نامور صحافی اور تجزیہ کار عامر متین کی جانب سے
سندھ کی تاریخی حدود اور آبادیاتی ساخت کے حوالے سے پیش کیا گیا حالیہ نقطہ نظر اور مؤقف “سندھ کی نوآبادیاتی اور طبقاتی تاریخ کی غیر متوازن تعبیر ہے جو کہ حقیقت سے دور ہے. درحقیقت سندھ میں عوامی اور قومی مزاحمت کی ایک طویل اور منظم تاریخ موجود رہی ہے۔عامر متین نے اپنے ایک بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ سندھ کی حدود قیامِ پاکستان سے صرف گیارہ سال قبل (1839 سے 1936 تک بمبئی پریزیڈنسی کے تحت) تشکیل پائیں اور اس طویل عرصے کے دوران “سندھو دیش” یا باقاعدہ سندھی قومی شناخت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ متین نے دعویٰ کیا کہ مختلف ادوار میں بلوچ، میمن اور دیگر اقوام سندھ میں آئیں اور ثقافتی طور پر ضم ہو گئیں، لہٰذا تاریخ کو سیاسی مقاصد کے لیے مسخ نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاہم یہ بیانیہ اصل میں سامراجی اور لبرل تاریخ نگاری کا تسلسل ہے.
1843
میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے غاصبانہ قبضے کے بعد سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کرنا کوئی فطری عمل نہیں بلکہ برطانوی انتظامیہ کا معاشی اور تزویراتی فیصلہ تھا تاکہ کراچی کی بندرگاہ اور خطے کے وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
تاریخی حقائق کے مطابق برطانوی دور میں سندھ کے غیر فعال یا خاموش رہنے کا تاثر غلط ہے۔ پیر پگارا کی قیادت میں حر تحریک برطانوی سامراج کے خلاف برصغیر کی شدید ترین گوریلا جنگوں میں سے ایک تھی۔ انگریز حکومت نے اس مزاحمت کو کچلنے کے لیے سندھ میں مارشل لا نافذ کیا، ‘کرمنل ٹرائبز ایکٹ’ جیسے سخت قوانین لاگو کیے اور شہریوں کے لیے مخصوص کیمپ قائم کیے۔
اس کے بعد 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں سندھ کے دانشوروں اور معاشی ماہرین نے بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کی ایک کامیاب اور منظم تحریک چلائی، جس کے نتیجے میں 1936 میں سندھ کو الگ صوبائی حیثیت حاصل ہوئی۔ تالپور حکمرانوں یا دیگر بلوچ قبائل کی آمد کو محض مہاجرت کے تناظر میں دیکھنا معاشی اور اجتماعی حقیقتوں سے نظریں چرانا ہے۔ تالپور اور دیگر زمیندار گروہوں پر مشتمل ایک نیا جاگیردارانہ طبقہ تشکیل پایا جس نے مقامی کسانوں (ہاریوں) کا معاشی استحصال کیا۔ 1940ء کی دہائی میں حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں قائم ہونے والی سندھ ہاری کمیٹی نے اسی جاگیردارانہ اور استحصالی نظام کے خلاف ایک وسیع طبقاتی جدوجہد کی بنیاد رکھی. جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقامی عوام اپنے حقوق کے لیے مسلسل نبرد آزما رہے۔
کسی بھی خطے میں قومی اور ثقافتی شعور کا ابھار معاشی ناہمواریوں سے جڑا ہوتا ہے۔ 1947 کے بعد سندھ میں ابھرنے والی سیاسی اور ثقافتی بیداری کی بنیادی وجہ ون یونٹ کا نفاذ اور صوبائی خودمختاری کی سلب کاری تھی. جس کے باعث مقامی آبادی میں اپنے معاشی وسائل پر اختیارات سے محرومی کا احساس پیدا ہوا۔ لیکن اس قومی سوال کو حل کرنے میں ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ قوم پرست قیادت نے بھی اسے طبقاتی جدوجہد سے کاٹ کر محض “نسلی منافرت” بنا دیا۔ تاریخ کو محض آبادیاتی نقل و مکان کی نظر سے دیکھنا ناکافی ہے۔ کسی بھی قوم کی تاریخ اس کے پیداواری تعلقات، سامراجی جبر اور اس کے خلاف عوام کی اجتماعی اور طبقاتی جدوجہد کے باہم امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔
عامر متین جیسے دیگر صحافی دراصل تاریخ کو شعوری طور پر مسخ کرکے حکمران طبقے کے آلہ کاری کے طور پر ان کے سامراجی اقر سرمایہ دارانہ استحصالی مفادات کو پورا کرنے کے لئے عوامی رائے متوازن کرنے کے عمل میں ہیں. بورژوا تجزیہ نگار رومانی الفاظ جیسے “تہذیب میں سمو جانا” کے پیچھے اصل معاشی تضادات کو چھپاتے ہیں۔ 1947ء کے بعد اردو بولنے والے مہاجرین کا معاملہ محض ثقافت کا نہیں تھا، بلکہ پاکستان کی نوآبادیاتی ریاست، بیوروکریسی اور صنعت پر ان کے ابتدائی غلبے کا تھا۔ سندھ سمیت دیگر مظلوم قومیتوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون کب آیا، کس کی قوم کون سی تھی بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کس کا کس پر قبضہ ہے. سندھ کا محنت کش، چاہے وہ سندھی بولتا ہو، اردو، بلوچ ہو یا پشتون، سب کے سب ایک ہی استحصالی نظام، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ریاست کے مشترکہ جبر تلے پس رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب تک پیداواری وسائل پر محنت کش طبقے کا کنٹرول قائم نہیں ہوتا اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس تمام استحصالی ڈھانچے کو نیست و نابود نہیں کیا جاتا تب تک نہ قومی آزادی ممکن ہے اور نہ ہی انسانی نجات حاصل کی جا سکتی ہے.


