شناخت نہیں، مرکزیت تقسیم ہونی چاہیے/محمد امین اسد

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی بحث دراصل نقشے کی نہیں، اقتدار کی بحث ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ملک میں چار صوبے رہیں، آٹھ ہوں یا اس سے زیادہ؛ اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کہاں مرتکز ہو، وسائل کس سطح پر جمع ہوں، کس اصول کے تحت تقسیم ہوں اور ان کے خرچ کا فیصلہ عوام سے کتنی دور بیٹھ کر کیا جائے۔ ہمارے ہاں عجیب سیاسی اصول رائج ہے: وفاق سے صوبوں کو اختیار ملے تو اسے جمہوریت، وفاقیت اور آئینی حق کہا جاتا ہے، لیکن صوبے سے ضلع، شہر یا کسی خطے کو اختیار دینے کی بات آئے تو تاریخ، شناخت اور سالمیت فوراً خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ حامد میر نے اسی گرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ہمیشہ پارٹی قیادت کا بھی نہیں، اصل خطرہ ان “پارٹی مالکان” کو محسوس ہوتا ہے جو جماعتوں کو سیاسی ادارے سے زیادہ اپنے حلقۂ اقتدار کی ملکیت سمجھتے ہیں۔ نئی انتظامی اکائی صرف نقشے پر لکیر نہیں کھینچتی؛ وہ سیاسی اثر، ٹکٹ، وزارت، وسائل اور فیصلہ سازی کے پرانے دائروں کو بھی تقسیم کرتی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں مرکزیت کے خلاف سب سے بلند آواز اکثر اسی وقت نکلتی ہے جب مرکز کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہو، اور مرکزیت کی محبت اسی وقت جاگتی ہے جب چابی اپنی جیب میں آجائے۔

یہ بحث محسن نقوی سے شروع نہیں ہوئی۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما نئے صوبوں یا نئے انتظامی ڈھانچوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ عمران خان اور تحریکِ انصاف جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں اور مضبوط مقامی حکومتوں کے حق میں بات کرتے رہے؛ جماعتِ اسلامی بھی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور زیادہ مؤثر انتظامی اکائیوں کی حمایت کرتی رہی ہے؛ مولانا فضل الرحمان سابق فاٹا کے معاملے میں الگ صوبائی حیثیت یا زیادہ بااختیار انتظامی بندوبست کے حق میں مؤقف دے چکے ہیں؛ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے لیے کراچی اور شہری سندھ کو زیادہ اختیار دینا ایک دیرینہ سیاسی مطالبہ رہا ہے، اسی لیے وہ بھی مزید صوبوں یا نئی انتظامی اکائیوں کے حق میں آواز اٹھاتی رہی ہے۔ احسن اقبال نے بھی حالیہ عرصے میں ملک کے انتظامی نقشے کو زیادہ اور نسبتاً چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت پر بحث چھیڑی۔ اس لیے یہ تصور نہ کسی ایک جماعت کی ایجاد ہے اور نہ کسی ایک وزیر کا اچانک خیال۔ البتہ مشاہد حسین سید نے ایک ٹی وی گفتگو میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا تصور بیرونی، بالخصوص امریکی، ترجیحات سے بھی جڑا ہوسکتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ایسے اہم سوالات کو خفیہ منصوبوں اور قیاس آرائیوں کے بجائے کھلے پارلیمانی مباحثے، واضح اعداد و شمار، آئینی طریقۂ کار اور عوامی رضامندی کے ذریعے طے کیا جائے۔ ورنہ ہمارے ہاں ہر مشکل سوال کا ایک نہ ایک خفیہ نقشہ ضرور نکل آتا ہے، مگر اصل نقشہ، یعنی اختیارات اور وسائل کا، وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

محسن نقوی کا اصل قابلِ بحث نکتہ یہ ہے کہ کئی دہائیوں پرانا انتظامی ڈھانچہ آبادی، شہری پھیلاؤ اور معاشی پیچیدگی کے موجودہ تقاضوں کے مطابق جانچا جانا چاہیے۔ بڑے صوبوں کو چند مرکزی شہروں اور محدود انتظامی ڈھانچے سے چلانا بلاشبہ مشکل ہوتا ہے۔ محمد عون ثقلین چوہدری بھی کہتے ہیں کہ حکومت جتنی عوام کے قریب ہوگی، خدمات اتنی بہتر ہوں گی۔ لیکن شاہد خاقان عباسی کا انتباہ بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے کہ محض صوبے بڑھا دینا قانون کی حکمرانی کا متبادل نہیں۔ خراب انتخابی نظام، غیر جواب دہ ادارے، کمزور مقامی حکومتیں اور حد سے زیادہ مرکزیت اگر برقرار رہیں تو چار صوبوں کی خرابی آٹھ صوبوں میں تقسیم ضرور ہو سکتی ہے، ختم نہیں ہوگی۔ انتظامی تقسیم کو جادوئی نسخہ سمجھنا اتنا ہی غلط ہے جتنا موجودہ ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے مقدس قرار دینا۔ پرانی بوتل میں نیا لیبل لگا دینے سے پانی میٹھا نہیں ہوجاتا۔

خواجہ سعد رفیق نے اس بحث کے لیے ایک اہم اصول پیش کیا کہ پنجاب پہلے بھی تقسیم ہوا ہے اور مزید انتظامی تقسیم پر اصولی اعتراض نہیں، لیکن اگر چھوٹے صوبے بہتر حکمرانی کا نسخہ ہیں تو پھر یہی اصول پورے پاکستان کے لیے زیرِ غور آنا چاہیے۔ صرف پنجاب کو بار بار تقسیم کے لیے پیش کرنا اور باقی صوبوں کو عملاً ناقابلِ بحث سمجھنا اصولی طور پر کمزور موقف ہوگا۔ البتہ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی محض کسی وزیر، جماعت یا جلسے کے اعلان سے نہیں ہوسکتی۔ آئین میں اس کا باقاعدہ پارلیمانی طریقۂ کار موجود ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی خصوصی آئینی منظوری بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہے۔ عوامی رائے اہم ہے، مگر اسے آئینی طریقۂ کار کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ سیاسی اتفاق، مالیاتی خاکہ اور متعلقہ صوبے کی رضامندی کیسے پیدا کی جائے۔ نعرہ لگانا آسان ہے، نقشہ بنانا بھی آسان ہے، مگر ایسا نظام بنانا جو چل سکے، وہی مشکل کام ہے۔

اسی مقام پر شناخت کا مغالطہ بھی ختم ہونا چاہیے۔ سندھ اگر انتظامی طور پر دو اکائیوں میں تقسیم ہو تو سندھی قوم دو قومیں نہیں بن جاتی۔ سندھی جہاں بھی ہوگا سندھی ہی رہے گا۔ پنجاب دو یا تین انتظامی اکائیوں میں ہو تو پنجابی کی زبان اور ثقافت ختم نہیں ہوجائے گی۔ خیبر پختونخوا میں ایک سے زیادہ انتظامی اکائیاں ہوں تو پشتون اپنی شناخت نہیں کھو دیں گے، اور بلوچستان کے انتظامی نقشے میں تبدیلی سے بلوچ یا پشتون ہونا ختم نہیں ہوگا۔ قومیں صوبائی سیکرٹریٹ سے پیدا نہیں ہوتیں اور سرحد کی لکیر سے مر نہیں جاتیں۔ حسن نثار نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں اسی ذہنیت پر سوال اٹھایا تھا کہ آخر سندھ کسی شخص یا خاندان کے نام رجسٹرڈ تو نہیں۔ بات کا مفہوم یہی ہے کہ صوبے عوام کے انتظام کے لیے ہوتے ہیں، کسی خاندان، جماعت یا شخصیت کی وراثت کے تحفظ کے لیے نہیں۔ اصل مسئلہ زبان اور شناخت نہیں، اختیار، وسائل اور ان کے خرچ کا حق ہے۔ اگر شناخت واقعی اتنی نازک ہے کہ ایک نئی انتظامی لکیر سے ٹوٹ جائے تو پھر مسئلہ شناخت کا نہیں، اعتماد کا ہے۔

سندھ اور کراچی کی بحث میں یہی اصول زیادہ شدت سے سامنے آتا ہے۔ پیپلز پارٹی اگر جنوبی پنجاب یا کسی دوسرے صوبے میں انتظامی تقسیم کی اصولی حمایت کرتی ہے تو سندھ میں اسی سوال کو محض جذباتی تقدس کے حصار میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ اسمبلی میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ سندھ تقسیم ہوا تو بے نظیر بھٹو کو قیامت کے دن کیا جواب دیا جائے گا۔ سوال اثر انگیز ہے، مگر جواب دہی کا دائرہ کچھ وسیع ہونا چاہیے: طویل عرصے تک اقتدار رکھنے والی جماعت سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ کراچی کے شہری پانی، نکاسی، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی اختیار کے لیے کیوں پریشان ہیں، اور اندرون سندھ کے کئی علاقوں میں تعلیم، صحت، صاف پانی اور بنیادی ڈھانچے کی حالت کیوں کمزور ہے؟ سلیم صافی نے اسی صورت حال کو سخت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو “چوس لیا” اور بدلے میں اسے اس کے معاشی وزن کے مطابق کچھ نہیں دیا۔ زبان کی شدت سے اختلاف ممکن ہے، لیکن بنیادی سوال برقرار ہے: وسائل کہاں سے آتے ہیں، کس اصول کے تحت تقسیم ہوتے ہیں اور عوام تک کتنے پہنچتے ہیں؟ اگر وحدت مقدس ہے تو مالی انصاف، مقامی اختیار اور جواب دہی بھی اتنے ہی مقدس ہونے چاہییں۔ صرف نقشہ بچا لینا کافی نہیں، شہر اور دیہات بھی بچنے چاہییں۔

خیبر پختونخوا میں اے این پی کا ہزارہ کے بارے میں موقف بھی اسی ترازو پر تولا جانا چاہیے۔ جس سیاسی روایت نے مرکز سے صوبے کے اختیار، شناخت اور خود مختاری کے لیے جدوجہد کی، اسے ہزارہ کی انتظامی خواہش کا جواب بھی اصول اور دلیل سے دینا چاہیے۔ اگر ہزارہ صوبہ مالی، جغرافیائی یا انتظامی اعتبار سے موزوں نہیں تو اعداد و شمار سامنے لائے جائیں؛ صرف یہ کہنا کہ صوبہ تقسیم نہیں ہوگا کافی دلیل نہیں۔ جو اصول کبھی اسلام آباد کے مقابل پختونخوا کے حق میں درست تھا، اسے ہزارہ کے سامنے آتے ہی غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصول کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ اپنے مفاد کے خلاف بھی قائم رہے۔ ورنہ اصول نہیں رہتا، سہولت بن جاتا ہے۔

اس سارے شور میں سب سے اہم سوال کہیں پیچھے نہ رہ جائے: مضبوط مقامی حکومت کہاں ہے؟ فہد حسین نے درست کہا کہ ہر شخص اختیار عوام کے قریب لانے کی بات کرتا ہے، مگر اختیار رکھنے والا اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینے کا تصور پیش کرتا ہے، لیکن صوبائی حکومتیں عموماً وفاق سے اپنا اختیار لینے میں جس قدر پرجوش ہوتی ہیں، ضلع اور شہر کو اپنا اختیار دیتے وقت اتنی ہی محتاط ہوجاتی ہیں۔ اس مرکزیت کا ایک تلخ عملی پہلو یہ بھی ہے کہ جب کسی صوبے میں ایک جماعت کی حکومت ہو تو بعض اوقات وہ اضلاع جہاں اس جماعت کے اراکین منتخب نہ ہوئے ہوں، ترقیاتی ترجیحات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بجٹ کاغذ پر پورے صوبے کا ہوتا ہے، مگر خرچ بعض اوقات سیاسی وفاداری کے نقشے کے مطابق ہوتا ہے۔ کہیں سڑکیں تیزی سے بنتی ہیں، کہیں منصوبے فائلوں میں سو جاتے ہیں، اور بعض اوقات مقامی حکومتوں کے لیے مختص وسائل بھی انہیں مکمل طور پر منتقل کرنے کے بجائے دوسرے انتظامی راستوں سے خرچ کیے جاتے ہیں۔ پھر ہم بڑی معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ پسماندگی ختم کیوں نہیں ہوتی۔ اگر ترقیاتی بجٹ ووٹ کا انعام اور اختلاف کی سزا بن جائے تو یہ گورننس نہیں، سیاسی حساب کتاب ہے۔

اسی لیے نئے صوبوں کا فیصلہ کسی شخصیت کی ضد، کسی جماعت کے خوف یا کسی بیرونی منصوبے کے غیر ثابت شدہ قصے پر نہیں ہونا چاہیے۔ پورے پاکستان کے لیے ایک شفاف معیار بنایا جائے جس میں آبادی، رقبہ، جغرافیائی فاصلے، شہری و دیہی ساخت، آمدن، مالی استعداد، بنیادی ڈھانچہ، پانی اور قدرتی وسائل، عدالتی رسائی، تاریخی و ثقافتی حالات اور سب سے بڑھ کر مقامی آبادی کی رائے شامل ہو۔ یہی پیمانہ پنجاب پر لگے، سندھ پر، خیبر پختونخوا پر اور بلوچستان پر بھی۔ پھر پارلیمان، متعلقہ صوبائی اسمبلیاں اور عوام آئینی عمل کے اندر فیصلہ کریں۔ اگر کوئی تجویز اس معیار پر پوری اترتی ہے تو محض تاریخی جذبات کے نام پر اسے روکا نہ جائے، اور اگر نہیں اترتی تو انتظامی اصلاح کے خوبصورت نام سے اسے عوام پر مسلط نہ کیا جائے۔

پاکستان کا اصل مسئلہ شاید صوبوں کی کمی نہیں بلکہ اختیار کے ارتکاز کی زیادتی ہے۔ اسی لیے اس بحث کا فیصلہ اس سوال سے ہونا چاہیے کہ نئی ترتیب سے اختیار کس کے پاس جائے گا، پیسہ کون خرچ کرے گا اور حساب کس سے مانگا جاسکے گا۔ اگر سندھ کی وحدت کے نام پر اختیار چند ہاتھوں میں محفوظ رہے، پختونخوا کی وحدت کے نام پر ہزارہ کی آواز ناقابلِ سماعت ہو، پنجاب کی تقسیم کا اصول صرف پنجاب کے لیے ہو، ترقیاتی بجٹ سیاسی پسند و ناپسند کا تابع ہو، مقامی حکومتیں اپنے وسائل کے لیے صوبائی دروازے دیکھتی رہیں اور سیاسی جماعتیں بدستور چند “مالکان” کی جاگیریں رہیں تو بیس صوبے بھی بنا لیجیے، مرکزیت صرف نئے پتے پر منتقل ہوجائے گی۔ اصل اصلاح نقشے کی لکیریں بڑھانے میں نہیں، عوام اور اقتدار کے درمیان دیواریں گھٹانے میں ہے۔ قومیں تقسیم نہیں ہوتیں، انتظام تقسیم ہوتا ہے؛ شناخت نہیں بٹتی، اختیار بٹتا ہے؛ زبان نہیں ٹوٹتی، مرکزیت ٹوٹتی ہے۔ اور ہماری سیاست کی اصل بے چینی شاید یہی ہے کہ نقشہ تقسیم کرنا آسان ہے، اختیار، بجٹ اور جواب دہی تقسیم کرنا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں