سائیکوانالیسس — ایک ٹائم مشین کی مانند ہے/ندا اسحاق

ہم نے سائنس فکشن میں ٹائم مشین کے متعلق پڑھا ہے اور کئی ایسی فلمیں بھی دیکھیں جہاں دکھایا جاتا کہ انسان جسمانی طور پر ماضی یا مستقبل میں جاسکتا ہے۔ آئن اسٹائن کے مطابق وقت ماضی، حال یا مستقبل میں تقسیم نہیں اور یہ محض برم ہے۔ لیکن ہم انسانوں کے پاس ایک صلاحیت ہے جسکی مدد سے ہم اپنی نفسیات میں “ٹائم ٹریول” کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن میں ماضی میں جاسکتے ہیں۔ لیکن ماضی میں جانے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟

اکثر لوگ اپنے درد اور مسائل کا حل “حال” میں ڈھونڈتے ہیں، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے مسائل کا حل انکے ماضی کے تجزیے میں چھپا ہوتا ہے۔ ماضی میں وہ سب ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ہمارا حال تشکیل ہوا ہے….

آپ کو سارے نہ سہی البتہ کئی سوالوں کا جواب ماضی میں اور خاص کر بچپن میں ٹائم ٹریول کرنے سے ملتا ہے، سائیکوتھراپی/ سائیکوانالیسس ایک ٹائم مشین کی مانند ہے جو آپ کو ماضی، حال اور مستقبل میں لے جاتی ہے۔ یہاں تک کے آپ کے شوق، آپ کے ٹیلنٹ اور آپ کا درد سب ماضی میں ہی دفن ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ گڑے مردے نہیں جگانے چاہیے، جبکہ میرا یہ ماننا ہے کہ نفسیات کے قبرستان میں گڑے مردوں کو جگانا ہی آپ کی نفسیات کو پھر سے زندگی اور تازگی بخشتا ہے، تبھی سائیکیٹرسٹ تھامس مور کہتے ہیں کہ آپ کے اندر کا بچہ (inner child) آپ کے بالغ-سیلف (adult-self) سے زیادہ دانشور اور سمجھدار ہے کیونکہ وہ آپ کے بالغ-سیلف سے پہلے اس دنیا میں آیا اور اس کے پاس آپ کے ماضی کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ اس لیے جب بھی خود کو جاننا ہے تو ماضی میں ٹائم ٹریول کرکے اس بچے کو جاننا ہوگا جو آپ کی نفسیات میں موجود ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں