دھنی بخش کے بیٹے یتیم ہو گئے ہیں /عامر شہزاد

میں ایک مدت کے بعد اپنے گھر کے اس کونے کی طرف گیا جہاں کتابوں کا ڈھیر گرد سے اٹا پڑا ہے
میں دیمک لگے صفحوں سے دھول جھاڑ کر ان کتابوں کو ڈھونڈتا رہا جن پر انکا نام لکھا تھا، میرے ہاتھ میں تین کتابیں تھیں، جن پر انہوں نے میرے لیے لکھا تھا
“ عزیز عامر شاہ زاد کے لیے “
کاغذ کے پنوں میں ان کا لمس اب تک باقی ہے۔

میں رات بھر چھت کو گھورتا رہا جہاں موت اپنا گریبان پھاڑ کر بین کر رہی تھی
میں نے بہت بار اسکا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی مگر میرا جسم بستر میں دھنس چکا تھا
آج میں نے چھت پہ رکھی کرسی پہ بیٹھ کر ایسی صبح کو ہوتے دیکھا ، جس میں روشنی نہیں تھی
مرگ کے تعفن نے اس سے تمام نور صلب کر لیا تھا۔

وہ دن جولائی کا تھا جب میں کراچی کی سڑکوں پر انکا گھر ڈھونڈ رہا تھا
اپنے اس رفیق کے ساتھ جسے مجھ سے محبت ہے
جس نے میرے متعلق کہا کہ تم جب میرے گلے لگتے ہو تو کانپ رہے ہوتے ہو۔

پچھلی رات میں جب بھی آنکھیں بند کرتا اور تو اس لمحے میں سرایت کر جاتا
جب وہ اپنی ٹرالی کو کھینچتے ہوے ہم تک آئے
انہوں نے ہمیں سنا
میں نے جب انکے بوڑھے ہاتھوں کو چھوا تو اس کا لمس فریکوئنسی کی طرح میری شریانوں میں سرایت کر گیا
وہ میرے لیے اپنی کتابیں لے آئے
یہ بتایا کہ کسی ناول پہ کام کر رہے ہیں جو شاید آخری ہو
میں نے بتایا کہ میں بھی اسی ڈی ایچ اے میں آپ سے چند منٹس کے فاصلے پر ہوں
انہوں نے چاہا کہ میں ملنے آتا رہوں
میں نے اس سے چند دن بعد کراچی چھوڑ دیا اور پھر کبھی نہ جا سکا
( کاش کہ یہ لکھنے کی ہمت خدا مجھ سے چھین لیتا )

میرے پاس دو تصاویر ہیں
میں انکے گھر کے دروازے پہ کھڑا ہوں جہاں انکے نام کی تختی لگی ہے
ایک میں انکے قدموں کے پاس بیٹھا مسکرا رہا ہوں
جس میں وہ مجھے اپنے برابر بٹھانے کا کہہ رہے تھے۔

کبھی کبھار انکا میسج موصول ہوتا تھا جس میں کچھ الجھے ہوے لفظ ہوتے
میں نے ہر بار انکے روئی کے گالوں کے جیسے ہاتھوں کو متصور کر کے ان کے سکون کے لیے دعا کی۔

میں پچھلی رات کا ایک ایک پہر اپنے پوروں پہ گنتا رہا
اور میں نے چاہا کہ کوئی مجھے خود میں بھینچ لے اور مجھے اکسائے کہ تم موت کے اس دکھ کو سینے سے لگا کر اسے اپنے آنسووں سے سینچ سکتے ہو۔
مجھے یاد ہے جب میں نے انہیں آخری بار دیکھا تھا ( وہ آخری لمحہ جس میں وہ مسکرائے تھے )
انکا لمس میرے ہاتھ کے پوروں میں حفظ ہے
انکی آواز میری یاداشت میں ہمیشہ کے لیے رہ گئی ہے۔

یہ ان کا قبر میں پہلا دن ہے
کہانی میں بوڑھا ہو جانے والا فرشتہ، کہانی لکھتا لکھتا ہمیشہ کے لیے سو گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں