ملحد یا مرتد ؟- پروفیسر سید عاصم علی

پاکستان کے بعض برخود غلط self-opinionated افرادیوٹیوب پر اسلام کے خلاف تبلیغ میں شدت سے مصروف ہیں۔ کچھ ان میں سے بدلحاظ اور بیہودے ہیں اور کچھ میٹھی چھری، بقول شیکسپیر:

Bear welcome in your eye, / Your hand, your tongue. Look like th’ innocent flower, / But be the serpent under ’t. (Macbeth)

بعضے ان میں سے کتابوں کا ڈھیر سامنے رکھ کر بیٹھتے ہیں تاکہ اثر پذیر اور سطحی ذہنوں کو مرعوب کر سکیں۔ اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب تک انھوں نے یہ چشم کشا کتابیں نہیں پڑھی تھیں گمراہی میں پڑے ہوئے تھے، یعنی مسلمان تھے۔ انہی کا یہ بھی دعوا ہے کہ اردو ہندی دنیا میں انکے جہاد کی بدولت الحاد تیزی سے پھیل رہا ہے، مسلمان دیرینہ گمراہی سے نکل رہے ہیں، اور پاکستانی ملحدین کی تعداد کم از کم بائیس لاکھ تک پہونچ چکی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو صدمےاور فکر کی بات ہے کہ جو ملک خدا کے نام پر تراشا گیا تھا وہ ایک طرف مسلک پرستی کی دلدل اور دوسری طرف خدا بیزاری کی آماجگاہ بنتا جا رہاہے۔ چوں کفر از کعبہ بر خیزد، کجا ماند مسلمانی۔

یہ ’یوٹیوبرین‘ (YouTubers) امریکہ وغیرہ میں مقیم ہیں، خود کو ’ملحد‘ کے طور پر متعارف کراتے ہیں، اور اپنے الحاد کی پُر زور اور ہمہ وقتی یوٹیوبی تبلیغ میں لگے ہیں۔ لیکن میری ناقص رائے میں یہ ایک پُر فریب تعارف ہے۔ یہ لوگ اپنے ولاگوں vlogs میں ملحد سے زیادہ ”مرتد“ کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں اور تبلیغ بھی الحاد کی نہیں، ارتداد کی کرتے ہیں۔ اب یا تو یہ ”مرتد“ اور ”ملحد“میں فرق نہیں جانتے یا جان بوجھ کر بے ضرر سا مگر پُرفریب لفظ استعمال کرتے ہیں، تا کہ ناواقف نئی نسل مسئلے کی سنگینی کو محسوس نہ کر سکے اور آسانی سے انکے دام میں آجائے۔ ایک مرتد کا خود کو صرف ملحد کہنا مغالطہ آمیز تقلیل بیانی understatement ہے۔ ملحد اور مرتد مترادف الفاظ نہیں، ان میں نمایاں فرق ہے۔ اسی طرح غیر مسلم اور کافر میں بھی فرق ہے۔

”ملحد“ کا سیدھا سا مطلب ہے خدا کے وجود کو نہ ماننے والا، جس کو ہندی میں ناستک اور انگریزی میں atheist کہتے ہیں۔ ”مرتد“ یعنی وہ جو اسلام کو ترک کرکے غیر مسلم ہو گیا ہو، یعنی انگریزی میں apostate۔ ”غیر مسلم“ وہ جو اسلام کا پیروکار نہیں، جیسے عام عیسائی، ہندو، بودھ وغیرہ۔ اور ”کافر“ 1۔سادہ مفہوم میں اسلام کا انکار ی اور 2۔ اصطلاحی مفہوم میں نہ صرف انکاری بلکہ اسلام کو مٹانے کی نیت سے آمادۂ پیکار۔ یعنی آج کی اصطلاح میں فسادی یا دہشت گرد terrorist۔ قران میں انہی فسادی کفار کی دہشت گردی کے سدباب کا حکم ہے (البقرۃ:۱۹۱)، عام شریف غیر مسلموں سے مخاصمت کا نہیں۔ ہر غیرمسلم اصطلاحی کافر نہیں ہوتا۔ بہت سے غیر مسلم ایسے ہوتے ہیں جو اسلام سے واقف ہی نہیں۔ ان پر کبھی اسلام پیش کیا گیا نہ انھوں نے کبھی اسکو جھٹلایا۔ جنھوں نے جھٹلایا ہی نہیں وہ ”جھٹلانے والے“ یعنی کافر کیونکر ہو سکتے ہیں؟ ایسے لوگ صرف غیر مسلم ہیں۔ انکو کافر کہنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ قرآن تو اس سے بھی آگے بڑھ کر اُن غیر مسلموں کے بارے میں جواہل کتاب ہیں بے حد رواداری اور اپنائیت کا رویہ تجویز کرتا ہے۔ اُن کے کھانوں کو حلال ٹھہراتا ہے اور انکی خواتین سے نکاح کو جائز ،چاہے وہ اپنا دین تبدیل نہ بھی کریں۔

ہر ملحد مرتد نہیں ہوتا۔ اگر کوئی عیسائی، یہودی یا ہندو خدا کا انکار کر دے تو وہ صرف ملحد ہے۔ اُس پر مرتد کی اسلامی اصطلاح چسپاں نہیں ہو گی، اسلیے کہ وہ اسلام سے نہیں پھرا۔ وہ اس میں تھا ہی نہیں جو اُس سے پھرتا۔ مثال کے طور پر تمام بودھ ملحد ہیں، مرتد نہیں۔

اسی طرح ہر مرتد ملحد نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے ایک شخص اسلام کو ترک کرکے ہندو، عیسائی یا بودھ ہو جائے۔ اسلام کو ترک کرنے کی وجہ سے وہ مرتد تو کہلائے گا، مگر ملحد نہیں، اسلیے کہ وہ اسلام سے خارج ہوا ہے، خدا کے وجود کا انکاری نہیں۔

اگر یہ پاکستانی یوٹیوبرین ملحدِ خالص ہوتے تو اپنے ولاگوں میں خدا کے وجود یا عدم وجود پر بحث کرتے اور ہر تصورِ خدا کی نفی اور ہر مذھب کے ابطال پر انکی بحث مرکوز ہوتی۔ یہ اسلامی تصور خدا کے ساتھ عیسائی، برہمنی، یہودی، زردشتی، مانوی، و دیگر تصور ہائے خدا کو بھی زیر بحث لاتے اور انکو ناقص یا غلط ثابت کرتے۔

یوٹیوبرین ایسا کبھی نہیں کرتے، حالانکہ دوسرے ادیان میں تصور خدا کی تنقید و تنقیص کے لیے جو مواد میسر ہے وہ اسلام میں نہیں۔ انکی گفتگو کا سارا زور اسلام، قرآن، اور پیغمبر اسلامؐ سے شدید عداوت کے اظہار پر مرکوز رہتا ہے، جس میں استہزا کا پہلو بھی شامل ہوجاتا ہے۔ یہ افراد اسلام سے نکل گئے اسلیے مرتد ہو گئے۔ اس لحاظ سے انھیں اپنا تعارف “ملحد“ کی بجائے ”مرتد“ کے طور پر کرانا چاہیے کہ وہ مسلسل حالت ارتداد میں ہیں۔ ارتداد کی ہی تبلیغ کرتے ہیں، الحاد کی نہیں۔ خدا کا ہونا یا نہ ہونا ثابت نہیں کرتے، صرف اسلام کو باطل گردانتے رہتے ہیں، اورقرآن، اور پیغمبراسلامؐ کی دلآزار تنقیص میں مصروف رہتے ہیں۔ مرتد کے ساتھ وہ اصطلاحی “کافر“ بھی ہیں۔ یعنی اسلام کے خلاف عملاً بر سر پیکار۔ اپنی دانست میں یہ اسلام کو زک پہونچانے کے مشن پر ہیں۔ وہ اسکو مٹا دینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ناکامی ان کا مقدر ہے یہ الگ بات ہے۔ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِــُٔـوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ‏ (الصف:۸)، یعنی ”وہ ُ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا فرما کر رہے گا، خواہ یہ جھٹلانے والے متشددین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“

اگر یہ یوٹیوبرین تصور خدا کو باطل ٹھہراتے اور اس کی زد میں اسلامی تصور بھی آجاتا تو بات دیگر ہوتی۔ اگر یہ مذھب اور اسکی ہر شکل کو باطل ٹھہراتے اور اس کی زد میں اسلام بھی آجاتا تب بھی بات دیگر تھی۔ اگر یہ اپنے مناظرے اور مذاکرے ہندو، عیسائی، یہودی، سکھ اور بودھ علماء کے ساتھ بھی کرتے اور انکے مذھبوں کو بھی باطل ثابت کرتے، جیسا کہ اسلامیان کے ساتھ کرتے ہیں، تو انکی فکر اور اپروچ کو معروضی اور گلوبل کہا جا سکتا تھا۔ لیکن انکی گفتگو کا محور و مرکز صرف اور صرف قرآن اور اسلام کی تنقیص و تردید ہے۔ اسکی تان رسول اکرمﷺ کو اپنے دعوائے نبوت و رسالت میں نعوذباللہ جھوٹا ثابت کرنے پر ٹوٹتی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ ایک کردار کو اپنے اوپر اوڑھے رہے جو حقیقت کے برعکس تھا۔ اس Islam-specific رویے سے خود ان کا اپنا دعوائے الحاد جھوٹا اور منافقانہ ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ انکو نفرت کی حد کو پہونچی ہوئی عداوت صرف اسلام اور پیغمبر اسلامؐ سے ہے۔ خدا کے کسی اورتصور سے اور کسی اور مذھب کے عقائد سے انکو کوئی پریشانی نہیں۔ اسی منفی اسلام مرکزی رویّے کی بنا پر یہ شبہ بھی تقویت پکڑتا ہے کہ شاید انھیں بعض نادیدہ قوتوں کی طرف سے ضروری علمی مواد، تربیت، اور دیگر وسائل ِحیات کے ساتھ اس مشن پر مامور کیا گیا ہو۔

بایں ہمہ :
آخر میں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسلمان مرتد وغیرہ کے بارے میں عموماً جو رویہ اختیار کرتے ہیں وہ قرآن نے تجویز نہیں کیا۔ اور رسول اکرمؐ بالائے قران کچھ تجویز نہیں فرماتے تھے۔ خدا و رسولؐ سے آگے بڑھنے کی کوشش کو خود قرآن نے ممنوع قرار دیا ہے، لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ، ”اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو“ (الحجرات: ۱)۔ قرآن نے انسان کو کافر یا مرتد ہونے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ کوئی قدغن عائد نہیں کی۔ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ، ”تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے“ (الکھف: ۲۹)۔ اور اسکی کوئی قانونی سزا مقرر نہیں کی جسکو انسان نافذ کریں۔ اسکی جو بھی سزا ہے یا ہوگی وہ خدا کے ذمے ہے۔ اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ خود اُسکا ہے، ہمارا نہیں (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ، یعنی ”بیشک ہم نے اس یاددہانی کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں“ (الحجر:۹)۔دنیا میں ہر شخص اپنے الحاد یا ارتداد یا کفر یا شرک کے لیے آزاد ہے، کہ یہ زندگی مرحلۂ آزمائش ہے۔ جبر سے آزمائش لایعنی ہو جاتی ہے، اور عذاب و ثواب باطل۔ اس ضمن میں دیکھیے فرموداتِ خداوندی:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ (المائدۃ:54) ”اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے“۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًا…،(النساء:137)، ”بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو اللہ ہرگز نہ انہیں بخشے گا اورنہ انہیں راہ دکھائے گا۔“

آپ نے دیکھا؟ بار بار کافر اور مرتد ہوجانے پر بھی کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ اور ملحد سے تو قرآن میں وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُۚ (ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ، الجاثیۃ: 24) جیسے ہلکے پھلکے اشارے کے سِوا کوئی خاص تعارض بھی نظر نہیں آتا۔ البتہ قرآن دلآزاری اور فتنہ و فساد پھیلانے کی آزادی نہیں دیتا۔ قانونی سزا دنیا میں فتنہ و فساد پھیلانے کی ہے، خواہ ملحد پھیلائیں یا کافر یا مؤمن۔ یوٹیوبرین چونکہ استدلال اور تعقل کے ہتھیار سے ارتداد کا فساد پھیلانے کے مشن پرہیں، اسلیے اسی ہتھیار سے اس مہم کا سد باب ضروری ہے۔ کسی اور طرح نہیں۔

اخیراً یہ کہ مذکورہ یوٹیوبرین کو بجائے ملحد کے اپنا تعارف بطور مرتد کرانا چاہیے۔ اور فخریہ کرانا چاہیے۔ مصلحت کیسی؟ جو ارتدادی مشن اختیار کیا ہے اسکو الحاد کے پردے میں چُھپانے کا فریب کیونکر؟ مزید یہ کہ ہمارے جو مؤقر صاحبان علم اور دانشور اُن کے اٹھائے گئے نکات پر گفتگو کرتے ہیں، انھیں بھی ان افراد کو مرتد ہی کہنا چاہیے، نہ کہ ملحد۔ الحاد انکے ارتداد کا سبب ہے، نہ کہ ارتداد الحاد کا سبب۔ اور غامدی صاحب کو “الحاد کا مقدمہ“ کے ساتھ ”ارتداد کا مقدمہ“ بھی لکھنا چاہیے۔ آکسفرڈ کے محترم محمد اکرم ندوی صاحب کو اسکا فی الفور جوابی بیانیہ سامنے لانا چاہیے۔ ایسا بیانیہ جو ارتدادی بنیادیات پر کاری ضرب لگاتا ہو۔ اور رامپور کے محترم سید عبداللہ طارق صاحب کو اپنے خطبوں اور گفتگوؤں میں ان ارتدادی نکات پر سنجیدہ اور فوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں