کاغذوں میں اقلیتی کوٹہ، لیکن سرکاری دفاتر میں کہاں ہیں اقلیتیں/کلاونتی راج

پاکستان کے قیام کے ساتھ ایک نئی ریاست نے جنم لیا، مگر اسے صرف ایک نیا پرچم، نیا آئینی و انتظامی ڈھانچہ اور نئی سرحدیں ہی ورثے میں نہیں ملیں۔ اسے ایک ایسا معاشرہ بھی ورثے میں ملا جو صدیوں سے مذہب، ذات، طبقے اور سماجی حیثیت کی مختلف سطحوں میں بٹا ہوا تھا۔ چنانچہ نئے پاکستان کے سامنے سب سے بنیادی سوالوں میں ایک یہ بھی تھا کہ اس نئی ریاست میں شہریت کا مفہوم کیا ہوگا اور مختلف مذاہب، برادریوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے آپ کو اس ریاست میں کس مقام پر دیکھیں گے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں اس سوال کا ایک واضح اور اصولی جواب دیا۔ انہوں نے مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور شہریوں کی مساوات پر زور دیتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جہاں ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ کرے۔ یہ خطاب پاکستان کے شہری تصور اور اقلیتوں کے حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل بن گیا۔
لیکن کسی اصول کا اعلان اور اسے معاشرے میں عملی حقیقت بنانا دو الگ مرحلے ہیں۔ مساوات کا وعدہ اپنی جگہ اہم تھا، مگر نئی ریاست کو ان تاریخی محرومیوں کا بھی سامنا تھا جو صدیوں کے سماجی ڈھانچوں میں گہری جڑیں پکڑ چکی تھیں۔
برصغیر میں ”شیڈولڈ کاسٹس“ کی اصطلاح بھی اسی تاریخی پس منظر میں سامنے آئی۔ برطانوی ہندوستان میں Government of India Act 1935ء کے تحت ان برادریوں کی شناخت اور ان کے لیے مخصوص تحفظات کی قانونی بنیاد قائم ہوئی جنہیں ذات پات کے نظام میں طویل عرصے تک سماجی محرومی، چھوت چھات اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا تھا۔ بعد ازاں Government of India (Scheduled Castes) Order 1936ء کے ذریعے ان برادریوں کی باقاعدہ درجہ بندی اور شناخت کی گئی۔
یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں 1948ء کا شیڈولڈ کاسٹس کوٹہ کسی نئی قانون سازی کے ذریعے اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کی بنیاد برطانوی ہندوستان کے اس انتظامی اور قانونی ورثے میں موجود تھی جس میں تاریخی طور پر محروم طبقات کی سرکاری اداروں میں نمائندگی کے مسئلے کو پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا تھا۔
پاکستان کے قیام کے صرف ایک سال بعد، 19 اکتوبر 1948ء کو Establishment Division کے O.M. No. 56/2/48-Ests.(ME) کے ذریعے ایک اہم انتظامی فیصلہ کیا گیا۔ All-Pakistan Superior Services اور Central Services کی Classes I، II اور III میں براہِ راست بھرتی کے ذریعے پُر کی جانے والی چھ فیصد خالی آسامیوں کو شیڈولڈ کاسٹس کے امیدواروں کے لیے مخصوص کیا گیا۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں تھا۔ اس کے پس منظر میں یہ حقیقت تسلیم کی گئی تھی کہ جو برادریاں طویل عرصے تک سماجی اور معاشی محرومی کا شکار رہی ہوں، انہیں محض یہ کہہ دینا کہ سب کے لیے ”میرٹ“ یکساں ہے، عملی مساوات پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں۔
مگر کسی پالیسی کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ نوٹیفکیشن میں کیا لکھا گیا تھا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس نوٹیفکیشن کا اثر عملی زندگی میں کہاں اور کتنا دکھائی دیا۔
یہی سوال چند برس بعد خود حکومت کے ریکارڈ میں بھی ابھرتا ہے۔ 30 اکتوبر 1957ء کو Establishment Division کے O.M. No. 5/5/57-R میں نشاندہی کی گئی کہ شیڈولڈ کاسٹس کے لیے مخصوص چھ فیصد آسامیاں پوری طرح پُر نہیں ہو رہی تھیں، جس کی ایک بڑی وجہ مطلوبہ قابلیت رکھنے والے امیدواروں کی عدم دستیابی بتائی گئی۔ حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہدایت کی کہ شیڈولڈ کاسٹس کی آبادی والے علاقوں میں سرکاری ملازمتوں کی خالی آسامیوں کی مناسب تشہیر کی جائے تاکہ ان برادریوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کی جائز نمائندگی حاصل ہو سکے۔
یہ حکم اپنے اندر آج کے لیے بھی ایک گہرا سبق رکھتا ہے:
صرف کوٹہ مقرر کرنا کافی نہیں، کوٹے تک رسائی کا راستہ بھی ہموار کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی تاریخی طور پر محروم برادری کے نوجوان کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی محدود ہو، اسے سرکاری ملازمتوں کے مواقع اور طریقۂ کار کی مناسب معلومات نہ ملیں، یا بھرتی کے عمل میں اس کے مخصوص حصے کا شفاف حساب ہی نہ رکھا جائے، تو سرکاری نوٹیفکیشن میں لکھا ہوا کوٹہ اس کی زندگی میں آخر کیا تبدیلی لا سکتا ہے؟
وقت کے ساتھ ملک کا آئینی اور سیاسی نظام تبدیل ہوا، ریاستی ترجیحات بدلیں اور سرکاری پالیسیوں کے رخ بھی تبدیل ہوتے رہے۔ بالآخر 24 ستمبر 1996ء کو Establishment Division کے O.M. No. F.4/15/94-R.II کے ذریعے 1948ء میں مقرر کیا گیا شیڈولڈ کاسٹس کا چھ فیصد مخصوص کوٹہ واپس لے لیا گیا۔ اس کے بعد شیڈولڈ کاسٹس کے امیدوار اپنے صوبے کے دیگر امیدواروں کے ساتھ مقابلے کے عمومی نظام کا حصہ بن گئے۔
یہاں تاریخی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ایک بات واضح رکھی جائے۔ 1996ء کے سرکاری حکم میں کوٹہ واپس لینے کی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے اس فیصلے کو کسی مخصوص سیاسی ارادے یا کسی ایک شخصیت کے فیصلے سے منسوب کرنا مزید سرکاری ریکارڈ کے بغیر درست نہیں ہوگا۔ دستاویزی طور پر البتہ یہ بات واضح ہے کہ 1948ء میں مقرر کیا گیا چھ فیصد کوٹہ 1996ء میں باضابطہ طور پر واپس لے لیا گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
20 مئی 2009ء کو وفاقی کابینہ نے وفاقی سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو عملی شکل دینے کے لیے 26 مئی 2009ء کو Establishment Division کا O.M. No. 4/15/94-R-2 جاری ہوا، جس کے تحت وفاقی حکومت کی براہِ راست بھرتی والی ملازمتوں میں پانچ فیصد آسامیاں غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص کر دی گئیں۔ اس میں CSS سمیت وفاقی سرکاری ملازمتیں شامل تھیں، جبکہ اقلیتی امیدواروں کا اوپن میرٹ پر مقابلہ کرنے کا حق بھی برقرار رکھا گیا۔
2009ء کی پالیسی میں ایک اور اہم اصول بھی شامل تھا۔ اگر کسی بھرتی میں اقلیتی کوٹے کے لیے موزوں امیدوار دستیاب نہ ہو تو ان آسامیوں کو ختم نہیں کیا جانا تھا بلکہ carry forward کیا جانا تھا، تاکہ آئندہ انہیں اقلیتی امیدواروں سے پُر کیا جا سکے۔
یوں پاکستان کی تاریخ میں ایک دلچسپ مگر غور طلب تسلسل سامنے آتا ہے۔ آزادی کے بعد شیڈولڈ کاسٹس کے لیے چھ فیصد مخصوص کوٹہ، 1996ء میں اس کا خاتمہ، اور پھر 2009ء میں تمام غیر مسلم اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد وفاقی روزگار کوٹہ۔
کاغذات دیکھیے تو پالیسی موجود ہے۔ نوٹیفکیشن موجود ہیں۔ سرکاری احکامات موجود ہیں۔ بھرتی کے ضوابط میں کوٹے کا ذکر موجود ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوٹہ واقعی سرکاری دفاتر تک پہنچا؟
یہ سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک محکمے یا کسی ایک سیاسی دور کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ ریاستی نظام سے ایک سادہ مگر بنیادی سوال ہے۔ اگر پانچ فیصد کوٹہ اپنی روح اور مقصد کے مطابق نافذ ہو رہا ہے تو وفاقی حکومت کا ہر ادارہ اپنے اعداد و شمار کے ذریعے اس کی گواہی کیوں نہیں دے سکتا؟
کتنی آسامیاں منظور ہوئیں؟ کتنی خالی ہوئیں؟ ان میں سے پانچ فیصد کتنی مخصوص کی گئیں؟ کتنے اقلیتی امیدوار مقرر ہوئے؟ کتنی آسامیاں خالی رہ گئیں؟ کتنی carry forward ہوئیں؟ اور آج وفاقی حکومت کی ہر وزارت، ڈویژن اور ادارے میں اقلیتی ملازمین کی مجموعی تعداد کتنی ہے؟
یہ ایسے سوالات نہیں جن کے جواب ناممکن ہوں۔ ایک جدید سرکاری نظام میں یہ اعداد و شمار باقاعدگی سے مرتب اور محفوظ ہونے چاہئیں۔ اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پالیسی تو موجود ہو، مگر اس کے عملی نتائج کے جامع، شفاف اور عوام کے سامنے قابلِ رسائی اعداد و شمار دکھائی نہ دیں۔ اور یہاں معاملہ محض اعداد و شمار کا نہیں۔ ان اعداد کے پیچھے انسان ہیں، خاندان ہیں، نوجوانوں کے خواب ہیں اور ان کی محنت سے حاصل کی گئی ڈگریاں ہیں۔
آج اقلیتی برادریوں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انجینئرنگ، طب، قانون، آئی ٹی، تدریس، انتظامیہ، تحقیق اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں وہ اپنی قابلیت منوا رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو کسی بھی کھلے مقابلے میں اپنی صلاحیت کے بل پر کامیابی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
لیکن جب ریاست خود کسی تاریخی محرومی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کرتی ہے تو اس کوٹے سے عملی فائدہ اٹھانا بھی ان کا جائز حق بن جاتا ہے۔ کوٹہ کسی پر احسان نہیں۔ یہ مفت ملازمت کا نام بھی نہیں۔
کوٹہ دراصل ریاست کا اعتراف ہے کہ تاریخی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے بعض اوقات سب کو ایک ہی لکیر پر کھڑا کرنا کافی نہیں ہوتا؛ پہلے ان لوگوں کو وہاں تک پہنچنے کا منصفانہ موقع دینا پڑتا ہے جنہیں تاریخ نے پیچھے چھوڑ دیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اس معاملے کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی نمائندگی اور شہری مساوات کے سوال کے طور پر دیکھے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو چاہیے کہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں، ماتحت محکموں، خودمختار اداروں، کارپوریشنوں اور دیگر متعلقہ اداروں سے 2009ء سے آج تک اقلیتی کوٹے پر عمل درآمد کے مکمل اعداد و شمار طلب کریں۔
سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: ”پانچ فیصد کوٹہ موجود ہے یا نہیں؟“
اصل سوال یہ ہونا چاہیے: ”پانچ فیصد کوٹے کے تحت حقیقت میں کتنے لوگ مقرر ہوئے؟“
اگر کسی ادارے میں سو آسامیاں بھرتی کے لیے نکلتی ہیں تو ان میں سے پانچ فیصد کا حساب کہاں ہے؟ اگر یہ آسامیاں مناسب امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے خالی رہیں تو کیا وہ اگلی بھرتی کے لیے منتقل ہوئیں؟ اگر ہوئیں تو کب اور کہاں؟ اور اگر کوٹہ نافذ ہو رہا ہے تو اس کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھنے میں آخر ہچکچاہٹ کیوں؟
یہ سوال کسی مذہبی کشمکش کو ہوا دینے کے لیے نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔ قائداعظم کا 11 اگست کا پیغام ہمیں مساوات کا اصول دیتا ہے۔ آئین اقلیتوں کے حقوق اور ریاستی اداروں میں ان کی مناسب نمائندگی کی ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے۔ 1948ء کا چھ فیصد اور 2009ء کا پانچ فیصد کوٹہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست نے مختلف ادوار میں خصوصی نمائندگی کی ضرورت کو تسلیم کیا۔
لیکن آج سوال یہ ہے کہ ان وعدوں کا عملی حاصل کیا ہے؟
کیونکہ سرکاری نوٹیفکیشن انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف اس وقت جنم لیتا ہے جب نوٹیفکیشن کسی اہل انسان کی زندگی میں ایک حقیقی موقع بن کر اترتا ہے۔
کاغذ پر لکھا ہوا کوٹہ نمائندگی نہیں۔ حقیقی نمائندگی وہ ہے جو سرکاری دفتر کی فائل میں، تقرری کے حکم میں اور آخرکار اس کرسی پر دکھائی دے جہاں ایک اہل اقلیتی شہری اپنی قابلیت کے ساتھ ریاست اور ملک کی خدمت کر رہا ہو۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، حکومت اور ہر متعلقہ سرکاری ادارہ ایک ہی سوال کا جواب دے: کوٹہ کاغذوں میں کتنا ہے، اور حقیقت میں کتنا؟ اور اس سوال کا جواب تقریروں سے نہیں، اعداد و شمار سے دینا چاہیے۔

(کلاونتی راجا سیاسی و سماجی کارکن ہیں، جو گزشتہ دو دہائیوں سے پانی، اقلیتوں، خواتین اور دیگر عوامی مسائل کے لیے جدوجہد اور آگاہی کے کام سے وابستہ ہیں۔ تحریر و تقریر کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ان کی دلچسپی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں