سڑک سے طاقت تک: اجتماعی طاقت کیسے بنتی ہے؟
حصہ اول: عوام، تعلق اور اجتماعی طاقت
پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ ڈیجیٹل دور نے لوگوں کے لیے تیزی سے ایک دوسرے سے جڑنا، معلومات پھیلانا اور احتجاج کے لیے جمع ہونا آسان کردیا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا سڑک پر جمع ہونے والے لوگ صرف ایک ہجوم ہیں، یا وہ خود بھی سیاسی طاقت پیدا کرسکتے ہیں؟
“عوام جاہل اور بے ہنگم ہجوم ہیں” ۔۔۔ یہ تصور کیوں پھیلایا جاتا ہے؟
عوام کو اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جذباتی ہیں، جاہل ہیں، خود فیصلہ نہیں کرسکتے اور اگر انہیں کھلی آزادی مل گئی تو معاشرہ انتشار کا شکار ہوجائے گا۔ بظاہر یہ عوام کے بارے میں ایک سادہ سا فیصلہ لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے طاقت کی ایک پوری منطق کام کرتی ہے۔
اگر لوگوں کو مسلسل یہ یقین دلایا جائے کہ “آپ خود نہیں جانتے کہ آپ کے لیے کیا بہتر ہے” تو پھر کوئی دوسرا آسانی سے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ “ہم جانتے ہیں، اس لیے فیصلہ بھی ہم ہی کریں گے۔”
یہی سوچ اختیار کو جواز فراہم کرتی ہے۔ جب عوام کو بے عقل ہجوم سمجھا جائے تو ان پر نگرانی، سخت نظم اور اوپر سے فیصلے مسلط کرنا بھی ضروری دکھائی دینے لگتا ہے۔ عوام کی سیاسی حیثیت شہری سے کم ہوکر تابع یا فالور (follower, passive listener) کی بن جاتی ہے۔
Thomas Hobbes
کی سیاسی فکر میں بھی ایک بنیادی سوال یہی تھا کہ اگر انسان ایک دوسرے سے خوفزدہ ہوں، اپنے مفادات کے لیے ٹکرائیں اور معاشرہ انتشار کا شکار ہوسکتا ہو تو امن اور نظم کیسے قائم رکھا جائے؟ ہابز کے جواب میں ایک مضبوط مرکزی سیاسی اختیار کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ بعد کی سیاست میں اسی قسم کی سوچ کا ایک سادہ ورژن یہ بن سکتا ہے کہ لوگ اگر کم علم ، جاہل ، بے شعور ہیں، خود کو منظم نہیں کرسکتے تو انہیں منظم کرنے کے لیے ایک مضبوط مرکز ضروری ہے، جو اوپر سے اپنا نظام اور حکم مسلط کرے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ یہ تصور لوگوں کو کنٹرول کرنے کا جواز دیتا ہے۔ یہ لوگوں کو نفسیاتی طور پر بھی کمزور کرتا ہے۔ اگر ایک انسان بار بار سنتا رہے کہ تم ناسمجھ ہو، تم جذباتی ہو، تم خود فیصلہ نہیں کرسکتے، تو آہستہ آہستہ وہ اپنی ہی سیاسی صلاحیت پر شک کرنے لگتا ہے۔۔ ایک کالونی کے اندر اربوں روپے اسی بیانئے کو نارملائز کرنے کے لئے صرف کیے جاتے ہیں، تا کہ لوگ خود کو کمتر سمجھ کر اپنی محض فولّور والی حثیت کو قبول کریں
پھر طاقت صرف باہر سے اسے کنٹرول نہیں کرتی؛ وہ اس کے اندر یہ احساس بھی پیدا کردیتی ہے کہ “میں خود فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہوں۔”
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’لوگ اچھے ہیں‘‘ ایک سادہ اخلاقی جملہ نہیں رہتا بلکہ ایک سیاسی سوال بن جاتا ہے۔
“لوگ اچھے ہیں” اتنا سیاسی جملہ کیوں بن گیا؟
گیزی پارک اور دوسرے احتجاجوں میں کئی لوگوں نے یہ بات کہی کہ انہیں پہلے معلوم ہی نہیں تھا کہ اجنبی انسان ایک دوسرے کے لیے اتنا کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ تو ہمیشہ انکو دشمن یا “دوسرا” کی نظر سے ہی دیکھتے رہے۔
اسپین کی (Indignados) تحریک سے وابستہ ایک خاتون نے کہا کہ احتجاج کے تجربے نے انسانیت پر اس کا اعتماد واپس کردیا۔ ہانگ کونگ کے ایک مظاہر نے احتجاجی جگہ کو اپنا ’’گھر‘‘ کہا۔
یہ تجربات اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ عام لوگ صرف خود غرض اور بے ہنگم ہجوم ہیں جنہیں اوپر سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر لوگ خود تعاون کرسکتے ہیں، ذمہ داری لے سکتے ہیں، ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتے ہیں اور کسی مشترک مسئلے کے گرد اپنی اجتماعی زندگی کو منظم کرسکتے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام شہری کا سیاسی کردار صرف حکم ماننے یا ووٹ دینے تک کیوں محدود ہو؟
یہ تجربہ کم از کم کچھ وقت کے لیے دکھاتا ہے کہ عام لوگ صرف موبلائز (mobilize) ہونے والی آبادی نہیں بلکہ وہ خود بھی پولیٹیکل ایکٹر بن سکتے ہیں۔
صرف مطالبہ نہیں، تعلق اہم ہے
یہیں (Beloved Community) کا تصور اہم ہوجاتا ہے۔ احتجاج بعض اوقات صرف حکومت سے مطالبہ کرنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ لوگوں کو ایک مختلف اجتماعی تعلق کا تجربہ بھی دیتا ہے۔اور کبھی یہ تعلق کا احساس (belonging to a community) ڈیمانڈ سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔۔
کچھ دیر کے لیے یہ سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ “ہم کیا چاہتے ہیں؟” بلکہ یہ سوال زیادہ اہم بن جاتا ہے کہ “ہم اپنے تمام تر تفرقات اور اختلافات کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟”
یہ سرمایہ داری کا مکمل متبادل تو نہیں ہوتا اور چند دن کا احتجاجی کیمپ (protest camp) پورے معاشرے کو تو نہیں بدل دیتا۔ لیکن یہ ضرور دکھا دیتا ہے کہ انسانی تعلق صرف مقابلے، ذاتی مفاد اور خرید و فروخت پر قائم ہونا ضروری نہیں۔
تقسیم کرو اور حکومت کرو کی دیوار کہاں ٹوٹتی ہے؟
طاقتور طبقات کے مفاد میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ لوگ الگ الگ رہیں ۔۔۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں۔ جب سماج میں تعاون کی بجاۓ مقابلے کی فضا پیدا کر دی جائے، لوگوں کے درمیان شک، بدگمانی اور عدمِ اعتماد پیدا ہوجائے تو وہ ایک دوسرے کو ساتھی کے بجائے حریف، مقابل، دشمن یا ’’دوسرا‘‘ سمجھنے لگتے ہیں۔ بکھرے ہوئے لوگ اپنے مشترک مسائل کے باوجود آسانی سے مشترک سیاسی طاقت نہیں بنا پاتے۔
اس تقسیم کی کچھ شکلیں بہت پرانی ہیں: مذہب، فرقہ، ذات، نسل، زبان اور علاقہ۔ لیکن جدید نیولبرل معاشرے میں تقسیم کی کچھ نئی شکلیں بھی سامنے آئی ہیں۔ مرد اور عورت، مختلف جنسی شناخت رکھنے والے افراد، امیر اور غریب، مستقل ملازمت کرنے والے اور غیر محفوظ مزدور، شہری اور دیہی آبادی۔۔۔۔ان فرقوں کے مشترکہ مسائل کو بھی یوں پیش کیا جاتا ہے کہ ہر فرقہ اسکو صرف اپنا مسلہ سمجھتا ہے ۔۔ یوں مشترک مسئلہ پسِ منظر میں چلا جاتا ہے۔
یوں انسان پہلے اپنی الگ شناخت اور مفاد میں نظر آتا ہے، دوسرے انسان کے ساتھ اس کی مشترک زندگی اور مشترک مسئلہ بعد میں۔
Networked movements
کی ایک اہم طاقت یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی ان دیواروں کو عارضی طور پر توڑ دیتی ہیں۔ احتجاجی جگہ پر ایسے لوگ ایک ساتھ آجاتے ہیں جو عام حالات میں شاید ایک دوسرے سے ملتے بھی نہ ہوں۔ گیزی میں مختلف نظریاتی، مذہبی، ثقافتی اور سماجی پس منظر رکھنے والے لوگ ایک ہی جگہ موجود تھے۔ مختلف احتجاجی تحریکوں میں نوجوان اور بزرگ، عورتیں اور مرد، طلبہ، مزدور اور مختلف سماجی و سیاسی پس منظر رکھنے والے لوگ بھی ایک مشترک مسئلے پر ایک ساتھ کھڑے ہوئے۔۔ ٹرانس جینڈر ، ایل جی بی ٹی کیو سپورٹر ، فٹ بالر ،۔۔۔۔۔وہ سب جو پروپیگنڈا کے تحت ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔۔ان میں کچھ نے یہ کہا بھی :
” اسی لئے ہماری حکومتیں ہمیں ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہیں، ایک دوسرے کا دشمن دکھاتی ہیں”
یہاں شناختیں ختم نہیں ہوتیں، لیکن کچھ دیر کے لیے ان سے بڑا ایک مشترک مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔۔وہ سٹرکچرل طور پر اپنے مشترکہ مسائل کو دیکھنے لگتے ہیں ۔۔۔ جیسے کسان کی ابتری ، مزدور کی سستی لیبر ، جاب والے کی کم انکم اور عدم تحفظ ، پبلک اداروں کی نجکاری ، بیروز گاری، مہنگائی ، کارپوریٹ جرائم ، وسائل اور اراضی کی لوٹ مار ، جابرانہ ٹیکس اور گرتی معیشت ، جدید دیہی اور شہری مسائل ، ہجرت کے مسائل ۔۔۔۔۔ سب کا تعلق اکثر نیو لبرل کیپٹلسٹ ڈھانچے سے ہے ۔۔
جو شخص عام حالات میں آپ کے لیے صرف ایک ’’دوسرا‘‘ یا اجنبی تھا، احتجاج میں وہی شخص آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ براہِ راست ملاقات میں دوسرے انسان کے بارے میں بنائی گئی بہت سی دور کی تصویریں بدلنے لگتی ہیں۔ جہاں پروپیگنڈے میں ’’دوسرا‘‘ ایک تصور ہوتا ہے، سامنے بیٹھا ہوا انسان نہیں۔ تحریک میں وہی ’’دوسرا‘‘ آپ کا ساتھی بن جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم سلسلہ بنتا ہے: ملاقات سے پہچان، پہچان سے اعتماد، اعتماد سے یکجہتی، اور یکجہتی سے اجتماعی طاقت۔
اسی لیے ریاستی جبر ہر بار صرف خوف پیدا نہیں کرتا۔ کبھی کسی گرفتاری، پولیس تشدد یا ناانصافی کا مشترک تجربہ مختلف لوگوں کے الگ الگ غصے کو ایک مشترک کہانی میں جوڑ دیتا ہے۔ جس دباؤ کا مقصد لوگوں کو الگ الگ اور کمزور رکھنا تھا، وہ بعض حالات میں انہیں ایک دوسرے کے قریب بھی لاسکتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جب بکھرے ہوئے افراد پہلی بار ایک دوسرے کو حریف نہیں بلکہ ایک مشترک سیاسی طاقت کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔
مگر کیا یکجہتی ہی سیاسی طاقت ہے؟
یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہوجانا سیاسی طاقت کی بنیاد ضرور بن سکتا ہے، مگر خود بخود پائیدار سیاسی طاقت نہیں بن جاتا۔
لوگ چند گھنٹوں میں سڑک پر جمع ہوسکتے ہیں، لیکن مشترک فیصلہ، مسلسل رابطہ، ذمہ داری کی تقسیم اور طویل المدت سیاسی سمت کے لیے کچھ اور درکار ہوتا ہے۔
یکجہتی طاقت پیدا کرسکتی ہے، مگر طاقت کو قائم رکھنے کے لیے تنظیم درکار ہوتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اگلا سوال شروع ہوتا ہے: اگر عام لوگ صرف ہجوم نہیں بلکہ سیاسی ایکٹر بن سکتے ہیں، تو ان کی اجتماعی طاقت کو تنظیم، قیادت اور ادارہ جاتی طاقت میں کیسے بدلا جائے؟
جاری ہے


