اگرچہ اب یہ جگہ کافی مشہور ہو رہی ہے لیکن ایک دور تھا جب پنج پیر کے بارے بہت کم لوگ جانتے تھے۔ یہ ایک دلچسپ و دلکش مقام پے جس کی تمام تر معلومات میں آپ کو اس بلاگ میں دوں گا۔
*پنج پیر کیسے جائیں۔۔۔۔۔؟*
پنج پیر اگرچہ زیادہ دور نہیں ہے لیکن سوچا اس تحریر کے ذریعے ان تمام دوستوں کے سوالات کے جواب دے دوں جو پرسوں سے مجھ سے اس جگہ بارے دریافت کر رہے ہیں۔
پنج پیر، ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ میں یونین کونسل نڑھ میں واقع ہے۔ یہ دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 70 کلومیٹر اور پنڈی سے 65 کلومیٹر دور مشرق میں پنجاب و آزاد کشمیر کی سرحد پہ واقع ہے۔
اس مقام کی بلندی سطحِ سمندر سے تقریباً 6100 فٹ ہے جس کی بدولت یہ ایک پر فضا مقام ہے جہاں ایک آزاد روح کے لیئے بہت کچھ موجود ہے۔
راولپنڈی سے کہوٹہ اور کہوٹہ سے پنج پیر براستہ نڑھ بہترین سڑک موجود ہے۔ علاقہ پرامن اور محفوظ ہے۔
پنج پیر پہنچتے ہی شروع میں ایک دیسی ہوٹل موجود ہے جہاں چائے پانی، ناشتہ، کھانا و دیگر لوازمات دستیاب ہیں۔
یہاں سامنے گاڑیوں کی پارکنگ بھی ہے جس کی رکھوالی ہوٹل والے کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں اپنی مہران کی ایک رات کے حفاظت کے عوض پانچ سو ادا کیئے۔ اگر آپ چند گھنٹوں کے لیئے جا رہے ہیں تو پیسے دینے کی ضرورت نہیں۔
گاڑی پارک کر کے تھوڑا سی ٹریکنگ (بہت آسان ہے) کر کے آپ اوپر پنج پیر پہنچتے ہیں جہاں ایک خوبصورت اور قدرے صاف جنگل اور چٹانیں موجود ہیں۔ یہاں سے غروب آفتاب کا بہترین نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
یہاں آپ صبح سے شام کا وقت بھی گزار سکتے ہیں اور کیمپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم چونکہ اپنا کیمپ اور ضروری سامان ساتھ لے گئے تھے سو ہمیں قدرت نے یہاں کہکشاں بھی ودیعت کی جو ایک ناقابل بیاں تجربہ ہے۔
پانی یہاں قریب کہیں نہیں سے سو اپنی ضروریات کا پانی ساتھ لے کر جائیں۔ چوکہ زیادہ گرمی نہیں ہوتی سو زیادہ پانی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
ہمارے پاس وقت کم اور کام زیادہ تھے سو ہم پکا پکایا کھانا ساتھ لے گئے تھے جس سے وقت کی بچت بھی ہوئی اور گندگی بھی نہیں پھیلی۔ اپنا کھانا پکانا ہے تو گیس کے سلنڈر لے جائیں ورنہ پتھر کے دیسی چولہے وہاں موجود ہیں۔ پکائیں، کھائیں اور اپنا گند سمیٹ کے واپس آئیں۔
واش روم کی سہولت یہاں نہیں ہے سو جنگل زندہ باد۔ لیکن کچھ آگے بنے اکلوتے ہوٹل کے ساتھ چھوٹے چھوٹے واش روم بنے ہیں جنہیں آپ قیمت ادا کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔
ان کے پاس تازہ تعمیر کیئے گئے دو رہائشی کمرے بھی ہیں لیکن کچھ خاص معیاری نہیں۔ سو میرے خیال میں اگر آپ دوستوں کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو کیمپنگ بہتر ہے اور اگر فیملی کے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو صبح جا کے شام کو واپسی کر لیں۔
فوٹوگرافی، کیمپنگ، گیمز، ٹریکنگ سمیت آپ یہاں کہکشاں اور بادلوں کے نظارے بھی کر سکتے ہیں۔
یہاں قریب دیکھنے کی بہت سی جگہیں ہیں جن میں نڑھ آبشار ، ویو پوائنٹ، کھوئیاں آبشار، سور آبشار، پنج پیر دربار، پنج پیر راکس، جنگل اور تاریخی باغ جوگیاں کمپلیکس شامل ہیں۔
*پنج پیر و اطراف میں کیا دیکھیں*
یوں تو پنج پیر و اطراف میں کئی ڈھکی چھپی وادیاں اور آبشاریں ہیں لیکن چند ایک اہم مقامات کا میں یہاں تفصیلاً ذکر کروں گا۔
*یادگار_لانس_نائیک_محفوظ_شہید*
لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا مزار ان کے آبائی گاؤں پنڈ ملکاں (جس کا نام اب تبدیل کرکے محفوظ آباد رکھ دیا گیا ہے)، ضلع راولپنڈی میں ان کے گھر کےقریب واقع ہے۔
لانس نائیک محفوظ شہید کے مزار کے پہلو میں ان کی والدہ کی قبر بھی موجود ہے۔
محمد محفوظ اعوان شہید، ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں پنڈ ملکاں (اب محفوظ آباد) میں 25 اکتوبر 1944ء کو پیدا ہوئے اور انھوں نے 25 اکتوبر 1962ء کو پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انیس سو اکہترکی جنگ کے وقت واہگہ اٹاری سیکٹر میں تعینات تھے۔
16 دسمبر1971ء کوجب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو پاک فوج نے اپنی کارروائیوں کو بندکردیا، دشمن نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور سرحد کےقریب واقع پل کنجری کا جو علاقہ پاک فوج کے قبضے میں آچکا تھا واپس لینے کے لیے سترہ اور اٹھارہ دسمبر کی درمیانی شب زبردست حملہ کر دیا۔
پاک فوج میں لانس نائیک محمد محفوظ کی پلاٹون نمبر تین ہر اول دستے کے طور پر سب سے آگے تھی چنانچہ اسے خود کار ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا۔ محفوظ شہید نے بڑی شجاعت اور دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کی گولہ باری سے شدیدزخمی ہونے کے باوجود، غیر مسلح حالت میں دشمن کے بنکر میں گھس کر ہندوستانی فوجی کو دبوچ لیا اور سترہ دسمبرکو ایسی حالت میں جام شہادت نوش کیا کہ مرنے کے بعد بھی دشمن کی گردن ان کے ہاتھوں کے آہنی شکنجے میں تھی۔
انھوں نے پاک بھارت جنگ حصہ اور بڑی شجاعت اور دلیری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی اسی بہادری کے اعتراف میں
23 مارچ 1972ء کو وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے بعد از شہادت لانس نائیک محمد محفوظ کو نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا جو اُن کے والد نے وصول کیا۔
*جامع_مسجد_چونترہ_سوداگراں*
کہوٹہ لہتراڑ روڈ پہ پنڈ ملکاں سے آگے چونترہ سوداگراں نامی گاؤں ہے جس کے ایک سرے پر ایک قدیم مسجد موجود ہے۔
یہ جامع مسج چونترہ سوداگراں ہے جس کے صرف دو گنبد ہیں۔ اس کے مرکزی ہال کے بیچ میں کی قبر بھی ہے جبکہ اندرونی کمرے میں پرانا فریسکو آرٹ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
*باغ_جوگیاں_کمپلیکس*
باغ جوگیاں، اسلام آباد کے دیہی علاقے میں دریائے سواں کے کنارے واقع ہے جس کی دوسری جانب گکھڑوں کا مشہور قلعہ پھروالہ واقع ہے۔
باغ جوگیاں اسلام آباد جبکہ قلعہ پھروالا راولپنڈی کی حدود میں آتا ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ علاقہ ناتھ جوگیوں کی روحانی مشق، قیام اور مراقبے کے لیئے مشہور تھا۔
یہاں موجود تاریخی ورثے میں مائی قمرو مسجد، سلطان مقرب خان گکھڑ کا مقبرہ اور گکھڑوں کا قدیمی قبرستان شامل ہیں ۔اول الذکر دونوں عمارتوں کو پاکستان نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی Tentative List میں شامل کیا ہے۔
*مائی_قمرو_مسجد*
یہاں موجود مائی قمرو مسجد خطے کی قدیم اسلامی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ سرکاری معلومات کے مطابق مسجد کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کی بحالی اور تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے۔
*مقبرہ_سلطان_مقرب_خان*
باغ جوگیاں کے شمالی جانب سلطان مقرب خان گکھڑ کا مقبرہ بھی موجود ہے۔
مقرّب خان گکھڑ پنجابی مسلم سپہ سالار اور قبیلہ گکھڑ کے سردار تھے جو 1739ء سے 1767ء تک پوٹھوہار کے سلطان رہے۔ انھیں پوٹھوہار کا آخری فرمانروا بھی کہا جاتا ہے۔
انھوں نے گجرات پر قبضہ کر کے اسے اپنا دار الحکومت بنایا، جو 1765ء تک ان کے زیر اقتدار رہا بعد ازاں سکھوں نےاسے فتح کر لیا۔ اس کے بعد ان کے بیٹوں نے پھروالہ اور دان گلی کے علاقوں میں اقتدار سنبھالا۔ ان کا ہشت پہو مقبرہ اور ساتھ ایک قدیم درخت یہاں دیکھا جا ستا ہے۔
*قلعہ_پھروالا*
قلعہ پھروالہ پوٹھوہار کا ایک تاریخی قلعہ ہے جو راولپنڈی سے مشرق کی جانب 27 کلو میٹر اور اسلام آباد ہائی وے سے 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر کہوٹہ-لہتراڑ روڈ کے قریب واقع ہے۔
پھروالہ قلعہ قدرتی طور پر ایک طرف کوہ ہمالیہ کی پہاڑیوں اور دوسری جانب دریائے سواں سے گھرا ہونے کے باعث محفوظ پہاڑی چوکی کے طور پہ استعمال ہوتا رہا ہے۔
یہ قلعہ ایک زمانے میں گکھڑ سلطنت کا پائہ تخت تھا جسے 1008ء سے 1012ء کے درمیانی عرصہ میں گکھڑ سردار نے بنوایا تھا۔
450 کنال پر محیط یہ قلعہ دفاعی نقطۂ نظر سے بنایا گیا تھا جس کے ایک طرف دریا اور دوسری جانب بلند پہاڑی ہے۔
*نورآباد_آبشار*
نور آباد آبشار (نڑھ آبشار) کہوٹہ کے قریب پنج پیر راکس کےمقام پر واقع ایک خوبصورت اور پرسکون مقام ہے جہاں تک پہنچنا بہت آسان ہے اور کوئی لمبی یا مشکل ہائیکنگ نہیں کرنی پڑتی کہ یہ سڑک کے قریب واقع ہے۔
یہاں داخلہ بالکل مفت ہے اور یہ 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ اوپر سڑک کنارے ایک کھانے پینے کی دوکان ہے جبکی بار بی کیو والے صاحب بھی وہاں موجود تھے۔
ویک اینڈ یا عام تعطیلات پر یہاں کافی رش ہوتا ہے، اس لیے عام دنوں میں جانے کو ترجیح دیں۔
*پنج_پیر_راکس*
پنج پیر راکس ابھی پاکستان کے ان سیاحتی مقامات میں شامل ہے جنہیں بڑے پیمانے پر دریافت نہیں کیا گیا۔ یہی نسبتاً غیر معروف حیثیت اسے مزید دلکش وپراسرار بناتی ہے۔
پنج پیر کی چٹانیں ضلع راولپنڈی کے مشرقی پہاڑی علاقے میں واقع ہیں۔ یہ دنوئی رِج (Danoi Ridge) کے بلند حصے پر موجود قدرتی چٹانیں ہیں جن کی بلندی مختلف ذرائع کے مطابق تقریباً 1,800 میٹر (تقریباً 5,900 فٹ) تک ہے۔
اس مقام کی خاص بات اس کی وسیع قدرتی چٹانیں، گھنے چیڑ کے جنگلات، پہاڑی چشمے، آبشاریں اور دور تک پھیلے ہوئے وادیوں کے مناظر ہیں۔
نام سے تو لگتا ے کہ یہاں پانچ پیروں نے قیام یا مراقبہ کیا ہو گا اس لیئے اس کا یہ نام پڑا۔ انہی چٹانوں پر ایک جگہ حضرت شاہ شمس کی چلہ گاہ کی تختی بھی لگی ہے۔ جبکہ پنج پیر کا مزار بھی انہی چٹانوں کے قریب ذرا بلندی پہ واقع ہے۔
اس خوبصورت اور ایڈونچر سے بھرپور جگہ کا اسلام آباد سے فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر ہے۔ آخری حصے میں سڑک نسبتاً دشوار اور پہاڑی ہے، اس لیے موسم اور مقامی راستے کی موجودہ حالت معلوم کرکے جانا بہتر ہے۔


