نوٹ: میشل فوکو نے ایران کے اسلامی انقلاب ( ۱۹۷۹ء ) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ وہ اطالوی اخبار Corriere della Sera. کے نمائندے کے طور پر ایران آیا تھا۔ ایک فلسفی نے گویا صحافت کی۔ ایران سے متعلق اس کی کل پندرہ تحریریں ہیں۔ ان میں کچھ انٹرویو اور مہدی بازرگان کے نام ایک کھلا خط بھی شامل ہے۔
فوکو نے ایرانی انقلاب میں سیاست ومابعد الطبیعیات کو ایک انوکھے امتزاج کے ساتھ دیکھا،جس کا نہایت ولولہ خیز اظہار بھی کیا۔ ایک سیکولر یورپی فلسفی کے لیے، مذہب کی یہ قوت ، سرچشمہ حیرت تھی۔ اس نے مذہب کے افیون ہونے یابے روح کائنات کی روح ہونے کے مارکسی تصور سے اختلاف کیا۔
فوکو پر اس وقت اور بعد میں کڑی تنقید ہوئی ۔ اسی لیے اس نے بعد میں(اپنے انتقال : ۱۹۸۴ء تک ) ایران سے متعلق کچھ نہیں لکھا۔ فوکو کی یہ تحریریں، ناصر فاروق نے اردو میں ترجمہ کی ہیں۔ کتاب کے پبلشر شاہد اعوان صا حب نے اس کے لیے دیباچے کی فرمائش کی۔ دیباچہ طویل ہے، صرف اس کے دو پیراگراف، احباب کے مطالعے کے لیے شیئر کررہا ہوں۔
—————————————————————
“فوکو جن دنوں اطالوی اخبار میں ایران سے متعلق رپورتاژ لکھ رہا تھا، ان دنوں اور ا س کے بعد فوکو پر سخت تنقید ہورہی تھی۔ یہ تنقید کئی اطراف سے ہوئی۔ ایرانی ویورپی ترقی پسند خواتین ، لبرل اور مارکسی دانش وروں کی طرف سے۔
خواتین کا اعتراض تھا کہ فوکو نئی اسلامی حکومت کی خواتین پر حجاب کی پابندی سے غافل کیوں تھا۔ مارکسی دانش ور، فوکو کی تحریروں کو سادہ لوحی پر مبنی قرار دے رہے تھے کہ ان میں طبقاتی جدوجہد کو دیکھا ہی نہیں گیا تھا۔
اس تنقید اور اسلامی انقلاب کے فوری بعد کے واقعات نے فوکو کو ایک طرف مہدی بازرگان کے نام مذکورہ بالا خط لکھنے پر مجبور کیا،کچھ انٹرویوز میں ، دفاعی مئوقف پر مائل کیا اور ایک آخری مضمون لکھنے کی تحریک دی۔ا س کا عنوان ” بغاوت کرنا بے مقصد ہے کیا؟ ” رکھا۔
یہ مضمون مئی ۱۹۷۹ء میں لکھا گیا۔ اس میں فوکو نے انقلاب اور شورش میں فرق بھی کیا۔وہ انقلاب کے بارے میں کہتا ہے کہ انقلاب کے تصور نے دو سو سال تک تاریخ کو پس پشت ڈالا ہے، اور وقت سے متعلق ہمارے ادراک کو تشکیل دیا ہے اور لوگوں کو مختلف قسم کی امیدیں دلائی ہیں۔
یہیں وہ جرمن فلسفی ہورخی مر (Horkheimer) کے اس سوال کو بھی دہراتا ہے کہ کیا واقعی انقلاب جیسی چیز ہمیں مطلوب ہے؟ اس کے بعد وہ شورش کے معمے پر لکھتا ہے۔
وہ ایک بار پھر دہرا تاہے کہ ایرانیوں کی تحریک جتنی مذہبی تھی،اتنی ہی سیاسی بھی تھی۔تاہم اب وہ رائے ظاہر کرتا ہے کہ بغاوت کے اس منظر نامے میں کئی اہم اور ہول ناک عناصر باہم گڈ مڈ تھے۔ ایک طرف اسلام کو دوبارہ ایک عظیم تہذیب بنانےکی زبردست امید تھی اور دوسری طرف باہر کی چیزوں اور لوگوں سے دشمنی کی صورتیں تھیں، نیز عالمی طاقتوں کے مفادات ، علاقائی رقابتیں ، سامراج کے مسائل تھے۔
یہاں فوکو پہلی بار پر عورتوں کی محکومی کو ایرانی بغاوت میں شامل اہم عنصر کہتا ہے،مگراس پر زیادہ بات نہیں کرتا۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فوکو اب ایران سے مایوس ہورہا تھا۔ اسی لیے اگلے ہی صفحے پر یہ کہتا ہے کہ اپنی رائے بدلنے میں شرم کی کوئی بات نہیں، لیکن وہ انسانی حقوق سے متعلق اپنی رائے پر قائم ہونے کا ذکر کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ کل وہ ساواک کی اذیت رسانیوں کا مخالف تھا،اور آج (اسلامی حکومت کے تحت ) ہاتھوں کے کاٹے جانے کے خلاف ہے۔
فوکو کا یہ مضمون اس لیے اہم نہیں کہ اس میں وہ خود پر ہونے والی تنقید کا بالواسطہ جواب دیتا ہے ،اور اس تنقید کو ایک حدتک جائز بھی سمجھتا ہے، اور ایران کی اسلامی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سوال اٹھاتا ہے، بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں فوکو، انقلاب کے سلسلے میں ایک ذہنی الجھن کا شکار محسوس ہوتا ہے۔
وہ ہورخی مر کے سوال : کیا ہمیں انقلاب مطلوب ہے؟ کو ایک کھلا سوال سمجھتا ہے ، اس کا واضح جواب دینے کے بجائے، بس یہ کہتا ہے کہ بغاوت ،حقیقت ہے۔ ایک قیدی ظالمانہ سزاؤں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، اپنی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
ایک ذہنی مریض ، مزید قید اور ذلت برداشت نہیں کرسکتا۔ایک قوم جابر نظام کو مسترد کردیتی ہے۔اس سے پہلا شخص نہ بے گناہ ثابت ہوتا ہے، نہ دوسرے کا علاج ہو جاتا ہے،اور نہ ایک قوم کو وہ مستقبل یقینی طور پر مل جاتا ہے جس کا بغاوت کے دوران اس سے وعدہ کیا گیا ہوتا ہے۔ اتنا کافی ہے کہ یہ احتجاج اور بغاوت موجود ہیں، اور وہ خاموش نہیں ہیں۔
فوکو ، بغاوت کے حق میں قوی دلائل لاتا ہے،مگر صاف محسوس ہوتا ہے کہ ہو بغاوت ومزاحمت کے نتائج پر کھل کر بات کرنے سے گریز کررہا ہے۔ کیا ایک قیدی کے لیے واقعی یہ کافی ہے کہ وہ ظالمانہ سزاؤں کے خلاف، اپنے یا اپنے جیسوں کے حق میں کسی نتیجے کی پروا کیے بغیر، احتجاج کرے اور ایک پوری قوم اپنے مستقبل کے بہتر ہونے کے خیال کو پس پشت ڈال کر لاکھوں قربانیاں دے، بس یہ تصور کرکے کہ مزاحمت وبغاوت ایک حقیقت ہے
؟ فوکو کو اس کڑے سوال کا احساس ہے، اس لیے وہ اس تصور کو پیش کرتا ہے کہ “تاریخ کی تمام مایوسیاں ،اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ انسانی زمانہ ارتقا کی صورت میں نہیں، بلکہ عین تاریخ کی صورت میں وجود رکھتا ہے۔
سادہ لفظوں میں ہر انسانی احتجاج کامیاب نہیں ہوتا اور ہر انقلاب، اپنے مطلوبہ نتائج نہیں لاتا، یعنی چیزیں لازمی طور پر آگے نہیں بڑھتیں، بہتر نہیں ہوتیں؛ تاریخ انسانی کوشش کا نام ہے۔
فوکو اس سوال کو نظرانداز کرتا ہے کہ کوششوں کی ناکامی یا انقلاب کے بعد کی مایوسی کا سامنا کیسے کیا جائے، اور ایک تشدد کے نظام سے نکل کر تشدد کی نئی صورتوں سے کیسے نباہ کیا جائے۔
اس کی جگہ وہ طاقت اور قانون کی بحث اٹھاتا ہے۔
یہ کہ ایک انسان کی طاقت، دوسرے شخص کے لیے خطرناک ہوا کرتی ہے۔طاقت یا اقتدار لازماً شر نہیں ہے، مگر اقتدار کو محدود وپابند بنانے والے ضابطے کافی سخت نہیں ہوا کرتے، نہ عالمگیر اصول ، اقتدار کے ضمن میں کافی ہوتے ہیں۔
ہمیں طاقت واقتدار کے مقابلے میں ایسے قوانین اور ایسے حقوق کا ذکر لانا چاہیے جو ناقابل تنسیخ ہوں۔ یہ کام ایک دانش ور کا ہے۔ایک دانش ور کو چاہیے کہ وہ اقتدار پر مسلسل نگاہ رکھے ،جسے ہر حال میں محدود کیا جانا چاہیے”۔


