عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا، پاکستان آزاد تھا۔
وہ شوکت خانم ہسپتال کے لیے میاں نواز شریف سے پچاس کروڑ روپے لے رہا تھا، پاکستان آزاد تھا۔ نمل کالج میانوالی کے لیے شہباز شریف سے کئی مربعے زمین الاٹ کروا رہا تھا، پاکستان آزاد تھا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب تشریف فرما تھے اور سیاست بھی ساتھ ساتھ فرما رہے تھے، پاکستان آزاد تھا۔
پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں عمران خان صاحب چیف پولنگ ایجنٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے، پاکستان آزاد تھا۔ بنی گالہ تک سڑک بنوانے کے لیے وزیراعظم نواز شریف سے درخواست کی جا رہی تھی اور وزیراعظم صاحب حکم صادر فرما رہے تھے، پاکستان آزاد تھا۔
پھر ایک ایسا دور آیا جب جنرل فیض حمید تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی قسمت کے فیصلوں میں مصروف تھے۔ 2018ء کے انتخابات میں آر ٹی ایس کے بارے میں سوالات اٹھے، جہانگیر ترین صاحب اپنا جہاز لے کر اڑے اور ارکانِ اسمبلی کو ساتھ بٹھا کر لے آئے، پاکستان آزاد تھا۔
عمران خان وزیراعظم بنے۔ توشہ خانے کے تحائف آئے، گئے، فروخت ہوئے، خریدے گئے اور حساب کتاب کی ایک ایسی داستان بنی جسے سمجھنے کے لیے شاید معاشیات کے ساتھ ساتھ نفسیات کی بھی ڈگری درکار ہو۔ مگر پاکستان آزاد تھا۔
حکومت کے ایوانوں میں جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید اور دوسرے طاقتور کرداروں کے اثر و رسوخ کی داستانیں گردش کرتی رہیں۔ ہیلی کاپٹر فضاؤں میں اڑتا رہا۔ سویلینز کے مقدمات فوجی عدالتوں تک پہنچتے رہے۔ پنجاب میں عثمان بزدار صاحب حکمرانی فرماتے رہے، فرح گوگی صاحبہ کا نام گردش کرتا رہا، شہزاد اکبر احتساب کی تلوار لہراتے رہے اور پنکی پیرنی کی روحانی سرپرستی بھی حکومت کے آسمان پر سایہ فگن رہی۔
پاکستان آزاد تھا۔
پھر عمران خان صاحب نے جنرل باجوہ کو تین سال کی ایکسٹینشن بھی عنایت فرمائی۔ یہ شاید آزادی کی وہ عجیب قسم تھی جس میں قیدی اپنے جیلر کو مزید تین سال قید کی مدت بڑھانے کی درخواست خود پیش کرتا ہے۔
پھر وہ دن آیا جب حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوئی۔ عمران خان صاحب نے اسمبلی میں ووٹنگ روکنے کی کوشش کی۔ معاملہ عدالت پہنچا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ووٹ تو ہوگا۔ ووٹ ہوا، حکومت گئی۔
اور تب، اے مرے عزیزو، اچانک ایک نئی دریافت ہوئی۔
پاکستان غلام ہے!
یہ دریافت بھی کچھ ایسی اچانک ہوئی جیسے کسی شخص کو برسوں بعد معلوم ہو کہ جس مکان میں وہ رہ رہا تھا، وہ دراصل کرائے کا تھا۔
جو ملک کرکٹ کے میدان میں آزاد تھا، شوکت خانم کے چندے میں آزاد تھا، نمل کی زمین میں آزاد تھا، پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں آزاد تھا، بنی گالہ کی سڑک میں آزاد تھا، 2018ء کے انتخابات میں آزاد تھا، توشہ خانے میں آزاد تھا، ہیلی کاپٹر میں آزاد تھا، ایکسٹینشن دینے میں آزاد تھا، فوجی عدالتوں میں آزاد تھا—وہ صرف اس وقت غلام نکلا جب اقتدار ہاتھ سے نکل گیا۔
کیا غضب کی آزادی ہے!
یہاں آزادی کا معیار بھی عجیب ہے۔ حکومت آپ کی ہو تو ملک آزاد، حکومت کسی اور کی ہو تو ملک غلام۔ اقتدار آپ کے پاس ہو تو ادارے جمہوریت کے محافظ، اقتدار چھن جائے تو وہی ادارے سازش کا مرکز۔ آپ کے حق میں فیصلہ آئے تو عدلیہ آزاد، خلاف آئے تو عدلیہ مشکوک۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں آزادی کوئی قومی وصف نہیں، بلکہ ایک سرکاری عہدہ ہے؛ جس کے پاس اقتدار ہو، وہ آزاد ہے، اور جو اقتدار سے باہر ہو، وہ غلام۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ عمران خان نے غلامی کی بات کی۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے آزادی کو بھی جماعتی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں حکمران بھی قانون کے تابع ہو، اپوزیشن بھی؛ جرنیل بھی آئین کے تابع ہوں، جج بھی؛ سیاست دان بھی جواب دہ ہوں، بیوروکریٹ بھی۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ کل کوئی اور صاحب اقتدار سے محروم ہوں گے اور اعلان فرمائیں گے:
“پاکستان آج غلام ہوگیا ہے!”
اور ہم حسبِ معمول پوچھیں گے:
“صاحب! کل تک کہاں تھے؟”
پھر جواب آئے گا:
“کل میں حکومت میں تھا۔”
اور شاید یہی ہماری قومی سیاست کا سب سے مختصر، مگر سب سے مکمل تعارف ہے۔


