زینب واپس نہیں آئی /عامر زریں

گذشتہ چند سالوں میں پیش آنے والے انتہائی ہائی پروفائل واقعات، جن میں 2018ء میں چھ سالہ زینب انصاری کا ریپ اور قتل بھی شامل ہے، اس کے بعد بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کو پاکستان کو درپیش اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک سمجھا جانے لگا ہے۔ درحقیقت، بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیشِ نظر ماہرینِ نفسیات کو اس مسئلے پر سنجیدہ تحقیق شروع کرنے کی ترغیب دی۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ “بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا مسئلہ تمام معاشروں میں پایا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں برسوں تک اس موضوع پر بات کرنے کو معیوب سمجھا جاتا رہا، اور اب بالآخر اس پر بات چیت شروع ہوئی ہے۔ تاہم، اس مسئلے پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے، اس لیے پالیسی سازوں کے پاس ایسے علمی یا تحقیقی نتائج موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ اپنے فیصلے کر سکیں۔ اگرچہ یہ ایک انتہائی حساس اور مشکل موضوع ہے۔”

ڈاکٹر ثمینہ کریم، یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ کی سوشل ورک کی اسسٹنٹ پروفیسر، اس بات پر تحقیق کر رہی ہیں کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے چیلنج کا مختلف پیشے کیسے جواب دیتے ہیں۔ پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے، اس نے اہم پیشہ ور گروپوں کے شرکاء کو بھرتی کیا جن میں مذہبی اسکالرز، ریاستی اسکولوں کے اساتذہ، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، میڈیکل ہسپتال کا عملہ، خصوصی تعلیمی ضروریات کے اساتذہ، پولیس، وکلاء، کمیونٹی سپورٹس پروفیشنلز، میڈیا پروفیشنلز اور مذہبی اقلیتیں شامل ہیں۔

ڈاکٹر ثمینہ نے اپنی یونیورسٹی سے گرانٹ فنڈنگ کا استعمال کرتے ہوئے، دس مختلف پیشوں کے 300 سے زیادہ شرکاء کے ساتھ فوکس گروپس کا انعقاد کیا ہے، جس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں، اس کے بارے میں ان کے رویوں اور ان کے پیشہ ورانہ عمل کو۔ ہر شریک نے ایک سوالنامہ مکمل کیا جس نے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں ان کے علم اور رویوں کو حاصل کیا اور اس کے نتیجے میں یہ ان کے پیشہ ورانہ مشق میں کیسے ظاہر ہوا۔ اس کے بعد گروپوں نے اپنے پیشے میں درپیش چیلنجوں اور ان کے ممکنہ حل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

اگر بچوں کے جنسی استحصال اور قتل کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو زینب کے بعد پورا پاکستان رویا، مگر اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ خوفناک تھی۔ جنوری 2018… قصور کی ایک ننھی سی بچی “زینب انصاری” گھر سے قرآن پڑھنے کے لیے نکلی، مگر واپس نہ آئی۔ گھر والوں نے سوچا شاید کچھ دیر میں دروازہ کھلے گا، ننھے قدم واپس آئیں گے اور ماں کی گود پھر آباد ہو جائے گی، مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس معصوم بچی کی زندگی کا آخری سفر شروع ہو چکا ہے۔

دن گزرتے گئے، تلاش جاری رہی، پورا علاقہ پریشان تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے صرف زینب کے خاندان کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ زینب کی لاش ایک کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑا قیامت خیز منظر کیا ہو سکتا ہے کہ جس بیٹی کو اس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، جس کی مسکراہٹ اس کے گھر کی رونق تھی، وہ چند دن بعد بے جان حالت میں ملے؟ قصور کی گلیوں میں غصہ پھوٹ پڑا۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا: آخر ہماری بچیاں کتنی محفوظ ہیں؟

پولیس نے تفتیش شروع کی۔ علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں کے DNA نمونے لیے گئے۔ تفتیش آگے بڑھی تو ایک شخص کا نام سامنے آیا “عمران علی”۔ تحقیقات کے مطابق عمران علی کا DNA زینب کے کیس سے ملنے والے شواہد سے میچ ہوا۔ لیکن معاملہ صرف زینب تک محدود نہیں رہا۔ تفتیش میں اس پر دیگر کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے متعدد مقدمات بھی منسلک ہوئے۔ یہ انکشاف کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ ایک ہی علاقے میں کئی معصوم زندگیاں ختم ہو چکی تھیں، اور ہر گھر اپنے بچے کے لیے خوف میں مبتلا تھا۔

زینب کیس نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ، پولیس تفتیش اور DNA ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بھی ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔ اس کیس میں DNA شواہد نے ملزم تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا۔ شواہد پیش کیے گئے، گواہیاں ہوئیں اور عمران علی کو زینب کے قتل سمیت مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔ اس نے اپنی اپیلوں کے ذریعے سزاؤں کو چیلنج کیا، لیکن بالآخر اعلیٰ عدالتوں سے بھی اسے ریلیف نہ مل سکا۔

پھر 17 اکتوبر 2018 کا دن آیا۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں عمران علی کو پھانسی دے دی گئی۔ زینب کے والد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سوچیے، ایک طرف ایک ایسے شخص کی زندگی ختم ہو رہی تھی جسے عدالت نے معصوم بچوں کے خلاف سنگین جرائم کا مجرم قرار دیا تھا، اور دوسری طرف ایک باپ کھڑا تھا جس کی اپنی ننھی بیٹی کبھی واپس نہیں آنے والی تھی۔ شاید دنیا میں کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں کوئی سزا ختم نہیں کر سکتی۔

یہ صرف ایک قاتل کی کہانی نہیں تھی۔ یہ ایک معصوم بچی کی کہانی تھی۔ ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کی کہانی تھی۔ اور شاید اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ “بچوں کی حفاظت صرف پولیس، عدالت یا حکومت کی ذمہ داری نہیں… یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ہر زینب، کسی نہ کسی گھر کی پوری دنیا ہوتی ہے۔”

زینب اور اس عمر کے دوسرے بچوں کے جنسی استحصال اور قتل کے واقعات کے بعد عوام کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں۔ زینب واپس نہیں آئی، اس کی آواز واپس نہیں آئی، اس کی ہنسی واپس نہیں آئی، لیکن اس معصوم بچی کا نام پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر ضرور رہ گیا جہاں پورے معاشرے نے یہ سوال پوچھا: کیا ہم اپنے بچوں کو واقعی محفوظ بنا سکتے ہیں؟

اس موضوع پر اپنی تحقیق کے بعد ڈاکٹر ثمینہ کریم نے اب تک ایسے واقعات کی روک تھام میں حائل جن رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے، ان میں ثقافتی رویوں سے لے کر مختلف اداروں کے درمیان مؤثر باہمی تعاون کا فقدان شامل ہے۔ نیز، وفاقی اور صوبائی قوانین کے مابین اکثر تضاد پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقدمات کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کریم کہتی ہیں: “فوجداری نظامِ انصاف کے تحت بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون سازی کا نفاذ قوانین کی تشریح پر بہت زیادہ منحصر ہے، اور اکثر اسی وجہ سے مقدمات پر قانونی کارروائی نہیں ہو پاتی یا وہ عدالتوں میں ناکام ہو جاتے ہیں۔”

قانونی کارروائی کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر اپنی تحقیق کے سلسلے میں، وہ وفاقی قوانین کا موازنہ پنجاب کے صوبائی قوانین سے کر رہی ہیں؛ پنجاب میں بچوں کے جنسی استحصال کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

حکومت، سول سوسائٹی اور مذہبی رہنماؤں کو بچوں کے جنسی استحصال (Child Sexual Abuse-CSA) کو معاشرتی تانے بانے کے لیے ایک سنگین خطرہ تسلیم کرنا چاہیے، جو کسی بھی قیمت پر ناقابلِ برداشت ہے۔ لہٰذا، حکومت کو اس مسئلے کو قومی سطح پر انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر نمٹنا چاہیے۔ بچوں کے جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات پاکستان میں روایتی اور مذہبی خاندانی نظام کے وقار پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ پالیسی سازوں، ماہرینِ عمرانیات اور ماہرینِ علمِ جرائم کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

یہ مسئلہ سماجی اقدار کے لیے ایک چیلنج اور ہمارے اخلاقی معیاروں میں غیر معمولی رویے کی علامت ہے۔ بچوں کے جنسی استحصال (CSA) کے واقعات بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضلعی سطح پر بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرے۔ مزید برآں،سخت اور فوری سزا معاشرے میں اس جرم کے خلاف بازدارانہ اثر (deterrence) پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ حکومت کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں اور محکمہ صحت کو بھی ان افراد کے لیے تربیتی کورسز متعارف کروانے چاہئیں جو اس مسئلے سے براہِ راست وابستہ ہیں.یعنی علاج کے پروگراموں سے لے کر متاثرین کی تفتیش کرنے والے عملے تک۔ حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کو والدین کے لیے آگاہی مہمات شروع کرنی چاہئیں تاکہ انہیں بچوں کے جنسی استحصال کے پھیلاؤ کے بارے میں حساس اور باخبر بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں