انسان، ناگہانی صدمے اور بکھرتا وجود/رانا جی جعفر

دفتر کی دھیمی روشنی میں، میں اور میرے ریذیڈنٹ رپورٹر صاحب ناگہانی صدموں اور خوابوں کے بکھرنے پر بات کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک ویرانی سی اتر آئی اور والدِ مرحوم کا ذکر آتے ہی الفاظ ٹوٹنے لگے اور ضبط بالکل ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔ روزانہ خبریں کور کرنے والے انسان کی یہ بے بسی دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا—والدین کو کھونے کے صدمے تو میں نے بھی سہے ہیں، پھر یہ سوال پہلے میرے ذہن میں کیوں نہ آیا کہ صدمے آخر انسان کی روح کے ساتھ کرتے کیا ہیں؟
زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو گزر تو جاتے ہیں، مگر ختم نہیں ہوتے۔ وہ ہمارے وجود میں کہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ برسوں بعد بھی وہ ہماری خاموشی میں، ہمارے فیصلوں میں، اور ہماری آنکھوں کی نمی میں زندہ نظر آتے ہیں۔
زندگی کبھی دستک نہیں دیتی۔
وہ اچانک اندر آ جاتی ہے۔
ایک دن کاروبار چھن جاتا ہے، دوسرے دن روزگار۔ کسی صبح باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے، کسی شام جوان بیٹا بچھڑ جاتا ہے۔ کسی کی ماں اچانک رخصت ہو جاتی ہے، کسی بہن کا آباد گھر پل بھر میں اجڑ جاتا ہے، کسی کے برسوں کے سجے خواب ایک خبر کے ساتھ بکھر جاتے ہیں۔
اور یہ تو صرف چند منظر ہیں، ورنہ زندگی کے پاس انسان کو آزمانے کے لیے صدموں کی کوئی کمی نہیں۔
صدمے اپنی صورتیں بدلتے رہتے ہیں، مگر ان کا بوجھ ہمیشہ دل پر اترتا ہے۔
اور شاید یہی اصل امتحان ہے۔
صدمہ نہیں… صدمے کے بعد والا رویہ۔
صدمے کے بعد صرف انسان ہی نہیں بدلتا، اس کے اردگرد بولے جانے والے جملے بھی بدل جاتے ہیں۔ ہر آنے والا اپنے حصے کی تسلی چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی آہستہ سے کہتا ہے، “صبر کرو، وقت سب ٹھیک کر دے گا۔” کوئی دلاسا دیتا ہے، “آہستہ آہستہ سب سنبھل جائے گا۔” کوئی کندھے پر ہاتھ رکھ کر یاد دلاتا ہے، “زندگی کسی کے لیے نہیں رُکتی۔” شاید یہ سب جملے اپنی جگہ درست ہوں گے، مگر جس دل پر صدمہ ابھی ابھی اترا ہو، اس کے لیے یہ لفظ نہیں، صرف آوازیں ہوتے ہیں۔
اور انہی آوازوں کے بیچ ایک خاموش سوال انسان کے اندر جنم لیتا ہے…
کیا مجھے کبھی اس دن کے لیے تیار کیا گیا تھا؟
کیا کبھی کسی نے سکھایا تھا کہ اگر ایک صبح زندگی اچانک سب کچھ بدل دے… اگر ایک خبر برسوں کی دنیا اجاڑ دے… اگر کبھی اولاد ہی نہ ہو… اگر دل اپنے ہی بوجھ سے بیٹھنے لگے… تو خود کو کیسے سنبھالتے ہیں؟ اپنے اندر ٹوٹنے اور بکھرنے کے درمیان فرق کیسے قائم رکھتے ہیں؟ امید کا چراغ کیسے بجھنے نہیں دیتے؟ یا ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ وقت ہر زخم کا علاج ہے؟
حالانکہ وقت صرف گزر جاتا ہے… سنبھلنا انسان کو خود سیکھنا پڑتا ہے۔
یہیں سے راستے الگ ہونا شروع ہوتے ہیں۔ کوئی اپنے دکھ کا سامنا کرنے کے بجائے منشیات کی دھند میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ کوئی خاموشی کو اپنا قید خانہ بنا لیتا ہے۔ کوئی اپنے ہی وجود سے نظریں چرانے لگتا ہے۔ اور کوئی مایوسی کے اس اندھیرے میں اتر جاتا ہے جہاں اسے راستے تو ہوتے ہیں، مگر دکھائی نہیں دیتے۔
کبھی کبھی صدمہ صرف ایک فرد کی قسمت پر نہیں اترتا۔ وہ پورے گھر کی دیواروں پر اپنی خاموش تحریر لکھ جاتا ہے۔ ایک خبر آتی ہے اور ہنستے بستے کمروں میں خاموشی اتر آتی ہے۔ چہروں کی رونق مدھم پڑ جاتی ہے۔ اور ایک درد کئی دلوں کا امتحان بن جاتا ہے۔
مگر ہر صدمہ ایک جیسا انجام نہیں لکھتا۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں بھی وہی نمی ہوتی ہے، دلوں میں بھی وہی زخم۔ مگر ان کا سفر وہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ بھی ٹوٹتے ہیں، وہ بھی گرتے ہیں، مگر کسی موڑ پر اپنے درد کو اپنی پوری شناخت نہیں بننے دیتے۔ پھر شاید وہ سمجھ لیتے ہیں کہ صدمہ زندگی کا ایک باب ہو سکتا ہے، پوری کتاب نہیں۔
شاید صدمے انسانوں کو نہیں بدلتے… صدموں کے بعد اختیار کیے گئے رویے ہی انسان کا اصل تعارف بن جاتے ہیں۔
تب میرے ذہن میں ایک سوال نے جنم لیا…
آخر فرق کہاں تھا؟
صدمہ تو سب کے دروازے پر آیا تھا… پھر کوئی اس کے نیچے دب کیوں گیا، اور کوئی اسی صدمے کے اوپر کھڑا ہو کر آگے کیسے بڑھ گیا؟
(اسوۂ رسول ﷺ: بکھرتی روحوں کی آخری پناہ گاہ)
دنیا میں صدمے کے بعد سنبھلنے کے ہزار راستے مل جاتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے “مصروف ہو جاؤ”، کوئی کہتا ہے “بھول جاؤ”، کوئی کہتا ہے “مثبت سوچو”۔
موٹیویشنل اسپیکرز کی تقریریں، کتابوں کے حوالے، نفسیات کی تھیوریاں… سب اپنی جگہ درست ہوں گی۔
مگر انسان پر ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دنیا کے سارے لفظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ مشورے خاموش پڑ جاتے ہیں، دلیلیں بے وزن محسوس ہونے لگتی ہیں، اور دل صرف ایک ہی سمت میں جواب تلاش کرتا ہے۔
رب کا فرمانِ حق بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے:
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”
(بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین عملی نمونہ ہے)۔
شاید وہیں سے اصل راستہ شروع ہوتا ہے…
مگر ان سب میں ایک راستہ ایسا بھی ہے جو نہ وقت مانگتا ہے، نہ پیسہ، نہ لمبی تربیت۔
یہ راستہ سب سے سادہ بھی ہے اور سب سے پہلے دل تک پہنچنے والا بھی۔
یہ دل کا زاویہ ہے، صرف دماغ کا نہیں۔ یہ ایمان کا ہے، محض منطق کا نہیں۔
اور وہ سوال یہ ہے…
“اگر یہ صدمے میرے آقا ﷺ پر گزرتے تو آپ ﷺ کیا کرتے؟”
صدمے کے بعد انسان جب خود کو ٹوٹا ہوا پاتا ہے، تو دنیا کے ہزار دلاسے بھی اکثر بے وزن لگتے ہیں۔
مگر ایک سوچ ایسی ہے جو دل کے سب سے گہرے زخم پر بھی مرہم رکھ دیتی ہے۔
ذرا ٹھہریے… اور سوچیے۔
کیا ہمارا کوئی صدمہ، یتیمی سے زیادہ بھاری ہے؟
جن کے سر سے والدِ محترم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا سایہ ولادت سے پہلے اٹھ گیا، اور چھ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی گود بھی چھن گئی۔
کیا ہمارا کوئی دکھ، اولاد کے غم سے زیادہ کربناک ہے؟
جنہوں نے حضرت قاسم، حضرت عبداللہ اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہم کو اپنے مبارک ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔
جن کے بیٹے رخصت ہوئے تو دشمنوں نے “ابتر” اور بے نام و نشان ہونے کے طعنے دیے، مگر آپ ﷺ نے صبر فرمایا اور رب نے کوثر کی خوشخبری عطا فرمائی اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر فرمایا:
“آنکھ اشکبار ہے، دل غمگین ہے، مگر ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہے۔”
کیا ہماری کوئی رات، شعبِ ابی طالب کے کٹھن دنوں سے زیادہ لمبی ہے؟
جہاں تین سال محصور رہ کر آپ ﷺ، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور معصوم بچوں نے شدید فاقوں اور بائیکاٹ کو سہا۔
کیا ہمارا کوئی زخم، طائف کے پتھروں سے زیادہ گہرا ہے؟
جہاں خون سے نعلینِ مبارک بھر گئے، مگر آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے انتقام سے درگزر فرمایا اور ہدایت و رحمت کی امید رکھی۔
کیا ہمارا کوئی نقصان، احد کے دن سے زیادہ تکلیف دہ ہے؟
جہاں ستر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے، چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جسدِ اطہر دیکھا جن کے کلیجے کو نشانہ بنایا گیا تھا، دندانِ مبارک شکستہ ہوئے، مگر پھر بھی آپ ﷺ نے صبر اور رحمت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
کیا ہماری کوئی جدائی، مکہ چھوڑنے سے زیادہ اذیت ناک ہے؟
جب پلٹ کر شہرِ مکہ کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔”
جب حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو آلِ پاک کی آنے والی آزمائشوں اور شہادت کے واقعات کی خبر دی، تو اس کا تصور بھی آپ ﷺ کے لیے یقیناً غم کا باعث تھا… مگر پھر بھی رب کی رضا اور فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم رکھا۔
نہیں… ہرگز نہیں۔
بلکہ آپ ﷺ نے صبر و رضا کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔
طعن و تشنیع سنی تو درگزر فرمایا۔
جسمِ اطہر پر زخم آئے تو بھی امت کی خیر مانگی۔
جب ہر ظاہری سہارا چھن گیا تو آپ ﷺ کا کامل توکل رب کی ذات پر رہا۔
آپ ﷺ کی مبارک آنکھیں بھی اشکبار ہوئیں… مگر دل صبر سے لبریز رہا۔
آپ ﷺ نے صدمات اور غم بھی سہے… مگر ہر حال میں رب کی رضا پر راضی رہے۔
آپ ﷺ نے بشری تقاضوں کے تحت غم بھی سہا… مگر کبھی ہمت نہ ہاری۔
تو پھر ہم کس بات پر شکایت کریں؟
ہمارا صدمہ شاید ایک دروازہ بند کرتا ہے،
مگر آپ ﷺ کی سیرت ہمیں ہزار دروازے کھولنا سکھا دیتی ہے۔
بس ایک لمحے کے لیے آنکھ بند کیجیے۔
اپنا درد آپ ﷺ کی سیرت کی روشنی میں رکھ دیجیے۔
اور دل سے پوچھیے:
“اگر یہ صدمے میرے آقا ﷺ پر گزرتے تو آپ ﷺ کیا کرتے؟”
یقین کیجیے… جواب خود بخود دل میں اتر آئے گا۔
وہ جواب آنسو نہیں بنے گا، وہ حوصلہ بنے گا۔
وہ شکایت نہیں بنے گا، وہ سجدہ بنے گا۔
وہ ہار نہیں بنے گا، وہ سفر بنے گا۔
دنیا کہتی ہے “بھول جاؤ”۔
سیرت کہتی ہے “اللہ پر چھوڑ دو اور آگے بڑھو”۔
کیونکہ صدمے کے بعد سنبھلنے کے راستوں میں سب سے روشن راستہ یہی ہے:
اپنا غم، آپ ﷺ کے غم کے ترازو میں تول لینا۔
اور پھر اپنے دکھ پر شرمندہ ہو کر رب کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا۔
یہی عشق ہے…
اور یہی اصل سنبھلنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں