ایک دریا میں مل گیا دریا۔۔حامد یزدانی

غزل

در احساس سے گزارے ہوئے
ہم تری قربتوں کے مارے ہوئے

جیتنے والے مطلبی نکلے
میز کے گرد سب ہیں ہارے ہوئے

دن کے جنگل میں خواب بکھرے تھے
رات چٹکی تو جمع سارے ہوئے

!تیری جھولی میں ڈال دوں کیسے
غم نہیں پیڑ سے اتارے ہوئے

ہم کہ بکھرے ہوئے، بکھرتے ہوئے
وہ کہ سنورے ہوئے، سنوارے ہوئے

ایک دریا میں مل گیا دریا
اور خود سے جدا کنارے ہوئے

بادباں اپنی دھن میں رقصاں ہے؟
یا ہواؤں سے کچھ اشارے ہوئے؟

کھو دیا انتظار پا کے تجھے
ہم کو اس نفع میں خسارے ہوئے

اوج نسیاں کی آرزو ٹھہرے
ہم، تیری یاد سے اُتارے ہوئے

ہم سفر ہیں اداس راتوں کے
غم نہ جیسے ہوئے ستارے ہوئے
——-
حامد یزدانی

اپنا تبصرہ لکھیں