکا ہے۔ اس درمیانی کیفیت میں پھنسے قبائیلی معاشرے کو ذہنی انتشار، شناخت کے بحران اور سماجی الجھنوں سے گزرتے دیکھایا گیا۔ جہاں بہت سے نوجوان منشیات ، دہشتگردی اور باغیانہ کلچر کا شکار ہوتے دیکھائے گئے اور کئی اپنے مستقبل بارے غیر یقینی کا شکار نظر آتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے افراد ماضی کی یادوں اور حال کی تلخ حقیقتوں کے درمیان جھولتے نظر آتے ہیں۔

مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ قبائلی علاقوں کی بحالی صرف سڑکوں، عمارتوں اور بازاروں کی تعمیر سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے انسانی نفسیات کی بحالی، اجتماعی اعتماد کی بحالی اور سماجی زخموں کے علاج کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت، سماجی اداروں، دانشوروں اور مقامی قیادت کو مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں جنگ سے متاثرہ افراد خود کو محفوظ، بااختیار اور باعزت محسوس کر سکیں۔

علی ہذالقیاس اس ناول میں بتایا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کی داستان دراصل صرف ایک خطے کی کہانی نہیں بلکہ انسانی استقامت، قربانی اور بقا کی داستان ہے۔ تئیس سالہ جنگ نے اگرچہ اس معاشرے کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اس کے باوجود وہاں کے لوگ آج بھی بہتر مستقبل کی امید لیے کھڑے ہیں۔ یہی امید ان کی اصل طاقت ہے اور یہی امید اس خطے کو ایک پائیدار اور پرامن مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
پاکستان کی معاصر تاریخ محض سیاسی واقعات کی تاریخ نہیں بلکہ انسانی شعور، تہذیبی حافظے اور اجتماعی نفسیات کی تشکیل و تحلیل کی داستان بھی ہے۔

مصنف یہ بتانے کوشش کرتا ہے کہ فوجی آمریتوں کے طویل ادوار، افغانستان میں لڑی جانے والی دو مسلسل جنگوں، ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی مذہبی عسکریت اور فرقہ وارانہ دہشت گردی نے صرف ریاستی ڈھانچے ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ انسان کے باطن، اس کے احساسِ جمال، اس کی اخلاقیات، اس کے مذہبی رویّوں، سماجی تعلقات، خوشی و غمی کی رسومات، زبان، ادب اور نظامِ خیال تک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ یہ ایک ایسا عہد تھا جس میں خوف صرف ایک سیاسی کیفیت نہیں رہا بلکہ تہذیبی تجربہ بن گیا۔ خوف نے انسان کے تخیل کو محدود کیا، اختلاف کو جرم بنایا، سوال کو بغاوت قرار دیا اور ادب کو ایک ایسے سکوت میں مبتلا کر دیا جس میں لفظ زندہ تو تھے مگر ان کے معنی زخمی ہو چکے تھے۔

تاہم ہر بڑی جنگ اپنے ساتھ صرف تباہی نہیں لاتی بلکہ وہ ایک نئے شعور کی پیدائش کا امکان بھی پیدا کرتی ہے۔ تاریخ کی جدلیات یہی بتاتی ہیں کہ جب کوئی سماج اپنے داخلی تضادات کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو انہی تضادات کے بطن سے ایک نئی فکری دنیا جنم لیتی ہے۔ پاکستان کے جنگ زدہ خطوں میں بھی یہی عمل وقوع پذیر ہوا۔ بظاہر یہ علاقے بارود، نقل مکانی، مذہبی انتہا پسندی اور ریاستی کشمکش کا منظرنامہ تھے، مگر اسی تباہی کے اندر ایک خاموش فکری بیداری بھی نمو پا رہی تھی۔ قبائلی معاشرے، جہاں صدیوں سے اجتماعی روایت فرد کی آزادی پر غالب رہی، وہاں پہلی مرتبہ فرد نے اپنی ذات، اپنے اختیار، اپنی آزادی اور اپنی شناخت کے بارے میں نئے سوالات اٹھانے شروع کیے۔ گویا جنگ نے صرف مکان نہیں گرائے بلکہ ان فکری دیواروں میں بھی دراڑیں ڈال دیں جو نسلوں سے انسان کے شعور کو مقید کیے ہوئے تھیں۔

یہاں تاریخ کا ایک لطیف مگر اہم المیہ سامنے آتا ہے۔ ہمارے ادیبوں، ناول نگاروں اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے اس عظیم انسانی تجربے کو اپنی تخلیقات کا موضوع نہیں بنایا۔ کابل سے کشمیر، کوئٹہ سے قندھار، لاہور سے ہرات اور خیبر سے کراچی تک پھیلی ہوئی اس پوری جنگی تہذیب نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل ڈالیں، مگر اردو ادب میں اس کی بازگشت بہت کم سنائی دیتی ہے۔ ادب، جو انسانی تجربے کی سب سے گہری زبان سمجھا جاتا ہے، اس دور کے بنیادی سوالات سے بڑی حد تک لاتعلق رہا۔ اس کی ایک وجہ خوف تھی، دوسری نظریاتی وابستگیاں، اور تیسری وہ ادبی اشرافیت جس نے انسانی المیے کے بجائے محفوظ موضوعات کو ترجیح دی۔

اسی تناظر میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا ناول “بے بسی” ایک اہم ادبی واقعہ بن کر سامنے آتا ہے۔ اس ناول کی اہمیت صرف اس میں نہیں کہ اس نے دہشت گردی اور جنگ کے المناک مناظر بیان کیے، بلکہ اس میں ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ جنگ زدہ معاشرے کی اجتماعی نفسیات، انسانی شکست، خوف کی تہذیب اور ٹوٹتے ہوئے سماجی رشتوں کو ایک فکری بیانیے میں سمویا۔ اس اعتبار سے یہ ناول اس خاموشی کو توڑنے کی پہلی سنجیدہ کوشش دکھائی دیتا ہے جس نے طویل عرصے تک ہمارے ادبی منظرنامے کو اپنی گرفت میں رکھا۔

لیکن اس سب کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ “بے بسی” نے جنگ کے کئی نہایت اہم پہلو کو پوری طرح موضوع نہیں بنایا،جن میں پاک فوج کے جوانوں کی المناک شہادتوں سے جڑی ناقابل برداشت تلخیوں اور دوسری جنگ کی جدلیاتی قوت محرکہ ، جیسے فلسفے کی زبان میں ہر تاریخی بحران صرف انہدام نہیں کرتا بلکہ ایک نئی تشکیل کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ جنگ نے جہاں پرانے نظامِ فکر کو شکست و ریخت سے دوچار کیا، وہیں اس نے فرد کو ان اجتماعی جکڑ بندیوں سے جزوی طور پر آزاد بھی کیا جو قبائلی عصبیت، مذہبی جمود اور روایتی اقتدار نے صدیوں سے قائم کر رکھی تھیں۔

قبائلی معاشرہ بنیادی طور پر اجتماعیت کا معاشرہ ہوتا ہے، جہاں فرد اپنی آزاد شناخت کے بجائے قبیلے کی توسیع سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا مذہب، اس کی سیاست اور حتیٰ کہ اس کے جذبات بھی اجتماعی روایت کے تابع ہوتے ہیں۔ مگر جب جنگ نے اس پورے سماجی ڈھانچے کو منتشر کیا تو پہلی مرتبہ فرد کو اپنی ذات کے ساتھ تنہائی میں مکالمہ کرنے کا موقع ملا۔ نقل مکانی، جدید تعلیم، ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور مختلف تہذیبوں سے براہِ راست رابطے نے وہ دروازے کھول دیے جنہیں قبائلی روایت صدیوں سے بند کیے ہوئے تھی۔ گویا فطرت نے ایک “تدبیرِ مخفی” کے ذریعے انہی تاریخی سانحات کو فکری آزادی کا وسیلہ بنا دیا۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے ہیگل کی جدلیات، مارکس کی تاریخی مادیت اور اقبال کے تصورِ حرکت میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ تضاد ہی ارتقا کی اصل قوت ہے۔ زندگی سکون میں نہیں بلکہ کشمکش میں آگے بڑھتی ہے۔ جب پرانا نظامِ خیال اپنی تخلیقی صلاحیت کھو دیتا ہے تو تاریخ اس کے اندر ایسے تضادات پیدا کرتی ہے جو بالآخر ایک نئے نظامِ فکر کو جنم دیتے ہیں۔ پاکستان کا جنگ زدہ معاشرہ بھی اسی تاریخی مرحلے سے گزرا ہے۔

اگر ادب اس نئی صورتِ حال کو پوری دیانت داری سے اپنا موضوع بنائے تو وہ صرف المیوں کی داستان نہیں لکھے گا بلکہ ایک نئی تہذیبی تشکیل کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ ادب کا کام صرف زخم دکھانا نہیں بلکہ ان امکانات کی نشاندہی بھی کرنا ہے جو انہی زخموں سے جنم لیتے ہیں۔ یہی تخلیقی عمل معاشرے کے منتشر اذہان کو دوبارہ ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے، اجتماعی شعور کو تازگی عطا کر سکتا ہے اور ایسی انسانی اقدار کو فروغ دے سکتا ہے جن پر ایک زیادہ آزاد، زیادہ عادلانہ اور زیادہ صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا ادبی سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ میں ہم نے کیا کھویا، بلکہ یہ بھی ہے کہ جنگ کی راکھ سے کون سا نیا انسان، کون سا نیا شعور اور کون سا نیا نظامِ خیال جنم لے رہا ہے۔ جب تک ہمارا ادب اس سوال کا سامنا نہیں کرتا، وہ اپنے زمانے کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکے گا اور جب وہ یہ جرات پیدا کر لے گا تو شاید وہ صرف ادبی تاریخ ہی نہیں بلکہ قومی شعور کی تاریخ بھی ازسرِ نو لکھنے کے قابل ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں