رات کا آخری پہر تھا- شہر کی آوازیں ایک ایک کر کے خاموش ہو رہی تھیں۔ کمرے میں بس کتاب کے اوراق پلٹنے کی مدھم آواز، چائے کی ہلکی سی مہک اور گھڑی کی ٹک ٹک تھی۔ ایسے وقت میں مطالعہ محض مطالعہ نہیں رہتا؛ آدمی کتاب نہیں پڑھتا، کتاب آہستہ آہستہ آدمی کو پڑھنے لگتی ہے۔
پڑھتے پڑھتے اچانک ایک نظم نظر سے گزری۔ چند سطریں تھیں، مگر جیسے کسی نے برسوں سے بند دروازے پر آہستہ سے دستک دی ہو؛
“Have you ever loved a rose,
and bled against her thorns;
and swear each night to let her go,
then love her more by dawn”
آخری سطر تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے کیوں نگاہ کتاب سے اٹھ کر کھڑکی کے باہر جا ٹھہری۔ رات خاموش تھی۔ درختوں کی شاخیں ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ ہل رہی تھیں۔ دور کہیں ایک مدھم روشنی تھی اور ان کے درمیان چند آشنا سی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں۔ میں انہیں غور سے دیکھتا رہا۔
کچھ پرچھائیاں عجیب ہوتی ہیں۔ وہ سامنے نہیں ہوتیں، مگر اندر کہیں موجود رہتی ہیں۔ کبھی کسی چہرے کی طرح، کبھی کسی آواز کی صورت، کبھی کسی ایسی شام کی طرح جس کا سورج بہت پہلے ڈوب چکا ہو، مگر روشنی ابھی باقی ہو۔ شاید یاد بھی یہی ہے۔
ایک ایسا چراغ جسے ہم بجھا ہوا سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر اندھیرے میں کہیں نہ کہیں اس کی لو باقی رہتی ہے۔ نجانے کتنی دیر گزر گئی۔ میں اچانک جیسے کسی خواب سے واپس آیا۔ کچھ دیر خاموش بیٹھنے کے بعد مزید صفحات پلٹے تو ایک اور اقتباس پر نگاہ ٹھہر گئی؛
“You are a unique and magnificent human being. Of all the billions of people on the planet, there is not another YOU, and your very existence is vital to the functioning of our universe. All that you see, and all that there is, could not exist without you.”
میں دیر تک اس اقتباس کو دیکھتا رہا۔ کتنی عجیب بات ہے۔ آدمی کبھی خود کو کائنات کے بیچ کھڑا محسوس کرتا ہے اور کبھی اسی کائنات میں ایک بے نام ذرّے سے زیادہ نہیں۔
ہم ستاروں کو دیکھتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ستاروں کو دیکھنے والی آنکھ بھی اسی کائنات میں قدرت کی بنائی ہوئی ہے۔ اسی لیے بعض راتیں باہر نہیں اترتیں، اندر اترتی ہیں۔
میں نے دوبارہ کھڑکی کی طرف دیکھا۔ اس بار منظر وہی تھا، مگر کچھ بدل گیا تھا۔ وہی درخت، وہی ہوا، وہی رات، مگر وہ پرچھائیاں نہیں تھیں۔ کچھ دیر پہلے جو منظر مجھے ماضی کی کسی گلی میں لے گیا تھا، اب وہی خاموشی کسی اور سمت اشارہ کر رہی تھی۔
پھر کہیں دور ایک ستارہ ٹمٹمایا۔ اور مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ خاموشی بھی شاید ایک زبان ہے۔ ایسی زبان جس میں کوئی نام نہیں لیا جاتا، مگر بہت کچھ کہا جاتا ہے۔
میں نے کتاب بند نہیں کی۔ بس اسے کھلا رہنے دیا۔ چائے اب ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ رات بھی کچھ اور گہری ہو گئی تھی۔ کھڑکی کے باہر، جہاں کچھ دیر پہلے ماضی کی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں، اب صرف رات تھی۔ بے حد خاموش۔۔۔بے حد وسیع۔۔۔اور شاید اب کی بار یہی کافی تھا-


