درویش شاعر – محمد صؔفی الدین/ اظہر سجاد

۶ اپریل ۲۰۰۲ ء کی سہانی شام میں پی او ایل کھوڑ کمپنی کے ہال میں مشاعرہ عروج پہ ہےـ ایک درویش وضع قطع کا جوان سٹیج پر آ کر اپنی غزل سُناتا ہے:
اپنے آپ سے واقف ہوں اور نہ ہی خود کو ڈھونڈ سکا
جانے کتنے جسم ہیں میرے جانے کتنے سائے ہیں
کرسیِ صدارت پر مُتَمَکِّن معروف ادیب اور ترقی پسند شاعر پروفیسر یوسف حسن نے بے اختیار کہا کہ یہ غزل اگلی صدی میں چلی گئی ہے۔ اِسی شاعر نے ایک اور مشاعرے میں اپنی غزل پیش کی تو اختر رضا سلیمی نے کہا کہ اِن کے تلازمے سب سے جدا اور کمال کے ہیں۔ یہ کوئی اور نہیں بل کہ اخلاص (پنڈی گھیب) سے تعلق رکھنے والا شاعر محمد صؔفی الدین ہے۔ صفی الدین نے ۱۹۸۹ء میں جب پہلی غزل کہی اور ۱۹۹۰ء میں حلقہ ارباب شاد پنڈی گھیب میں شامل ہوئے۔۲۰۰۲ء میں حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ سے وابستگی اختیار کی اور تاحال اِسی گلستان کو اپنی شاعری سے مہکائے ہوئے ہے۔ درویش صفت محمد صؔفی الدین مضافات میں گلشنِ ادب کا وہ پھول ہے جِس کی مہک اگرچہ ضلع اٹک تک محدود تھی مگر اب یہ خوشبو دیگر ادبی حلقوں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
صؔفی الدین کی شاعری داخلی کیفیات اور خارجی کشمکش کا امتزاج نظر آتی ہے۔ رنج و الم اور حساسیت اس قدر ہے کہ ہمیں ذات، خود شناسی اور داخلی انتشار کا واضح رُجحان نظر آتا ہے۔ دراصل صؔفی وجودیت کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ اس کی شاعری میں وجودی الجھاؤ، تنہائی اور شناخت کے مسائل بکثرت نظر آتے ہیں:
خود کو محدود کیا سارے کا سارا خود میں
مجھ کو جس رات سمندر نے اُتارا خود میں
میں کہیں بھی نہیں ہوتا کئی بار کہا
ڈھونڈنا ہے تو مجھے ڈھونڈو خدارا مجھ میں
صؔفی کی شاعری نفاست وسلاست اور برجستگی کا مجموعہ ہے۔ وہ دورِحاضر کےتقاضوں سے آشنا ہے اور اپنی فنی مرتبے کو برقرار رکھتے ہوئے اُنھیں اپنی شاعری کا حصہ بھی بناتا ہے۔ صؔفی جب خود کو لوگوں کی نظروں سے دیکھتا ہے، معاشرتی رویوں اور کردار کو پرکھتا ہے تو کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے:
میں اکیلا ہی تیرے شہر میں تھا سب سے الگ
ہر کوئی دیکھ کے حیران ہوا کرتا تھا
کسی کو کہنے سُنانے کی کیا ضرورت ہے
میں بیر رکھتا ہوں اندر سے اِک جہان کے ساتھ
شاعر اپنے دُکھوں سے کہیں زیادہ اِرد گرد کے لوگوں کے غموں پہ کُڑھتا ہے۔ دورِ حاضر کا حساس اِنسان ہمہ جہت خوف اور بے چینی کا شکار ہے۔صؔفی کے ہاں یہی اضطراب علامتی رنگ میں ڈھل کرشعری جمال کے بے کراں سمندر کا روپ دھار لیتا ہے:
اِس قدر سہمے ہوئے لگتے ہیں اب شہر کے لوگ
چاپ سُنتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
چال چلی ہے جانے کس نے مل کے پہرے داروں سے
رات ہوئی ہے دن ہی دن میں مانگو دھوپ ستاروں سے
بات کی تہہ میں جا کر بھی مفہوم ادھورا لگتا ہے
جھوٹا سچ ایجاد ہوا ہے شاید کچھ فن پاروں سے
نقل مکانی چاہے جبری ہو یا بہتری کی تگ و دو کے لیے، تہذیب کے انہدام کے المیے کا باعث بنتی ہے۔ صؔفی چوں کہ زبان و بیان کی نزاکتوں سے آشنا ہے، اِس لیے مرتی ہوئی تہذیب اور نقل مکانی کا نوحہ کچھ اِس مہارت سے بیان کرتا ہے کہ شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور سکڑتے گاؤں کی تصویریں ہمارے سامنے فلم کی طرح چلنے لگتی ہیں۔
شہر ہو جائے گا ہر گاؤں یہی لگتا ہے
اور مر جائے گا ہر گاؤں کا دارا خود میں
مٹ نہ جائے کہیں تہذیب کا نازک چہرہ
ہوش مند لوگ ہیں اب دُنیا دوانی کم ہے
ایک طرف جدیدیت نے جہاں دُنیا کو بے شمار سہولیات بخشی ہیں وہیں تہذیبی اور اخلاقی زوال کا باعث بھی بنی ہے۔ اِسی کے ساتھ ساتھ شاعری کو نئے احساسات، فکری زاویے اور نئے اسلوب بھی بخشے ہیں۔ صؔفی کی نظر حُسن و عشق کے بجائے دورِ حاضر کے دیگر شعراء کی طرح جدیدیت کے باعث جنم لینے والے اِخلاقی زوال، فرد کی تنہائی اور داخلی کشمکش پر ہے۔
آج کا دور حقیقت سے بہت دور ہے یا
لطفِ ، اظہار ِ وفا ، شعر ، کہانی ، کم ہے
صؔفی جس دور سے تعلق رکھتا ہے وہ مل بیٹھنے کا دور تھا، مگر اب دُور کے لوگ قریب اور پاس رہنے والے بہت دُور ہو گئے ہیں۔ اِس دُکھ کو سہلِ ممتنع کے اِن اشعار میں صؔفی نے یہ دُکھ بڑی مہارت سے شاعری کے روپ میں ڈھالا ہے:
جانے کیا کیا مجھے وردان ہوا کرتا تھا
یہ جو مشکل ہے سب آسان ہوا کرتا تھا
چار دشمن تھے جہاں چار وہیں دوست بھی تھے
سر پہ ہر ایک کا احسان ہوا کرتا تھا
صؔفی محنت مزدوری کرنے والا ایک غیرت مند مگر خدشات کا شکار انسان ہے۔وہ خودداری کے کٹھن راستے کاایسا مسافر ہے جو غم حیات کے زخموں کو سینے پر سجائے زندگی گزار رہا ہے۔ اِن اشعار میں ہمدردی اور باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ انکساری اور کہسار کا ذکر کر کے صؔفی نے اشعار کو نئی معنوی رفعت بخشی ہے:
یہ وسوے کہ تواتر سے آ رہے ہیں مجھے
میں گر گیا ہوں تو کچھ لوگ اُٹھا رہے ہیں مجھے
اِنکساری سے مرے قد میں اضافہ نہ ہوا
ایسے لگتا ہے کھڑا ہوں کسی کہسار کے ساتھ
صؔفی کی شاعری میں لفظی خوبیوں کے ساتھ ساتھ معنوی چاشنی بھی پائی جاتی ہے، جس نے کلام میں حُسن کے ساتھ ساتھ بلاغت بھی پیدا کر دی ہے۔ صؔفی الدین کی شاعری خاموش جمالیاتی گفتگو ہے۔ اُس نے خاموشی کو نئے معنی پہنائے ہیں۔ وہ شاعری میں اپنی داستانِ حیات کچھ اِس انداز سے سُناتا ہے کہ اداسی قاری کے ذوقِ سماعت پر طاری ہو جاتی ہے:
کہانی لطف نہیں دے رہی تھی اس کے بغیر
اُداس ہونا پڑا مجھ کو داستان کے ساتھ
ایسی تاثیر ہے آواز میں کم گوئی کی
خامشی جیسے بکھرنے لگے گفتار کے ساتھ
گُل کھلنے کی رُت آ پہنچی آج سوئے گلزار چلو
آج بدن پر ہم نے اپنے سارے زخم سجائے ہیں
چال چلی ہے جانے کس نے مل کے پہرے داروں سے
رات ہوئی ہے دن ہی دن میں مانگو دھوپ ستاروں سے
محمد صؔفی الدین کے فن کو اِس مختصر سی تحریر میں سمیٹنا یقیناً ناممکن ہے، تاہم صؔفی کی شاعری کے مطالعے سے جو تصویر قاری کے ذہن میں اُبھرتی ہے وہ زندگی سے جنگ کرتے ہوئے ایسے سپاہی کی ہے، جو درویش بھی ہے اور مجاہد بھی، جو تکالیف پر آنسو بہانا بھی جانتا ہے اور مقابلے کا بھی حوصلہ رکھتا ہے۔ صؔفی حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ کا ایسا شاعر ہے جس کی شاعری کی گونج دُور دُور تک سُنی جا رہی ہے۔ عجب نہیں کہ کل محمد صؔفی الدین کا شمار بھی پاکستان کے صفِ اوّل کے شعراء میں کیا جائے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ جلد ہی اپنے کلام کو کتابی شکل دے کر ادب کے گراں قدر خزانے میں اپنا حصّہ ڈالے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں