بیٹیاں اور بہنیں والدین اور بھائیوں کا فخر اور مان ہوتی ہیں۔ وہ اطاعت گزاری اور فرمان برداری کا مزاج رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوۓ اپنے گھر والوں میں محبت بانٹتی ہیں۔ جب گھرکے افراد انہیں پیار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو وہ بھی سعادت و ایثارکا مجسمہ بن کر خدمت و اطاعت کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں۔ ان کی آنکھیں وفا سے سرشار ہوتی ہیں۔ وہ والدین اور بھائیوں کی آنکھوں میں خوشی کی روشنی اور دل کا سکھ چین بنی رہتی ہیں۔ گھر میں روپے پیسے کی کمی ہو یا کوئی اور مشکل، گھر والوں کی طرف سے انکی نازبرداریوں اور تعلیم کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دی جاتی۔ ان کے لالہ رخ چہروں پر کھلتے مسکراہٹ کے پھولوں سے ہر گھر لالہ زار اور گلستان بنا رہتا ہے۔ ان کے وجود سے گھروں کے در و دیوار روشن و تاباں نظر آتے ہیں۔ انہیں عشق کی حد تک اپنے گھر والوں سے انسیت اور لگاؤ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انکے ہاتھ پیلے کرنے کی بات ہو تو، جدائی کے خیال سے انکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ انہیں ایسا لگتا ہے کہ انکی محبتوں بھرے تھال و طباق ہاتھوں سے گر کر بکھرنے والے ہیں۔ وہ اس تصورسے کانپنے لگتی ہیں کہ مبادا شادی ہوتے ہی انہیں نا موافق حالات کا سامنا نہ کرنا پڑ جاۓ۔ ماں باپ کے گھر میں قائم الفت کے حصار کے کہیں گم ہونے کے خدشات دل میں تیروں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے کچھ شائقین رسوم و رواج نے بد قسمتی سے ہندوؤں کے ساتھ طویل عرصہ باہمی رہن سہن کے سبب اور پاکستان میں بھارتی فلموں کی کثرت کے ساتھ جاری رہنے والی نمائش نے شادی بیاہ کی تقریبات میں ہندووانہ رسوم و رواج کو زندگی کا حصہ بنا دیا۔ زیادہ تر شادی بیاہ کے مواقع پر رسمیں نہائت جوش و خروش اور خوبصورتی سے ادا کی جانے لگیں۔ ان رسوم میں دولہا دولہن کے سات پھیرے، جہیز کی فراوانی، باجے گاجے، رقص و سرود کی محافل، بارات میں لا تعداد مهمانان کی آمد ، دولہا کی گاڑی رکوائی کی رسم پر رقوم کا مطالبہ اور جوتا چھپائی پر بھاری رقم طلب کرنے کا معاوضہ جیسی بیکاراور خلاف اسلام رسمیں رواج پکڑ گئیں۔ ا س کے علاؤہ اور بہت سی اپنی ایجاد کردہ رسمیں پورے زور شور سے گھروں اور سہاگ کا حصہ بنتی چلی گئیں۔
ہمارے معاشرے جتنی دل جمعی کے ساتھ بیکار رسوم اپنائی جا رہی ہیں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ مثال کے طور پرشادی کے اگلے دن دلہن کے گھر والوں کی جانب سے دولہا کے گھر والوں کو ناشتہ پہنچانا، بارات میں روپوں اور سکوں کو لٹانا اور ناچتے مردوں اور لڑکوں کا خواتین کے پنڈال میں بلا اجازت داخل ہوکر، بے پردگی کا مرتکب ہونا اور کھانے پینے پرلاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات کرنا جیسے غیر ضروری کاموں میں ملوث ہونا، ہماری مجبوری بنتا جا رہا ہے۔
دیکھنے کی بات یہ ہے شادی بیاہ کے ان مواقع پر، لڑکے والے ہوں یا لڑکی والے، ان رسوم و رواج میں خواتین کا کردار سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ جہیز دینے کا معاملہ ہو یا باراتیوں کی تعداد کا تعین کیا جانا ہو، دونوں معاملات میں تنازعات اور رنجشیں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ مالی وسائل کی حدود کو خاطر میں لاۓ بغیر اکثر و بیشتر کثرت جہیز اور لا تعداد باراتیوں کی شرکت پر اصرار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بارات اور ولیمے میں لڑکے کے والدین کی طرف سے حسب منشا تعداد میں مہمانوں کی شمولیت باعث نزاع بن جاتی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیٹی یا بہن کی شادی کرنے والے خود بھی اپنی شان و شوکت اور نمود و نمائش کی خاطر یا اپنی بیٹی کی اچھی ساکھ کی توقع کرتے ہوۓ اپنی مالی استعداد سے کہیں زیادہ اخراجات کرکے جہیز کا بندوبست کرتے ہیں۔ دوسری طرف دولہا والوں کے مطالبات تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ دولہن والے مجبوراً ادھار قرض کرکے اس خوف سے بھی مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں ان کی لاڈوں سے پلی بیٹی یا بہن کو طعن و تشنیع کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ تمہارے والدین یا بھائیوں نے فلاں فلاں چیز تو جہیز میں دی نہیں۔ سسرال کی طرف سے کئے جانے والے یہ گلے شکوے ‘ حرماں نصیب نو بیاہتا شہزادیوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہیں۔ ہمارے یہاں عموماً شادیوں کے مواقع پر نظم و ضبط کا فقدان اور خاندانوں کے درمیان عدم اتفاق کا بحران ہوتا ہے۔ فریقین جتنی عجلت جوڑے کے انتخاب اور رشتے کے طے پا جانے میں دکھاتے ہیں، ضد، بحث اور اختلاف میں اس سے کہیں زیادہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عموماً سب سے پہلا اختلاف جہیز کی تیاری پر سامنے آجاتا ہے۔ لڑکی کے اپنے گھر والوں کے درمیان بحث و مباحثہ شروع ہو جاتا ہے کہ جہیز میں کتنے جوڑے دینے ہیں، جہیز میں کیا کیا اشیاء دی جائیں گی، زیور۔کتنے تولے کا دیا جائیگا، مہر کتنا مقررہو گا، بارات میں کتنے لوگوں کو دعوت دی جاۓ گی اور ولیمے میں کتنی تعداد میں لوگوں کو بلایا جاۓ گا؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سوچ بچار میں جہیز دینے والے خود بھی وسائل آمدن اور مالی حیثیت کو پیش نظر نہیں رکھتے۔
یہ تو بات ہےلڑکی کے گھر والوں کی۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب لڑکے والوں کی جانب سے جہیز کے مطالبات کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ جہیز کی تفصیل طلب کی جاتی ہے۔ بارات میں انکے تمام رشتے داروں کو بلانے کی خواہش کا اظہار پر زور دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے بارات میں لڑکی والوں کو، اور ولیمے میں لڑکے والوں کو زیر بار کرنے کی ٹھان لی گئی ہے۔ اس طرح کی باتوں نے شادی بیاہ کے معاملات کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ بارات میں کثیر مہمانوں کو ساتھ لانے کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ یہ سرا سر لڑکی والوں کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو بارات میں لانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر بلا وجہ کا اصرار و انکار اور بحث تکرار مناسب نہیں ہوتی۔
اصل بات یہ ہے کہ زیادہ مہمانوں کو بارات میں لے کر آنا فضول سی رسم ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ شادی و نکاح کو ممکنہ حد تک سادگی سے منعقد کیا جاۓ۔ بجاۓ نمود و نمائش کے کم سے کم اخراجات پر مسجد میں نکاح کا اہتمام کیا جاۓ۔ اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے دی جانے والی دعوت ولیمہ میں صرف چند افراد کو شریک رکھا جائے نہ کہ لڑکی والے بڑے لاؤ لشکر لے کر ولیمے میں لےجانے پہ بضد ہوں۔ دونوں جانب سے باراتیوں اور ولیمے کے لئے مدعوئیں کی کثیر تعداد پراصرارخوشیوں کو جھگڑوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جہیز کا معاملہ بھی ایک جانب سے نمود و نمائش کی خواہش کا عکاس ہوتا ہے اور دوسری جانب، لڑکے والوں کی ذیادہ سے ذیادہ مہنگی اشیاء کے حصول کی ہوس کار فرما ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انواع و اقسام کے کھانوں پر روپے پیسوں کو پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ ان رسوم سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنی بیٹیوں کے بچوں کی پیدائش پرنانا بن جاتے ہیں لیکن جب رسم و رواج میں جکڑے ہوۓ لوگوں کی طرف سے قدم سے قدم ملانے کو کہا جاتا ہے تو قطعاً نہ نہ نہیں کرتے۔ ہم اپنے بیٹوں کے گھر پیدا ہونے والے بچوں کے دادا بن جاتے مگر جب ان بچوں کی شادی بیاہ کے مواقع آتے ہیں تو ہم خود ایجاد کردہ رسوم و رواج سے نفرت کرنے کی بجاۓ ان کےدلدادہ بن جاتے ہیں۔ بیجا رواجوں نے زندگی کے دوسرے مواقع پر بھی ہمیں اپنے رنگ میں رنگ رکھا ہے۔ تیجا، چہلم، برسی اور سالگراہوں پہ بھی اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔ ہمیں ان سب سے گریز کرنا چاہئے۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ ان پر خرچ کی نیت سے مختص رقوم کو خیر و فلاح اور نیکی کے کاموں پہ خرچ کر دیا جائے تاکہ عند اللہ مقبول ہو۔


