شبی فاروقی- سر آتما/ مہناز رحمان

آج انیس زیدی نے شبی فاروقی کی کتاب ” سر آتما” بھجوائی تو بہت کچھ یاد آ گیا۔ 1973ء بہت پرانی بات ہے۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی اور زندگی کا واقعہ ہو۔ اس وقت میں روزنامہ ’’مساوات‘‘ کے نوجوانوں کے صفحے کی انچارج تھی۔ احفاظ الرحمن سے میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ احفاظ نے ایک روز مجھے اپنے دوست شبی فاروقی کا انٹرویو کرنے کے لیے بھیجا۔
شبی فاروقی اس زمانے میں بھی معروف شاعر تھے۔ میرا انٹرویو بھی، ظاہر ہے، ان کی شاعری کے بارے میں تھا۔ افسوس کہ اتنے برس گزرنے کے بعد وہ انٹرویو میرے پاس محفوظ نہیں رہا۔ نہ سوال یاد ہیں، نہ جوابات۔ لیکن وہ ملاقات اور اس زمانے کا ماحول اب بھی میری یادداشت میں کہیں موجود ہے۔
آج جب شبی فاروقی کا نام سنتی ہوں تو اس ملاقات کے ساتھ ایک اور بات بھی یاد آتی ہے: اس وقت ہم شاید یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ آنے والے برسوں میں ان کی شہرت کس قدر پھیل جائے گی۔
شبی فاروقی کی بنیادی شناخت ایک شاعر کی تھی۔ ان کا اصل نام محمد شعیب فاروقی تھا اور ’’شبی‘‘ ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا اور بعد میں تعلیم و تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے۔
ان کی ادبی شناخت غزل کے شاعر کی حیثیت سے بنی۔ ریختہ پر محفوظ ان کی غزلوں میں ’’اتنا احسان اور کرتا کون‘‘ بھی شامل ہے، جو ان کے شعری مزاج کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔
لیکن پھر ریڈیو اور ٹیلی وژن ان کی تخلیقی زندگی کا اہم حصہ بن گئے۔
شبی نے ریڈیو پاکستان کے لیے لکھا اور موسیقی کے پروگراموں سے وابستہ رہے۔ بعد میں پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی متعدد موسیقی کے پروگرام لکھے۔ ان کے قومی نغمات اور گیت مختلف معروف گلوکاروں کی آواز میں مقبول ہوئے۔
فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے اپنا مقام بنایا۔ ’’ہولے ہولے پون چلے، ڈولے جیا رے‘‘ جیسے گیت نے انہیں فلمی دنیا میں نمایاں کیا، جبکہ بعد میں رونا لیلیٰ کی آواز میں ان کا لکھا ہوا یہی گیت خاصا مقبول ہوا۔
اور پھر پی ٹی وی کا وہ گیت آیا جس نے انہیں ایک بہت بڑے عوامی حلقے تک پہنچا دیا:
’’اللہ اللہ کر بھیا، اللہ ہی سے ڈر بھیا‘‘
محمد علی شہکی اور الن فقیر کی آوازوں میں پیش کیا جانے والا یہ گیت بے حد مقبول ہوا۔ اس گیت کی شہرت پاکستان سے باہر بھی پہنچی اور کوالالمپور کے ایک موسیقی کے میلے میں اسے پذیرائی اور ایوارڈ ملنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
اسی طرح ’’میں نے تمہاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا‘‘ ان کے مقبول گیتوں میں شمار ہوتا ہے اور 1980ء کی دہائی میں ان کی نغمہ نگاری کی ایک نمایاں شناخت بنا۔ 2020ء میں ان کے انتقال کی خبر بھی اسی گیت کے حوالے سے شائع ہوئی۔
لیکن میرے لیے شبی فاروقی کی کہانی صرف ان کے مشہور گیتوں کی کہانی نہیں ہے۔
وہ احفاظ کے دوست تھے۔ پھر وقت گزرتا گیا اور وہ ہمارے خاندانی دوست بن گئے۔ اس لیے ان کو یاد کرنا میرے لیے صرف ایک معروف شاعر یا نغمہ نگار کو یاد کرنا نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے ایک پورے دور کو یاد کرنا ہے۔
مجھے ان کی شہرت کے بڑھنے کا سفر اپنی آنکھوں کے سامنے یاد ہے۔ جب میں نے 1973ء میں ان کا انٹرویو کیا تھا تو وہ شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ بعد کے برسوں میں ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم نے ان کے لفظوں کو لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ شاعر شبی فاروقی اب ایک مقبول نغمہ نگار بھی بن چکے تھے۔
مگر شہرت کے اس سفر کے باوجود ان کے مزاج میں سادگی اور ایک خاص بے نیازی رہی۔ ان کے بارے میں شائع ہونے والی یادوں میں بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ شہرت اور نام و نمود کے خواہش مند نہیں تھے۔ ایک ساتھی کے مطابق وہ مشاعروں اور محفلوں کی چکاچوند سے بھی دور رہتے تھے۔
شاید یہی ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو تھا: وہ مقبول ہوئے، ان کے گیت گھر گھر پہنچے، بڑے بڑے گلوکاروں نے ان کا کلام گایا، مگر ان کی اصل شناخت ایک شاعر کی رہی۔
اور میرے پاس ان کی یاد کا ایک بہت پرانا ورق ہے—1973ء کا وہ انٹرویو، جو اب میرے پاس موجود نہیں۔
کاغذ گم ہوگیا، مگر یاد باقی رہ گئی۔
اور شاید یادداشت کی یہی خوبی ہے کہ وہ کبھی کبھی محفوظ تحریر سے زیادہ دیر تک زندہ رہتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں