اخبار سے الگورتھم تک: مزاحمت اور ریاستی کنٹرول کا بدلتا منظرنامہ(2)- سائرہ رباب

لیڈر نہیں تو تحریک کون چلاتا ہے؟

سوشل میڈیا کی تحریکوں کے خلاف شاید سب سے مضبوط اعتراض یہ ہے کہ رابطہ تو آسان ہوگیا، لیکن تنظیم کہاں سے آئے گی؟ فیس بک پر لاکھوں فالورز ہوں یا ٹویٹر پر ہیش ٹیگ چل جائے، آخر مستقل تحریک تو تربیت یافتہ کارکن، تجربہ کار قیادت اور منظم جماعت ہی چلاتی ہے۔ عام لوگ جوش میں سڑک پر آسکتے ہیں، مگر کیا وہ پیچیدہ انتظام، رسد، اجتماعی فیصلے اور طویل مدتی تنظیم سنبھال سکتے ہیں؟

یہ سوال سنجیدہ ہے، اور نئی تحریکیں اسے رد نہیں کرتیں۔ ایسا نہیں کہ تجربہ، سیاسی تربیت یا کارکن غیر ضروری ہوگئے۔ دراصل کمزور پڑنے والا مفروضہ یہ ہے کہ تنظیم صرف پہلے سے موجود جماعت ہی پیدا کرسکتی ہے۔

کبھی تنظیم تحریک بناتی ہے، کبھی تحریک تنظیم بناتی ہے

2011ء کے قاہرہ میں اس کی ایک دلچسپ مثال سامنے آئی۔ تحریر اسکوائر کے قریب شدید جھڑپوں میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہورہے تھے اور کئی عارضی طبی مراکز کام کررہے تھے۔ ایک جگہ دوا کم تھی، دوسری جگہ ضرورت سے زیادہ سامان پہنچ رہا تھا، پرانی اپیلیں بار بار گردش کررہی تھیں اور کسی کے پاس مکمل تصویر نہیں تھی کہ کہاں کیا درکار ہے۔

اسی دوران احمد نامی ایک بائیس سالہ فارمیسی طالب علم نے یہ مسئلہ دیکھا۔ وہ کسی بڑی سیاسی جماعت کا کارکن یا رسد کا ماہر نہیں تھا، نہ ہنگامی حالات کے انتظام کی باقاعدہ تربیت رکھتا تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ وہ اس وقت قاہرہ میں بھی موجود نہیں تھا۔

اس نے ٹویٹر پر تحریر سپلائز کے نام سے کام شروع کیا۔ جب بعد میں اس سے پوچھا گیا کہ خیال آنے اور کام شروع کرنے کے درمیان کتنا وقت لگا تو جواب تھا: تقریباً پانچ منٹ۔

جلد چار نوجوان اس کام میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے ڈاکٹروں، رضاکاروں اور سامان پہنچانے والوں کو جوڑا، مشترک فہرستیں بنائیں، مختلف طبی مراکز کی ضروریات نوٹ کیں اور یہ واضح کیا کہ کون سی چیز کہاں پہنچ چکی ہے اور کہاں ضرورت باقی ہے۔

یہاں تنظیم پہلے سے مکمل شکل میں موجود نہیں تھی۔ ایک مسئلہ سامنے آیا، کسی نے ذمہ داری لی، دوسرے اس سے جڑتے گئے، کام تقسیم ہوا، اعتماد پیدا ہوا اور تنظیم خود عمل کے اندر بننے لگی۔

یہی خود تنظیمی (self-organization) ہے۔

کبھی تنظیم تحریک بناتی ہے، کبھی تحریک تنظیم بناتی ہے۔

تنظیم صرف دفتر، عہدے اور ممبرشپ کارڈ کا نام نہیں

ہم اکثر تنظیم کو صرف اس وقت پہچانتے ہیں جب صدر، سیکرٹری، دفتر، ممبرشپ کارڈ اور اوپر سے نیچے آنے والے احکامات نظر آئیں۔ اسی لیے غیر مرکزی تحریک کو دیکھ کر فوراً کہا جاتا ہے: ’’یہ تو بے تنظیم ہجوم ہے۔‘‘

مگر اگر ہزار لوگ مختلف ذمہ داریاں سنبھال رہے ہوں، رابطہ قائم کررہے ہوں، مسائل حل کررہے ہوں اور ایک دوسرے کو جواب دے رہے ہوں تو یہ بھی آرگنائزیشن ہے، بس اس کی شکل مختلف ہے۔

گیزی پارک کے احتجاج میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ لوگوں نے اپنے طور پر کھانے کی تقسیم، طبی امداد، صفائی، کتابوں، معلومات اور دوسری ضروریات کے لیے انتظام بنائے۔ شاید کوئی ایک مرکزی دفتر نہیں تھا اور نہ ایسا سربراہ جس سے ہر چھوٹے کام کی اجازت لی جائے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں نظم موجود نہیں تھا۔

روایتی تنظیم اور کیڈر ختم نہیں ہوئے، ان کا کردار بدل گیا

نئی تحریکوں میں روایتی کیڈر کے ساتھ عام لوگ، دوستیاں، کمزور رابطے، رضاکار، چھوٹے نیٹ ورک اور خود منظم گروہ بھی اہم سیاسی قوت بن سکتے ہیں۔ اس کا مطلب تنظیم غیر ضروری ہوگئی نہیں، بلکہ تنظیم کی نوعیت بدل گئی۔

وہ لازماً اوپر سے حکم دینے والی جماعت نہیں، بلکہ لوگوں کو جوڑنے، پیغام پھیلانے، وسائل منظم کرنے اور اجتماعی طاقت پیدا کرنے والا نیٹ ورک بھی ہوسکتی ہے۔

ڈیجیٹل دور نے سیاسی جماعت اور کارکن کی ضرورت ختم نہیں کی, اس نے سیاسی تنظیم کی تعریف کو وسیع کیا ہے۔

روایتی جماعت میں کارکن تنظیم کا پیغام نیچے لے جاتا، جلسے منظم کرتا، قیادت کا پیغام مقامی سطح تک پہنچاتا، ممبرز کو موبلائز کرتا اور جماعتی نظم برقرار رکھتا تھا۔

نئی تحریکوں میں سیاسی کارکن کئی جگہ رابطہ کار، پل اور معلوماتی مرکز بھی بن گیا ہے۔ وہ مختلف گروہوں کو جوڑتا، معتبر معلومات پہنچاتا، وسائل شیئر کرتا اور عام لوگوں کو بڑے نیٹ ورک سے ملاتا ہے۔ کبھی عام لوگ کام کرتے کرتے خود منتظم، کارکن اور رہنما بن جاتے ہیں۔

ایک طالب علم اپنے دوستوں کا حلقہ لاتا ہے۔
ایک وکیل قانونی مدد کا۔
ایک ڈاکٹر طبی علم کا۔
ایک صحافی خبر کی تصدیق کا۔
ایک یونین اپنے منظم ورکرز کا۔
عام شہری خاندان اور محلے کا اعتماد لاتا ہے۔

یوں تحریک ایک تنظیم کے بجائے تنظیموں اور لوگوں کے بڑے جال کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

عام آدمی اب صرف ووٹر یا سپورٹر نہیں

یہ شاید اس پوری تبدیلی کا سب سے اہم سیاسی نکتہ ہے۔ روایتی نمائندہ سیاست میں عام شہری کا بڑا کردار ووٹ دینا، کسی جماعت کی حمایت کرنا یا ریلی میں شامل ہونا تھا۔ بڑے فیصلے قیادت اور منتخب نمائندے کرتے تھے۔ شراکتی تحریکوں (participatory movements) نے اس تعلق کو چیلنج کیا۔

اگر مسئلہ میری یا ہماری زندگی کا ہے تو ہمارا کردار صرف یہ کیوں ہو کہ ہم کسی دوسرے کو اپنے لیے فیصلہ کرنے کا اختیار دیں؟

یہاں سپورٹر سے پولیٹیکل ایکٹر تک کا سفر شروع ہوتا ہے۔

عام شخص صرف ’’ہاں‘‘ کہنے والا نہیں رہتا۔ وہ تجویز دیتا ہے، بحث میں حصہ لیتا ہے، مقامی ذمہ داری لیتا ہے، مشترک فیصلے میں شریک ہوتا ہے اور کبھی عارضی نمائندہ بھی بنتا ہے۔

شراکتی جمہوریت (participatory democracy) کا بنیادی سوال یہی ہے: کیا عوام صرف یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہیں کہ ان کی طرف سے کون فیصلہ کرے، یا وہ خود فیصلہ سازی میں بھی شریک ہوسکتے ہیں؟

مقصد یہ ہے کہ عام شہری کی سیاسی حیثیت صرف ووٹ ڈالنے کے بعد ختم نہ ہوجائے۔

اسپین کی Indignados تحریک میں عوامی اسمبلیاں اسی تجربے کا حصہ تھیں۔ لوگ چوکوں میں بیٹھ کر مسائل، ترجیحات اور آئندہ ایکشن پر بحث کرتے تھے۔ عمل ہمیشہ تیز یا آسان نہیں تھا..اختلاف ہوتا تھا اور فیصلے مشکل ہوتے تھے، مگر مقصد یہی تھا کہ سیاست صرف نمائندگی کی سرگرمی نہ رہے۔

بعد میں امریکا کی Occupy تحریک سے وابستہ لوگوں نے ایسے ڈیجیٹل ٹول بھی بنائے جن کے ذریعے غیر مرکزی گروہ مشترک فیصلے کرسکیں۔ نیوزی لینڈ میں آکو پائی سے وابستہ لوگوں نے (Loomio) بنایا تاکہ آن لائن اجتماعی فیصلے بھی کیے جاسکیں۔

یعنی ٹیکنالوجی صرف احتجاجی کال دینے کا ذریعہ نہیں رہی, اسے فیصلہ سازی کا نیا وسیلہ بنانے کی کوشش بھی ہوئی۔ بحث لمبی ہوتی تھی، اختلافات پیدا ہوتے تھے اور اتفاقِ رائے مشکل تھا، مگر یہی اس تجربے کی اہمیت تھی: لوگ سیاست کو صرف پیشہ ور سیاست دانوں کا کام سمجھنے کے بجائے خود اس میں شریک ہورہے تھے۔

یہ شراکتی سیاست انٹرنیٹ نے ایجاد نہیں کی

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ غیر مرکزی، افقی اور شراکتی سیاست انٹرنیٹ سے پہلے بھی موجود تھی۔ مقامی اسمبلیاں، گراس روٹ تنظیمیں اور مختلف سماجی تحریکیں پہلے سے یہ تجربے کررہی تھیں۔ میکسیکو کی زاپاتیستا تحریک کی مقامی تنظیم بھی انٹرنیٹ سے پہلے موجود تھی۔

انسان صدیوں سے ایسے طریقے آزماتا آیا ہے جن میں فیصلے صرف بادشاہ، حکمران یا چند طاقتور افراد تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی اپنے معاملات میں شریک ہوں۔

ابتدائی اسلام میں شوریٰ اور مدینہ کا اجتماعی معاہدہ ایسی روایات کی مثال ہیں۔ وہاں قیادت واضح طور پر موجود تھی، اس لیے اسے آج کے معنی میں لیڈر لیس نظام نہیں کہا جاسکتا، لیکن اجتماعی معاملات میں مشورے اور مختلف گروہوں کی ذمہ داری کا تصور ضرور موجود تھا۔

ہندوستان میں بھی مقامی سبھاؤں اور پنچایتوں کے ذریعے لوگ اپنے بہت سے مقامی معاملات مل کر طے کرتے آئے۔ بعد میں گاندھی کے( Gram Swaraj)میں بھی یہی خیال سامنے آیا کہ گاؤں اپنے معاملات میں زیادہ بااختیار ہوں اور ہر چھوٹا بڑا فیصلہ دور بیٹھے کسی مرکز سے نہ آئے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پرانے نظام آج کی جمہوریت جیسے تھے یا ان میں ہر شخص کو برابر اختیار حاصل تھا۔ ایسا کہنا تاریخ کو بہت سادہ بنادینا ہوگا۔

اصل بات صرف یہ ہے کہ مشورہ، مقامی اختیار اور عام لوگوں کی شرکت کا تصور انٹرنیٹ سے بہت پہلے موجود تھا۔

Seattle
میں 1999ء کے WTO مخالف مظاہرے بھی جدید غیر مرکزی سیاست کی اہم مثال تھے۔ مختلف مزدور تنظیمیں، ماحولیات کے کارکن، طلبہ، انسانی حقوق کے گروہ اور عالمگیریت کے ناقد ایک ہی مرکزی جماعت کے ماتحت نہیں تھے، مگر ایک مشترک مسئلے….کارپوریٹ مفاد اور نیولبرل پالیسیاں…نے انہیں جوڑا۔

یعنی ٹیکنالوجی سیاسی ایکٹر نہیں، رفتار بڑھانے والا ذریعہ ہے۔ اصل ایکٹر انسان ہی رہتا ہے۔

لیڈر کی غیر موجودگی یا قیادت کی مختلف شکل؟

’’لیڈر کے بغیر تحریک‘‘ کا جملہ اکثر غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ کسی ایک مستقل مرکزی لیڈر کا نہ ہونا اور قیادت کا بالکل نہ ہونا ایک چیز نہیں۔

تحریر اسکوائر میں کسی نے طبی سامان، گیزی میں کسی نے خوراک، کسی نے طبی امداد، رابطے یا قانونی مدد کی ذمہ داری سنبھالی۔ جو شخص کسی کام میں زیادہ قابل ثابت ہوا، لوگ اس پر اعتماد کرنے لگے۔ یوں قیادت کسی ایک فرد کے بجائے مختلف کاموں اور صلاحیتوں میں تقسیم ہوگئی۔

لیکن جُو فری مین کا اہم نکتہ ہے کہ بظاہر اسٹرکچر ختم کرنے سے طاقت ختم نہیں ہوتی…وہ غیر رسمی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ چند مقبول آوازیں، بغیر باقاعدہ انتخاب کے، دوسروں سے زیادہ اثر حاصل کرسکتی ہیں۔ اس لیے افقی تحریکوں کو بھی شفافیت، احتساب اور کھلی شرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس طرزِ تنظیم کا فائدہ یہ ہے کہ تحریک ایک فرد پر منحصر نہیں رہتی۔ ایک شخص گرفتار ہوجائے یا سمجھوتہ کرلے تو پوری تحریک لازماً ختم نہیں ہوتی۔ مگر خطرہ یہ ہے کہ غیر رسمی رہنما بہت طاقتور ہوسکتے ہیں۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ’’لیڈر ہے یا نہیں؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ قیادت کیسے پیدا ہوتی ہے، طاقت کہاں جمع ہوتی ہے اور اسے جواب دہ کیسے رکھا جاتا ہے۔

یعنی قیادت ختم نہیں ہوئی, اس کی شکل اور طریقۂ کار بدل گیا۔

غیر مرکزیت بعض اوقات کمزوری نہیں، شعوری انتخاب ہوتی ہے

بہت سی نئی تحریکیں صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے غیر مرکزی نہیں ہوئیں۔ کئی کارکنوں نے مرکزی قیادت کے پچھلے تجربات سے بھی سبق لیا تھا۔

اگر پوری تحریک چند بڑے رہنماؤں کے گرد گھومتی ہو تو ریاست کے لیے بھی کام آسان ہوجاتا ہے: کسے گرفتار کرنا ہے، کس پر دباؤ ڈالنا ہے، کسے عہدہ یا فائدہ دے کر ساتھ ملانا ہے اور کس سے مذاکرات کرکے پوری تحریک پر اثر ڈالنا ہے۔

اگر ایک مرکزی رہنما سمجھوتہ کرلے تو کبھی پوری تحریک کی سمت بدل سکتی ہے۔ اسی لیے کچھ تحریکوں نے اختیار کو مختلف جگہوں پر بانٹنے کی کوشش کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر طاقت نیچے تک پھیلی ہو تو تحریک کا سر کاٹ کر اسے ختم کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔

یہاں بھی دونوں طرف فائدے اور نقصان ہیں۔ مرکزی قیادت تیزی سے فیصلہ کرسکتی ہے، نظم قائم رکھ سکتی ہے اور طویل مدتی حکمتِ عملی بہتر بنا سکتی ہے۔ غیر مرکزی تحریک زیادہ لوگوں کو شریک کرسکتی ہے، مگر فیصلہ سست اور اختلافات حل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اس لیے ایک طریقے کو مکمل درست اور دوسرے کو مکمل غلط سمجھنا مناسب نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کس حد تک مرکز میں ہو اور کس حد تک لوگوں میں تقسیم ہو۔

زاپاتیستا میکسیکو: سب ایک جیسے ہوئے بغیر بھی ساتھ ہیں

زاپاتیستا اس بحث کی ایک اہم مثال ہیں کیونکہ انہوں نے صرف احتجاج نہیں کیا بلکہ مقامی خود مختاری اور اجتماعی فیصلہ سازی کے مختلف طریقے بھی آزمائے۔

ان کا ایک مشہور خیال ہے:

’’سوال کرتے ہوئے ہم چلتے ہیں۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست کے لیے ہمیشہ پہلے دن سے ایک مکمل نقشہ موجود نہیں ہوتا۔ لوگ آگے بڑھتے ہیں، سوال کرتے ہیں، غلطیاں کرتے ہیں، تجربہ کرتے ہیں اور پھر اپنے طریقے بدلتے ہیں۔

یہ تصور اس سوچ سے مختلف ہے جس میں ایک عظیم لیڈر کے پاس پہلے سے مکمل جواب موجود ہو اور باقی سب صرف اس پر عمل کریں۔

زاپاتیستا کے ہاں ایک اور اہم تصور یہ تھا کہ مختلف لوگوں کا ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔ مختلف گروہ اپنی شناخت، ضروریات اور رائے برقرار رکھتے ہوئے بھی کسی بنیادی ظلم یا مشترک مسئلے کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں، جیسے کارپوریٹ مفاد اور نیولبرل نظام کے خلاف۔

یعنی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک جیسے ہوجائیں۔

ایک مزدور، عورت، طالب علم، کسان، مذہبی گروہ یا نسلی اقلیت ایک ہی وجہ سے سیاست میں شامل نہیں ہوتی۔ ان کے مسائل مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن کسی مشترک معاملے پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرسکتے ہیں۔

غیر مرکزیت کا مطلب انتشار نہیں، اختیار کی نیچے منتقلی ہے

زاپاتیستا کمیونٹیز میں مقامی اسمبلیاں اور خود مختار ادارے اہم رہے۔ یعنی غیر مرکزیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی مرضی کررہا ہے۔ مقامی ادارے، اجتماعی فیصلے اور احتساب موجود رہتے ہیں، مگر کوشش یہ ہوتی ہے کہ اختیار زیادہ سے زیادہ نیچے رہے۔

اسی لیے ان کی کامیابی کو صرف اس سوال سے نہیں ناپا جاسکتا کہ انہوں نے مرکزی حکومت پر قبضہ کیا یا نہیں۔ ان کی اہم کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے دہائیوں تک اشتراکی مقامی ادارے (participatory local institutions) قائم رکھے اور ایک مختلف سیاسی امکان کو عملی شکل دی۔

اس لیے ہر تحریک ایک ہی نتیجہ نہیں دے سکتی۔

ہر تحریک کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جاسکتا

ہم اکثر ہر تحریک کے سامنے ایک ہی سوال رکھ دیتے ہیں: حکومت گری یا نہیں؟ انتخاب جیتا یا نہیں؟ قانون بدل گیا یا نہیں؟

اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہو تو فوراً کہا جاتا ہے کہ تحریک ناکام ہوگئی۔

لیکن ہر تحریک ایک ہی مقصد سے پیدا نہیں ہوتی۔ کسی کا مقصد حکومت بدلنا ہوسکتا ہے، کسی کا پولیس تشدد کو قومی بحث بنانا، کسی کا معاشی عدم مساوات کو سامنے لانا، کسی کا مقامی خود اختیاری حاصل کرنا اور کسی کا نئی سیاسی جماعت یا ادارہ پیدا کرنا۔

اسی لیے کامیابی کا پیمانہ بھی تحریک کے مقصد اور حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔

پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا لوگوں کا خوف کم ہوا؟ کیا نئے تعلقات بنے؟ کیا عام لوگوں نے تنظیم کرنا سیکھا؟ کیا نئی قیادت پیدا ہوئی؟ کیا عوامی گفتگو بدلی؟ کیا نئے ادارے بنے؟ اور کیا اس تحریک کے اثرات کئی سال بعد کسی دوسری سیاسی شکل میں سامنے آئے؟

ہر تحریک اپنے حالات میں قدرتی طور پر (organically) بنتی ہے۔ اس لیے
Tahrir، Gezi، Occupy، Zapatistas یا Indignados
سے ایک جیسے نتائج کی توقع کرنا ہی غلط ہے۔

احتجاج صرف مطالبہ نہیں، تعلق بھی بن سکتا ہے

گیزی اور دوسری احتجاجی جگہوں پر ایک اور دلچسپ چیز نظر آئی۔ لوگ صرف حکومت کے خلاف نعرے نہیں لگارہے تھے۔۔۔کچھ عرصے کے لیے وہ خود ایک چھوٹا سا متبادل معاشرتی نظام بھی چلا رہے تھے۔

کوئی کھانا لارہا تھا، کوئی کتابیں، کوئی طبی امداد، کوئی صفائی کررہا تھا۔ کوئی ایسے زخمی شخص کی مدد کررہا تھا جسے وہ پہلے جانتا بھی نہیں تھا۔

یہاں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی (Beloved Community) کا تصور سامنے آتا ہے۔ احتجاج صرف ڈیمانڈ نہیں رہتا، تعلق (belonging) بھی بن جاتا ہے۔

انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ صرف کنزیومر، ووٹر یا ورکر نہیں بلکہ کمیونٹی کا حصہ ہے۔ یہاں انسانی ضرورت پیسے سے بڑی، تعاون مقابلے سے زیادہ اہم اور شمولیت (participation) محض نمائندگی (representation) سے زیادہ معنی رکھ سکتی ہے:

جس کے پاس کچھ ہے وہ دے رہا ہے۔
جسے ضرورت ہے وہ لے رہا ہے۔
ہر کام پیسے کے بدلے نہیں ہورہا۔
ہر انسان دوسرے کو صرف مقابل یا اجنبی نہیں سمجھ رہا۔

یہ کوئی مکمل مثالی معاشرہ نہیں، اور چند دن کے احتجاج سے دنیا کا معاشی نظام نہیں بدل جاتا۔ لیکن یہ ایک چھوٹا سا عملی تجربہ ضرور بن جاتا ہے کہ انسان صرف مقابلے اور ذاتی فائدے پر نہیں، تعاون اور باہمی ذمہ داری پر بھی اکٹھے ہوسکتے ہیں۔

اور یہی تجربہ ایک زیادہ گہرے سیاسی سوال کو جنم دیتا ہے:

اگر عام لوگ ضرورت کے وقت خود خوراک، علاج، صفائی، رابطہ اور اجتماعی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں، اگر وہ مرکزی حکم کے بغیر بھی کچھ نظم پیدا کرسکتے ہیں، تو کیا انہیں ہمیشہ صرف ہجوم، ووٹر یا پیروکار سمجھنا درست ہے؟

شاید اصل سوال یہ نہیں کہ عام لوگ سیاست کرسکتے ہیں یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ان کی یہ وقتی اجتماعی صلاحیت مستقل سیاسی طاقت کیسے بنے؟

اور یہی اگلی قسط کا موضوع ہے۔

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں