نام کی نفسیات: آپ کا نام آپ کی شخصیت اور لاشعور پر کیا اثر ڈالتا ہے؟-ندا اسحاق

​کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن اس کا ’نام‘ باقی رہ جاتا ہے؟
​ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں: “نام روشن کرنا ہے”، “نام مٹی میں ملا دیا”، یا “تم نے میرا نام خراب کر دیا”… لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بظاہر ایک عام سا لگنے والا ‘نام’ آخر اتنا اہم کیوں ہے؟
​سائیکو انالیسز (Psychoanalysis) اور نفسیات کی نظر سے دیکھا جائے تو آپ کا نام صرف چند حروف کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ آپ کی ذات، آپ کی شناخت اور آپ کے لاشعور (Unconscious) کی ایک پوری کائنات ہے۔
​نام کی اہمیت اور والدین کی توقعات
​ہمارے معاشرے میں بچوں کے نام عام طور پر انبیائے کرام، صحابہ کرام، تاریخی شخصیات یا خاندان کے قریبی افراد کی پسند پر رکھے جاتے ہیں۔ لیکن اکثریت اس بات پر غور نہیں کرتی کہ نام کے پیچھے والدین کی کیا سوچ اور جذبات تھے۔
​نفسیات دان پروفیسر گیلٹ ایٹلس (Gaelit Atlas) کے مطابق، انسان کا نام اپنے اندر اس کے والدین کی امیدیں (Hopes)، توقعات (Expectations) اور ان کی وہ غیر پوری خواہشات (Unlived Desires) چھپائے ہوتا ہے جو وہ خود پوری نہیں کر سکے۔
​اگر خاندان کے کسی مرحوم عزیز کے نام پر بچے کا نام رکھا جائے، تو لاشعوری طور پر اس بچے پر اس گزرے ہوئے انسان کی شخصیت اور اس کے نقصان (Loss) کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جسے وہ تمام عمر اٹھاتا ہے۔
​میری اپنی ذاتی مثال اور سائیکو انالیسز کا عملی تجربہ
​اگر میں اپنی ہی ذات کی مثال دوں، تو میری شادی کو ۱۴ سال ہو چکے ہیں اور میں ایک بے حد خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہی ہوں، لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام نہیں جوڑا اور نہ ہی اپنا شناختی کارڈ فوری تبدیل کروایا۔ میں ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کا نام “اسحاق” ہی لکھتی ہوں۔
​جب میں نے سائیکو انالیسز کی روشنی میں خود کا جائزہ لیا تو مجھے سمجھ آیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا، بلکہ میرے لاشعور میں اپنے والد کے ساتھ ایک بے پناہ اور گہری وفاداری (Unconscious Loyalty) کا نتیجہ تھا۔
​سگمنڈ فرائیڈ (Sigmund Freud) کے مطابق، جب بچپن میں والد یا والدہ فزیکلی یا ایموشنلی (جسمانی یا جذباتی طور پر) آپ سے دور ہوتے ہیں، تو بچہ اپنے ذہن میں ان کا ایک خیالی اور بہترین عکس بنا لیتا ہے جسے Ego Ideal کہتے ہیں۔
​جب میں چھوٹی تھی تو میرے ابو بیرونِ ملک مقیم تھے، جس کی وجہ سے ایک جذباتی دوریاں موجود رہیں۔ اس دوری کے نتیجے میں میرے لاشعور نے اپنے والد کا ایک Ego Ideal بنایا اور میں لاشعوری طور پر بالکل اپنے والد کی کاپی بن گئی۔ ان کی طرح میرا مطالعہ کرنا، تنہا پسند ہونا (Introversion)، غیر معمولی اعلیٰ معائیر (Unrealistic Standards) قائم کرنا، اور اپنے جذبات کا اظہار نہ کرنا (Emotionally Distant) یہ تمام چیزیں میری شخصیت میں رچ بس گئیں۔
​جب میں اس لاشعوری رویے کو اپنے شعور میں لائی، تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں کتنی گہرائی سے اپنے والد کا عکس بنی ہوئی تھی، اور پھر وہاں سے میرے اندر اپنی حقیقی اور مستقل شناخت کی تلاش کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔
​شوہر، بیوی اور رشتوں کے ڈائنامکس (Authority vs Equals)
​ہماری زندگی میں والد کا کردار ایک ‘پیکرِ اختیار’ (Authority Figure) کا ہوتا ہے، جبکہ ہمارا جیون ساتھی (Partner / Husband / Wife) ہمارے برابر کا حصہ (Equal) ہوتا ہے۔
​یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شوہر یا بیوی ایک دوسرے پر حکم چلانے یا ‘باپ/ماں’ بننے کی کوشش کرتے ہیں، تو تنازعات جنم لیتے ہیں، کیونکہ انسان اپنے برابر والے سے حکم برداشت نہیں کر سکتا۔
​اسی طرح مرد کے لاشعور میں اس کی ماں کا عکس ایک طاقتور اتھارٹی کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ جب تک کوئی انسان اپنے لاشعور میں موجود والدین کی اس غير منطقی اتھارٹی اور ان کی توقعات کو سمجھ کر خود کو آزاد نہیں کرتا، وہ ایک خودمختار اور الگ شناخت (Identity) قائم نہیں کر سکتا۔
​اپنے آپ سے پوچھے جانے والے اہم سوالات
​اگر آپ اپنی شخصیت اور نفسیاتی الجھنوں (Psychic Conflicts) کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو آج ہی اپنے آپ سے یہ چند بنیادی سوالات کیجیے:
​کیا آپ کو اپنا نام پسند ہے؟ اگر نہیں، تو کیوں؟
​آپ کا نام کس نے رکھا اور اس وقت گھر کا کیا ماحول تھا؟
​جس انسان کے نام پر آپ کا نام رکھا گیا، اس میں ایسی کیا خوبیاں تھیں؟
​کیا آپ اپنی زندگی جی رہے ہیں یا اپنے والدین کی نا آسودہ خواہشات اور بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں؟

​آپ کا نام آپ کی شناخت ہے۔ یہ جاننا اور سمجھنا کہ آپ کی ذات کا کتنا حصہ آپ کا اپنا ہے اور کتنا حصہ آپ کے والدین کے اثرات کا، آپ کو ایک نئی نفسیاتی آزادی دیتا ہے۔ اپنے ماضی کی تاریخ کو سمجھیے، تاکہ آپ اپنے والدین کے بوجھ اور توقعات سے نکل کر اپنی سچی اور حقیقی شناخت (True Identity) قائم کر سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں