ماں اپنے آپ میں ایک مذہب ہے
“ہر انسان کا پہلا مذہب ماں ہے۔
ہر بچے کے منہ سے نکلا پہلا لفظ ماں ہے۔
کوئی بچہ پیدا ہونے کے بعد رام، اللہ، عیسیٰ نہیں بولتا، بلکہ ماں بولتا ہے۔ ماں کو ہندو، مسلمان میں نہ بانٹیے۔”
اس ڈائیلاگ سے اس فلم کی بنیادی تھیم کو سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ فلم “ماں” کے لیے بنی ہے۔ کہانی کا پس منظر لاہور، 1947ء کا زمانہ ہے۔
یہ ایک ایسی شاہکار فلم ہے جو اگر دل و دماغ سے تعصب اور نفرت کو ہٹا کر دیکھی جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ فلم مذہب کے نام پر انسانوں کے درمیان کھینچی گئی نفرت کی دیواروں کو ڈھا کر صرف انسانیت کا درس دیتی ہے۔ فلم بڑی خوبصورتی سے یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ رشتوں کی بنیاد مذہب کے نظریاتی اختلافات پر نہیں، بلکہ خلوص اور انسانیت کے عالمگیر جذبے پر استوار ہوتی ہے۔
یہ فلم پیغام دیتی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب نفرت نہیں، بلکہ باہمی رواداری اور برداشت سکھاتا ہے۔ اصل میں مذہب کی آڑ میں نفرت کی آگ سیاست دان، ملا اور پنڈت جیسے عناصر بھڑکاتے ہیں۔ وہ معصوم انسانوں کے ذہنوں میں تعصب کا زہر گھول کر ان سے عقل و شعور کی صلاحیت چھین لیتے ہیں۔ نتائج سے بے خبر، یہ اندھی نفرت میں مبتلا لوگ ایسے ہولناک اقدامات کر گزرتے ہیں جن کا تصور ہی کسی صاحبِ عقل انسان کی روح اور دل کو دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔
سنی دیول نے اس فلم میں اس بار ایک مسلمان مرد کا کردار نہایت عمدگی سے نبھایا ہے۔ ہندوستانیوں کا کہنا ہے کہ سنی پہلی مرتبہ لاہور اپنی بیوی کو بچانے کے لیے آیا تھا، اور دوسری بار اپنے بیٹے کی جان بچانے۔ مگر اس بار سنی ایک ایسی ماں کے لیے جنگ میں کودا، جس سے نہ تو اس کا کوئی خونی رشتہ ہے اور نہ ہی مذہب کا تعلق۔
حسبِ روایت، سنی کی اداکاری حد درجہ بااثر اور جذبات سے لبریز رہی۔ ان کی ہمیشہ کی طرح ڈائیلاگ ڈیلیوری شاندار اور ایکشن جاندار تھا، اگرچہ اس مرتبہ ایکشن کے مناظر نسبتاً کم دیکھنے کو ملے۔
شبانہ اعظمی، جو اس فلم کی روح اور جان تھیں، نے ایک ہندو بوڑھی خاتون کے کردار کو جس شائستگی اور فنی کمال کے ساتھ نبھایا، وہ بے مثال ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کردار صرف اور صرف ان کے لیے لکھا گیا تھا، اور اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ یہ رول ان کی فنی زندگی کا ایک بہترین کردار اور درخشندہ باب ہے۔
انہوں نے جس انداز میں اس کردار کی روح میں اتر کر اپنے آپ کو اس میں ڈھالا ہے، وہ لفظوں کی ستائش کا محتاج نہیں۔ اس شاہکار کردار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سال کے تمام تر اعزازات بلا شرکتِ غیرے صرف اور صرف شبانہ اعظمی ہی کے نام ہوں گے۔
پریٹی زنتا نے عرصے بعد کم بیک کیا، مگر ایک بہت خوبصورت پرفارمنس اور پاورفل رول کے ساتھ۔ وہ آج بھی اتنی ہی خوبصورت ہیں جتنی وہ فلم “ویر زارا” میں نظر آئی تھیں۔
سیریز “مرزا پور” کا گڈو، یعنی علی فضل، کا رول کافی مختصر مگر پاورفل تھا۔
البتہ سنی کے بیٹے، کرن دیول، نے مایوس کیا۔ پوری فلم میں ان کی ایکٹنگ متاثر کن نہیں تھی۔
پوری فلم لاہور کے ایک خوبصورت سیٹ پر بنائی گئی ہے۔ میوزک اے۔ آر۔ رحمان نے دیا ہے اور گانوں کے بول جاوید اختر نے لکھے ہیں۔ اس فلم میں کوئی رومانٹک یا جذباتی گانا یا کوئی آئٹم نمبر نہیں تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ کہانی میں گانوں کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تاہم، بیک گراؤنڈ میوزک میں اے۔ آر۔ رحمان کا خاص انداز صاف محسوس ہوتا تھا۔
اس فلم کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ سرحد کے دونوں طرف ظلم ہوتے دکھائے گئے ہیں۔ ہندوستان میں ہندو اور سکھ نے مسلمان کو مارا اور پاکستان میں مسلمان نے ہندو اور سکھ کو۔
اس فلم کے دو سین اتنے پُراثر ہیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں پُرنم ہو جاتی ہیں۔
پہلا سین:
شبانہ اعظمی کے ایک انٹرویو کے مطابق، یہ سین ان کی زندگی کا سب سے مشکل سین تھا، جہاں غنڈے جب انہیں بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے دہلیز سے پار لائے، زمین پر پٹخا، سر سے آنچل نوچ لیا اور لباس کو تار تار کر دیا، تو یوں لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ انہیں ایسا لگا جیسے کسی نے ان کی عزت کو سرِعام نیلام کر کے ایک باوقار خاندانی عورت کو سب کے سامنے ذلیل کر دیا ہو۔
دوسری طرف، سنی دیول کی اداکاری اور ایکشن زبردست تھا۔ ان کا جلال، ان کی اداکاری اور بالخصوص شبانہ اعظمی کے برہنہ وجود کو اپنے ہاتھوں سے چادر سے ڈھانپنے کا وہ رقت آمیز لمحہ انتہائی پُراثر تھا۔ ان کا غصہ اور ایکشن دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک ہندو ماں کے لیے پورے لاہور کو آگ لگا دیں گے۔
دوسرا سین:
یہ فلم کا آخری سین ہے، جس میں شبانہ اعظمی کی موت اور سارے خاندان اور پڑوسیوں کا ماتم جذبات سے بھرپور تھا۔
میت گھر میں پڑی ہوئی ہے اور سب سوچ میں ہیں کہ آخری رسومات کیسے ادا کی جائیں۔ اس وقت سنی کا یہ کہنا کہ آخری رسومات ماں کے دھرم کے مطابق ادا کی جائیں گی، مگر سب اس بات پر پریشان ہیں کہ کون بتائے گا کہ ہندو مذہب کی آخری رسومات کیا ہوتی ہیں۔
اس موقع پر علی فضل ان کی مدد کرتا ہے۔
میت کو لے جانے والا سین جب سارے مسلمان “رام رام ستیہ” پڑھتے ہوئے میت کو شمشان گھاٹ لے کر جاتے ہیں، انتہائی جذباتی ہے۔ دوسری طرف غنڈے انہیں مارنے کے لیے آتے ہیں، مگر انسانوں کے پورے سمندر کو دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
شبانہ اعظمی کی ارتھی، جو پھولوں سے ڈھکی ہوئی ہے، کو سنی آگ لگاتا ہے اور پس منظر میں “رام رام ستیہ” کی گونج کے ساتھ فلم اپنے اختتامی منظر کی طرف جاتی ہے۔
ہماری ذاتی رائے کے مطابق یہ دونوں سین ہندوستانی فلم انڈسٹری کے انتہائی پاورفل اور یادگار سین تھے۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ فلم ناکام کیوں ہوئی؟
اس کی ناکامی کی درج ذیل وجوہات ہیں:
فلم لمبی ہے، خاص طور پر پہلا ہاف بہت سست ہے، جس کی وجہ سے سنیما ہال میں بیٹھا انسان بور ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر جین زی کے نوجوان، جنہیں ہر سین میں تیزی چاہیے۔
ہم نے کئی ریویوز سنے اور پڑھے۔ کافی زیادہ فلم بینوں کو سنا اور پڑھا، جنہوں نے فلم دیکھنے کے بعد اپنے ریویوز دیے۔ ان میں تقریباً 95 فیصد لوگوں نے اس فلم کو نہ صرف پسند کیا بلکہ زیادہ تر نے اسے 4/5 نمبر دیے۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر فلم کیوں ناکام ہوئی؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جین زی نے اسے دیکھنے سے انکار کر دیا، کیونکہ یہ فلم ایک سست، صاف ستھری اور سبق آموز فلم تھی، جبکہ سارے بزرگ، مڈل ایج افراد اور خواتین نے اسے بہت پسند کیا۔
یہ ایک آرٹ فلم ہے۔ اس میں جین زی کے نوجوانوں کے دل لبھانے کے لیے کوئی مسالہ نہیں تھا۔ یہ ہرگز بھی ایک کمرشل فلم نہیں تھی۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بزنس صرف اچھی کمرشل فلم ہی کر سکتی ہے، جیسے “دھڑکن” یا “آوارہ پن” جیسی فلمیں، جن میں بھرپور ایکشن، رومانس، کامیڈی، آئٹم نمبر وغیرہ ہوں۔ ایک صاف ستھری فلم کا کامیاب ہونا کافی مشکل ہے۔
ہندوستانی جین زی کو پاکستانی لاہور کے 1947ء کے کسی بھی واقعے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس لیے کوئی بھی دیکھنے نہیں گیا۔ کسی حد تک “ٹائیگر 3” کی ناکامی کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہندوستانیوں کو پاکستان کی جمہوریت بچانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
اس فلم کی ناکامی کی وجہ کو سمجھنا ہے تو “برلن” کا سیزن 2 دیکھیں۔ “برلن” کی سیریز ہمیشہ ہیِسٹ پر مبنی ہوتی ہے، مگر دوسرے سیزن کی پوری آٹھ اقساط دس لوگوں کی ناکام محبتوں پر مبنی کہانی ہے۔ صرف آخری قسط میں آخری آدھے گھنٹے میں ہیِسٹ دکھائی جاتی ہے۔
ٹھیک اسی طرح سنی کی فلم میں ہمیشہ ایکشن دکھایا جاتا ہے، مگر فلم کا پہلا ہاف خشک باتوں پر مبنی ہے، جبکہ ایکشن دوسرے ہاف سے شروع ہوتا ہے۔
جین زی، جو کسی بھی فلم کو ناکام یا کامیاب بنا سکتی ہے، اس کے لیے اس فلم میں کچھ بھی نہیں تھا۔ جین زی فلم مزے کے لیے دیکھنا چاہتی ہے، نہ کہ سبق حاصل کرنے کے لیے۔
البتہ سنجیدہ ہندوستانیوں کی 90 فیصد تعداد نے نہ صرف فلم کو پسند کیا بلکہ اسے پورے نمبر دیے۔ مگر یہ سنجیدہ لوگ کسی بھی فلم کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔
فلم کامیاب ہوتی ہے ریپیٹ ویلیو سے۔ اس فلم میں دوبارہ دیکھنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ایک ماسٹر پیس آرٹ فلم کو دوبارہ کوئی پیسہ خرچ کر کے نہیں دیکھتا۔
آخر میں، ہماری رائے میں یہ فلم ہندوستانی عوام کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کے لیے بھی تھی۔ اگر یہ پاکستان میں ریلیز ہو جاتی تو شاید سپر ہٹ ہوتی۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ریلیز کی اجازت تو ملنی نہیں تھی، تو پھر ان کے لیے بنانے کا فائدہ؟
لیکن سب کو معلوم ہے کہ فلم کسی نہ کسی ذریعے سے پاکستان پہنچ ہی جاتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی حد تک ایک پروپیگنڈا فلم تھی، مگر مثبت نوعیت کی، نہ کہ منفی۔
ہر انسان کو یہ پیغام ملا کہ مذہب کی بنیاد پر نفرت پالنا چھوڑو اور محبت و انسانیت کے نام پر جیو۔
“کوئی بچہ پیدا ہونے کے بعد رام، اللہ، عیسیٰ نہیں بولتا، بلکہ ماں بولتا ہے۔ کیونکہ ماں اپنے آپ میں ایک مذہب ہے اور ہر انسان کا پہلا مذہب ماں ہے۔”


