کسی بڑی اور باہم جڑی ہوئی آبادی کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنا صرف نقشے کی تبدیلی نہیں ہوتا…اس سے اس آبادی کی اجتماعی سودے بازی (bargaining power) کی طاقت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ انتخابی سیاست میں اگر کسی آبادی کو مختلف حلقوں میں اس طرح بانٹ دیا جائے کہ وہ کہیں بھی مؤثر اکثریت نہ بنا سکے تو اسے “Gerrymandering” یا خاص طور پر “Cracking” کہا جاتا ہے۔
وسیع تر سیاسی سطح پر بھی یہی اصول اہم ہے کہ جب تاریخی طور پر جڑے ہوئے لوگ، ان کے وسائل اور ان کے مشترکہ مفادات مختلف چھوٹی اکائیوں میں بٹ جائیں تو ان کے پاس ریاست، مرکز یا بڑی کارپوریٹ طاقت کے سامنے اجتماعی طور پر اپنے مطالبات منوانے کی طاقت کم ہوسکتی ہے۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ نیا صوبہ بنا یا نقشہ بدل گیا۔۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس تقسیم کے بعد عوام کی اجتماعی سودے بازی کی طاقت بڑھی یا کم ہوئی، اور وسائل پر فیصلہ کن اختیار آخر کس کے ہاتھ میں رہا؟
اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور مشرقی پنجاب کی مثالیں
نئے صوبوں کے جواز میں بھارت سے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور مشرقی پنجاب کی تاریخی تقسیم اور تنظیمِ نو کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے یہ خطے بھی وقت کے ساتھ مختلف انتظامی اور سیاسی اکائیوں میں تقسیم ہوتے رہے ہیں، اس لیے پنجاب یا کسی دوسرے بڑے خطے کی تقسیم کوئی بہت بڑی یا غیر معمولی بات نہیں۔
یہ تمام تاریخی مثالیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان بڑے تاریخی خطوں کو چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے سے عام لوگوں کو حقیقتاً کیا حاصل ہوتا ہے؟ کیا چھوٹی ریاست خود بخود عوام کو زیادہ طاقت دے دیتی ہے؟
چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ: ریاست نیی، معاشی ڈھانچہ پرانا
مدھیہ پردیش اور بہار سے چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ وجود میں آئے۔ دونوں علاقے کوئلے، معدنیات اور جنگلات سے مالا مال ہیں اور بڑی آدیواسی آبادی رکھتے ہیں۔ لیکن نئی ریاستیں بننے کے بعد کیا آدیواسی واقعی اپنی زمین اور وسائل پر زیادہ اختیار حاصل کر سکے؟ یا نئی ریاستی اشرافیہ، کارپوریٹ طاقت اور سرکاری ادارے وسائل کی سیاست میں نئے اہم کردار بن گئے؟
ارون دھتی رائے نے وسطی ہندوستان میں آدیواسی علاقوں، کان کنی، زمین اور ریاستی و کارپوریٹ طاقت کے تعلق پر اسی بنیادی سوال کو اٹھایا ہے: ریاست اور کارپوریشن جس جنگل اور زمین کو “وسائل” سمجھتے ہیں، وہاں رہنے والے آدیواسی اسے اپنا گھر اور روزگار سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔تو فیصلہ آخر کون کرتا ہے؟
وہاں آج بھی آدیواسی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔
یہاں ایک اور بات بھی اہم ہے کہ نئی ریاستیں ہمیشہ صرف مقامی عوام کی طویل تحریک کے نتیجے میں نہیں بنتیں۔ چھتیس گڑھ کے معاملے میں تحقیق یہ بھی دکھاتی ہے کہ قومی سیاسی جماعتوں اور سیاسی اشرافیہ کا کردار بہت اہم تھا۔ اس لیے صرف یہ کہ کسی خطے کو الگ ریاست بنا دیا گیا، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ طاقت لازماً عوام کے ہاتھ میں منتقل ہو گئی یا وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو گیی۔۔
پارتھا چٹرجی اور “Zone of Extraction”
پارتھا چٹرجی بھی چھتیس گڑھ کو “Zone of Extraction” قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا خطہ جہاں قدرتی وسائل، معدنیات اور خام مال کا اخراج معیشت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا سٹرکچرل نکتہ یہ ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں مختلف علاقوں کو ایک جیسے معاشی کردار نہیں ملتے۔ کچھ علاقے سرمایہ، صنعت اور تیز معاشی نمو کے مراکز بنتے ہیں، کچھ قدرتی وسائل اور خام مال فراہم کرنے والے خطے، جبکہ کچھ علاقے سستی محنت فراہم کرتے ہیں۔
یوں مختلف علاقوں کے درمیان ایک معاشی تقسیمِ کار پیدا ہوتی ہے، جہاں ایک خطے کے وسائل اور دوسرے خطے کی محنت کسی اور خطے کی صنعتی اور سرمایہ دارانہ ترقی کو سہارا دیتی ہے۔ اس پورے عمل میں ریاستی اداروں کے ساتھ کارپوریٹ طاقت بھی وسائل، زمین اور پیداوار پر اثرانداز ہوتی ہے۔
اس لیے کسی خطے کو الگ ریاست یا صوبہ بنا دینا بذاتِ خود اس سٹرکچرل معاشی کردار کو تبدیل نہیں کرتا۔۔ نیی اشرافیہ، پرانی اشرافیہ، کارپوریٹ کے نیے اتحاد وجود میں آتے ہیں۔۔ اوراصل سوال یہی رہتا ہے کہ وسائل، سرمایہ اور ان سے پیدا ہونے والی طاقت پر اختیار کس کے پاس رہتا ہے۔
مشرقی پنجاب: تقسیم کے بعد بھی وسائل کا سوال
اسی زاویے سے مشرقی پنجاب کی تقسیم کو دیکھیں تو 1966 کے بعد چندی گڑھ، بھاکڑا نانگل، دریائی پانی اور آبپاشی کے نظام پر اختیار کا سوال ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئے وفاقی اور بین الریاستی بندوبست میں داخل ہوگیا۔
وقت کے ساتھ جب پانی، زمین اور زرعی پالیسیوں پر ریاستی و کارپوریٹ مفادات کا دباؤ بڑھا تو کسانوں کی مزاحمت بھی سامنے آتی رہی۔ یعنی تاریخی طور پر جڑے ہوئے ایک بڑے زرعی خطے کی سیاسی طاقت مختلف انتظامی اکائیوں میں بٹ گئی، مگر وسائل پر اختیار کا بنیادی سوال برقرار رہا۔
اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ صوبے پہلے بھی تقسیم ہوتے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ تقسیم کے بعد عام لوگوں، خصوصاً کسانوں، کی زمین، پانی اور پیداوار پر فیصلہ سازی کی طاقت بڑھی یا وہ مزید مختلف طاقت کے مراکز کے درمیان کمزور ہوگئے؟
اتر پردیش: طاقت کے ارتکاز کا متبادل کیا ہے؟
اتر پردیش بھی یہی سوال اٹھاتا ہے۔ اگر مسئلہ طاقت کا ارتکاز ہے تو حل لازماً نئی ریاست بنانا ہی کیوں ہو؟ ضلع، شہر اور گاؤں کی سطح پر حقیقی سیاسی اور مالی اختیار کیوں نہ دیا جائے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ انتظامی تقسیم اور عوامی اختیار ایک ہی چیز نہیں۔ نئی ریاست بننے سے حکومت عوام کے قریب آ سکتی ہے، لیکن اگر زمین، پانی، پیداوار، بجٹ اور وسائل پر فیصلہ سازی بدستور ریاستی اشرافیہ، کارپوریٹ طاقت یا مرکزی اداروں کے پاس رہے تو صرف انتظامی نقشہ بدلنے سے عوام کی حالت میں بدلاؤ نہیں آتا۔
ثقافتی اکائی اور اجتماعی سیاسی قوت
اس لیے جب میں “ثقافتی اکائی” کہتی ہوں تو میرا مطلب کوئی خالص یا یکساں ثقافتی اکائی نہیں۔ جنوبی ایشیا کے ہر خطے میں تاریخی طور پر متعدد ثقافتی اکائیاں موجود رہی ہیں۔ میرا سوال ثقافت کی یکسانیت سے زیادہ اجتماعی سیاسی قوت کا ہے۔
اگر تاریخی طور پر صدیوں سے جڑے ہوئے علاقوں کو (جو ثقافتی وحدت کی شکل اختیار کر چکے ہوں ) بار بار چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جائے تو کیا اس سے لازماً عوام طاقتور ہوتے ہیں؟ یا یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی اجتماعی سیاسی قوت اور وسائل پر اجتماعی bargaining power کمزور ہو جائے، جبکہ معاشی طاقت بدستور مرکزی ریاست، کارپوریٹ طاقت اور نئی یا پرانی اشرافیہ کے پاس رہے؟
آخرکار بنیادی سوال یہی ہے: تقسیم کے بعد فیصلہ سازی، وسائل اور پیداوار پر اختیار کس کے پاس رہتا ہے، اور عام لوگوں کی اجتماعی سیاسی قوت میں واقعی کتنا اضافہ ہوتا ہے؟


