ہوم سکولنگ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل/ علی عباس کاظمی

بچے کو سکول کیسے بھیجا جائے۔۔۔ اب شاید آنے والے زمانے کا سوال یہ ہوگا کہ کیا ہر بچے کے لیے سکول جانا ہی تعلیم حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے؟ دنیا میں ہوم سکولنگ کا بڑھتا ہوا رجحان اسی بدلتی ہوئی سوچ کی علامت ہے۔ کورونا کے بعد جب گھر اچانک کلاس روم بن گئے تو دنیا نے ایک ایسا تجربہ کیا جس نے صدیوں پرانے تعلیمی تصور کو ہلا دیا۔ سکول دوبارہ کھل گئے، مگر بہت سے والدین کے ذہن میں یہ سوال باقی رہ گیا کہ اگر بچہ گھر بیٹھ کر سیکھ سکتا ہے تو اسے روزانہ ایک مخصوص عمارت میں بھیجنا کیوں ضروری ہے؟ہوم سکولنگ دراصل صرف بچے کو گھر میں کتاب پڑھانے کا نام نہیں۔ یہ تعلیم کے پورے فلسفے میں تبدیلی کا نام ہے۔ روایتی نظام میں بچہ ایک مقررہ وقت پر سکول جاتا ہے، ایک مقررہ نصاب پڑھتا ہے، ایک ہی رفتار سے آگے بڑھتا ہے اور ایک جیسے امتحانات دیتا ہے۔ گھر میں تعلیم کا تصور اس ترتیب کو چیلنج کرتا ہے۔ یہاں والدین بچے کی رفتار، دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق تعلیم ترتیب دے سکتے ہیں۔ ایک بچہ ریاضی میں کمزور ہو تو اسے زیادہ وقت دیا جا سکتا ہے، کسی کو ادب سے دلچسپی ہو تو کتابیں اس کا میدان بن سکتی ہیں اور کسی کی صلاحیت سائنس یا ٹیکنالوجی میں ہو تو روایتی کلاس کے بجائے عملی تجربات اس کی تعلیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہی شخصی تعلیم ہوم سکولنگ کی کشش ہے۔

لیکن یہاں ایک خطرناک خوش فہمی بھی جنم لے سکتی ہے۔ کیا ہر گھر سکول بن سکتا ہے؟ کیا ہر والدین استاد بن سکتے ہیں؟ کیا ایک موبائل، انٹرنیٹ اور چند آن لائن لیکچرز بچے کو مکمل تعلیم دے سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ تعلیم صرف معلومات کا نام نہیں۔ بچے کو نظم و ضبط، اختلاف برداشت کرنے، دوسروں کے ساتھ کام کرنے، مقابلے کا سامنا کرنے، ناکامی قبول کرنے اور مختلف مزاج رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رہنے کا ہنر بھی سیکھنا ہوتا ہے۔ اگر گھر تعلیم کا مرکز بن جائے مگر دنیا سے رابطہ محدود ہو جائے تو ہم ایک پڑھا لکھا مگر سماجی طور پر کمزور فرد بھی پیدا کر سکتے ہیں۔یہاں ہوم سکولنگ کے اصل امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔ اس نظام کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ بچہ کتنی کتابیں پڑھتا ہے بلکہ اس سے کہ وہ سوچنا کتنا سیکھتا ہے۔ روایتی سکول کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر تعلیم کو امتحان کے نمبروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ بچہ جواب یاد کرتا ہے، پرچہ حل کرتا ہے اور اگلی جماعت میں پہنچ جاتا ہے۔ مگر زندگی کے بڑے سوالات کسی کتاب کے آخر میں دیے گئے مختصر سوالات کی طرح نہیں ہوتے۔ گھر میں تعلیم کا موقع اس خامی کو دور کر سکتا ہے، بشرطیکہ والدین بھی صرف نصاب مکمل کرنے کے بجائے بچے کے اندر تجسس، تحقیق اور سوال کرنے کی عادت پیدا کریں۔

پاکستان میں یہ رجحان ایک مختلف صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی سرکاری سکولوں میں سہولتوں کی کمی، بڑے کلاس روم، اساتذہ کی غیر مساوی دستیابی اور بعض جگہوں پر کمزور تعلیمی ماحول جیسے مسائل موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف نجی سکولوں کی فیس بہت سے خاندانوں کے لیے مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ ایسے ماحول میں ایک متوسط طبقے کا خاندان یہ سوچ سکتا ہے کہ اگر گھر میں انٹرنیٹ، آن لائن استاد اور چند معیاری تعلیمی وسائل دستیاب ہوں تو بچے کو مہنگے سکول میں بھیجنے کے بجائے گھر سے تعلیم کیوں نہ دی جائے۔ یہ سوچ مستقبل میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک نیا چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔نجی سکول شاید اس تبدیلی سے سب سے پہلے متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کا پورا نظام فیس کے بدلے ایک مقررہ تعلیمی پیکیج فراہم کرنے پر قائم ہے۔ اگر والدین کو یہ محسوس ہونے لگے کہ وہ گھر پر کم خرچ میں زیادہ ذاتی توجہ، آن لائن تعلیم اور مخصوص مضامین کے ماہر اساتذہ حاصل کر سکتے ہیں تو سکولوں کو اپنے وجود کا جواز نئے سرے سے ثابت کرنا ہوگا۔ صرف عمارت، یونیفارم، اسمبلی اور امتحانات مستقبل کی تعلیم کی ضمانت نہیں ہوں گے۔ سکولوں کو ایسی مہارتیں دینی ہوں گی جو گھر آسانی سے فراہم نہ کر سکے، مثلاً لیبارٹری، کھیل، اجتماعی سرگرمیاں، عملی تجربات، سماجی تربیت اور مختلف صلاحیتوں کے بچوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے مواقع۔سرکاری سکولوں کے لیے معاملہ اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ اگر خوشحال اور متوسط طبقہ بڑی تعداد میں متبادل تعلیمی راستے اختیار کرنے لگے تو سرکاری سکولوں پر عوامی دباؤ کی نوعیت بدل سکتی ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی خطرہ بھی موجود ہے۔ اگر معیاری ہوم سکولنگ صرف ان خاندانوں تک محدود رہی جو تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط ہیں تو معاشرہ دو مختلف تعلیمی دنیاوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ ایک دنیا میں بچے جدید ٹیکنالوجی، ذاتی ٹیوٹر، کتابوں اور عالمی نصاب تک رسائی حاصل کریں گے، دوسری دنیا میں بچے اب بھی محدود وسائل والے سکولوں پر انحصار کریں گے۔ یوں تعلیمی آزادی کہیں تعلیمی نابرابری میں تبدیل نہ ہو جائے۔

پاکستان میں مکمل ہوم سکولنگ کے مقابلے میں ہائبرڈ نظام زیادہ قابل عمل دکھائی دیتا ہے۔ بچہ کچھ تعلیم گھر سے حاصل کرے، کچھ آن لائن، کچھ سکول یا لرننگ سینٹر میں، جبکہ کھیل، تجربات، سماجی سرگرمیاں اور باقاعدہ assessment بھی اس نظام کا حصہ ہوں۔ حکومت کا کام ہر بچے کو ایک ہی طریقے سے پڑھانے کے بجائے یہ یقینی بنانا ہو کہ چاہے تعلیم سکول سے حاصل ہو، گھر سے یا آن لائن، بچے کو کم از کم معیاری تعلیم ضرور مل رہی ہو۔ آزادی ضروری ہے۔۔۔مگر بچے کے حق تعلیم کی قیمت پر نہیں۔اصل تبدیلی شاید ہوم سکولنگ میں نہیں بلکہ تعلیم کے بارے میں ہماری سوچ میں آنے والی تبدیلی میں ہے۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل کتابیں اور عالمی تعلیمی وسائل نے استاد اور سکول کی پرانی تعریف کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ آنے والے برسوں میں ممکن ہے بچے کا سکول صرف ایک عمارت نہ ہو بلکہ گھر، آن لائن دنیا، استاد، کھیل کا میدان، لائبریری اور عملی زندگی سب مل کر اس کا تعلیمی ماحول بن جائیں۔ہمیں یہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ عقل سے کرنا ہوگا کہ بچے کو سکول بھیجنا ضروری ہے یا نہیں، اس سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اسے کہاں بھیج رہے ہیں اور وہاں وہ حقیقت میں کیا حاصل کر رہا ہے۔ اگر سکول صرف حاضری کا نام رہ جائے تو گھر تعلیم کا متبادل بن سکتا ہے، لیکن اگر سکول بچے کو سوچنا، جینا اور دوسروں کے ساتھ انسان بن کر رہنا سکھائے تو اس کی ضرورت شاید کبھی ختم نہ ہو۔ مستقبل کا تعلیمی مقابلہ گھر اور سکول کے درمیان نہیں ہوگا، بلکہ اس بات پر ہوگا کہ ۔۔۔ کون بچے کو صرف پڑھاتا ہے اور کون اسے سوچنا سکھاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں