المیہ/حسان عالمگیر عباسی

ایک المیہ یہ بھی ہے۔۔ یہ بھی ایک المیہ ہے۔۔ یہ دو مختلف جملے ہیں اور تاثیر بھی یقیناً مختلف ہے۔ تحریر کا آغاز کرنے کے لیے اول الذکر، مؤخر الذکر سے بہتر ہے بلکہ یوں کہیے: المیوں کی ایک دکان ہے جس میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ معاشروں میں غیر ضروری، لا حاصل، بے سروپا تصورات کے بے حد تک یہ جا، وہ جا، بے جا اثرات ہیں۔ یہ اثرات کثرت میں ہیں اور اس حد تک ہیں کہ بہتر تصورات کی جگہ بھی گھیر لیتے ہیں مثلاً ایک بے تُکی بات میڈیا کی زینت بنے گی، بار بار دہرائی جائے گی، سامعین اس حد تک چوکنے پائے جائیں گے گویا کوئی بزنس ڈیل ہے، ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے یا ضروری میٹنگ کال ہے۔ بات یہیں نہیں تھم رہی۔ اب اس خبر پہ بس چلے تو ہفتوں وگرنہ دنوں پہ محیط بحث و تمحیص کی محافل سجائی جائیں گی گویا: رکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہ/ پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ! آخر وہ کیا ہے جو پہاڑوں کے دل چیر رہی ہے؟ شاید دسمبر کی یخ بستہ رات میں برف کی مکھیاں یا نومبر کی خزاں؟ اگست و جولائی کا ساون یا مئی، جون کی بہار؟ پھل و پھول یا دھوپ، چھاؤں؟ ایسا نہیں ہے! دل چیرنے والی خبر محض عالمی و علاقائی سیاست ہے۔ کٹھا چٹھا محض یہ ہے کہ دنیا مفادات کے پیچھے ہے، ہاتھیوں اور ان کے مفادات کی جنگ میں ‘عوام الناس’ کو بقا کے نام پہ قربان کیا جاتا ہے, تین دنیائیں بنائی جاتی ہیں، تیسری دنیا کو پہلی دنیا کی بقا کے لیے رسوا ہونا پڑتا ہے اور جب پہلی دنیا کی آپس میں بھی نہیں بن پاتی تو ‘طاقت کے توازن’ کے نام پہ نئی صفوف بنائی جاتی ہیں اور تیسری دنیا کے ہاتھ اس بار بھی رسوائی آتی ہے۔ اسی مفادات کے سسٹم اور نیٹ ورک کے ارد گرد خبر بنتی ہے، خبر چلتی ہے، بار بار چلتی ہے، لوگ چائے کی چسکیوں کے ساتھ یہ خبر سنتے جاتے ہیں۔۔ صحافی، تجزیہ نگار و دیگر ٹی۔وی پہ اپنے گول، مول تجزیے پیش کرتے ہیں اور فطری طور پہ بہرحال معقول لیکن مصنوعی دنیا کے جبر تلے کم عقل ‘عوام الناس’ ان خبروں کو اپنے کانوں کی زینت بناتے ہیں اور خوشی یا غمی کا اظہار کرتے ہیں۔ اگلے روز پھر اسی بے ہنگم انتہائی پیچیدہ لیکن عادت سے مجبور اسی کم عقل و بے دانش لُوپ کو ترقی پسندانہ عزائم سمجھ لیتے ہیں۔ یہی عوام الناس جمہوریت، بادشاہت تو کہیں آمریت کے نام پہ بارہا بے وقوف بنائے جاتے ہیں اور عوام بھی یہ سمجھتی ہے کہ کچھ نہیں ہے بدلنے والا! ایسا ہی چلتا آرہا ہے! عالمی سطح پہ بجنے والے بے سُرے گیتوں کی دوسری، تیسری دنیا میں نقالی ہوتی ہے۔ وہ نقالوں سے ہوشیار رہیں کی پڑیا بنا کر بیچتے جاتے ہیں چونکہ نقل کی بھی نقل وافر پائی جاتی ہے! تیسری دنیا لنڈے کی دکان ہے جہاں استعمال شدہ جوتے کی وقعت اسی دنیا کی با ضابطہ دکان میں قواعد کی روشنی میں با ضابطہ بکنے والے جوتے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے چونکہ تیسری دنیا نے کبھی زنجیروں کو توڑنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ یوں پہلی دنیا اِن سیکیور ہونے لگتی ہے اور جنگ عظیم شروع کر دیتی ہے۔ کسی دانشور نے دلیل میں کہا: پہلے جنگیں لڑنے کے لیے اسلحہ بنایا گیا اور اب جنگیں چھیڑی گئیں تاکہ اسلحہ فروخت کیا جا سکے۔۔ جہاں اسلحہ بے مول ہو جاتا ہے، وہاں مسلسل معاشی ہتھکنڈوں کے سہاروں سے کام چلاتی ہے۔ جب مزاحمتی درجہ بندیاں یا گروپس مزاحمت کا سہارا لیتے ہیں تو ان پہ دہشت گردی کے پرچے کٹ جاتے ہیں! یہ عوام کا حال ہے۔۔ خواص کا حال اس سے بھی برا ہے کیونکہ وہ خواص جو ہیں! تفصیلات میں جانے کی بجائے حسن نثار صاحب کی بات زیادہ بہتر اور موزوں ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس بھی کوئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈ شیوارڈ ہے؟ تو انھوں نے پنجابی میں انتہائی خوبصورتی سے کہا: تہانوں میں کُتا، بلا نظر آناں واں؟؟ یہاں عوام کی سیاسی سُوجھ بُوجھ کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ یہاں ایشوز کی سیاست کا شعور سرے سے ہے ہی نہیں! یہاں جمہوریت کو عوام بشمول جوانان شاہ سے بڑھ کے شاہ کی وفاداری سمجھتے ہیں! کوئی نواز شریف کی محبت میں گرفتاریاں دے رہا ہے تو کوئی خان صاحب کے لیے ہتھکڑی پہن رہا ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ جمہوریت میں تو قیادت ایک انسان کا طواف نہیں کرتی بلکہ مشاورت ہوتی ہے۔ روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں یا فرقہ وارانہ سیاست کی تفصیل میں تو حسن نثار کی بات ہی چار اوراق ہیں!! سیاست سے نکل جائیں تو معاشرت آ جاتی ہے۔ اس کی تفصیل میں بھی حسن نثار کی بات کافی ہے۔ معیشت کا ذکر تو ہو چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت پہلی دنیا کے ارد گرد گھومتی ہے جو تیسری دنیا کے غصب کے نتیجے میں ان کے غضب سے چلتی ہے جہاں سود، رشوت، ستائش، چوری، ڈاکا سب جائز ہے اور مذہب کا سہارا بھی میسر رہتا ہے۔ یک طرفہ مفادات کی سرمایہ دارانہ معیشت کے مدِ مقابل ایسی سماجی و اقتصادی معیشت جو باہمی مفادات کو ترجیح دیتی ہو شاید وقت کا تقاضا بنتی جا رہی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے حسن نثار صاحب کا دفتر نو سے نو کھلا ملے گا! عالمی سطح پہ چلنے والی فلم جب ناکام ہو جاتی ہے تو اس کا عکس مقامی سطح پہ بڑی سکرین پہ بظاہر بڑی کامیابی سے چلایا جاتا ہے جو بالآخر ناکامی کا استعارہ بن جاتی ہے, تب تک عالمی منڈی سے نئی فلم نیچے منتقل کر دی جاتی ہے! یہی حال پر شعبے میں ہے۔۔ تعلیمی نظام کا اندازہ یہاں سے لگایا جائے کہ نویں جماعت کے بچے فیل نہیں ہوئے بلکہ نظام کی بد نیتی آشکار ہوئی ہے۔ والدین کے جذبات کا نقصان ہوا ہے۔ اپنی بقا کے لیے بچوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ ان سب ناکامیوں کے بیچ گازا اور دیگر تمام مظلوم ممالک کے ساتھ یک جہتی میں کھڑے پہلی، دوسری، تیسری دنیاؤں کی مزاحمتی تحریکیں اور اصل سیاسی کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں! یہی وہ گروہ ہے جو اکیس توپوں کی سلامی کا مستحق ہے! اس تحریر کا آغاز یہاں سے ہوا ہے: مری میں کل شدید بارش اور آندھی اور طوفان کی وجہ سے اب بھی بجلی غائب ہے، قریباً دو ڈیڑھ ایام ہو چکے, وہ غائب ہے! رات کے اندھیرے میں فون کی روشنی سے تنگ آکر چاند کی روشنی سے فیض لینے گیا تو فون کمرے میں ہی چھوڑ آیا تھا۔۔ واپسی میں اندھیرے کی وجہ سے ڈگمگا نہ جائیں, پھونک پھونک کر قدم جما رہا تھا کیونکہ ٹھوکر کا خدشہ بہرحال رہتا ہے۔۔ رات کی چاندنی میں شدت والے اندھیرے بھی انتہائی خاموشی سے اپنی زبان بولتے ہیں۔۔ اس شدت تلے محسوس ہوا جیسے میرے پلنگ پہ کوئی ہے جو قلا بازیاں لے رہا ہے۔۔ اب تنہائی کے اس عالم میں حرکت محسوس جبکہ حرکتِ قلب بند ہو رہی تھی۔۔ حالانکہ میں دسمبر کی راتوں میں بھی تنہا رہ لیتا ہوں، رہا ہوں لیکن یکدم اس حرکت نے اندر ہی اندر سوالات کے انبار جمع کر دیے۔۔ پہلے تو لگا بلی ہے جس کا جائے مسکن سِیلنگ ہے آگری ہے۔۔ میرے ہاتھ میں کھجور تھی۔۔ بلکہ کجھوروں کا گُچھا تھا اور اخروٹ تھا۔۔ وہ میں نے وہیں میز تلے رکھ دیے اور آہستہ آہستہ قدم بڑھائے اور فون تک پہنچا، اور خاصے تردد کے بعد جب فون کی بتی جگمگانے لگی تو کچھ بھی ایسا نہیں تھا البتہ کیفیت میں اطمینان مبتلا ہونے لگ گیا! یہاں سے میں نے یہ چیز ثابت کی ہے کہ حواسِ خمسہ اصل شعور ہے، جب تک آنکھوں نے دیکھ نہیں لیا, محض محسوس کرنا ناکافی ہے! جب روشنی ہوئی تو قلابازی کی آواز بھی نہیں تھی چونکہ وہ محض خام خیالی تھی لیکن اس خام خیالی کو بینائی نے بہتر خیال میں بدل دیا۔۔ اس خام سی تحقیق کے نتیجے میں تحریر لکھنے کا آغاز کیا جس کا آغاز کچھ یوں تھا: ایک المیہ یہ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں