اقتدار بدلتے ہیں، حالات نہیں / علی عباس کاظمی

اقتدار کی روشنی اکثر آنکھوں کو اتنی خیرہ کر دیتی ہے کہ محل کے باہر پھیلا ہوا اندھیرا دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ یہی شاید حکمرانی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ کرسی پر بیٹھنے والا رفتہ رفتہ عوام کے مسائل سے نہیں، اپنی کرسی کے مسائل سے فکر مند ہونے لگتا ہے۔ اسے مہنگائی کے اعداد تو معلوم ہوتے ہیں مگر چولہے کی خاموشی کا دکھ معلوم نہیں ہوتا، اسے بجٹ کی زبان آتی ہے مگر اس مزدور کی زبان سمجھ نہیں آتی جو دن بھر مشقت کے بعد بھی اپنے بچوں کے لیے پوری روٹی نہیں خرید پاتا۔ ریاستی عمارتوں کے روشن کمروں میں بیٹھ کر معاشی بحران پر تقریریں کرنا آسان ہے، مگر اس بحران کو ایک عام گھر کے بجھتے چراغ میں دیکھنا شاید سب سے مشکل کام ہے۔

ہمارا اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ معیشت دباؤ میں ہے، سیاست میں کشمکش ہے یا حکومتیں اپنے وعدے پورے نہیں کرتیں۔ زیادہ گہرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کو ذمہ داری کے بجائے غلبے کی علامت سمجھنے کا رجحان مضبوط ہو چکا ہے۔ حکمران بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر اختیار کے استعمال کی نفسیات بڑی حد تک وہی رہتی ہے۔ اقتدار میں آنے والا یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ کتنی دیر تک کرسی پر قائم رہتا ہے، حالانکہ تاریخ کسی حکمران کی مدتِ اقتدار نہیں، اس کے چھوڑے ہوئے اثرات گنتی ہے۔ تخت پر بیٹھنے والے بہت آئے اور چلے گئے، مگر عوام آج بھی انہی لوگوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے عہدے کو عوامی امانت سمجھا، ذاتی جاگیر نہیں۔

یہ بھی ایک عجیب اجتماعی تجربہ ہے کہ ہر انتخاب سے پہلے عوام کو مستقبل کا خواب دکھایا جاتا ہے۔ خوشحالی، روزگار، سستا انصاف، بہتر تعلیم، مضبوط معیشت اور باوقار زندگی کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ عام آدمی ان وعدوں کو محض سیاسی بیان نہیں سمجھتا، وہ انہیں اپنی آنے والی زندگی کی امید بنا لیتا ہے۔ پھر وقت گزرتا ہے اور عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ چند سڑکیں، چند منصوبے، چند اعلانات اور چند وقتی سہولتیں اس بڑے خلا کو نہیں بھر سکتیں جو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وعدہ پورا نہیں ہوا،مسئلہ یہ ہے کہ وعدہ کرتے وقت عوام کی امید کو بھی ایک ذمہ داری سمجھا نہیں گیا۔

معاشی مشکلات کا سب سے زیادہ نقصان اس طبقے کو ہوتا ہے جس کے پاس بحران برداشت کرنے کی گنجائش پہلے ہی کم ہوتی ہے۔ اشرافیہ کے لیے مہنگائی ایک عدد ہے، متوسط طبقے کے لیے بجٹ کی دوبارہ ترتیب، مگر غریب کے لیے یہ کبھی کھانے کی ایک چیز کم کر دیتی ہے اور کبھی بچے کی تعلیم روک دیتی ہے۔ بجلی کا بل صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں، کسی گھر کے ماہانہ سکون پر پڑنے والا بوجھ ہے۔ ایندھن کی قیمت صرف پٹرول پمپ پر ادا ہونے والی رقم نہیں، بلکہ بازار کی ہر چیز کے نرخ میں شامل ہونے والی ایک نئی ضرب ہے۔ جب حکومت مالی بحران کا بوجھ مسلسل شہری پر منتقل کرتی ہے تو دراصل وہ صرف ٹیکس نہیں بڑھا رہی ہوتی، وہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا سرمایہ بھی کم کر رہی ہوتی ہے۔

اس صورتحال میں بیوروکریسی، سیاسی انتظام اور معاشی پالیسیوں کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب عام شہری کسی دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے سفارش، رشوت یا تعلق تلاش کرنے پر مجبور ہو تو اسے قانون کی طاقت نہیں، اپنی بے بسی محسوس ہوتی ہے۔ ریاست اگر شہری کو سہولت دینے کے بجائے اسے اپنے ہی نظام کے سامنے محتاج بنا دے تو پھر شکایت صرف ایک افسر یا محکمے سے نہیں رہتی، پورے انتظامی ڈھانچے سے پیدا ہوتی ہے۔ قانون کی اصل طاقت اس کی سختی میں نہیں، اس کے یکساں اطلاق میں ہوتی ہے۔ جس دن طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو جائے، ریاست کے بارے میں عوام کا تصور بھی بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔

سیاسی عدم استحکام بھی ترقی کے راستے میں محض ایک رکاوٹ نہیں بلکہ سرمایہ، منصوبہ بندی اور قومی اعتماد کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔ سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگاتا ہے جہاں اسے پالیسی کے تسلسل، قانون کی بالادستی اور مستقبل کے بارے میں کم از کم بنیادی یقین حاصل ہو۔ اگر ہر سیاسی تبدیلی کے ساتھ سمت بدل جائے، منصوبے رک جائیں اور ادارے کشمکش میں مبتلا رہیں تو معیشت کے پہیے کو رفتار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ قرض لے کر غیر پیداواری اخراجات جاری رکھنا وقتی طور پر مسئلہ چھپا سکتا ہے، ختم نہیں کر سکتا۔ قومیں قرض سے نہیں، پیداوار، علم، ہنر، برآمدات، صنعت اور مضبوط اداروں سے اپنے مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔

لیکن تمام ذمہ داری حکمرانوں پر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ بھی نہیں کر سکتے۔ معاشرہ صرف حکومت کا نام نہیں۔ ہم میں سے ہر شخص اس نظام کا کوئی نہ کوئی حصہ ہے۔ ووٹ دیتے وقت برادری، شخصیت، وقتی فائدے اور جذبات کو ترجیح دینا، پھر برسوں بعد بدعنوان قیادت کا شکوہ کرنا بھی ایک اجتماعی تضاد ہے۔ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ جھوٹ کو معمول سمجھنے والا شہری بھی اسی اخلاقی بحران کا حصہ ہے جس پر وہ ایوانِ اقتدار کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ اصلاح ہمیشہ اوپر سے شروع ہو، یہ ضروری نہیں، بعض اوقات معاشرے کے نیچے سے اٹھنے والی اخلاقی تبدیلی ہی اقتدار کے مزاج کو بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔

اختلافِ رائے کے ساتھ برتاؤ بھی کسی ریاست کے سیاسی شعور کا امتحان ہوتا ہے۔ مخالف آواز کو دشمن سمجھنے کی عادت معاشرے میں خوف تو پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ سیاسی اختلاف کو طاقت سے دبانے کے بجائے مکالمے، قانون اور برداشت کے ذریعے سنبھالنا زیادہ مضبوط راستہ ہے۔ جو حکومت اپنے ناقد کی بات سن سکتی ہے، وہ اپنی غلطی درست کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جو ہر اختلاف کو سازش سمجھنے لگے، وہ رفتہ رفتہ اپنے اردگرد صرف ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ جمع کر لیتی ہے اور پھر اسے حقیقت اس وقت دکھائی دیتی ہے جب حقیقت دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو چکی ہوتی ہے۔

عوام ہمیشہ خاموش رہیں گے، یہ کوئی سیاسی اصول نہیں۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ بھوک، بے روزگاری، ناانصافی اور مسلسل بے توقیری جب ایک ساتھ جمع ہوتی ہیں تو ان کا نتیجہ صرف غصہ نہیں ہوتا، اعتماد کا خاتمہ بھی ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عوام کی خاموشی کو رضامندی سمجھنے والے حکمران اکثر سب سے بڑی غلط فہمی میں مبتلا رہے۔ معاشرے تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں صرف چہرے بدلنے نہیں بلکہ طریقۂ حکمرانی بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

شاید ابھی بھی وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔ انا کی دیواریں گرا کر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے ملک کو سنوارنے کی دوڑ شروع کر سکتی ہیں۔ ریاست اپنے شہری کو محض ٹیکس دینے والا فرد نہیں بلکہ عزت، تحفظ اور مواقع کا حق دار انسان سمجھ سکتی ہے۔ حکمران اپنی آسائشوں سے کچھ قدم باہر نکل کر اس گلی تک جا سکتے ہیں جہاں ایک باپ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہے۔ اگر اقتدار کو خدمت کا نام دے دیا جائے تو شاید سیاست دوبارہ امید پیدا کر سکے۔

ہر تخت خالی ہونا ہے، ہر عہد ختم ہونا ہے اور ہر دولت ایک دن وارثوں کے درمیان تقسیم ہو جانی ہے۔ باقی رہتا ہے تو صرف انسان کا کردار اور اس کا عوام کے ساتھ برتاؤ۔ کسی حکمران کی اصل یادگار اس کی بلند عمارت نہیں، وہ اعتماد ہے جو اس نے لوگوں کے دل میں پیدا کیا۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ عوام کو مزید خاموش کیا جائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی خاموشی کی وجہ سمجھی جائے۔ شاید قوم کی سب سے بڑی خوش قسمتی وہ دن ہوگا جب اقتدار کو بچانے کے بجائے انسان کو بچانا ترجیح بن جائے۔ کیونکہ تاریخ میں کرسیوں کے قصے بہت مختصر ہوتے ہیں، مگر ایک قوم کے زخم نسلوں تک بولتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں