ایران گرد کا روزنامچہ: ایک مسافر، ایک سرزمین اور پیشگی تصورات کے پار کھلتی ہوئی دنیا
آج دوپہر ٹھیک بارہ بجے ڈاک سے سعد مکی شاہ کی کتاب میرے پاس پہنچی۔ کتاب ہاتھ میں آئی تو مجھے وہ خوشی نہیں ہوئی جو عموماً کسی نئی کتاب کی آمد پر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک ہلکی سی پریشانی نے آ لیا۔ یہ پریشانی کتاب سے نہیں تھی، کتاب بھیجنے والے سے بھی نہیں تھی، بلکہ اس اخلاقی مصیبت سے تھی جس میں کوئی مصنف اپنی کتاب محبت سے آپ کو بھیج کر نادانستہ طور پر ڈال دیتا ہے۔ کتاب کے پہلے صفحے پر ’’بشرفِ قبولیت‘‘ سے آگے سعد مکی شاہ نے جن القابات، خطابات اور محبت بھرے الفاظ کے ساتھ اسے میری نذر کیا تھا، انہیں پڑھ کر میری پریشانی کچھ اور بڑھ گئی۔ آدمی کے لیے دشمن کی کتاب پر سچ لکھنا شاید آسان ہوتا ہے؛ مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص محبت سے اپنی کتاب آپ کے ہاتھ میں رکھ دے۔ تب سوال کتاب کا نہیں رہتا، دل کا بھی ہو جاتا ہے۔ اور ہم جو بلھے شاہ کے محب ہیں، دل توڑنے کو کوئی معمولی گناہ نہیں سمجھتے۔
میرا مسئلہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ میں کتاب پڑھے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا اور پڑھ لینے کے بعد محض دوستی، محبت یا مروّت میں ایسی تعریف بھی نہیں لکھ سکتا جس کی کتاب مستحق نہ ہو۔ کوئی بہت عزیز دوست ہو، یا ادب کی دنیا میں ابھی ابھی قدم رکھنے والا کوئی نووارد، تو ایسی صورت میں میرے پاس اکثر خاموشی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ اس خاموشی پر دوست ناراض ہو جاتے ہیں اور جو مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے، وہ شاید مجھے مغرور، خود پسند یا انا پرست سمجھ لیتے ہیں۔ میں ان دونوں خطروں کو قبول کرلیتا ہوں، مگر اپنے تجربۂ قرأت کے خلاف گواہی دینا میرے بس کی بات نہیں۔ سعد مکی شاہ کو میں نے فیس بک پر بھی نہ ہونے کے برابر پڑھا تھا۔ ان کی کتاب کی اشاعت کا اعلان کئی مرتبہ نگاہ سے گزرا تھا، شاید دو چار پوسٹیں بھی دیکھی ہوں، مگر سچی بات یہی ہے کہ میں نے ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔ اس لیے کتاب میرے سامنے پڑی تھی اور مجھے اس کے بارے میں تقریباً کچھ معلوم نہیں تھا۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک شخص نے اسے بہت محبت سے مجھے بھیجا ہے۔ یہی محبت اس وقت میرے لیے سب سے بڑا بوجھ تھی۔
میں نے حسبِ عادت کتاب کے فلیپ نہیں پڑھے۔ تقریظیں بھی نہیں پڑھیں۔ یہ کتاب پڑھنے کا میرا اپنا ایک اصول ہے، جسے میں دوسروں کے لیے قابلِ تقلید قرار نہیں دیتا۔ میں چاہتا ہوں کہ کتاب اور میرے درمیان پہلی ملاقات میں کوئی تیسرا آدمی موجود نہ ہو۔ نہ ناشر، نہ تقریظ نگار، نہ وہ بزرگ ادیب جس کی دو سطری تحسین کتاب کے سرورق پر سند کی طرح ثبت کردی گئی ہو۔ پہلے کتاب مجھ سے خود بات کرے؛ بعد میں دیکھا جائے گا کہ دوسروں نے اس سے کیا سنا تھا۔ میں نے فہرستِ ابواب پر نگاہ ڈالی۔ عنوانات دلچسپ لگے۔ پھر ’’عرضِ احوال یا کتھارسس‘‘ پڑھنا شروع کیا۔ چند ہی صفحات کے بعد پہلی گرہ کھلی۔ سعد مکی شاہ کی بات کہنے میں ایک بے ساختگی تھی، ایسی سادگی جو اپنے سادہ ہونے کا اعلان نہیں کرتی تھی، اور ایک ایسا بے تکلف پن جس کے پیچھے ادیب بننے کی بے قراری دکھائی نہیں دیتی تھی۔ نہ عبارت کو غیر ضروری طور پر سجانے کا شوق، نہ مسجع و مقفّیٰ جملوں کی نمائش، نہ ہر دوسرے فقرے کو اقوالِ زریں میں تبدیل کرنے کی خواہش۔ میں آگے بڑھا۔ پھر اور آگے۔ اور جب ایک لمحے کو کتاب بند کرکے صفحہ نمبر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ننانوے صفحات گزر چکے ہیں۔
یہاں مجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ سفرنامے میری باقاعدہ مطالعاتی ترجیحات میں کبھی بہت اوپر نہیں رہے۔ سفرناموں کے اقتباسات اور ان پر لکھی جانے والی تحریریں شاید اصل سفرناموں سے زیادہ پڑھی ہیں۔ حافظے پر زور دیتا ہوں تو سب سے پہلے ابنِ انشا کا ’’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘‘ یاد آتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا پیرس پر لکھا سفرنامہ اس عمر میں پڑھا تھا جسے کچی بالی عمریا کہنا زیادہ مناسب ہوگا اور اس وقت وہ بہت بھایا بھی تھا۔ پھر عمر نے ذوق کے ساتھ کیا کیا، اس کا حساب الگ ہے۔ پختہ عمر میں ’’ماسکو کی سفید راتیں‘‘ نے مجھے اپنے حصار میں نہیں لیا، نہ روس پر ان کا دوسرا سفرنامہ نما ناول مجھے اس طرح متاثر کرسکا جس طرح شاید میں توقع کررہا تھا۔ ممکن ہے قصور کتابوں کا نہ ہو، میری کم فہمی اور ناسمجھی کا ہو۔ کتابیں بھی آخر قاری کی عمر کے ساتھ اپنا چہرہ بدلتی رہتی ہیں۔ کبھی جو دروازہ بیس برس کی عمر میں طلسم کدے میں کھلتا ہے، وہی چالیس یا پچاس برس کی عمر میں محض ایک دروازہ معلوم ہونے لگتا ہے؛ اور کبھی جس کتاب کے پاس جوانی میں ہم بے اعتنائی سے گزر جاتے ہیں، وہ برسوں بعد راستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہے۔
سعد مکی شاہ کی ’’مشاہداتِ ایران‘‘ نے مجھے اس لیے چونکایا کہ یہ اس معنی میں سفرنامہ نہیں جس معنی میں ہم سفرنامے کو پہچاننے کے عادی ہیں۔ اس کا ایران گرد نہ زیارت کے لیے نکلا ہے، نہ آثار و مناظر کی فہرست بنانے، نہ تہذیبوں کا موازنہ کرنے کا کوئی تحقیقی منصوبہ اس کی جیب میں ہے، نہ ایرانی نظامِ حکومت کی کامیابی یا ناکامی پر فیصلہ صادر کرنے کا ارادہ۔ وہ تو اپنے حالات سے تنگ ایک آدمی ہے جسے ایک میکینک دوست کہتا ہے کہ ایران چلو۔ یوں پہلی بار وہ ’’ڈنکی‘‘ لگا کر ایران پہنچتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس سفرنامے کی غیر معمولی دنیا کھلنا شروع ہوتی ہے۔ اس کا مسافر سیاحت کی آسودگی سے نہیں، زندگی کی تنگی سے پیدا ہوا ہے۔ اس کے پاس سیاح کا نقشہ نہیں، مزدور کی ضرورت ہے؛ مشاہدہ کرنے والے دانش ور کا منصوبہ نہیں، روزگار ڈھونڈنے والے آدمی کی بے یقینی ہے۔
ملتان سے کراچی، کراچی سے تربت، پھر سرحد پار کرتے ہوئے ایرانشہر اور وہاں سے بزمان۔ نقشے پر یہ چند نام ہیں، سعد مکی شاہ کے بیان میں یہی نام راستے، خوف، تھکن، آدمیوں، اتفاقات اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے بھرنے لگتے ہیں۔ بزمان میں اسے رنگ روغن کی مزدوری کرنا ہوتی ہے۔ پچاس روز ایران میں گزرتے ہیں اور وہ واپس آجاتا ہے۔ پھر 2014ء میں حالات ایک بار پھر اسے اسی سمت دھکیلتے ہیں۔ ایک دوسرے دوست کی ترغیب بھی شامل ہوجاتی ہے۔ اس مرتبہ ویزا لگوانے سے قصہ شروع ہوتا ہے۔ کراچی سے تافتان، تافتان سے زاہدان، وہاں سے قم اور پھر تہران۔ اگر کوئی چاہے تو زاہدان سے تہران تک کے اس سفر کو سفرنامے کے بجائے ایک طویل کہانی سمجھ کر بھی پڑھ سکتا ہے۔ اس میں راستہ بھی ہے، کردار بھی، انتظار بھی، بے یقینی بھی، تھکن بھی اور وہ چھوٹے انسانی واقعات بھی جن کے بغیر بڑے سفر محض فاصلے رہ جاتے ہیں۔
سعد مکی شاہ کی ایک بڑی خوبی یہیں آشکار ہوتی ہے: اسے دیکھنا آتا ہے۔
سفر کرنا اور دیکھنا دو مختلف افعال ہیں۔ ہزاروں آدمی روزانہ ایک ہی سڑک سے گزرتے ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک سفرنامہ نہیں لکھ سکتا۔ اس لیے نہیں کہ سب کو لکھنا نہیں آتا، بلکہ اس لیے بھی کہ سب کو دیکھنا نہیں آتا۔ عمدہ سفرنامہ شاید وہاں جانے سے پیدا نہیں ہوتا جہاں کوئی اور نہ گیا ہو؛ وہ وہاں کچھ ایسا دیکھ لینے سے پیدا ہوتا ہے جہاں سے ہزاروں لوگ گزر چکے ہوں مگر جسے انہوں نے دیکھنے کے قابل نہ سمجھا ہو۔ سعد مکی شاہ راستے کے آدمیوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کے لباس، لہجے، برتاؤ، خاموشی، مہمان نوازی، بے اعتنائی، مذہب، معاشرت اور روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے قرینوں کو دیکھتے ہیں۔ بلوچ ہوں، فارسی بولنے والے ایرانی، ترکمانی باشندے یا زرتشت کے ماننے والے؛ وہ انہیں کسی مردم شماری کے خانوں میں بند کرکے نہیں دکھاتے۔ لوگ پہلے آدمی بن کر متن میں آتے ہیں، ان کی شناختیں بعد میں کھلتی ہیں۔
یہی بات ان کے مذہبی مشاہدات کو بھی دلچسپ بناتی ہے۔ ایک شہر میں سعد ایک ایسی مسجد میں جاتے ہیں جہاں چند گھرانوں کے سوا تقریباً سب شیعہ ہیں۔ نماز شروع ہوتی ہے۔ باقی نمازی ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہیں، سعد ایک کونے میں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں کا فرقہ وارانہ ذہن شاید کسی حادثے، سوال، گھورتی ہوئی نگاہ یا کم از کم حیرت کا منتظر ہو۔ مگر کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی انہیں گھورتا نہیں۔ کسی کے چہرے پر اچنبھا نہیں۔ کسی کو ان کے ہاتھوں کی پوزیشن میں کوئی تہذیبی بحران دکھائی نہیں دیتا۔ سب اپنی اپنی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔
اس واقعے کی اصل خوب صورتی یہی ہے کہ کوئی واقعہ پیش نہیں آتا۔
رواداری شاید ہمیشہ سیمیناروں، قراردادوں اور بلند بانگ نعروں میں ظاہر نہیں ہوتی۔ کبھی اس کی سب سے مہذب صورت یہ ہوتی ہے کہ آپ دوسرے آدمی کو مختلف دیکھیں اور اسے دیکھتے رہنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔ سعد مکی شاہ اس منظر پر کوئی نظریاتی عمارت کھڑی نہیں کرتے۔ وہ بس اسے درج کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن قاری وہیں کچھ دیر رک جاتا ہے۔
ایرانی بلوچستان کے بارے میں ان کے مشاہدات بھی ایسے ہی سوال پیدا کرتے ہیں۔ لق و دق صحرا، دشت، بے آب و گیاہ میدان، سرحدی بستیاں؛ مگر انہی جگہوں پر صفائی، شجرکاری، آباد کاری اور انفراسٹرکچر کے جو مناظر سعد دکھاتے ہیں، وہ پاکستانی قاری کو بے آرام کرتے ہیں۔ یہ بے آرامی ضروری ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب سعد سرحد کے دونوں طرف ہوٹلوں، سہولتوں، سڑکوں، انتظام اور روزمرہ زندگی کے فرق کو دیکھتے ہیں۔ یہاں کتاب کسی سیاسی منشور میں تبدیل نہیں ہوتی، مگر سوال ضرور چھوڑ جاتی ہے: ایک ہی بڑے جغرافیائی خطے کے دو طرف انسانی زندگی کے حالات اتنے مختلف کیوں ہوسکتے ہیں؟ اگر ایک طرف بے آب و گیاہ زمین کو انسان رہنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے تو دوسری طرف غربت، ننگ، بھوک، افلاس اور شکستہ انفراسٹرکچر کو جغرافیے کی ناگزیر تقدیر کیوں سمجھ لیا جائے؟
یہ سوال سعد شاید ہر جگہ براہِ راست نہیں پوچھتے۔ بعض اوقات اچھے متن کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ مصنف سے زیادہ سوال قاری پوچھنے لگتا ہے۔
اس کتاب میں سرکاری ملازمین، پولیس اہلکاروں اور سرحدی سکیورٹی فورسز کے رویوں کے بارے میں بھی متعدد مشاہدات ہیں۔ خود سعد کا ویزا ختم ہوجاتا ہے، وہ غیر قانونی قیام کی صورتِ حال میں گرفتار ہوتے ہیں، قید و بند سے گزرتے ہیں اور بالآخر ڈی پورٹ کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر ایسے مقام پر سفرنامہ نگار کے پاس خود کو مظلومِ اعظم اور دوسرے نظام کو دیو ہیکل عفریت بنانے کا ایک نہایت آسان راستہ موجود ہوتا ہے۔ سعد اس آسانی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ وہ جو ان پر گزرتی ہے اسے بیان کرتے ہیں، حکام کے سلوک کو بھی درج کرتے ہیں، اور قاری کو اپنے نتائج تک پہنچنے کی جگہ دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب ایرانی معاشرے کے بارے میں پہلے سے تیار بہت سے کلیشوں کو توڑتی ہے، مگر ان کی جگہ کوئی دوسرا تیار شدہ کلیشہ رکھنے کی جلدی نہیں کرتی۔
اور پھر زاہدان سے تہران کا پچیس گھنٹے کا سفر ہے۔
بس میں سعد کے ساتھ ایک تقریباً چالیس سالہ ایرانی خاتون بیٹھی ہے۔ خوب صورت ہے، مگر یہاں خوب صورتی قصے کا مرکزی واقعہ نہیں بنتی۔ یہ بات اہم ہے، کیونکہ ہمارے سفرناموں کی ایک خاص روایت میں غیر ملکی عورت بعض اوقات جغرافیے سے بھی بڑی دریافت بن جاتی ہے۔ سفرنامہ نگار سرحد پار کرتا ہے اور عجیب اتفاق سے حسن کی دیویاں اس کی شخصیت کے طلسم میں گرفتار ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ سعد مکی شاہ اس آزمائش سے سلامت نکلتے ہیں۔ ان کی ساتھی مسافر ایک خود اعتماد، باوقار عورت ہے جو تنہا زاہدان سے تہران تک طویل سفر کررہی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ برابر بیٹھا آدمی کسی دوسرے ملک سے آیا ہوا مسافر ہے تو وہ اس کا استقبال کرتی ہے: ’’خوش آمدید بر سرزمین ما۔‘‘
صبح ہوتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس اجنبی مسافر نے رات کھانا نہیں کھایا تھا۔ وہ اپنا سینڈوچ توڑ کر آدھا اس کی طرف بڑھاتی ہے: ’’برادر عزیز۔۔۔ تکلف مکن۔۔۔ دی شب شما غذا نہ خوردہ بودی۔۔۔ بہ گیر۔‘‘
یہ چند الفاظ کتاب کے بہت سے بڑے بیانات پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔
ایک عورت اپنا سینڈوچ آدھا کرتی ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ مگر ادب کی دنیا میں ’’اتنی سی بات‘‘ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایک اجنبی ملک، ایک طویل سفر، برابر کی نشست پر بیٹھا ایک نامعلوم مرد، اور کھانے کا آدھا حصہ اس کی طرف بڑھاتا ہوا ہاتھ۔ اس ایک معمولی حرکت میں مہمان نوازی، اعتماد، سماجی تربیت اور انسانی التفات کی پوری دنیا سمٹ آتی ہے۔ تہران پہنچ کر بھی، جب سعد تھکن کے مارے بس کی نشست پر سوئے رہ جاتے ہیں اور دوسرے مسافر اتر چکے ہوتے ہیں، یہی عورت اترنے سے پہلے انہیں جگاتی ہے اور بتاتی ہے کہ تہران آگیا ہے۔
ممکن ہے سعد مکی شاہ کو یہ سب لکھتے ہوئے اندازہ بھی نہ ہو کہ وہ ایک ایرانی عورت کا نمائندہ چہرہ ہمارے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اور شاید یہی اس کردار کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اگر وہ اسے ’’ایران کی جدید، خود اعتماد اور آزاد عورت کی علامت‘‘ بنانے بیٹھ جاتے تو ممکن ہے کردار مرجاتا اور علامت باقی رہ جاتی۔ انہوں نے اسے عورت رہنے دیا: ایک مسافر، جو خود بھی پچیس گھنٹے کا سفر کررہی ہے اور اپنے ساتھ بیٹھے اجنبی مسافر کی پریشانی محسوس کرلیتی ہے۔
بعض کردار مصنف تخلیق نہیں کرتا، زندگی اس کے متن میں رکھ دیتی ہے؛ مصنف کا کمال صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ انہیں خراب نہ کرے۔
سعد نے اسے خراب نہیں کیا۔
یہی وصف کتاب کے دوسرے حقیقی کرداروں کی خاکہ کشی میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ آدمیوں کو ’’کردار‘‘ بنانے کے لیے ان پر اضافی رنگ نہیں چڑھاتے۔ ان کے چھوٹے افعال، بولنے کا انداز، کسی موقع پر اختیار کیا ہوا رویہ، کبھی کوئی فقرہ، کبھی کوئی خاموشی انہیں یاد رہ جانے کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔ یوں سفرنامہ جگہوں کی فہرست نہیں رہتا، آدمیوں کی بستی بن جاتا ہے۔
یہاں سعد مکی شاہ کے اسلوب کی ایک اور خوبی سامنے آتی ہے۔ ان کی نثر میں بے ساختگی ہے مگر بے ترتیبی نہیں؛ سادگی ہے مگر سطحیت نہیں؛ جزئیات ہیں مگر وہ قاری پر بوجھ نہیں بنتیں؛ قصہ پن موجود ہے مگر افسانہ سازی نہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کا کرافٹ کسی نقشے کے مطابق تعمیر کیا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے جیسے کرافٹ خود سفر کے ساتھ پیدا ہورہا ہے۔ اسلوب پہلے سے تیار لباس نہیں جس میں واقعات کو پہنا دیا گیا ہو؛ واقعات آگے بڑھتے ہیں اور ان کے جسم پر اسلوب بنتا جاتا ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
بعض لکھنے والے سفر پر جانے سے پہلے ہی جانتے ہیں کہ واپس آکر انہیں کیا ثابت کرنا ہے۔ پھر وہ دنیا کو اسی مقصد کے لیے دیکھتے ہیں۔ جو چیز نظریے کے چوکھٹے میں سما جائے اسے نمایاں کرتے ہیں، جو باہر رہ جائے اسے تراش دیتے ہیں۔ سعد کے ہاں کم از کم مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا۔ وہ پہلے چوکھٹا بناکر ایران کو اس میں فِٹ نہیں کرتے۔ جو پیش آتا ہے اسے دیکھتے ہیں، جو بھگتتے ہیں اسے لکھتے ہیں، جہاں حیران ہوتے ہیں وہاں حیرانی چھپاتے نہیں، جہاں مشکل پیش آتی ہے وہاں اپنے آپ کو سورما نہیں بناتے۔ اسی عمل میں بیانیہ بنتا ہے، منظر نگاری پیدا ہوتی ہے، کردار ابھرتے ہیں اور کتاب اپنا اسلوب خود دریافت کرتی جاتی ہے۔
اس کا ایک عملی ثبوت میرے لیے وہ ننانوے صفحات ہیں جن کا گزرنا مجھے محسوس نہیں ہوا۔ قصے، ناول یا فلم کے بارے میں ہم جسے ’’ٹیمپو‘‘ کہتے ہیں، وہ یہاں حیرت انگیز طور پر قائم رہتا ہے۔ جزئیات رفتار کو قتل نہیں کرتیں۔ تفصیل قصے کی دشمن نہیں بنتی۔ راستے بدلتے ہیں، لوگ آتے جاتے ہیں، چھوٹے واقعات بڑے واقعات کے درمیان جگہ بناتے ہیں، مگر متن اپنی سانس نہیں کھوتا۔
اور سعد اپنے آپ کو ہیرو نہیں بناتے۔
یہ شاید لکھنے میں جتنا معمولی جملہ لگتا ہے، سفرنامے کی صنف میں اتنی معمولی خوبی نہیں۔ مسافر کے پاس اپنی داستان کا مرکزی کردار بننے کا پورا حق ہوتا ہے، مگر اسی حق کے غلط استعمال سے بعض سفرنامے خود ستائشی کی داستان بن جاتے ہیں۔ سعد نہ اپنے خطرات کو رزمیہ بناتے ہیں، نہ اپنی ذہانت کے جھنڈے گاڑتے ہیں، نہ یہ ثابت کرتے پھرتے ہیں کہ اجنبی ملک کے باشندے ان کی غیر معمولی شخصیت سے مسحور ہوگئے تھے۔ خاص طور پر عورتوں کے بیان میں یہ ضبط قابلِ توجہ ہے۔ تہران جانے والی ایرانی خاتون کے ساتھ وہی کچھ رہتا ہے جو حقیقتاً معنی خیز ہے: ہمدردی، اعتماد، مہمان نوازی اور دو اجنبی انسانوں کے درمیان سفر بھر قائم رہنے والا ایک مہذب فاصلہ۔
بظاہر ’’مشاہداتِ ایران‘‘ ایک عام آدمی کی سرگزشت ہے۔ ایک شخص حالات سے تنگ آتا ہے، سرحد پار کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے، واپس آتا ہے، پھر جاتا ہے، مختلف شہروں سے گزرتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، ویزا ختم ہوجاتا ہے، قانونی مشکلات میں پڑتا ہے، قید ہوتا ہے، ڈی پورٹ ہوتا ہے۔ لیکن اسی بظاہر سادہ سرگزشت کے نیچے کئی اور سرگزشتیں چل رہی ہیں۔ یہ محنت اور ہجرت کی کہانی بھی ہے؛ سرحد اور ریاست کی بھی؛ غربت اور انسانی وقار کی بھی؛ اجنبیت اور میزبانی کی بھی؛ مذہبی شناخت اور روزمرہ رواداری کی بھی؛ پاکستانی اور ایرانی بلوچستان کے مختلف تجربات کی بھی؛ اور سب سے بڑھ کر اس عمل کی کہانی بھی جس میں ایک آدمی کسی ملک کے بارے میں سنائی گئی دنیا سے نکل کر دیکھی ہوئی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔
میں اس متن پر کوئی خود ساختہ لسانیاتی فلسفہ مسلط نہیں کرنا چاہتا۔ نہ اسے مابعد جدیدیت، پس نوآبادیات یا کسی دوسرے تیار شدہ نظریاتی ڈبے میں بند کرکے اپنی علمی فضیلت ثابت کرنا مقصود ہے۔ میں صرف اپنے تجربۂ قرأت کی گواہی دے رہا ہوں۔ ممکن ہے دوسرا قاری اسی کتاب سے بالکل مختلف معنی اخذ کرے۔ اسے ایسا کرنے کا پورا حق ہے۔ اچھی کتاب کی پہچان شاید یہی ہے کہ وہ قاری کو معنی وصول کرنے والا محض ڈاک خانہ نہیں بناتی؛ اسے معنی کی دریافت میں شریک کرتی ہے۔
سعد مکی شاہ پہلے سے فیصلہ نہیں کرتے کہ ایران کیسا ہے۔ کم از کم اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے یہی محسوس ہوا۔ وہ ایران میں داخل ہوتے ہیں اور ایران آہستہ آہستہ ان کے سامنے کھلتا ہے۔ اور چونکہ وہ اپنے مشاہدے کی تبدیلی کو چھپاتے نہیں، اس لیے قاری بھی اس تبدیلی کا شریک ہوجاتا ہے۔ پہلے ایک شہر، پھر ایک بس، ایک مسجد، ایک سرحدی چوکی، ایک ہوٹل، ایک پولیس اہلکار، ایک بلوچ، ایک زرتشتی، ایک مزدور، ایک عورت، ایک آدھا سینڈوچ۔ ملک شاید اسی طرح سمجھ میں آتے ہیں۔ نقشوں پر بنے رنگوں سے نہیں، آدمیوں کے چھوٹے چھوٹے افعال سے۔
اور یہاں مجھے پھر آج دوپہر بارہ بجے کا وہ لمحہ یاد آتا ہے۔
ڈاک سے کتاب آئی تھی۔ پہلے صفحے پر محبت سے لکھے ہوئے القابات نے مجھے اداس کردیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر کتاب اچھی نہ نکلی تو کیا کروں گا۔ تعریف لکھوں گا تو اپنے ساتھ بددیانتی ہوگی، خاموش رہوں گا تو کتاب بھیجنے والے کے نازک آبگینے کو چوٹ پہنچ سکتی ہے۔ دل بھی بچانا تھا اور تنقیدی دیانت بھی۔
پھر میں نے کتاب کھولی۔
’’عرضِ احوال یا کتھارسس‘‘ سے آگے بڑھا۔
اور جب سر اٹھایا تو ننانوے صفحات گزر چکے تھے۔
میرے سارے وہمے، وسوسے، خوف اور اندیشہ ہائے دور و دراز بے کار نکلے۔ سعد مکی شاہ کو کسی رعایت کی ضرورت نہیں تھی۔ محبت سے بھیجی گئی اس کتاب نے مجھ سے محبت کی رعایت مانگی ہی نہیں۔ وہ اپنے ادبی استحقاق پر خود کھڑی تھی۔
یہ میرے لیے واقعی تحفہ ہے۔
کچھ کتابیں پڑھی جاتی ہیں، بند ہوتی ہیں اور الماری میں اپنی جگہ سنبھال لیتی ہیں۔ کچھ کتابیں بند کرنے کے بعد بھی پوری طرح بند نہیں ہوتیں۔ ان کا کوئی کردار، کوئی راستہ، کوئی معمولی سا منظر، کسی اجنبی کا کہا ہوا ایک فقرہ یا کسی صبح آدھا کیا ہوا سینڈوچ ان کے صفحات کے درمیان سے نکل کر ہمارے حافظے میں رہ جاتا ہے۔ پھر کبھی اچانک وہ ہمیں واپس بلاتا ہے۔
مجھے لگتا ہے ’’ایران گرد کا روزنامچہ: مشاہداتِ ایران‘‘ اسی دوسری قسم کی کتاب ہے۔ اسے دوبارہ پڑھنے پر بھی ایسے مقامات ملیں گے جہاں قاری ٹھہرنا چاہے گا؛ شاید پہلی قرأت میں نظر انداز ہوجانے والی کسی چھوٹی جزئیات میں دوسری مرتبہ کوئی نیا مفہوم مل جائے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے میں ادبی مسرت کہتا ہوں۔ یہ صرف خوب صورت الفاظ سے پیدا نہیں ہوتی۔ کبھی یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب زندگی اپنی غیر آراستہ، معمولی اور انسانی صورت میں اچانک ادب بن جائے، اور لکھنے والے نے اسے ادب بنانے کے لیے ضرورت سے زیادہ کوشش بھی نہ کی ہو۔
سعد مکی شاہ کو اس ایران گردی پر نہیں، اسے دیکھ سکنے اور پھر اپنی آنکھ اور قاری کے درمیان اپنے تعصبات کی دیوار نہ کھڑی کرنے پر مبارک باد دینی چاہیے۔
آخرکار سفر شاید ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام ہی نہیں۔ کبھی اصل سفر اس لمحے شروع ہوتا ہے جب راستہ وہیں رہتا ہے، دنیا وہی رہتی ہے، مگر اسے دیکھنے والی آنکھ پہلے جیسی نہیں رہتی۔


